(۸۸) ہر نماز موقت کہ بعد فوت جس کی قضا ہے جیسے نماز پنجگانہ وجمعہ و وترجب طہارت آب سے وقت جاتا ہوتیمم سے وقت کے اندر پڑھ لے کہ قضا نہ ہوجائے پھر پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے۔
اقول: اس میں یہ تفصیل(۱) ہونی چاہئے کہ مثلاً صبح(۱) اتنے تنگ وقت اٹھا کہ وضو کرے یا نہانے کی حاجت ہے اور غسل کرے تو سلامِ نماز سے پہلے سورج چمک آئے یا(۲) امامِ جمعہ پانی سے طہارت کرے تو سلامِ جمعہ سے پہلے وقتِ عصر آجائے یا(۳) مقتدی جماعت جمعہ میں قبل سلام شریک نہ ہوپائے اور دوسری جگہ بھی امام مقرر جمعہ کے پیچھے نماز نہ مل سکے یا(۴) محدث وضو خواہ جنب غسل کرے تو ظہر یا(۵) عصر یا(۶) مغرب یا(۷) عشا کا اتنا وقت نہ پائے کہ نیت باندھ لے یا(۸) فرض عشا پڑھ کر سویا اُٹھا تو نہانے کی حاجت ہے یا وضو ہی کرنا ہے اور صبح میں اتنی مہلت نہیں کہ پانی سے طہارت کے بعد وتر کی نیت باندھ لے تو ان سب صورتوں میں یہ نمازیں تیمم سے پڑھ لے پھر غسل باوضو کرکے دوبارہ بعد وقت پڑھے بالجملہ فجر وجمعہ میں سلام سے پہلے وقت نکل جانا یا مقتدی کا امام مقرر للجمعہ کے پیچھے جماعت نہ پانا معتبر ہونا چاہئے باقی نمازوں میں تکبیر تحریمہ وقت کے اندر نہ ملنے کا اعتبار چاہئے کہ فجر وجمعہ وعیدین سلام سے پہلے خروج وقت سے باطل ہوجاتی ہیں بخلاف باقی صلوات کہ ان میں وقت کے اندر تحریمہ بندھ جانا کافی ہے۔
ثم اقول: اگر(۲) صورت یہ ہے کہ صبح میں پانی سے طہارت کرے تو صرف دو۲ رکعتیں وقت میں پائے اورتیمم سے چاروں توتیمم کی اجازت نہ ہوگی بلکہ پانی سے طہارت کرکے صرف فرض پڑھ لے سنتیں چاہے تو بعد بلندی آفتاب پڑھے یوں ہی باقی نمازوں میں اگر وقت اتنا ملتا ہے کہ پانی کی طہارت سے فرض وقت ہوجائیں گے ظہر کی سنت قبلیہ یا بعد یہ یا دونوں یا مغرب میں سنتیں یا عشا میں سنت ووتر نہ ملیں گے اورتیمم سے سب مل سکتے ہیں تو فرضوں ہی کا پلّہ راجح رہے گا طہارتِ آب سے فرض اور اس کے ساتھ اور جو کچھ مل سکے ادا کرلے سنتیں رہ گئیں تو گئیں اور وتر رہ گئے تو ان کی قضا پڑھے غرض غیر فرض کی رعایت سے فرضوں کاتیمم سے ادا کرنا روانہ ہوگا اگرچہ اُس غیر فرض کیلئے خوف فوت میں تیمم روا تھا
ولعل کل ماذکرت فی المقامین ظاھر جدا واللّٰہ تعالٰی اعلم
(توقع ہے کہ ان دونوں مقاموں پر جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے بہت ظاہر ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
رسالہ ضمنیہ
الظفر لقول زفر
وقت کی تنگی کے باعث جوازِتیمم کے بارے میں امام زفر کے قول کی تقویت کا بیان (ت)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
ثم اعلم(۱) ان جواز التیمم لخوف فوت الوقت قول الامام زفر رحمہ اللّٰہ تعالٰی علی خلاف مذھب ائمتنا الثلٰثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم وقد وافقوہ فی روایۃ وشیدتہ فروع واختارہ کبراء وقوی دلیلہ محققون وبیان ذلک فی جمل۔
