وفی البحر عنھا اعنی القنیۃ بلفظ تیمم ان خاف فوت الوقت ۳؎ اھ ولم یعزہ لنجم الائمۃ بل جعلہ تفریعا علی الروایۃ عن مشائخنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم۔
بحررائق میں قنیہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل ہیں: ''اگر وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو توتیمم کرلے'' اھ۔ بحر نے اسے نجم الائمہ کی طرف منسوب نہ کیا بلکہ اسے مشائخ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہم کی روایت پر تفریع قرار دیا۔
(۳؎ بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۹)
قال فی الحلیۃ بعد ایرادھا ھذا کلہ فیما یظھر تفریع علی مذھب زفر فانہ لاعبرۃ عندہ للبعد بل للوقت بقاء و خروجا قال ولعل ھذا من قول ھٰؤلاء المشائخ اختیار لقول زفر فان الحجۃ لہ علی ذلک قویۃ ۴؎ اھ۔
حلیہ میں عبارات بالا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے: ''بظاہر یہ سب امام زفر کے مذہب پر تفریع ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک دوری کا اعتبار نہیں بلکہ وقت باقی رہنے اور نکل جانے کا اعتبار ہے'' فرمایا شاید ان مشائخ کے یہ اقوال اس بنیاد پر ہیں کہ انہوں نے امام زفر کا قول اختیار کیا ہے کیونکہ اس مسئلہ سے متعلق امام زفر کی دلیل قوی ہے اھ۔
(۴؎ حلیہ)
بل قدذکر الشامی ان الفتوی فی ھذا علی قول زفر وانہ احد المواضع العشرین التی یفتی فیھا بقولہ ذکرھا فی باب النفقۃ کتاب الطلاق ونظمھا نظما حسنا قال فیہ وبعد فلایفتی بما قالہ زفر÷ سوی صور عشرین تقسیمھا انجلی÷ لمن خاف فوت الوقت ساغ تیمم÷ ولکن لیحتط بالاعادۃ غاسلا ۱؎۔
بلکہ علّامہ شامی نے تو یہ ذکر کیا ہے کہ اس بارے میں فتوٰی امام زفر کے قول پر ہے اور یہ ان بیس۲۰ مقامات میں سے ایک ہے جن میں امام زفر کے قول پر فتوٰی دیا جاتا ہے، کتاب الطلاق باب النفقہ میں ذکر کیا ہے اور بڑی خوش اسلوبی سے نظم کیا ہے۔ نظم میں یہ ہے (حمد وصلٰوۃ کے بعد) امام زفر کے قول پر فتوٰی نہ دیا جائےگا مگر صرف بیس(۲۰) صورتوں میں جن کی تقسیم روشن ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اس کیلئے جسے وقت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتیمم جائز ہے لیکن احتیاطاً پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے''۔
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ مصطفی البابی مصر ۲/۷۲۶)
الجملۃ الثالثۃ تقویۃ دلیلہ ویستدل لہ بوجوہ:
جملہ ثالثہ۔ دلیل امام زفر کی تقویت اس پر چند طرح استدلال کیا جاتا ہے:
اوّلھا:ماقال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر لہ ان التیمم لم یشرع الا لتحصیل الصلاۃ فی وقتھا فلم یلزمہ قولھم ان الفوات الی خلف کلا فوات ۲؎ اھ
دلیل اوّل: محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا ہے: امام زفر کی دلیل یہ ہے کہ تیمم اسی لئے تو مشروع ہوا ہے کہ نماز کی ادائیگی وقت کے اندر کی جاسکے۔ لہذا اس جواب سے ان پر الزام نہیں آتا کہ ''نماز کا نائب کی جانب فوت ہونا، فوت نہ ہونے کی طرح ہے۔
(۲؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۲۳)
واجیب عنہ اوّلا کما ابدی البحران جوازہ للمسافر بالنص لا لخوف الفوت بل لاجل ان لاتتضاعف علیہ الفوائت ویحرج فی القضاء ۱؎ ۔
