اور اس پر ظاہر کہ اس حدیث کا مدار سماک پر ہے۔
(۳) ابوداؤد نے یہ حدیث بعینہ اسی سند سے روایت کی اور اسی میں یہ لفظ لیرجم ( کہ اسے رجم کیا جائے۔(ت) جو منشاء اعتراض وہابی ہے، اصلاً نہیں، اس کی سند یہ ہے:
حدثنا محمد بن یحیٰی بن فارس نافریابی نا اسرائیل نا سماک بن حرب عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ۱ ؎۔
ہمیں حدیث بیان کی محمد بن یحیٰی بن فارس نے وہ کہتے ہیں ہمیں فریابی نے وہ کہتے ہیں ہمیں اسرائیل نے وہ کہتے ہیں ہمیں سماک بن حرب نے علقمہ بن وائل سے انہوں نے اپنے باپ سے حدیث بیان کی ۔(ت)
(۱ سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیئ فیقر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۵)
اور محل احتجاج میں لفظ صرف یہ ہیں :
فقالت نعم ھو ھذا فاتوابہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فلما امربہ قام صاحبہا الذی وقع علیہا فقال رسول اﷲ انا صاحبہا ۲ ؎۔
اس عورت نے کہا ہاں یہ وہی ہے چنانچہ وہ لوگ اس کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ جب آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ شخص کھڑا ہوگیا جس نے فی الواقع اس عورت سے زناء کیا تھا اور عرض کی کہ یارسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں نے اس کے ساتھ زناء کیا ہے۔(ت)
(۲ سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیئ فیقر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۵)
آخر میں :
قال ابوداؤد رواہ اسباط بن نصرایضا عن سماک ۳ ؎۔
ابوداؤد نے کہا اس کو اسباط بن نصر نے بھی سماک سے روایت کیا ہے۔(ت)
(۳ سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیئ فیقر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۶)
یہاں امربہ مطلق ہے ممکن کہ تحقیقات کے لیے حکم فرمایا یہ بھی سہی کہ بقدرِ حاجت کچھ سخت گیری کرو قید کرو کہ اگر گناہ کیا ہوا قرار کرے کہ شرعاً متہم کی تعزیر جائز ہے۔
جامع ترمذی میں حسن بن معاویہ بن خیدہ قشیری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
حدثنا علی بن سعید الکندی ثنا ابن المبارک عن معمرعن بھزین حکیم عن ابیہ عن جدہ ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حبس رجلافی تھمۃ ثم خلی عند"قال الترمذی" وفی الباب عن ابی ھریرۃ حدیث بھز عن ابیہ عن جدہ حدیث حسن، وقدروی اسمعیل بن ابراہیم عن بھزبن حکیم ھذا الحدیث اتم من ھذا واطول اھ ۱ ؎ قلت سندالترمذی حسن، علی وبہزوحکیم کلھم صدوق ما اشارالیہ من روایۃ اسمعیل بن ابراہیم فقد رواھا ابن ابی عاصم فی کتاب العفو، قال حدثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ ثناء ابن عُلیۃ عن بھزعن ابیہ عن جدہ ان اخاہ اتی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال جیرانی علی ما اخذوا فاعرض عنہ فاعاد قولہ فاعرض عنہ وساق القصۃ قال فی اخرھا خلوالہ عن جیرانہ ۲ ؎۔
ہمیں حدیث بیان کی علی بن سعید کندی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ابن مبارک نے انہوں نے معمر سے انہوں نے بہز بن حکیم سے انہوں نے بواسطہ اپنے باپ اپنے دادا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو کسی تہمت میں محبوس فرمایا پھر چھوڑ دیا ۔ اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی روایت ہے۔ بہز کی حدیث بواسطہ اپنے باپ اپنے دادا سے حسن ہے۔تحقیق اسمعیل بن ابراہیم نے بہز بن حکیم سے اس حدیث کو اتم واطول روایت کیا ہے۔اھ میں کہتا ہوں ترمذی کی سند حسن ہے، علی، بہز اور حکیم تمام صدوق ہیں۔اسمعیل بن ابراہیم کی روایت سے جس حدیث کی طرف ترمذی نے اشارہ کیا ہے۔ اس کو ابن ابی عاصم نے کتاب العفو میں روایت کیا، کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر بن ابی شیبہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ابن علیہ نے انہوں نے بہز سے انہوں نے بہز سے انہوں نے بواسطہ اپنے آپ کے اپنے دادا سے روایت کی کہ اُن کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری پڑوسی کس بنیاد پر پکڑے گئے، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض فرمایا ۔ انہوں نے بات دہرائی ، آپ نے پھراعراض فرمایا ، ا ور پورا قصہ بیان کیا، اس کے آخر میں ہے کہ آپ نے فرمایا اس کی خاطر اس کے پڑوسیوں کو چھوڑدو۔(ت)
(۱ ؎ جامع الترمذی ابواب الدیات باب ماجاء فی الحبس فی التہمۃ امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۰)
(۲ ؎ حدیث بالمفہوم سنن ابی داؤد کتاب القضاء ۲/ ۱۵۵ ومسند احمد بن حنبل ۵ /۴)
(۴) امام بغوی نے مصابیح میں یہ حدیث ذکر کی اور اس میں سرے سے دوسرے شخص کا جس پر غلطی سے تہمت ہوئی تھی قصہ ہی نہ رکھا،
مصابیح کے لفظ یہ ہیں :
عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ ان امرأۃ خرجت علی عہد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ترید الصلوۃ فتلقا ھارجل فتجللھا فقضی حاجتہ منہا فصاحت صحیۃ وانطلق ومرت بعصابۃ من المھا جرین فقالت ان ذلک فعل بی کذاوکذا، فاخذواالرجل فاتوابہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال لہا اذھبی فقد غفر اﷲ لک وقال للرجل الذی وقع علیھا ارجموہ و قال لقد تاب توبۃ لوتابھا اھل المدینۃ لقبل منھم ۱ ؎۔
علقمہ بن وائل اپنے باپ وائل سے راوی ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نماز کے ارادہ سے نکلی تو ایک مردا سے ملاجو اس پر چھا گیا۔ اس نے عورت سے اپنی حاجت پوری کرلی۔ وہ چیخی تو وہ مرد چلا گیا ، مہاجرین کی ایک جماعت وہاں سے گزری تو وہ عورت بولی کہ اس شخص نے مجھ سے ایسا ایسا کیا ہے۔ لوگوں سے اس شخص کو پکڑ لیا پھر اسے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عورت سے فرمایا تو جا تجھے اﷲ تعالٰی نے بخش دیا ہے۔ اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اس پر چھا گیا تھا کہ اسے رجم کردو، اور فرمایا یقیناً اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ توبہ سارے مدینہ والے کرتے تو ان کی توبہ قبول ہوجاتی۔
(۱ ؎ مصباح السنۃ کتاب الحدود حدیث ۶۵۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۱۱۲)
یہ بالکل وبے دغدغہ ہے ،مشکٰوۃ میں اسے ذکر کرکے کہا
رواہ الترمذی وابوداؤد۲
(اس کو ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ۔ت)۔
(۲ ؎ مشکوۃ المصابیح کتاب الحددو، الفصل الثانی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۳۱۲)
(۵) اس لفظ ترمذی میں اصل علت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت دھوکے سے کسی مرد پر زنا کی تہمت رکھ دے اور حاکم کے حضور نہ وہ مرد اقرار کرے نہ اصلاً کوئی شہادت معائنہ گزرے تو چار درکنار ایک گواہ بھی نہ ہو تو کیا ایسی صورت میں حاکم کو روا ہے کہ صرف عورت کے نام لے دینے سے اس کے رجم وقتل کا حکم دے دے، حاشا ہر گز نہیں، ایسا حکم قطعاً ، یقیناً ، اجماعاً قرآن عظیم و شریعتِ مطہرہ کے بالکل خلاف اور صریح باطل و ظلم و خونِ انصاف ہے، اس سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا، اور یہاں اسی قدر واقعہ تھا ہمارےائمہ کے یہاں مقبول ہے مگر انقطاع باطن باجماعِ علماء مردود و باطل و مخذول ہے اگرچہ کیسی ہے سند لطیف و صحیح سے آئے نہ کہ یہ سند کہ بوجوہ محل ِ نظر ہے، سماک کے سوا اسرائیل میں بھی اختلاف ہے اگرچہ راجح توثیق ہے۔ امام علی مدینی نے فرمایا :