واضح ہو کہ امام زفر رحمہ اللہ تعالٰی ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مذہب کے برخلاف وقت فوت ہونے کے اندیشہ سے تیمم کو جائز کہتے ہیں۔ ائمہ ثلاثہ سے ایک روایت مذہب امام زفر کے موافق بھی آئی ہے متعدد جزئیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ کچھ بزرگوں نے اسے اختیار بھی کیا ہے اور کئی محققین نے ان کی دلیل کو تقویت بھی دی ہے۔ اس کا تفصیلی بیان جملہ کے عنوان سے چند جُملوں میں رقم کیا جاتا ہے:
الجُملۃ الاولٰی موافقۃ ائمتنا الثلثۃ فی روایۃ قال الشامی ھو قول زفر وفی القنیۃ انہ روایۃ عن مشائخنا بحر اھ۔ ثم قال قد علمت من کلام القنیۃ انہ روایۃ عن مشائخناالثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ۱؎ اھ۔
جملہ اُولٰی ائمہ ثلاثہ کی موافقت ہمارے تینوں ائمہ کی ایک روایت مذہب امام زفر کے موافق آئی ہے اس سے متعلق علامہ شامی لکھتے ہیں: ''یہ امام زفر کا قول ہے اور قنیہ میں ہے کہ ہمارے مشائخ سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے۔ بحر''۔ اھ پھر شامی فرماتے ہیں: اس سے پہلے قنیہ کی عبارت سے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ ہمارے تینوں مشائخ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی ایک روایت ہے''۔ اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۰)
اقول: (۱) رحمہ اللّٰہ تعالٰی قد ابعد النجعۃ واتی بغیر صریح فان لفظ البحر عند قولہ لالفوت جمعۃ قدقدمنا عن القنیۃ ان التیمم لخوف فوت الوقت روایۃ عن مشائخنا ۲؎ اھ والذی قدم عند قولہ لبعدہ میلا بعد ذکر فرع الکلۃ الاٰتی لائخفی ان ھذا مناسب لقول زفر لالقول ائمتنا فانھم لایعتبرون خوف الفوت وانما العبرۃ للبعد کماقدمناہ کذا فی شرح منیۃ المصلی لکن ظفرت بان التیمم لخوف فوت الوقت روایۃ عن مشائخنا ذکرھا فی القنیۃ فی مسائل من ابتلی ببلیتین ۳؎ اھ
اقول: خدا اپنی رحمت سے علامہ کو نوازے تلاش مطلوب میں بہت دُور نکل گئے اور نقل وہ پیش کی جو صریح نہیں۔ اس لئے کہ لالفوت الجمعۃ (فوتِ جمعہ کے اندیشہ سے جوازتیمم نہیں) کے تحت بحر کے الفاظ یہ ہیں: ''ہم قنیہ کے حوالے سے پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے جوازِتیمم ہمارے مشائخ کی ایک روایت ہے''۔ اھ اور اس سے پہلے جو ذکر کیا ہے وہ ان کی درج ذیل عبارت ہے جو لبعدہ میلا کے تحت کِلّۃ (مچھّر دانی یا اسی قسم کا خیمہ) سے متعلق آنے والے جزئیہ کو ذکر کرنے کے بعد لکھی ہے: ''پوشیدہ نہ رہے کہ یہ مسئلہ قول امام زفر سے مناسبت رکھتا ہے ہمارے ائمہ کے قول سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ ان کے نزدیک فوت وقت کے اندیشہ کا اعتبار نہیں۔ صرف دُوری کا اعتبار ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا۔ منیۃ المصلی کی شرح میں بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن مجھے یہ بیان بھی ملا کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے جوازتیمم ہمارے مشائخ سے بھی ایک روایت میں آیا ہے۔ اسے قنیہ میں دو مصیبتوں میں مبتلا ہونے والے سے متعلق مسائل کے تحت بیان کیا ہے''۔ اھ (ت)
