| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
اما ماحاول بہ التفصی عنہ فی حامش نسخۃ الطبع اذ قال " لعل المراد فلما قارب ان یامربہ وذلک قالہ الراوی نظر الٰی ظاہرا لا مرحیث انھم احضروہ فی المحکم عندالامام والامام اشتغل بالتفتیش عن حالہ" اھ ۶ ؎۔
مطبوعہ نسخے کے حاشیے میں محشی نے یوں کہہ کر اشکال سے بچنے کا ارادہ کیا ہے کہ شاید مراد اس سے یہ ہو کہ جب اپ رجم کا حکم دینے کے قریب ہوئے اور راوی نے ظاہر امر کو دیکھتی ہوئے یہ کہہ دیا کہ آپ نے رجم کا حکم دیا۔ اس لیے کہ لوگوں نے اُس شخص کو امام کے پاس کچہری میں پیش کیا اور امام اس کے حال کی تفتیش میں مشغول ہوئے۔ اھ (ت)
( ۶ ؎جامع الترمذی باب الحدود باب ماجاء فی المراۃ اذا استکرھت علی الزناء (حاشیہ ) امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۵)
فاقول : لایجدی نفعا فان الاشتغال بالتفتیش لایفہم قرب الامر بالرجم مالم یکن ھناک شیئ یثبتہ وماکان ھناک شہود ولااقرار وما کان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لیا مربقتل مسلم من دون ثبت فکیف یظہر للناظر قرب الامر بالرجم رجما بالغیب بل نسبۃ مثل ھذا ا الفہم الرکیک الباطل الذی یترفع عنہ احاد الناس الی الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم ثم ادعاء انھم اعتمدوا علیہ کل الاعتماد حتی نسبوا الامربالرجم الی رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ازراء بالصحابۃ وھو یرفع الامان عن روایاتہم ، و لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔
فاقول : ( تو میں کہتا ہوں) یہ کچھ نفع نہیں دیتا کیونکہ تفتیش میں مشغول ہونے سے رجم کا حکم دینے کے قریب ہونا نہیں سمجھا جاتا جب تک وہاں اس کو ثابت کرنے والی کوئی شے نہ پائی جائے، جب کہ وہاں نہ گواہ ہیں نہ اقرار اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بغیر ثبو ت کے کسی مسلمان کے قتل کا حکم نہیں دیتے تو ناطر پر محض تخمینے سے امرِ رجم کیسے ظاہر ہوگیا، بلکہ ایسے باطل و رکیک فہم جس سے عام لو گ بھی منزہ ہوں کی نسبت صحابہ کرام کی طرف کرنا پھر یہ دعوت کرنا کہ انہوں نے اس پر مکمل اعتماد کرلیااور امرِ رجم کو انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا صحابہ کرام پر جسارت ہے اور یہ ان کی روایت سے امان کو اٹھا دے گا۔ بلندی و عظمت والے معبود کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت ہے۔(ت)
رابعاً: یہ سب علم ظاہر کے طور پر تھا اور علم حقیقت لیجئے تو وہابیہ کا عجب اوندھا پن قابل تماشا ہے وہ حدیث کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علوم غیب پر روشن دلیل ہے اس کو کوالٹی دلیل نفی ٹھہراتے ہیں، اﷲ عزوجل نے ہمارے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو شریعت و حقیقت دونوں کا حکم بنایا حضور کے احکام شریعتِ ظاہرہ پر ہوتے اور کبھی حقیقتِ باطنہ پر حکم فرماتے مگر اس پر زور نہ دیا جاتا۔
ابن ابی شیبہ وابویعلی وبزار و بہقی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں :
قال ذکروارجلا عند النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فذکروا قوتہ فی الجھاد واجتہادہ فی العبادۃ فاذا ھم بالرجل مقبل فقال النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و الہ وسلم انی لاجدفی وجہہ سفعۃ من الشیطان فلمادنی فسلم فقال لہ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ھل حدثت نفسک بانہ لیس فی القوم احد خیرمنک؟ قال نعم ، ثم ذھب فاختط مسجدا و وقف یصلی ، فقال رسول اﷲ ایکم یقوم فیقتلہ ؟ فقام ابوبکر فانطلق ، فوجدہ یصلی، فرجع ، فقال وجدتہ قائماً یصلی، نھبت ان اقتلہ ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ایکم یقوم فیقتلہ ؟ فقال عمر فصنع کما صنع ابوبکر، فقال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ایکم یقوم فیقتلہ ؟ فقال علی انا قال انت ان ادرکتہ فذھب فوجدہ قد انصرف فرجع، فقال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ھذا اول قرن خرج فی امتی لوقتلتہ مااختلف اثنان بعدہ من امتی ۱ ؎۔
صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے ایک شخص کی تعریف کی کہ جہاد میں ایسی قوت رکھتا ہے اور عبادت میں ایسی کوشش کرتا ہے، اتنے میں وہ سامنے سے گزرا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں اس کے چہرے پر شیطان کا داغ پاتا ہوں۔ اس نے پاس آکر سلام کیا، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دل کی بات بتائی کہ کیوں تو نے اپنے دل میں کہا کہ اس قوم میں تجھ سے بہتر کوئی نہیں۔ کہا ہاں، پھر چلا گیا اور ایک مسجد مقرر کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہوا، حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ایسا ہے جو اٹھ کر جائے اور اسے قتل کردے؟ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ گئے ، دیکھا وہ نماز پڑھتا ہے واپس آئے اور عرض کیا کہ میں نے اسے نماز میں دیکھا مجھے قتل کرتے خوف آیا۔ حضور نے پھر فرمایا تم میں کون ایسا ہے کہ اٹھ کر جائے اور اُسے قتل کردے؟ فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ گئے اور نماز پڑھتا دیکھ کر چھوڑ آئے اور وہی عذر کیا۔حضور نے پھر فرمایا۔ تم میں کون ایسا ہے جو اٹھ کر جائے اور اسے قتل کردے ؟ مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ نے عرض کی میں حضور نے فرمایا : ہاں تم اگر اسے پاؤ۔ یہ گئے وہ جاچکا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : یہ میری امت سے پہلی سینگ نکلا تھا اگر یہ قتل ہوجاتا تو آئندہ امت میں کچھ اختلاف نہ پڑتا۔
(۱ ؎ دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماروی فی اخبارہ صلی اللہ علیہ وسلم الرجل الذی و صف الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶/ ۲۸۷و۲۸۸) (مسند ابویعلٰی عن انس حدیث ۳۶۵۶ و ۴۱۱۳ و ۴۱۲۸ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۴/۸ تا ۱۰ و ۱۵۴ و ۱۵۵ و۱۶۲) (کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب اہل البغی باب علامتہم وعبادتہم مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲ /۳۶۰)
خدمت اقدس میں ایک شخص حاضر کیا گیا جس نے چوری کی تھی، ارشاد ہوا اسے قتل کردو، عرض کی گئی اس نے چوری ہی توکی ہے۔ فرمایا :خیر ہاتھ کاٹ دو۔ پھر اس نے دوبارہ چوری کی اور قطع کیا گیا، سہ بارہ زمانہ صدیقِ اکبر میں پھر چرایا اور قطع کیا گیا۔ چوتھی بار پھر چوری کی اور قطع کیا گیا۔ پانچویں بار پھر چرایا۔ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تیری حقیقت خوب جانتے تھے جب کہ اول ہی بار تیرے قتل کا حکم فرمایا تھا تیرا وہی علاج ہے جو حضور کاارشاد تھا۔ لے جاؤ اسے قتل کردو۔ ا ب قتل کیا گیا۔
ابویعلٰی اور شاشی اور طبرانی معجم کبیر اور حاکم صحیح مستدرک میں، ضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں محمد بن حاطب اور حاکم مستدرک میں بافادہ تصحیح ان کے بھائی حارث بن حاطب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
قال اتی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلص فامر بقتلہ فقیل انہ سرق فقال اقطعوہ ثم جیئ بہ بعد ذٰلک الی ابی بکر وقد قطعت قوائمہ فقال ابوبکر مااجدلک شیئا الاماقضی فیک رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یوم امر بقتلک فانہ کان اعلم بک فامر بقتلہ ۱ ؎۔
کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا آپ نے فرمایا اس کو قتل کردو ، عرض کی گئی کہ اس نے چوری ہی تو کی ہے، فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کاٹے جاچکے تھے ۔ تو آپ نے فرمایا میں اس کے بغیر تیرا علاج نہیں جانتا جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تیرے بارے میں فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کو قتل کردو وہ تیرا حال خوب جانتے تھے۔ چنانچہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔(ت)
(۱ کنز العمال بحوالہ ع والشاشی طب ک ص حدیث ۱۳۸۶۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۵/ ۵۳۸)
صحیح مستدرک کے لفظ حارث بن حاطب سے یہ ہیں :
ان رجلا سرق علی عہد رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاتی بہ فقال اقتلوہ فقالوا انما سرق، قال فاقطعوہ ثم سرق ایضا فقطع ثم سرق علی عہدابی بکر فقطع، ثم سرق فقطع ، حتّی قطعت قوائمہ، ثم سرق الخامسۃ فقال ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کان رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اعلم بھٰذا حیث امر بقتلہ اذھبوا بہ فاقتلواہ ۱ ؎۔
ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چوری کی اُسے آپ کی بارگاہ میں لایا گیا آپ نے فرمایا ۔ اس کو قتل کردو ، عرض کی گئی اس نے چوری ہی تو کی ہے، فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو۔اس نے پھر چوری کی پھر قطع کیا گیا۔ زمانہ صدیقی میں پھر چوری کی پھر قطع کیا گیا، پھر چوری کی پھر قطع کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے پانچویں مرتبہ اس نے پھر چوری کرلی۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس کا حال خوب جانتے تھے جب کہ آپ نے پہلی مرتبہ ہی اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا تھا۔ اس کو لے جاؤ اور قتل کردو۔(ت)
(۱ المستدرک للحاکم کتاب الحدود حکایۃ سارق قتل فی الخامسۃ دارالفکر بیروت ۴/ ۳۸۲)
ظاہر ہے کہ ان دونوں کے قتل کا حکم حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے علومِ غیب ہی کی بنا پر فرمایا تھا ورنہ ظاہر شریعت میں وہ مستحقِ قتل نہ تھے۔