جواب ۔اوّلاً: جیسا کہ بحر نے اظہار کیا: ''مسافر کیلئے''نص سے''تیمم کا جواز فوتِ وقت کے اندیشہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس کے ذمّہ فوت شدہ نمازیں زیادہ نہ ہوں اور قضاء میں اسے زحمت نہ ہو''۔ اھ
اقول:لافائدۃ(۱) لقولہ جوازہ بالنص فان النص لیس تعبدیا کما یفیدہ اٰخر کلامہ ولوکان کذا لم یجیزوہ لصلاۃ الجنازۃ والعید فان النص انما وردفی المریض والمسافر۔
اقول: ''نص سے'' جواز کہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ نص تعبدی نہیں (بلکہ قیاسی اور معلّل ہے) جیسا کہ ان کی آخری عبارت سے خود ہی مستفاد ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو نماز جنازہ اور نماز عید کیلئے بھی تیمم جائز نہ کہتے کیونکہ نص تو صرف مریض اور مسافر کے بارے میں آئی ہے۔
اما التعلیل فاقول اما(۲) تجیزونہ لبعد الماء میلا ولوفی جھۃ مسیرہ فانی فیہ تضاعف الفوائت وایضا خوف(۳) التضاعف ان کان ففی الاسفار البعیدۃ ولیس السفرفی الکریمۃ سفر القصر بل یشمل من خرج من المصرو لولاحتطاب اواحتشاش اوطلب دابۃ کما افادہ فی الخانیۃ والمنیۃ وقال فی الھدایۃ والعنایۃ جواز التیمم لمن کان خارج المصر وان لم یکن مسافرا اذا کان بینہ وبین الماء میل ۲؎ اھ
اب انہوں نے جو علّتِ جواز بیان کی ہے اس پر کلام کیا جاتا ہے فاقول: کیا آپ حضرات اس کے قائل نہیں ہیں کہ پانی ایک میل کی دُوری پر ہو توتیمم جائز ہے؟ اگرچہ پانی اس کی سمتِ سیری میں ہو۔ اس میں فوت شدہ نمازوں کی زیادتی کہاں ہے؟ یہ بات بھی ہے کہ اگر زیادتیِ فوائت کا اندیشہ ہے تو دور دراز سفروں میں ہے مگر آیت کریمہ میں جو سفر مذکور ہے اس سے خاص سفرِ قصر مراد نہیں بلکہ یہ حکم ہر اس شخص کو شامل ہے جو شہر سے باہر ہو اگرچہ لکڑی کاٹنے، یا گھاس لانے، یا سوار کا جانور ڈھونڈنے ہی کیلئے نکلا ہو، جیسا کہ خانیہ اور مُنیہ میں افادہ فرمایا ہے۔ اور ہدایہ وعنایہ میں ہے: ''تیمم کا جواز ہر اس شخص کیلئے ہے جو شہر کے باہر ہو اگرچہ مسافر نہ ہو بشرطیکہ اس کے اور پانی کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہو''۔ اھ
(۲؎ العنایۃ مع الفتح باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۰۷)
وقد نقلتم عن الخانیۃ ان(۱) قلیل السفر وکثیرہ سواء فی التیمم والصلاۃ علی الدابۃ خارج المصر انما الفرق بین القلیل والکثیر فی ثلثۃ فی قصر الصلٰوۃ والافطار ومسح الخفین ۱؎ اھ واذا ثبت ذلک ثبت ان لیس تشریعہ الا لاحراز الوقت۔
خود آپ ہی نے خانیہ سے یہ عبارت نقل کی ہےکہ: ''بیرون شہرتیمم اور سواری پر ادائے نماز کے معاملہ میں قلیل وکثیر سفر سب برابر ہیں۔ قلیل وکثیر کے درمیان فرق صرف تین مسائل میں ہے: (i) نماز میں قصر کرنا (ii) روزہ قضا کرنا (iii) موزوں پر مسح (کی مدت کم وبیش ہونا)'' اھ۔ جب یہ ثابت ہے تو یہ بھی ثابت ہے کہ تیمم کی مشروعیت تحفظِ وقت ہی کیلئے ہوئی ہے۔
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزلہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱/۲۶)
وثانیا التقصیر جاء من قبلہ فلایوجب الترخیص علیہ ۲؎ اھ فتح۔ انیاً:
تقصیر وکوتاہی خود اس کی جانب سے ہوئی تو یہ اس کیلئے موجبِ رخصت نہ ہوسکے گی اھ۔ فتح القدیر۔