(۲؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۹)
(۳؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۰)
فالمعروف اطلاق مشائخنا علی من بعد الائمۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم نعم قد یستفاد من ھذا الاستدراک ان مرادہ بمشائخنا الائمۃ الثلثۃ والاوضح سندا والاجل معتمدا مافی الحلیۃ والغنیہ عن المجتبی عن الامام شمس الائمۃ الحلوانی المسافر (۱) اذا لم یجد مکانا طاھرا بأن کان علی الارض نجاسات وابتلت بالمطر واختلطت فان قدر علی ان یسرع المشی حتی یجد مکانا طاھرا للصلاۃ قبل خروج الوقت فعل والا یصلی بالایماء ولایعید ثم قال الحلوانی اعتبر ھھنا خروج الوقت لجواز الایماء ولم یعتبرہ لجواز التیمم ثمہ وزفر سوی بینھما وقد قال مشائخنا فی التیمم انہ یعتبر الوقت ایضا والروایۃ(۲) فی ھذا روایۃ لہ اذلافرق بینھما والروایۃ فی فصل التیمم روایۃ فی ھذا ایضا قال الحلوانی فاذا فی المسألتین جمیعا روایتان ۱؎ اھ۔
یہ صریح اس لئے نہیں کہ معروف یہ ہے کہ مشائخ کا لفظ ان حضرات کیلئے استعمال ہوتا ہے جو ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بعد آئے ہیں ہاں ان کے اس استدراک (لیکن مجھے یہ بیان بھی ملا الخ) سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ''ہمارے مشائخ'' کے لفظ سے وہ ائمہ ثلاثہ کو مراد لے رہے ہیں۔ سند کے لحاظ سے زیادہ واضح اور اعتماد کے لحاظ سے زیادہ جلیل القدر عبارت وہ ہے جو حلیہ اور غنیہ میں مجتبی سے، اور اس میں امام شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے: ''مسافر کو جب پاک جگہ نہ ملے اس طرح کہ زمین پر نجاستیں پڑی ہُوئی تھیں اور زمین بارش سے بھیگ کر نجاستوں سے آلودہ ہوگئی تو اگر وہ یہ کرسکتا ہو کہ تیز چل کر ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں وقت نکلنے سے پہلے اسے نماز پڑھنے کیلئے کوئی پاک جگہ مل جائے گی تو ایسا ہی کرے ورنہ اشارے سے نماز ادا کرلے اور اس کا اعادہ اس کے ذمہ نہیں'' پھر حلوانی فرماتے ہیں: جواز اشارہ کیلئے یہاں خروج وقت کا اعتبار فرمایا ہے اور وہاں جوازِتیمم کیلئے اس کا اعتبار نہیں کیا۔ اور امام زفر نے دونوں جگہ برابری رکھی۔ اور ہمارے مشائخ نے تیمم کے بارے میں فرمایا ہے کہ وقت کا بھی اعتبار ہوگا اور اس (مسئلہ مسافر) میں روایت کا ہونا اُس (مسئلہ تیمم) میں بھی روایت ہونا ہے کیونکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اور مسئلہ تیمم میں روایت کا ہونا اس (مسئلہ مسافر) میں بھی روایت ہونا ہے۔ حلوانی فرماتے ہیں: تو دونوں ہی مسئلوں میں دو۲ دو۲ روایتیں ہوں گی''۔ اھ (ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۳)
