ثمّ اقول:الفرعان(۲) الاخیران عن محمّد والیہ عزاھما فی البدائع وعــہ الحکم فیھما عند امامنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ یصلی فی الوقت متیمّما اوعاریا لان القدرۃ علی ماسواء الماء لایثبت عندہ بالاباحۃ کما سیأتی۔
دلیل ۳-۴ ثم اقول:(پھر میں کہتا ہوں) آخری دونوں جزئیے امام محمد سے منقول ہیں اور بدائع میں ان ہی کی طرف انہیں منسوب کیا ہے ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک دونوں مسئلوں میں حکم یہ ہے کہ وہ وقت کے اندرتیمم سے یا برہنہ نماز پڑھ لے اس لئے کہ ان کے نزدیک پانی کے علاوہ چیزوں پر اباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی جیسا کہ عنقریب اس کا بیان آرہا ہے۔
عــہ قال فی الخانیۃ مع رفیقہ دلو مملوک رفیقہ قال انتظر حتی استقی الماء ثم ادفعہ الیک فالمستحب لہ ان ینتظر الی اٰخر الوقت فان تیمّم ولم ینتظر جاز وکذا لوکان عریانا ومع رفیقہ ثوب فقال لہ انتظر حتی اصلی ثم ادفعہ الیک یستحب لہ ان ینتظر الی اٰخر الوقت فان لم ینتظر وصلی عریانا جاز فی قول ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ولوکان مع رفیقہ ماء یکفی لھما فقال انتظر حتی افرغ من الصلاۃ ثم ادفعہ الیک لزمہ ان ینتظر وان خاف خروج الوقت ولوتیمم ولم ینتظر لایجوز فالاصل عند
ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان فی المملوک لاتثبت القدرۃ بالبذل والاباحۃ وفی الماء تثبت القدرۃ بالاباحۃ اھ ۱؎ ۔ اقول: والجملۃ الثانیۃ محل الاستثناء من الاولٰی لان الکلام فی ماء مملوک واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
خانیہ میں ہے: ''کسی مسافر کے ہم سفر کے پاس اسی ہم سفر کا مملوکہ ڈول ہے اس نے مسافر سے کہا تم انتظار کرو میں پانی نکال لُوں تو تمہیں ڈول دوں گا۔ تو مسافر کیلئے آخر وقت تک انتظار کرلینا مستحب ہے۔ اگر اس نے بلا انتظار تیمم کرلیا تو جائز ہے۔ اسی طرح اگر برہنہ ہے اور اس کے رفیق کے پاس ایک کپڑا ہے اس نے کہا انتظار کرو میں نماز پڑھ کر تمہیں دُوں گا، تو اس کیلئے آخر وقت تک انتظار کرلینا مستحب ہے۔اگر انتظار نہ کیا اور برہنہ نماز پڑھ لی تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر یہ جائز ہے۔اور اگر رفیقِ سفر کے پاس اتنا پانی تھا جو دونوں کو کافی ہوتا اس نے کہا انتظار کرو میں نماز سے فارغ ہوجاؤں تو تمہیں پانی دُوں گا، اس صورت میں اس پر انتظار کرنا لازم ہے اگرچہ وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو۔اگر بلا انتطارتیمم کرلیا تو جائز نہیں۔اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اصل ضابطہ یہ ہے کہ بذل واباحت سے مملوک میں قدرت ثابت نہیں ہوتی، اور پانی میں اِباحت سے قدرت ثابت ہوجاتی ہے''۔اھ اقول: دوسرا جُملہ پہلے جملہ سے استثناء کے طور پر ہے اس لئے کہ گفتگو مملوک پانی ہی کی ہے(تو معنٰی یہ ہُوا کہ مملوک چیزوں میں اِباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی مگر مملوک پانی میں اباحت سے قدرت ثابت ہوجاتی ہے ۱۲ محمد احمد) واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ، (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں، باب التیمم، فصل فیما یجوز لہ التیمم نولکشور لکھنؤ، ۱/۲۷)
اقول:وھذا ایضا من مؤیدات زفر اذلو لاحفظ الوقت لأمر بالتاخیر لاسیمامع الوعد فھذان ثالث دلائلہ و رابعھا۔