(۲؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۲۳)
اقول: تقریرہ سلمنا ان التیمّم لحفظ الوقت لکن انما یستحقہ من لیس ضیق الوقت من قبلہ کمن خاف عدوا اومرضا فانہ ان ینتظر یذھب الوقت من دون تفریط منہ فرخص لہ الشرع فی التیمّم کیلا یفوتہ الوقت اما ھذا فقد قصر واخر بنفسہ حتی ضاق الوقت عن الطھارۃ والصلاۃ فلایستحق الترفیہ بالترخیص۔
اقول: اس جواب کی تقریر اس طرح ہوگی، ہمیں تسلیم ہے کہ تیمم وقت کے تحفظ کی خاطر ہے لیکن جو ایسا ہو کہ وقت کی تنگی خود اس کی طرف سے نہ پیدا ہوئی وہی اس کی رخصت کا مستحق ہوگا مثلاً وہ شخص جسے کسی دشمن یا مرض کا خطرہ ہو کہ وہ اگر انتظار کرتا ہے تو وقت نکل جائے گا اور خود اس کی جانب سے کوئی کوتاہی نہیں تو اس کیلئے شریعت نے تیمم کی رخصت دی ہے تاکہ و قت فوت نہ ہو لیکن اس شخص نے تو کوتاہی کی ہے اور خود ہی نماز یہاں تک مؤخر کردی کہ وقت میں طہارت اور نماز کی گنجائش نہ رہی تو ایسا شخص رخصت کی آسائش پانے کا حقدار نہیں۔
اوردہ فی الفتح بانہ انما یتم اذااخرلالعذر ۱؎ اھ۔
فتح القدیر میں اس جواب کو ان الفاظ سے رَد کردیا ہے کہ: ''یہ جواب اسی وقت تام ہوگا جب اس نے بغیر کسی عذر کے نماز مؤخر کردی ہو۔
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکّھر ۱/۱۲۳)
اقول: ای مع ان الحکم عام عند الفریقین وکیف یقال جاء التقصیر من قبلہ فیمن نام فما استیقظ الا وقد ضاق الوقت عن الطھارۃ بالماء واداء الفرض وھذا نبینا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قائلا لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ۲؎ رواہ مسلم عن ابی قتادۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ وکذا من نسی صلاۃ ولم یتذکر الا عند ضیق الوقت وقدرفع عن امتہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الخطاء والنسیان ۳؎ فلا تقصیر من ناس۔
اقول: مقصد یہ ہے کہ حکم تو (بلاعذر تاخیر کرنے والے اور عذر کی وجہ سے تاخیر کرنے والے) دونوں ہی کے لئے فریقین کے نزدیک عام ہے (جس کے یہاں جواز ہے تو دونوں کیلئے، جس کے یہاں عدمِ جواز ہے تو دونوں کیلئے) اب وہ شخص جو سوگیا، بیدار ہوا تو ایسے ہی وقت کہ پانی سے طہارت اور ادائے فرض کی گنجائش نہیں اس کے بارے میں کیسے کہا جاسکتا ہے کہ خود اسی کی جانب سے کوتاہی ہوئی جب کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمارہے ہیں: ''نیند (کی صورت) میں کوتاہی نہیں کوتاہی تو بیداری (کی صورت) میں ہے''۔ یہ حدیث امام مسلم نے ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔ ایسے ہی وہ شخص جسے نماز کا خیال نہ رہا یاد آئی تو وقت تنگ ہوچکا ہے۔ خطا ونسیان تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اُمّت سے اٹھا لیا گیا ہے تو نسیان والے کی جانب سے بھی کوتاہی نہیں۔
(۲؎ سنن ابی داؤد باب فیمن نام عن صلٰوۃ مطبع مجتبائی لاہور ۱/۶۴)
(۳؎ سنن ابن ماجہ طلاق المکرہ و النا سی مطبع مجتبائی لاہور ص ۱۴۸)
بل اقول: (۱) مثنّیا الرّخص(۲) الالٰھیۃ مباحۃ عندنا للمطیع والعاصی فمن سافر لمعصیۃ حل لہ الفطربل وجب علیہ القصر ومن اجنب بالزنا والعیاذ باللّٰہ تعالٰی ولم یجد ماء جازلہ التیمّم بل افترض علیہ۔