اقول: الضمیر فی قولہ اعتبر ھھنا ولم یعتبر ثم لمحمد ومسألۃ المسافر قول ائمتنا فالروایۃ عنھم فیھا روایۃ عنھم فی التیمم انہ یجوز لخوف فوت الوقت ومسألۃ التیمم انہ لایجوز لحفظ الوقت ایضا قولھم فالروایۃ فیھا روایۃ فی مسألۃ المسافر انہ یمشی حتی یخرج من ذلک المکان ولایصلی ثمہ وان خرج الوقت فاذن لھم فی کلتا المسألتین قولان غیران مسألۃ المسافر اشتھرت بحکم الاجازۃ ومسألۃ التیمم بحکم المنع فھذا اقوی مایوجد من تقویۃ قول زفر بموافقۃ ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم۔
اقول: ان کی عبارت اعتبرھنا، ولم یعتبر ثم (یہاں اعتبار فرمایا اور وہاں اعتبار نہ کیا) میں ضمیر امام محمد کیلئے ہے۔ اور مسئلہ مسافر ہمارے ائمہ کا قول ہے تو اس مسئلہ میں ان سے روایت ہوناتیمم کے بارے میں بھی ان سے یہ روایت ہونا ہے کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے بھی جائز ہے اور مسئلہ تیمم کہ حفظِ وقت کے پیشِ نظرتیمم جائز نہیں یہ بھی ہمارے ائمہ کا قول ہے تو اس میں روایت ہونا مسئلہ مسافر میں بھی روایت ہونا کہ وہ اس جگہ سے چل کر نکل جائے اور وہاں نماز نہ پڑھے اگرچہ وقت جاتارہے۔ اس تفصیل سے ظاہر ہوا کہ دونوں ہی مسئلوں میں ان کے دو۲ قول ہیں، یہ بات الگ ہے کہ مسئلہ مسافر حکم اجازت سے مشہور ہوگیا اور مسئلہ تیمم حکم ممانعت سے شہرت پاگیا ہمارے ائمہ ثلاثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی موافقت سے امام زفر کے قول کی تقویت پر دستیاب ہونے والی یہ سب سے زیادہ قوی سند ہے۔
الجملۃ الثانیۃ فروع التشیید واختیار الکبراء قال فی الحلیۃ فی بیان قول زفر قد نقل الزاھدی فی شرحہ ھذا الحکم عن اللیث بن سعد وقد ذکر ابن خلکان انہ رأی فی بعض المجامیع ان اللیث(۱) کان حنفی المذھب واعتمد ھذا صاحب الجواھر المضیئۃ فی طبقات الحنفیۃ فذکرہ فیھا منھم ۱؎ اھ
جملہ ثانیہ تائیدی جزئیات اور بزرگوں کے قولِ امام زفر اختیار کرنے سے متعلق ہے۔ حلیہ میں قول امام زفر کے بیان میں ہے: ''زاہدی نے اپنی شرح میں یہ حکم امام لیث بن سعد سے نقل کیا ہے۔ ابن خلکان نے ذکر کیا ہے کہ بعض تالیفات میں انہوں نے یہ دیکھا کہ امام لیث حنفی المذہب تھے صاحب الجواہر المضئیۃ فی طبقات الحنفیہ نے اس پر اعتماد کیا اور اپنی کتاب میں امام لیث کا بھی ذکر کیا اھ
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۰)
قال الشامی ثم رأیتہ منقولا عن ابی نصر بن سلام وھو من کبار الائمۃ الحنفیۃ قطعا ۱؎ اھ۔
شامی فرماتے ہیں: پھر میں نے دیکھا کہ یہ قول ابو نصربن سلام سے بھی منقول ہے جو بلاشبہ کبار ائمہ حنفیہ میں ہیں''۔ اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/)۱۸۰