اقول: (میں کہتا ہوں) اس سے بھی امام زفر کے مذہب کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ اگر تحفظ وقت ملحوظ نہ ہوتاتو تاخیر کا حکم ہوتا خصوصاً اس صورت میں جبکہ کسی نے وعدہ کرلیا ہے تو یہ ان کی تیسری اور چوتھی دلیل ہوئی۔
اما الفرع الخامس والسادس
اب جزئیہ ۵، ۶ کو دیکھئے۔
فاقول:لااری(۱) ان یکون المذھب فیہ الامر بتفویت الصلاۃ کیف وان الطاعۃ بحسب الاستطاعۃ۔
فاقول:میں نہیں سمجھتا کہ اس صورت عجز میں نماز فوت کرنے کا حکم ہمارے مذہب میں ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ طاعت بقدر استطاعت ہی لازم ہوتی ہے۔
قال ربنا تبارک وتعالٰی
فاتقوا اللّٰہ مااستطعتم ۱؎
ولا ینظر فیھا الا الی الحالۃ الراھنۃ الاتری ان(۲) راجی الماء اٰخر الوقت لیس علیہ التأخیر بل لہ ان یصلی الاٰن متیمما۔
ہمارے رب تبارک وتعالٰی کا ارشاد ہے: ''تو اللہ سے تم ڈرو جہاں تک تمہیں استطاعت ہو''۔ اور استطاعت کے معاملہ میں موجودہ حالت پر ہی نظر کی جائے گی۔ دیکھئے اگر کسی کو آخر وقت میں پانی ملنے کی امید ہے تو اس پر یہ لازم نہیں کہ نماز مؤخر کرے بلکہ وہ اسی وقت تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے۔
(۱؎ القرآن ۶۴/۱۶)
وقد قال فی الدر(۳)( امرہ الطبیب بالاستلقاء لبزغ الماء من عینہ صلی بالایماء لان حرمۃ الاعضاء کحرمۃ النفس ۲؎ اھ۔ ومعلوم(۳) ان الطبیب لایأمرہ بالسکون الامدۃ قلیلۃ وربما لاتزید علی یوم ولیلۃ فامروا ان یؤمی لا ان یؤخر فھذہ الفروع الاربعۃ الجواب الصواب فیھا علی مذھب امامنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ یصلی کماقدرفی الوقت ولایعید۔
درمختار میں ہے: آنکھ کا آپریشن کرنے اورپانی نکالنے کی وجہ سے طبیب نے بیمار کو حکم دیا کہ چت لیٹا رہے تو وہ اشارہ سے نماز پڑھے اس لئے کہ حرمتِ اعضاء بھی حُرمتِ جان کی طرح ہے'' اھ یہ معلوم ہے کہ طبیب زیادہ زمانہ تک حرکت کی ممانعت نہیں رکھتا بلکہ عموماً قلیل مدت تک جو ایک شبانہ روز سے زیادہ نہیں ہوتی پرسکون رہنے کا حکم دیتا ہے اس کے باوجود فقہاء نے اسے اشارہ سے نماز پڑھ لینے کا حکم دیا یہ نہ فرمایا کہ (اجازتِ حرکت و قیام تک) نماز مؤخر کرے۔ تو ان چاروں جزئیات (۵ تا ۸) میں ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب پر حکم صحیح یہ ہوگا کہ جس طرح بھی اسے قدرت ہے ویسے ہی وہ وقت کے اندر نماز ادا کرے اور بعد وقت اس کا اعادہ بھی نہیں۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار باب المریض مجتبائی دہلی ۱/۱۰۴)
اما الفروع الاربعۃ الاُول فاقول:کذا الحکم فیھا بیدانہ یعید اما الحکم فلما قدمت عن الحلیۃ والغنیۃ عن شمس الائمۃ انہ لافرق فی تلک الفروع وان الروایۃ فی احدٰھا روایۃ فی سائرھا وقدکان ھناک اعنی فرع شمس الائمۃ التلبس بالنجاسۃ ولو فی القدمین اوالخفین مع ترک الرکوع والسجود ولیس فی ھذا الفرع الرابع الا التلبس بنجس واما الاعادۃ فلما علمت من مراعاۃ اصل المذھب مع مافی الفروع الثلثۃ الاُول من صورۃ المنع من جھۃ العباد واللّٰہ تعالٰی اعلم بسبیل الرشاد۔
