| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: سبحن(۱) اللّٰہ ماکان الخوف لیوجب الاتیان بھا فی الوقت مع ارتکاب المنافی بل کانوا بسبیل من تأخیرھا الی ان یطمئنوا کما قلتم فی بحرکم فی عدۃ فروع:
اقول: سبحان اللہ۔ خوف کی حیثیت اتنی بڑھی ہُوئی نہیں کہ منافی نماز کے ارتکاب کے ساتھ وقت کے اندر نماز کی ادائیگی لازم کردے بلکہ ان کیلئے امن واطمینان ہونے تک تاخیر کی گنجائش تھی جیسا کہ بحر کے اندر متعدد جزئیات میں خود آپ ہی اس کے قائل ہیں۔ چند جزئیات درج ذیل ہیں:
منھا(۱) ازدحم جمع علی بئر لایمکن الاستقاء منھا الا بالمناوبۃ لضیق الموقف اولاتحاد اٰلۃ الاستقاء ونحو ذلک وعلم انھا لاتصیر الیہ الابعد خروج الوقت و یصبر عندنا لیتوضأ بعد الوقت وعند زفر یتیمم ۱؎۔
جزئیہ۱: کسی کُنویں پر ایک ہجوم جمع ہے اور باری باری پانی نکالنے کے سوا کوئی گنجائش نہیں اس لئے کہ کھڑے ہونے کی جگہ تنگ ہے یا ڈول رسّی ایک ہی ہے یا ایسا ہی کوئی اور سبب ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ جب تک اس کی باری آئے گی وقت نکل جائےگا تو ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ انتظار کرے تاکہ وقت کے بعد وضو کرسکے، اور امام زفر کے نزدیک یہ حکم ہے کہ تیمم کرلے۔
(۱؎ البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۰)
ومنھا(۲) جمع(۱) من العراۃ لیس معھم الا ثوب یتناولونہ وعلم ان النوبۃ لاتصل الیہ الا بعد الوقت فانہ یصبر ولایصلی عاریا ۲؎۔
جزئیہ۲: چند آدمی برہنہ ہیں جن کے پاس(ستر عورت کے قابل)ایک ہی کپڑا ہے جسے باری باری باندھ کر نماز ادا کرتے ہیں،ان میں سے کسی کو معلوم ہے کہ جب تک اس کی باری آئے گی وقت نکل جائے گا تو وہ انتظار کرے اور برہنہ نماز نہ پڑھے۔
( ۲؎ البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۰)
ومنھا(۳) اجتمعوا(۲) فی سفینۃ اوبیت ضیق ولیس ھناک موضع یسع ان یصلی قانما لایصلی قاعدا بل یصبر ویصلی قائما بعد الوقت ۳؎۔
( ۳؎ البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۰)
جزئیہ۳: کسی کشتی یا تنگ کوٹھڑی میں لوگ جمع ہیں جہاں اتنی جگہ نہیں کہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرے تو وہ بیٹھ کر نہ پڑھے بلکہ انتظار کرے اور وقت گزر جانے کے بعد کھڑے ہوکر نماز ادا کرے۔
ومنھا(۴) معہ(۳) ثوب نجس وماء لغسلہ ولکن لوغسل خرج الوقت لزم غسلہ وان خرج۴؎۔
جزئیہ۴: کسی کے پاس ایک ناپاک کپڑا ہے اور اس کے دھونے کیلئے پانی بھی موجود ہے لیکن اگر کپڑا دھونے میں لگتا ہے تو نماز کا وقت نکل جائےگا اس پر لازم ہے کہ کپڑا دھوئے (اور پاک کپڑے سے ہی نماز ادا کرے)اگرچہ وقت نکل جائے۔
( ۴؎ البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۰)
ومنھا(۵)کذا(۴) لوکان مریضا عاجزا عن القیام (۶) واستعمال(۵) الماء فی الوقت ویغلب علی ظنہ القدرۃ بعدہ ۵؎ اھ ای یؤخر ولایصلی فی الوقت۔
جزئیہ ۵-۶: کوئی ایسا مریض ہے جو بروقت کھڑا ہونے پر قادر نہیں، یا ایسا بیمار ہے کہ ابھی وقتِ نماز میں پانی نہیں استعمال کرسکتااور ظن غالب ہے کہ وقت نکل جانے کے بعد (کھڑے ہونے یا پانی استعمال کرنے پر) قدرت ہوجائیگی، تو وہ حصولِ قدرت تک نماز مؤخر کرے اور وقت کے اندر (بلاقیام یاتیمم سے) نماز نہ پڑھے۔
( ۵؎ البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۰)
ومنھا(۷) وعدہ صاحبہ ان یطیعہ الاناء فرع علیہ محمد انہ ینتظر وان خرج الوقت لان الظاھر الوفاء بالعھد فکان قادرا علی الاستعمال ظاھرا ۱؎۔
جزئیہ۷: کسی سے اس کے ساتھی نےبرتن دینے کا وعدہ کیا۔اس پر امام محمد نے یہ تفریع کی ہے کہ انتظار کرے اگرچہ جوقت نکل جائے اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ وہ وعدہ وفا کرے گا تو ظاہراً وہ استعمال پر قادر ہے۔
(۱؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۹)
ومنھا(۸) کذا(۱) اذا وعد الکاسی العاری ان یعطیہ الثوب اذافرغ من صلاتہ لم تجزہ الصلاۃ عریانا لما قلنا ۲؎ نقلتم ھذین عن البدائع والبواقی عن التوشیح ولکن المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی لم یرض لھم بتفویتھا عن وقتھا وشرع لھم صلاۃ الخوف فما کان الا لحفظ الوقت۔
جزئیہ۸: اسی طرح کپڑے والے نے برہنہ سے وعدہ کیا کہ میں نماز سے فارغ ہوکر تجھے کپڑا دے دوں گا تو اسے برہنہ نماز پڑھنا جائز نہیں۔وجہ وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی۔جزئیہ (۷ و ۸) آپ نے بدائع سے نقل کیا، باقی توشیح سے ۔(ان جزئیات کی روشنی میں خوف والوں کا بھی یہی حکم ہونا چاہئے تھا کہ وہ زوال خوف کا انتظار کریں اگرچہ وقت نکل جائے)لیکن مولٰی سبحانہ وتعالٰی نے ان کیلئے نماز فوت کرناپسند نہ کیا اور نماز خوف مشروع فرمائی تو یہ نماز تحفظ وقت ہی کیلئے تو ہُوئی۔(ت)
(۲؎ البحرالرائق آخر قول لالفوت الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۹)