اللھم وفقنا لما ترضاہ ویرضاہ نبینّاصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و تزداد وجوہ اٰبائنا وامھاتنا بیاضا واشراقا اٰمین۔
اے اﷲ ! ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما جن پر تُو اور ہمارا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خوش ہوں اور ان سے ہمارے ماں باپ کے چہروں کی نورانیت اور چمک میں اضافہ ہو، آمین۔(ت)
ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اعمال امتی تعرض علّی فی کلّ یوم جمعۃ، واشتد غضب اﷲ علی الزناۃ ۲ ؎ ۔
بے شک ہر جمعہ کے دن میری امت کے اعمال مجھ پر ہوتے ہیں اور زانیوں پر خدا کا سخت غضب ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی ۔
( ۲ ؎حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۵۸ عمران القصیر دار الکتاب العربی بیروت ۶/ ۱۷۹ )
امام اجل عبداﷲ بن مبارک سعید بن مسیّب بن حزن رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی :
لیس من یوم الاتعرض فیہ علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعمال امتہ غدوۃ وعشیۃ فیعرفھم بسیماھم واعمالھم۳۔
کوئی دن ایسا نہیں جس میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم وآلہ وسلم پر ان کی اُمّت کے اعمال صبح و شام دو دفعہ پیش نہ ہوتے ہوں تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم انہیں ان کی نشانی صورت سے بھی پہچانتے ہیں اور ان کے اعمال سے بھی، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
( ۳ ؎کتاب الزھد باب فی عرض عمل الاحیاء علی الاموات حدیث دار الکتب العلمیہ بیروت الجزء الرابع ص ۴۲)
تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے :
وذٰلک کل یوم کما ذکرہ المؤلف وعدہ من خصوصیاتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و تعرض علیہ ایضا مع الانبیاء والاباء یوم الاثنین والخمیس ۱ ؎ قالہ تحت حدیث ابن سعد المذکور ، واﷲ تعالٰی اعلم ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں پیشی تو ہر روز ہے جیسا کہ امام جلا ل الدین سیوطی نے ذکر فرمایا اور اسے حضور کے خصائص سے گنا اور ہر دو شنبہ و پنجشنبہ کو بھی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اعمالِ امت انبیاء اور آباء کے ساتھ پیش ہوتے ہیں۔( یہ بات امام مناوی نے حدیث ابن سعد مذکور کے تحت فرمائی ہے، اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے ۔ت)
(۱ ؎التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث حیاتی خیرلکم مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۵۰۲)
اس طرح بارگاہِ حضور میں اعمالِ اُمّت کی پیشی روزانہ ہر صبح و شام کو الگ ہوتی ہے پھر ہر دو شنبہ اور پنچشنبہ کو جدا، پھر ہر جمعہ کو ہفتہ بھر کے اعمال کی پیشی جدا۔ بالجملہ دیوبندیوں کا اسے غلط و افترائے محض کہنا محض اسی بنا پر ہے کہ فضائل ِ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے جلتے ہیں، صحیح حدیثوں کو کیا مانیں جب قرآن عظیم ہی سے بچ کر نکلتے ہیں ، اوندھے چلتی ہیں،
فبای حدیث بعد اﷲ وایتہ یؤمنون ۲ ؎۔
( پھر ا ﷲ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ت)
(۲ ؎القرآن الکریم ۴۵ /۶)
شبہہ رابعہ : کے دو رَد گزرے امرا ول و دوم سے۔
ثالثاً : حدیث ترمذی، جس سے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر شدید اعتراض جمانا چاہا
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون ۳ ؎۔
( اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
(۳ ؎القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷)
اصول محدثین پر محل کلام اور اصولِ دین پر قطعاً حجیت سے ساقط ہے، ترمذی کے یہاں اس کے لفظ یہ ہیں۔
