| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
ولوتفطن الذین لم یفھمواالی استشہادی بھذین الحدیثین فی اخر الباب لعرفو اان المراد الحکم بالظاھر والباطن فقط لاشیئ اخر لایقولہ مسلم ولا کافر ولا مجانین المارستان، وقد ذکر بعض السلف ان الخضر الی الاٰن ینفذ الحقیقۃ وان الذین یموتون فجأ ۃً ھوالذین یقتلھم فان صح ذلک فہو فی ھذہ الامۃ بطریق النیا بۃ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فانہ صارمن اتباعہ کما ان عیسی علیہ السلام لما ینزل یحکم بشریعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نیابۃ عنہ ویصیر من اتباعہ وامتہ ۱ ؎۔
(امام سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں) کاش کہ یہ علماء اعلام اس بات کو سمجھ سکتے جس کو انہوں نے نہیں سمجھا جس کی طرف میں نے آخر باب میں ان دونوں حدیثوں کے ساتھ استشہاد کیا ہے۔ اگر وہ یہ بات سمجھ جاتے تو یقیناً جان لیتے کہ مراد فقط ظاہر اور باطن کے ساتھ حکم فرمانا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں، اس کے سوا اور کوئی بات نہ مسلمان کہہ سکتا ہے اور نہ کافر اور نہ مجنون و پاگل بعض اسلاف رحمہم اﷲ تعالٰی نےذکر فرمایا ہے کہ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام اب تک حقیقت کو نافذ کرتی ہیں، اور وہ لوگ جو اچانک مرجاتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جن کو انہوں نے قتل کیا ہوتا ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو ان کا یہ عمل اس اُمت میں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کیطرف سے بطورِ نیابت ہوگا اور وہ حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے متعبین میں سے ہوں گے جس طرح کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے ساتھ آپ کی نیابت میں حکم دیں گے وہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے متبعین اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سے ہوں گے۔ اھ (ت)
(۱الخصائص الکبرٰی باب ومن خصائصہ انہ جمع بین القبلتین الخ مرکز اہلسنت برکا رضا گجرات ہند ۲/ ۱۹۱ ،۱۹۲)
اس کلامِ نفیس سے ثابت کہ عامہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو صرف ظاہر شرع پر عمل کا اذن ہوتا ہے، اور سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے علم مغیبات پر عمل کا حکم ہے، ولہذا انہوں نے ناسمجھ بچہ کو بے کسی جرم ظاہر کے قتل کردیا اور یہ کہ اب جو ناگہانی موت سے مرجاتے ہیں انہیں بھی وہی قتل فرماتے ہیں، اور ہمارے حضور اقد س صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو ظاہر شرع اور اپنے علومِ غیب دونوں پر عمل و حکم کا رب عزوجل نے اختیار دیا ہے۔ اور امام قرطبی نے اجماعِ علماء نقل فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اختیار ہے کہ محض اپنے علم کی بناء پر قتل کا حکم فرمادیں اگرچہ گواہ شاید کچھ نہ ہو ، اور حضور کے سوا دوسرے کو یہ اختیار نہیں، تو اگر اس نماز والے یا اس چور یا اس شخص کو جس پر عورت نے دھوکے سے تہمت رکھی تھی قتل کا حکم فرمائیں تو یقیناً وہ حضور کے علومِ غیب ہی پر مبنی ہے نہ کہ ان کا نافی۔ کیوں وہابیو! اب تو اپنی اوندھی مَت پر مطلع ہوئے۔ فانی تؤفکون ( تو کہا اوندھے جاتے ہو۔ت)
مسلمانو! وہابیہ کے مطلب پر بھی غور کیا، حکم کے دو ہی منبے ہوئے، یا ظاہر شرع یا باطنی علومِ غیب ، ظاہر ہے کہ یہاں ظاہر کی رُو سے تو اصلاً حکم رجم کی گنجائش نہ تھی، نہ ملزم کا اقرار نہ اصلاً کوئی گناہ، صرف مدعی کا غلط دعوٰی سن کر قتل کا حکم فرمادیں۔ نبی کی شان تو ارفع و اعلٰی ہے۔ آج کل کا کوئی عالم نہ عالم کوئی جاہل حاکم ہی ایسا کر بیٹھے تو ہر عاقل اسے یا سخت جاہل یا پکا ظالم کہے تو حدیث صحیح مان کر راہ نہ تھی مگر اسی طرف کہ حضور نے بربنائے تہمت ہر گز یہ حکم نہ دیا بلکہ بزعمِ خود اسی کے ابطال کو یہ حدیث لائے ہیں، تو اب سمجھ لیجئے کہ ان کا مطلب کیا ہوا اور انہوں نے تمہارے پیارے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کیسا بھاری الزام قائم کیا۔ کیوں نہ ہو عداوت کایہی مقتضیٰ ہے۔
