دیوبندی صاحبوں نے تو ترپن چون ہی برس کا بل رکھا تھا، جناب گنگوہی صاحب سوا سو برس سے بھی اونچے اڑ گئے یعنی شملہ بمقدار علم ، اس سنت پر قائم ہو کر اگر کوئی دیوبندی یا تھانوی حضرت گنگوہی صاحب کے تذکرہ میں لکھ دیتا کہ عالیجاب گنگوہیت مآب کو ابن ملجم نے غسل دیا اور یزید نے نماز پڑھائی اور شمر نے قبر میں اتارا، تو کیا مستعبد تھا بلکہ وہ اس سے قریب تر ہوتا دو وجہ سے۔
اوّلاً : ممکن کہ اشتراکِ اسماء ہو، وفاتِ گنگوہی صاحب کے وقت جو لوگ ان کاموں میں ہوں انکے یہ نام ہوں۔
ثانیاً : بابِ تشبیہ واسع ہے جیسے لکل فرعون موسٰی ( ہر فرعون کے مقابلے میں موسٰی ہوتا ہے۔ت ) مگر جناب گنگوہی صاحب کے کلام میں کہ امام ابویوسف شاگردِ امام ابوحنیفہ جو سید العلماء تھے کوئی تاویل بنتی نظر نہیں آتی سوا اس کے اتنا عظیم جہل شدید یا حضرت امام پر اتنا بیباکانہ افترائے بعید
ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز المجید ۔
رابعاً: بفرض صحتِ حکایت یہ معبر کی اپنی مقدار علم ہے ممکن کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عمر ہی بتائی ہو خواہ مجموع خواہ باقی۔ پانچ انگلیوں سے اشارے میں پانچ یا چھ دن یا ہفتے یا مہینے یا برس یا ساٹھ بہتر برس یا تیس سال دس مہینے گیارہ دن یا اکتیس سال چار مہینے چند دن ، بارہ احتمال ہیں، کیا دلیل ہے کہ خواب دیکھنے والے کی عمر اگرچہ بفرضِ غلط امام احمد ہی ہوں روزِ خواب سے آخر تک ان میں سے کسی مقدار پر نہ ہوئی امام احمد کی عمر شریف سستر(۷۷) سال ہوئی، اگر پانچ برس کی عمر میں خواب دیکھا ہو تو سب میں بڑا احتمال بہتر سال ممکن ہے ا ور باقی زیادہ واضح ہیں، یا اصل دیکھئے تو امام احمد و امام ابن سیرین کا نام تو دیوبندیوں نے بنالیا۔ کیا دلیل کہ واقعی خواب دیکھنے والے کی ساری عمر چار احتمال اخیر سے کسی شمار پر نہ ہوئی خواب دیکھنے والے کی تاریخ اور دیکھنے والے کی تاریخ ولادت وفات یہ سب صحیح طور پر معلوم ہوئیں اور ثابت ہو کہ اس کی مجموع عمرو باقی عمر کوئی ان میں سے کسی احتمال پر ٹھیک نہیں آتی، اس وقت اس کہنے کی گنجائش ہو کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے مقدارِ عمر کی طرف اشارہ نہ فرمایا، اور جب کہ ان میں سے کچھ ثابت نہیں تو ممکن کہ حضور حضور نے عمر ہی بتائی ہو معبر کو اس کے جاننے کی طرف راہ نہ تھی لہذا اپنی سمجھ کے قابل اسے غیوبِ خمسہ کی طرف پھیر دیا، دیوبندیوں کو تو شاید اس اشارے میں یہ بارہ احتمال سمجھنے بھی دشوار ہوں حالانکہ وہ نہایت واضح ہیں اور ان کے سوا اور دقیق احتمام بھی تھے کہ ہم نے ترک کردیئے۔
شبہہ ثانیہ : کے تین رَدگزری امر اول و دوم و سوم سے۔ رابعاً دیوبندیوں کی عبارت کہ آپ کے علم مشاہدہ میں نقصان ثابت ہوگیا علم غیب پر اطلاع تو ابھی دور ہے جس ناپاک و بیباک طرزپر واقع ہوئی اس کا جواب تو اِن شاء اﷲ تعالٰی روزِ قیامت ملے گا مگر ان سفیہوں کو دین کی طرح عقل سے بھی مس نہیں، امراہم و اعظم و اجل و اعلٰی میں اشتعال بارہا امرسہل سے ذہول کا باعث ہوتا ہے، ایسی جگہ اس کے ثبوت سے ہی اس کا انتفا ہوتا ہے نہ کہ اس کی نفی سے اس کی نفی پر استدلال کیا جائے۔
" ولکن الوھابیۃ قوم یجہلون "
( لیکن وہابی جاہل قوم ہے۔ت)
شبہہ ثالثہ : کے دور دگزرے امراول وسوم سے۔
ثالثاً : یہ حدیث جس طرح دیوبندی نے بتائی صریح افترا ہے ، نہ صحیح مسلم میں کہیں اس کا پتا ہے۔
رابعاً : حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اعمالِ اُمت پیش کیے جانے کو غلط و محض افترا کہنا غلط و محض افترا ہے۔ بزار اپنی مسند میں بسندِ صحیح جیدّ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں،
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
حیاتی خیرلکم تحدثون ونحدث لکم، ووفاتی خیر لکم تعرض علیّ اعمالکم فمارأیت من خیر حمدت اﷲ علیہ وما رأیت من شراستغفرت اﷲ لکم ۱ ؎۔
