Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
98 - 157
امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی سلمہ اﷲ تعالےٰ خصائص کبرٰی شریف میں فرماتے ہیں :
باب ومن خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انہ جمع بین القبلتین والھجرتین وانہ جمعت لہ الشریعۃ والحقیقۃ ولم یکن للانبیاء الا احدھما بدلیل قصۃ موسٰی مع الخضر " علیھما الصلوۃ والسلام "  وقولہ انی علی علم من علم اﷲ لاینبغی لک ان تعلمہ وانت علی علم من علم اﷲ تعالٰی لاینبغی لی ان اعلمہ وقد کنت قلت ھذا الکلام اولا استنباطامن ھذا الحدیث من غیر ان اقف علیہ فی کلام احد من العلماء ثم رأیت البدربن المصاحب اشارالیہ فی تذکرتہ ووجدت من شواھدہ حدیث السارق الذی امربقتلہ والمصلی الذی امر بقتلہ و قد تقدم فی باب الاخبار بالمغیبات۔
باب اور حضور پر نور  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کے خصائص میں سے یہ ہے کہ آپ دو قبلوں اور دو ہجرتوں کے جامع ہیں۔ اور یہ کہ آپ کے لیے شریعت وحقیقت کو جمع کردیا گیا۔ دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے کسی میں یہ دونوں وصف جمع نہ ہوئے بلکہ وہ صرف ایک وصف کے ساتھ متصف ہوئے۔ اس کی دلیل سیّدنا موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ ہے۔ اور حضرت خضر علیہ السلام کا وہ قول کہ آپ نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا  : میں اﷲ تعالٰی کی طرف سے ایسے علم کا حامل ہوں جسے جاننا آپ کو مناسب نہیں اور آپ کو منجانب اﷲ ایسا علم عطا ہوا جس کو جاننا مجھے مناسب نہیں۔(امام سیوطی فرماتے ہیں) میں پہلے یہ بات حدیث سے استنباط کرکے کہا کرتا تھا بغیر اس کے کہ میں اس بارے میں کسی عالم کے کلام پر مطلع ہوتا۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ بدربن المصاحب نے اپنے تذکرہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور میں نے اس کے شؤاہد میں وہ حدیث پائی جس میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک چور کو قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ حدیث کہ جس میں آپ نے ایک نمازی کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا،  دونوں مذکورہ حدیثیں اس سے قبل "الاخبار بالمغیبات"  کے باب میں گزرچکی ہیں۔
زیادۃ ایضاح لہذاالباب  : فقد اشکل فھمہ علی قوم ولو تأملوا لاتضع لھم المراد بالشریعۃ الحکم بالظاھر وبالحقیقۃالحکم  بالباطن وقدنص العلماء علی ان غالب الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انما بعثوا لیحکموا بالظاھر دون ما اطلعوا علیہ من بواطن الامورو حقائقہا وبعث الخضر علیہ السلام لیحکم بما اطلع علیہ من بواطن الامور وحقائقہاولکون الانبیاء لم یبعثوابذلک انکر موسٰی علیہ قتلہ الغلام وقال لہ "لقد جئت شیئا نکرا"  لان ذلک خلاف الشرع فاجابہ بانہ امربذالک وبعث بہ فقال وما فعلتہ عن امری"  (ذلک تاویل) وھذا معنی قولہ لہ انّک علی علم الٰی اخرہ "
اس باب کی مزید وضاحت : تحقیق لوگوں کو اس کے سمجھنے میں مشکل پیش آئی اور اگر وہ غور و فکر کرتے تو مطلب واضح ہوجاتا کہ شریعت سے مراد ظاہری حکم اور حقیقت سے مراد باطنی حکم ہے ،  بے شک علمائے کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ اکثر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اس لیے مبعوث ہوئے کہ وہ ظاہر پر حکم کریں نہ کہ امور باطنیہ اور ان کے حقائق پر جن سے وہ مطلع ہوئے۔ اور حضرت خضر علیہ السلام کی بعثت اس پر ہے کہ وہ اس پر حکم دیں اور جوامور باطنیہ اور اس کے حقائق سے متعلق ہیں اور جس پر ان کو اطلاع وخبر ہے چونکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی اس کے ساتھ بعثت نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس بچہ کے قتل پر اعتراض کیا جس کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا اور ا ن سے کہا  " بے شک تم نے بہت بری بات کی"  اس لیے کہ قتلِ نفس شریعت کے خلاف ہے،  لہذا اس کا جواب حضرت خضر علیہ السلام نے دیا کہ انہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور کہا کہ یہ قتل میں نے اپنے ارادے سے نہیں کیا ہے اور یہی مطلب ان کے اس کہنے کا ہے جو کہ انہوں نے کہا تھا میں اﷲ تعالٰی کی طرف سے ایسے علم کا حامل ہوں جسے جانناآپ کو مناسب نہیں۔ الخ۔