اب رہے پہلے چار جزئیات فاقول: ان میں بھی یہی حکم ہوگا فرق یہ ہے کہ ان صورتوں میں بعد وقت اعادہ بھی کرنا ہوگا۔وقت کے اندر ادائے نماز کا حکم ہم نے اس قاعدہ اور جزئیہ سے اخذ کیا جو حلیہ وغنیہ کے حوالہ سے شمس الائمہ سے ہم نے گزشتہ صفحات میں نقل کیا کہ ان جزئیات میں فرق نہیں اور ایک میں روایت دوسرے میں بھی روایت ہے۔اور وہاں یعنی شمس الائمہ کے بیان کردہ جزئیہ میں یہ تھا کہ نجاست سے اتصال لازم آتا تھا اگرچہ صرف قدموں یا موزوں ہی میں، اور رکوع وسجود ترک ہوتا تھا۔ اور اس چوتھے جزئیہ میں بھی یہی نجس (کپڑے) سے اتصال لازم آرہا ہے اور اعادہ کا حکم اس لئے کہ اصل مذہب کی رعایت ہوجائے ساتھ ہی پہلے تین جزئیوں میں یہ بات بھی ہے کہ بندوں کی جانب سے رکاوٹ کی صورت پائی جارہی ہے واللہ تعالٰی اعلم (ت)
دلیل پنجم: آپ نماز جنازہ اور نماز عید فوت ہونے کے اندیشہ سے تیمم کی اجازت دیتے ہیں تو وقت کے فوت ہوجانے کا اندیشہ بھی تو ایسا ہی ہے۔
واجاب البحربان فضیلۃ الوقت والاداء وصف للمؤدی تابع لہ غیر مقصود لذاتہ بخلاف صلاۃ الجنازۃ والعید فانھا اصل فیکون فواتھا فوات اصل مقصود ۱؎ اھ ھذا تمام سعیہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ورحمنابہ وقد اقرہ علی کلہ فی المنحۃ۔
بحر میں اس کا جواب یہ دیا ہے کہ (''پنجگانہ نمازوں میں مقصود بالذات خود نماز ہے اور اس کیلئے قضا نہ ہونے) ادا ہونے اور وقت کے اندر ہونے کی فضیلت مؤدّی کی ایک صفت ہے جو اس کے تابع ہے مقصود بالذات نہیں ہے۔ مگر نماز جنازہ وعید خود اصل ہیں تو ان کا فوت ہونا ایک اصل مقصود کا فوت ہونا ہے'' اھ یہ صاحبِ بحر کی تمام تر کاوش ہے، خدا ان پر اور ان کے طفیل ہم پر رحم فرمائے منحۃ الخالق میں علّامہ شامی نے بھی ان سب کو برقرار رکھا ہے۔(ت)
( ۱؎ البحرالرائق باب التیمم عند قولہ لالفوت الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۹)
اقول۔اولاً: ایک شیئ کا دوسری شیئ کی صفت ہونا اس کے غیر مقصود بالذات ہونے کو لازم نہیں کرتا جیسے کفارہ قتل میں دئے جانے والے غلام یا باندی میں صفت ایمان غیر مقصود بالذات نہیں بلکہ بعض اوقات خود وصف ہی مقصود ہوتا ہے جیسے مصرفِ زکوٰۃ میں صفتِ اسلام۔
اَنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُوْمِنِینَ کِتٰباً مَّوْقُوتاً۲؎ وقال عزّوجل حافظوا علی الصلوٰت والصّلٰوۃِ الوسطٰی ۳؎ وقال تعالٰی فویل للمصلّین الذین ھم عن صلوٰتھم ساھون ۴؎
وھم الذین یؤخرونھا حتی ئخرج وقتھا سماھم مصلین وجعل لھم الویل لاخراجھم ایاھا عن وقتھا فکان الوقت مقصودا عینا۔
ثانیا: ہمیں قطعی طور پر معلوم ہے کہ مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی نے جس طرح ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اسی طرح ہمیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ نماز کو اس کے مقررہ وقت کے اندر ادا کریں اور بغیر کسی عذر کے اس وقت سے باہر لانا حرام فرمایا ہے، تو سبھی مقصود بالذات ہے ارشاد ہے: ''بے شک نماز ایمان والوں پر وقت باندھا ہوا فریضہ ہے''۔اور ارشاد ہے: ''نمازوں اور بیچ والی نماز کی حفاظت کرو'' اور فرمایا: ''تو ویل (خرابی) ہے ان نمازیوں کیلئے جو اپنی نمازسے غافل ہیں''۔یہ وہی لوگ ہیں جو نماز اس حد تک مؤخرکرتے ہیں کہ اس کا وقت نکل جاتا ہے انہیں نمازی کہا،ساتھ ہی ان کیلئے وَیل بھی قرار دیا اس لئےکہ وہ نماز وقت سے باہر ادا کرتے ہیں۔ تو خود وقت بھی مقصود بالذات ہُوا۔(ت)
(۲؎ القرآن ۴/۱۰۳)
(۳؎ القرآن ۲/۲۳۸)
(۴؎ القرآن ۴/ ۱۰۷ )