قد بدت البغضاء من افواھم وما تخفی صدور ھم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون ۱ والذین یؤذون رسول اﷲ لھم عذاب الیم ۲ رب اعوذبک من ھمزات الشیطٰن واعوذبک رب ان یحضرون ۳
وصلی اللہ تعالٰی علیہ سیدنا و مولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین و اٰخر دعوٰنا ان الحمدﷲ رب العالمین، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلم مجدہ اتم و احکم
بیرَان کی باتوں سے جھلک اُٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں بڑا ہے ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سُنا دیں اگر تمہیں عقل ہو۔ اور جو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اے میرے رب تیری پناہ شیطانوں کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پا س آئیں۔ اور اﷲ درود نازل فرمائے ہمارے آقا و مولٰی محمد مصطفٰی پر، آپ کی آل اور آپ کے تمام صحابہ پر۔ اور ہماری دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہا اﷲ جو رب ہے سارے جہان کا، ا ور اﷲ سبحنہ و تعالٰی خوب جانتا ہے، اور اس کا علم اتم و احاکم ہے۔(ت)
(۱ القرآن الکریم ۳ /۱۱۸ ) (۲ القرآن الکریم ۹/ ۶۱ ) (۳ القرآن الکریم ۲۳/ ۹۷ و ۹۸ )
رسالہ " ازاحۃ العیب بسیف الغیب" ختم ہوا۔
مسئلہ ۱۵۰ : از موضع پارہ پر گنہ مورانواں ضلع اناؤ مسئولہ محمد عبدالرؤف صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقیدہ ہے کہ قیام کرنا بوقتِ ذکر ولادت شریف بدعت سیئہ ہے کیونکہ اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے مطلق پایا نہیں جاتا اور نہ وہ بات جو بعد قرونِ ثٰلثہ قائم کی گئی قابل ماننے کے ہے۔ اور کہتا ہے کہ کیا اُسی وقت حضور پر نورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیدائش ہوتی ہے جو یہ تعظیمی قیام کیا جاتا ہے، یا یہ کہ اُسی وقت آپ کی تشریف آوری ہوتی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو کس مقام مجلس میں آپ متجلی ہوتے ہیں، اگر حضارِ محفل میں آپ رونق افروز ہوتے ہیں، تو یہ اور بے ادبی ہے کہ میلاد خوان منبر پر اور آپ فرشِ زمین پر، اور اگر آپ منبر پر جلوہ فگن ہوتے ہیں تو یہ بھی بے ادبی ہوئی کہ برابری کا مرتبہ ظاہر ہوتا ہے ، لہذا بہر نوع قیام بدعت سیئہ ہے ، اس کے برعکس عمرو محفل میلاد شریف اور قیام تعظیمی و تقسیم شیرینی وغیرہ کو اپنا فرض منصبی اور نہایت درجہ مستحسن اور وسیلہ نجات اور ذریعہ فلاحت دینی و دنیوی سمجھتا ہے، فقط۔
الجواب :قیام وقت ذکرِ ولادت سیدالانام علیہ وعلٰی ذویہ افضل الصلوۃ والسلام بلاشبہ مستحب و مستحسن علمائے اعلام وعادت محبین کرام وغیظ وہابیہ لئام ہے ہم نے اپنے رسالہ
" اقامۃ القیامۃ علٰی طاعن القیامہ لنبی تہامۃ" صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وغیرہا
میں اسے متعدد آیات قرآن مجید سے ثابت کیا ، مگر وہابیہ کو کیا سوجھے۔
لھم اعین لایبصرون بھا ۱ ؎۔
( وہ آنکھیں رکھتے ہیں جن سے دیکھتے نہیں۔ت) خصوصاً قرآن عظیم تک ان کی فہم کیا پہنچے،
قال اﷲ تعالٰی : "وجعلنا علی قلوبھم اکنّۃ ان یفقھوہ ۱ ؎۔
ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیئے کہ اسے نہ سمجھیں۔(ت) ہم جو آیاتِ تلاوت کریں اُن کا کان کیونکر سنے
وفی اذانھم وقراً ۲ ؎۔
( اور ان کے کانوں میں گرانی ۔ت) راہِ حق کی دعوت انہیں کیا نفع دے۔
" وان تدعھم الی الھٰدی فلن یھتدوا اذا ابدا ۳ ؎۔
اور اگر انہیں تم ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہر گز کبھی راہ نہ پائیں گے۔(ت)
(۱ القرآن ۷/ ۱۷۹ ) (۱ القرآن ۶/ ۲۵ ) (۲ القرآن ۶/ ۲۵ )(۳ القرآن ۱۸/ ۵۷ )