قال الشیخ سراج الدین البلقینی فی شرح البخاری المراد بالعلم التنفیذ والمعنی لاینبغی لک ان تعلمہ لتعمل بہ لان العمل بہ مناف لمقتضی الشرع ولا ینبغی ان اعلمہ فاعمل بمقتضاہ لانہ مناف لمقتضی الحقیقۃ قال فعلی ھذا لایجوز لولی التابع للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذااطلع حقیقۃ ان ینفذ ذلک بمقتضی الحقیقۃ وانما علیہ ان ینفذ الحکم الظاھر انتہی۔
شیخ سراج الدین بلقینی رحمۃ تعالٰی علیہ نے "شرح بخاری" میں فرمایا کہ علم سے مراد حکم کا نافذ کرنا ہے اور ان کے اس کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مناسب نہیں ہے کہ آپ اس کا علم حاصل کریں تاکہ آپ اس پر حکم نافذ کریں،  کیونکہ اس پر عمل کرنا تقاضائے شریعت کے خلاف ہے ،  اور نہ یہ مناسب ہے کہ میں اسے حاصل کروں اور اس کے مقتضاء پر عمل کروں کیونکہ یہ بھی مقتضائے حقیقت کے منافی ہے۔ شیخ سراج الدین رحمۃ اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا اس قاعدے کے بموجب اس ولی کے لیے جائز نہیں ہے جو نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کا تابع ہے کہ جب وہ حقیقت پر مطلع ہو تو وہ بہ مقتضائے حقیقت اس کا نفاذ کرے بے شک اس پر یہی لازم ہے کہ حکمِ ظاہر کو نافذ کرے۔ انتہی۔
وقال الحافظ ابن حجر فی الاصابۃ قال ابوحبان فی تفسیرہ الجمہور علی ان الخضر نبی وکان علمہ معرفۃ بواطن اوحیت الیہ وعلم موسٰی الحکم بالظاھر فاشار الٰی ان المراد فی الحدیث بالعلمین الحکم بالباطن والحکم بالظاھر لاامر اٰخر ۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے " الاصابہ"  میں فرمایا کہ ابوحبان رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا کہ جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں اور انکا علم ان امورِ باطنیہ کی معرفت تھی جس کی انہیں وحی کی گئی جب کہ حضرت موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کا علم ظاہر پر حکم لگاناتھا حدیث میں دو علوم جن کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس سے مراد ظاہر وباطن پر حکم لگانا ہے ،  اس کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب مراد نہیں ہے۔
وقد قال الشیخ تقی الدین السبکی ان الذی بعث بہ الخضر شریعۃ لہ فالکل شریعۃ واما نبینا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فانہ امر اولاً ان یحکم بالظاھردون ما اطلع علیہ من الباطن والحقیقۃ کغالب الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام،  ولہذا قال نحن نحکم بالظاھر ،  وفی لفظ انما اقضی بالظاھر واﷲ یتولی السرائر وقال انما اقضی بنحو ما اسمع فمن قضیت لہ بحق اخرفا نما ھی قطعۃ من النار وقال للعباس اما ظا ھرک فکان علینا واما سریرتک فالی اﷲ وکان یقبل عذر المتخلفین عن غزوۃ تبوک ویکل سرائرھم الی اﷲ وقال فی تلک المرأۃ لو کنت راجما احدا من غیر بینۃ لرجمتھا وقال ایضا لولا القرآن لکان لی ولہا شان فہذا کلہ صریح فی انہ انما یحکم بظاہر الشمرع بالبینۃ اوالاعتراف دون ما اطلعہ اﷲ علیہ من بواطن الامور وحقائقہا ثم ان اﷲ زادہ شرفا واذن لہ ان یحکم بالباطن وما اطلع علیہ من حقائق الامور فجمع لہ بین ماکان للانبیاء و ماکان للخضر خصوصیۃ خصہ اﷲ بہا ولم یجمع الامر ان لغیرہ ،  وقد قال القرطبی فی تفسیرہ اجمع العلماء عن بکرۃ ابیھم ان لیس لاحد ان یقتل بعلمہ الا النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وشاھد ذٰلک حدیث المصلیّ والسارق الذین امربقتلھما فانہ اطلع علی باطن امرھما وعلم منھما مایوجب القتل۔