میری زندگی تمہارے لیے بہتر ہے مجھ سے باتیں کرتے ہو اور ہم تم سے باتیں کرتے ہیں، اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر، تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جائیں گے جب بھلائی دیکھوں گا حمدِ الہٰی بجالاؤں گا اور جب برائی دیکھوں گا تمہاری بخشش چاہوں گا۔(ت)
(۱ ؎ البحرالزخار المعروف بمسند البزار حدیث ۱۹۲۵ مکتبہ العلوم والحکم مدینۃ المنورۃ ۵ /۳۰۸ و۳۰۹)
اللھم صل وسلم وبارک علیہ صلوۃ تکون لک ولہ رضاء ولحقہ العظیم اداء اٰمین۔
اے اللہ ! درود و سلام اور برکت عطا فرما آپ پر ایسا درود جو تیری اور ان کا رضا کا ذریعہ ہو اور اس سے انکے عظیم حق کی ادائیگی ہو۔آمین ۔ (ت)
مسند حارث میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
حیاتی خیر لکم تحدثون وتحدث لکم فاذا انامت کانت وفاتی خیرالکم تعرض علیّ اعمالکم فان رأیت خیرا حمدت اﷲ وان رأیت شرا ذٰلک استغفرت اﷲ لکم ۲ ؎۔
میری جینا تمہارے لیے بہتر ہی مجھ سے باتیں کرتے ہو اور ہم تمہارے نفع کی باتیں تم سے فرماتے ہیں، جب میں انتقال فرماؤں گا تو میری وفات تمہارے لیے خیر ہوگی ، تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جائیں گے اگر نیکی دیکھوں گا حمد الہٰی کروں گا اور دوسری بات پاؤں گا تو تمہاری مغفرت طلب کروں گا۔
(۲ ؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر ما قرب الرسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم من اجلہ دارصادر بیروت ۲ /۱۰۴)
(ف:حدیث کے مذکورہ بالا الفاظ طبقات ابن سعد میں بکر بن عبداﷲ مزنی سے منقول ہے۔)
" اللھم صل وسلم وبارک علیہ قدر رأفتہ ورحمۃ بامتہ ابدا اٰمین " ۔
اے اﷲ! آپ پر ہمیشہ اس قدر درود وسلام اور برکت نازل فرما جس قدر آپ اپنی امت پر مہربان ہیں، آمین (ت)
ابن سعد طبقات اور حارث مسند میں اور قاضی اسمعیل بہ سند ثقات بکر بن عبدالبرمزنی سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
حیاتی خیر لکم تحدثونی ونحدث لکم فاذاانامت کانت وفاتی خیرالکم تعرض علی اعمالکم فان رأیت خیر احمدت اﷲ وان رأیت شرا استغفرت لکم ۱ ؎۔
میری حیات تمہارے لیے بہتر ہے، جو نئی بات تم سے واقع ہوتی ہے ہم اس کا تازہ علاج فرماتے ہیں جب میں انتقال کروں گا میری وفات تمہارے لیے بہتر ہوگی تمہارے اعمال میرے حضور معروض ہوں گے میں نیکیوں پر شکر اور بدی پر تمہارے لیے استغفار فرماؤں گا۔
(۱ ؎ کنزالعمال بحوالہ ابن سعد عن بکر بن عبداﷲ مرسلاً حدیث ۳۱۹۰۳ موسستہ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۰۷)
( الجامع الصغیربحوالہ ابن سعد عن بکر حدیث ۳۷۷۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۲۲۹)
اللھم صل وسلم وبارک علٰی ھذا الحبیب الذی ارسلتہ رحمۃ وبعثتہ نعمۃ وعلٰی الہ وصحبہ عدد کل عمل وکلمۃ امین۔
اے اللہ تعالٰی ! تمام اعمال اور تمام کلمات کی تعداد کے مطابق درود و سلام اور برکت نازل فرما اس حبیب پر جسے تو نے رحمت اور نعمت بنا کر بھیجا ہے، آمین ۔(ت)
امام ترمذی محمد بن علی والدِ عبدالعزیز سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
" تعرض الاعمال یوم الاثنین و یوم الخمیس علی اﷲ تعالٰی و تعرض علی الانبیاء وعلی الاباء والامہات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسنا تھم وتزدادوجوھھم بیضا ونزھۃ فاتقوا اﷲ تعالٰی ولا تؤذوا موتاکم ۱۔
ہر دوشنبہ و پنچشنبہ کو اعمال اﷲ کے حضور پیش ہوتے ہیں اور ہر جمعہ کو انبیاء اور ماں باپ کے سامنے ، وہ نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور انکے چہروں کی نورانیت اور چمک بڑھ جاتی ہے، تو اﷲ سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اپنی بداعمالیوں سے ایذا نہ دو۔
( ۱ ؎نوادر الاصول الاصل السابع واستون والمائۃ الخ دار صادر بیروت ص ۲۱۳)