حدثنا محمد بن یحیٰی ثنا محمد بن یوسف عن اسرائیل ثنا سماک بن حرب عن علقمۃ بن وائل الکندی عن ابیہ ان امرأۃ خرجت علٰی عہد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ترید الصلوۃ فتلقا ھار جل فتجللہا فقضی حاجتہ منہا فصاحت فانطلق ومرعلیہا رجل فقالت ان ذٰلک الرجل فعل بی کذاوکذا، ومرت بعصابۃ من المھاجرین فقالت ان ذالک الرجل فعل بی کذاکذا فانطلقوا فاخذوا الرجل الذی ظنت انہ وقع علیہا واتوھا فقالت نعم ھو ھذا فاتوابہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فلما امر بہ لرجم قام صاحبہا الذی وقع علیھا فقال یارسول اﷲ انا صاحبہا فقال لھا اذھبی فقد غفر اﷲ لک ، وقال للرجل قولاً حسناً ، وقال للرجل الذی وقع علیہا ارجمعوہ وقال لقد تاب توبۃ لوتابہا اھل المدینۃ لقبل منھم، ھذا حدیث حسن غریب صحیح، وعلقمۃ بن وائل بن حجر سمع من ابیہ وھواکبر من عبدالجبار بن وائل وعبدالجبار بن وائل لم یسمع من ابیہ ۱ ؎۔
علقمہ بن وائل کندی اپنے باپ (وائل) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عہد اقدس میں ایک عورت نماز پڑھنے کے لیے نکلی تو اسے ایک مرد ملا جس نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی وہ عورت چیخی تو وہ شخص چلا گیا، ایک اور شخص اس عورت کے پاس سے گزرا تو اس عورت نے کہا کہ اس مرد نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے۔اور وہ خاتون مہاجرین کی ایک جماعت کے پاس سے گزری اور کہا اس مرد نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے۔ وہ لوگ گئے اور اس مرد کو پکڑ لائے جس کے بارے میں اس خاتون نے گمان کیا تھا کہ ا س نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، جب وہ اسے خاتون کے پاس لائے تو اس نے کہا ہاں یہ وہی ہے، چنانچہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے پھر جب آپ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تو وہ شخص اٹھ کر کھڑا ہوگیا جس نے فی الواقع اس عورت سے زنا کیا تھا اور عرض کی کہ یارسول اﷲ ! میں نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، چنانچہ آپ نے اس عورت سے فرمایا : جا اﷲ تعالٰی نے تیری مغفرت کردی، اور پہلے مرد سے اچھا کلام فرمایا اور دوسرے مرد جس نے حقیقۃً زنا کیا تھا کہ بارے میں فرمایا کہ اس کو سنگسار کردو پھر فرمایا اس نے ایسی توبہ کی کہ اگر تمام اہلِ مدینہ یہ توبہ کرتے تو ان سے قبول کرلی جاتی ۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، علقمہ بن وائل بن حجر نے اپنے باپ سے سماعت کی ہے اور وہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں عبدالجبار نے اپنے باپ سے کچھ نہیں سُنا۔ت)
(۱ ؎ جامع الترمذی ابواب الحدود باب ماجاء فی المراۃ اذااستکرھت علی الزنا امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۷۵)
(۱) وائل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے علقمہ کے سماع میں کلام ہے، امام یحیٰی بن معین ان کی روایت کو منقطع بتاتی ہیں اور اسی پر حافظ نے تقریب میں جزم کیا،
میزان میں ہے :
علقمۃ بن وائل بن حجر صدوق الا ان یحیٰی بن معین یقول فیہ روایۃ عن ابیہ مرسلۃ ۱ ؎۔
علقمہ بن وائل بن حجر صدوق ہے مگر یحیٰی بن معین کہتے ہیں کہ اس کی روایت اپنے باپ سے مرسل ہے۔(ت)
(۱ ؎ میزان الاعتدال ترجمہ ۵۷۶۱ علقمہ بن وائل دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۰۸)
تقریب میں ہے :
علقمۃ بن وائل صدوق الاانہ لم یسمع من ابیہ ۲ ؎۔
علقمہ بن وائل صدوق ہے مگر اپنے باپ سے اس نے کچھ نہ سنا۔(ت)
امام نسائی نے اس کے باب میں یہ فیصلہ کیا کہ جس حدیث کے تنہا وہی راوی ہوں حجت نہیں۔میزان میں ہے :
قال النسائی اذا انفرد باصل لم یکن بحجۃ لانہ کان یلقن فیتلقن۴ ؎ اھ وقد انقدالحافظ علی الترمذی تصحیحاتہ بل وتحسیناتہ کما بیناہ فی مدارج طبقات الحدیث وغیرھا من تصانیفنا۔
نسائی نے کہا جس حدیث میں علقمہ منفرد ہو وہ حجت نہیں کیونکہ انہیں بات سمجھائی جاتی تب وہ سمجھتے اور حافظ نے ترمذی پر اس کی تصیححات بلکہ اس کی تحسینات پر تنقید کی، جیسا کہ ہم نے اپنی تصانیف مدارج طبقات الحدیث وغیرہ میں اس کو بیان کیا ہے۔(ت)
(۴ ؎ میزان الاعتدال ترجمہ۳۵۴۸ سماک بن حرب دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۳۳)