شیخ تقی الدین سبکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا وہ حکم جس کے ساتھ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے وہ ان کی شریعت تھی لہذا یہ سب شریعت ہے،  اور ہمارے نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کو ابتداء میں یہ حکم فرمایا گیا کہ ظاہر پر حکم فرمائیں اور اس باطن و حقیقت پر حکم نہ دیں جس کی آپ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کو خبر ہے جس طرح کہ اکثر انبیاء علیہم السلام کا معمول تھا۔ اسی بناء پر حضور نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  نے ارشا دفرمایا "  ہم تو ظاہر پر حکم دیتے ہیں"۔  ایک روایت میں اس طرح ہے "  میں تو ظاہر پر فیصلہ د یتا ہوں باطن حالات کا خدا عزوجل مالک ہے۔"  اور یہ کہ حضور نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا ۔"  میں تو اسی پر فیصلہ دیتا ہوں جیسا کہ میں سنتا ہوں،  لہذا میں نے جس کے لیے د وسرے کے حق کا فیصلہ کردیا ہے تو وہ یہ جان لے کہ وہ آگ کا ٹکڑا ہے۔"  اور یہ کہ حضور پر نور  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  نے حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا "  جہاں تک تمہارے ظاہر کا تعلق ہے تو وہ ہمارے ذمہ ہے لیکن جو تمہاری باطنی حالت ہے وہ اللہ عزوجل کے ذمہ ہے"  اور یہ کہ حضور نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  غزوہ تبوک سے رہ جانے والوں کی معذرت قبول فرماتے تھے اور ان کے باطنی حالات کو اﷲ تعالٰی کے سپرد فرماتے تھے۔ اور یہ کہ حضور نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  نے ایک عورت کے بارے میں فرمایا ۔اگر میں بغیر دلیل و شہادت کے کسی کو سنگسار کرتا تو ضرور اس عورت کو سنگسار کرتا"  اور یہ بھی فرمایا کہ "  اگر قرآن نہ ہوتا تو یقینا میرے لیے اور اس عورت کے لیے کچھ اور ہی معاملہ ہوتا۔"  یہ تمام نظائر اور شواہد اس بات کے مظہر ہیں کہ آپ کو دلیل و شہادت یا اعتراف و اقرار کے ساتھ ظاہر شریعت پر فیصلہ دینے کا حکم ہوا نہ کہ اس پر جو باطنی امور پر اﷲ عزوجل نے آپ کو مطلع فرمایا اور اس کے حقائق آپ پر واضح فرمائے۔ اس کے بعد اللہ عزوجل نے آپ کے شرف کو اور زیادہ فرمایا اور آپ کو اجازت فرمائی کہ آپ باطن پر حکم لگائیں اور جن امور کی حقیقتوں کی آپ کو اطلاع دی گئی ہے اس پر فیصلہ فرمائیں تو اس طرح آپ ان تمام معمولات کے جوا نبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے تھے ا ور اس خصوصیت کے ساتھ جو حضرت خضر علیہ السلام کے لیے اﷲ عزوجل نے خاص فرمائے جامع تھے اور یہ امر آپ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کے علاوہ کسی اور نبی میں جمع نہیں کیا گیا۔ اور امام قرطبی علیہ الرحمۃ نے اپنی تفسیر میں فرمایا علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے علم کے ساتھ کسی کے قتل کا حکم دے سوائے نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کے۔ اس کی شاہد اس نمازی اور چور والی حدیث ہے جن کے قتل کرنے کا حکم حضور پر نور  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  نے دیا تھا کیونکہ اﷲ تعالٰی نے ان دونوں کے باطنی حالات پر آپ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کو مطلع فرمادیا تھا اور ان دونوں کے بارے میں آپ کو علم ہوگیا تھا کہ واجب القتل ہیں۔ا گرچہ ان کا قتل کچھ عرصہ بعد واقع ہوا۔)
Flag Counter