بلکہ اقول: مثنّیا (دوسرے نمبر پر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ خدا کی دی ہوئی رخصتیں ہمارے نزدیک مطیع وعاصی دونوں ہی کیلئے عام ہیں۔ جو کسی معصیت کیلئے سفر کررہا ہے اس کیلئے بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے بلکہ اس کے ذمہ نماز قصر کرنا واجب ہے ۔اور جسے زنا کی وجہ سے ۔والعیاذ باللہ تعالٰی ۔جنابت ہوئی اور پانی نہ پاسکا اس کیلئے بھی تیمم جائز بلکہ فرض ہے۔
ثم رأیت تلمیذہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ نقل کلامہ وایدہ وبحث فی التأخیر بلاعذر بعین مابحثت وللّٰہ الحمد قال لکن المذھب ان المطیع والعاصی فی الرخص سواء ۱؎ اھ۔
پھر میں نے دیکھا کہ امام ابن الہام کے شاگرد محقق حلبی نے حلیہ میں ان کی عبارت نقل کرکے اس کی تائید کی ہے اور ''تاخیر بلاعذر'' سے متعلق بعینہ یہی بحث کی ہے جو میں نے کی وللہ الحمد ان کے الفاظ یہ ہیں: ''لیکن مذہب یہ ہے کہ رخصتوں کے معاملہ میں مطیع وعاصی یکساں ہیں''۔ اھ
(۱؎ حلیہ)
وافاد فائدۃ اخری فقال لوقیل تأخیرہ الی ھذا الحد عذرجاء من قبل غیر صاحب الحق لقیل فینبغی ان یقال یتیمم ویصلی ثم یعید بالوضوء کمن لم یقدر علی الوضوء من قبل العباد ۲؎ اھ
بلکہ انہوں نے ایک اور افادہ فرمایا ہے، لکھتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ اس حد تک تاخیر ایسا عذر ہے جو غیر صاحب حق کی جانب سے رُونما ہوا۔ تو اس کے جواب میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے، پھر وضو کرکے اعادہ کرے جیسے وہ شخص جو بندوں کی جانب سے پیدا ہونے والے کسی عذر کی وجہ سے وضو پر قادر نہ ہو۔ اھ (ت)
(۲؎ حلیہ)
اقول: ھذا لامدخل(۱) لہ فی البحث من قبل احد من الفریقین فلیس لاحدھما ان یبدئ بہ او یعید اما ائمتنا فلانھم لایقولون بالتیمّم واما زفر فلانہ لایقول بالاعادۃ بل کان حقہ ان یقرر ھکذا لیکون مثلّثا لما فی الفتح ان غایۃ ماقلتم ان التقصیر من قبلہ ان تأمروہ بالتیمّم ثم الاعادۃ کماھو حکم کل عذر جاء من قبل العباد لاان تحجروا علیہ التیمّم رأسا۔
میں کہتا ہوں فریقین میں سے کسی جانب سے بحث میں اِس کلام کا کوئی دخل نہیں، اس لئے یہ کسی کا قول نہیں کہ پہلے تیمم کرلے، پھر پانی سے اعادہ کرے۔ ہمارے ائمہ کے نزدیک اس لئے کہ وہ یہاں جوازِتیمم کے قائل ہی نہیں اور امام زفر کے نزدیک اس لئے کہ وہ اعادہ کے قائل نہیں۔ اس مقصد کی تقریر اس طرح ہونی چاہئے تاکہ فتح کی عبارت سے متعلق یہ تیسرا کلام ہوجائے کہ آپ نے جو فرمایا کہ کوتاہی خود اس کی جانب سے ہُوئی تو اس پر زیادہ سے زیادہ یہ ہونا چاہئے کہ آپ حکم یہ دیں کہ و ہ تیمم کرلے پھر اعادہ کرے جیسا کہ یہ ہر اُس عذر کا حکم ہے جو بندوں کی جانب سے رونما ہوا ہو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے آپ تیمم سے بالکل ہی روک دیں۔ (ت)
وثانیھا: ھذہ صلٰوۃ الخوف ماشرعت الالحفظ الوقت۔
دلیل دوم: یہ نماز خوف ہے جس کی مشروعیت تحفّظِ وقت کیلئے ہی ہُوئی ہے۔
واجاب عنہ فی البحر بان صلاۃ الخوف للخوف دون خوف الفوت ۱؎ اھ۔
اس کا جواب بحر میں یہ دیا ہے کہ: ''نمازِ خوف تو خوف کی وجہ سے ہے، فوتِ وقت کے اندیشہ سے نہیں ہے''۔ اھ
(۱؎ البحرالرائق، باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،۱/۱۵۹)