اقول: وفی جامع الرموز التقیید بالمیل یدل علی ان فی الاقل لم یتیمم وان خاف خروج الوقت کما فی الارشاد لکن فی النوازل انہ یتیمم حینئذ ۲؎ اھ بل فی الخلاصۃ لولم یعلم ان بینہ وبین الماء میلا اواقل اواکثر ولکن خرج لیحتطب ولم یجد الماء ان کان بحال لوذھب الی الماء خرج الوقت تیمّم فی اٰخر الوقت ھکذا فی النوازل ۳؎ اھ۔
اقول: جامع الرموز میں ہے: ''میل کی قید یہ بتاتی ہے کہ اس سے کم دوری ہو توتیمم کی اجازت نہیں اگرچہ وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو، جیسا کہ ارشاد میں ہے لیکن نوازل میں ہے کہ ایسے وقت میں تیمم کرلے''۔ اھ۔ بلکہ خلاصہ میں ہے کہ: ''اگر یہ پتا نہ ہو کہ اس کے اور پانی کے مابین ایک میل کا فاصلہ ہے کہ یا کم وبیش ہے لیکن (جنگل سے) لکڑی لانے کیلئے نکلا اور اسے پانی نہ ملا اگر ایسی حالت ہو کہ پانی تک جائے تو وقت نکل جائے گا تو وہ آخر وقت میں تیمم کرلے۔ ایسا ہی نوازل میں ہے'' اھ (ت)
(۲؎ جامع الرموز فصل فی التیمم مطبعۃ الاسلامیہ ایران ۱/۶۵)
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۳۱)
وفی الحلیۃ اطلق الفقیہ ابواللیث فی خزانۃ الفقہ جواز التیمم اذا کان بینہ وبین الماء مسافۃ لایقطعھا فی وقت الصلاۃ ۴؎ اھ وفیھا عن المجتبی والقنیۃ وفی الھندیۃ عن الزاھدی والکفایۃ کلھا عن جمع العلوم لہ التیمم فی کلۃ لخوف البق او مطر اوحرشدید ۵؎ اھ
اور حلیہ میں ہے: ''فقیہ ابو اللیث نے خزانۃ الفقہ میں اس صورت میں تیمم کو مطلقاً جائز کہا ہے جب اس کے اور پانی کے مابین اتنی مسافت ہو جسے وقتِ نماز کے اندر طے نہیں کرسکتا''۔ اھ اور حلیہ میں بحوالہ مجتبٰی وقنیہ اور ہندیہ میں بحوالہ زاہدی وکفایہ اور ان سب میں بحوالہ جمع العلوم یہ ہے: ''مچھر یا بارش یا سخت گرمی کا اندیشہ ہو تو کلہ (مچھر دانی جیسے چھوٹےخیمہ) میں تیمم کرسکتا ہے''۔ اھ۔
(۴؎ حلیہ)
(۵؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸)
وفیھا وفی البحر عن المبتغی بالغین من کان فی کلۃ جاز تیممہ لخوف البق اومطر اوحرشدید ان خاف فوت الوقت ۱؎ اھ وفیھا عن القنیۃ عن نجم الائمۃ البخاری لوکان فی سطح لیلا وفی بیتہ ماء لکنہ ئخاف الظلمۃ ان دخل البیت لایتیمم اذالم ئخف فوت الوقت قال وفیہ اشارۃ الی انہ اذاخاف الوقت تیمّم ۲؎ اھ۔
حلیہ اور بحر میں مبتغی (غین سے) کے حوالہ سے ہے: ''جو کسی مچھر دانی جیسے محفوظ چھوٹے خیمہ میں ہو تو مچھر یا بارش یا سخت گرمی کے اندیشہ سے اس کیلئے تیمم جائز ہے اگر وقت نکل جانے کا خطرہ ہو''۔ اھ اور حلیہ میں بحوالہ قنیہ نجم الائمہ بخاری سے نقل ہے: ''اگر رات کو چھت پر ہو اور گھر کے اندر پانی ہے لیکن گھر کے اندر داخل ہوتا ہے تو تاریکی کا خطرہ درپیش ہے ایسی صورت میں اگر وقت نکلنے کا اندیشہ نہ ہو توتیمم نہ کرے فرمایا: اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اگر وقت نکلنے کا اندیشہ ہو توتیمم کرلے اھ