وثالثا: لئن(۱) سلم محافظۃ الوقت فرض عین والجنازۃ فرض کفایۃ وصلاۃ العید لیست فریضۃ اصلا والفرض ولو مقصودا لغیرہ اھم واعظم مما دونہ ولو مقصودا لذاتہ الا(۲) ترٰی ان لوضاق الوقت عن الواجبات وجب اسقاطھا والاقتصار علی الفرض لایقاعہ فی الوقت واذ ا لامر ھکذا فاذا جاز التیمّم لخوف فوت الادنی کیف لایجوز للاعلی لاسیما وقد سقط فرض الجنازۃ بصلاۃ غیرہ۔
ثالثا: اگر آپ کی بات تسلیم کرلی جائے تو بھی یہ کہا جائے گا کہ وقت کا تحفظ فرض عین ہے اور جنازہ فرض کفایہ ہے اور نمازِ عید تو سرے سے فرض ہی نہیں (بلکہ واجب ہے) اور فرض اگرچہ مقصود بغیرہ ہو، اپنے نیچے والے سے خواہ وہ مقصود بالذات ہو زیادہ عظمت واہمیت رکھتا ہے۔دیکھئے اگر وقت اس قدر تنگ ہے کہ صرف فرائض ادا کرسکتا ہے واجبات کی گنجائش نہیں تو واجبات کو ساقط کردینا اور فرض پر اکتفا کرنا لازم ہے تاکہ ادائیگی وقت کے اندر ہوجائے یہ معاملہ ہے تو جب فوتِ ادنٰی کے اندیشہ سے تیمم جائز ہو تو اعلٰی کی وجہ سے کیوں جائز نہ ہوگا جب کہ فرض جنازہ تو دوسرے کے پڑھ لینے سے ساقط ہوجاتا ہے۔(ت)
ورابعا: قد(۳) قلتم بالتیمم لخوف فوت السنن وما ھن اصول انما شرعت مکملات للاصول وعلی(۴) التسلیم فاین التحفظ علی فریضۃ الوقت من التحفظ علی سنۃ۔
رابعا: آپ نے تو سنتیں فوت ہونے کے اندیشہ سے بھی تیمم جائز کہا ہے حالانکہ سنتیں اصل نہیں بلکہ یہ اصل کے متمم کی حیثیت سے مشروع ہوئی ہیں اور اگر یہی مان لیا جائے کہ سُنتیں خود مقصود اور اصل ہیں تو بھی کہاں وقت جیسے اہم فریضہ کا تحفظ اور کہاں سنّت کا تحفظ (دونوں میں بڑا فرق ہے)۔(ت)
وخامسا: (۵) قد سلمتم ان الفائت لا الی خلف یجوزلہ التیمم ولاشک ان الطلب الالھی منتھض علی ایقاع الفریضۃ فی وقتھا کانتھاضہ علی نفس ایقاعھا وھذا لاخلف لہ وان کانت الصلاۃ لھا خلف فھذا مقصود الدلیل ولایمسہ الجواب۔
خامسا: آپ کو یہ تسلیم ہے کہ اگر فوت ہونے والی چیز ایسی ہو کہ اس کا کوئی نائب وبدل نہیں تو اس کیلئے تیمم جائز ہے۔اب اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کا مطالبہ نماز کو اس کے وقت کے اندر ادا کرنے کا بھی اسی طرح ہے جیسے خود نماز پڑھنے کا ہے اور وقت کے اندر ادا کرنا ایسا امر ہے جس کا کوئی بدل نہیں اگرچہ نفس نماز کا بدل ہے۔دلیل پنجم کا مقصود یہی تھا جس سے جواب کو کوئی مس نہیں۔(ت)
وسادسھا: کما اقول اجمع ائمتنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ان الجنب الخائف من البرد خارج المصر یتیمّم ۱؎ کما فی الھدایۃ وعامۃ الکتب وقد تقدم عن الحلیۃ والبدائع والبحر والاسبیجابی والتمرتاشی ومعلوم(۱) ان الخوف ربما کان فی الصبح اذا اصبح جنبا فی لیلۃ باردۃ ویزول بعد ارتفاع الشمس ولم یأمروہ بالتاخیر بل اباحوا لہ التیمم فماھو الالحفظ الوقت۔
دلیل ششم جیسا کہ میں کہتا ہوں، ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اس پر اجماع ہے کہ جنب جسے بیرونِ شہر سردی سے خطرہ ہے وہ تیمم کرے جیسا کہ ہدایہ اور عامہ کتب میں ہے۔اور حلیہ، بدائع، بحر، تُمرتاشی کے حوالہ سے پہلے ذکربھی ہوچکا یہ معلوم ہے کہ زیادہ تر صبح کو خوف ہوتا ہے جبکہ کسی سردی کی رات میں صبح کو جنابت کی حالت میں اُٹھے۔پھر سورج بلند ہونے کے بعد خوف نہیں رہ جاتا۔مگر ائمہ نے اسے یہ حکم نہ دیا کہ آفتاب بلند ہونے تک نماز مؤخر کرے بلکہ اس کیلئے تیمم جائز قرار دیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ تحفّظِ وقت ہی کیلئے ہے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ باب التیمم المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/۳۲)