Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
93 - 157
رابعاً : پہلا شبہہ امر چہارم سے دو بارہ مردود ہے کسی کی مقدار عمر وقتِ موت اسے بتادینا غالب اوقات اکثر ناس کے لیے مصلحت ِ دینیہ کے خلاف ہے تو ایسے مہمل سوال کے جواب سے اگر اعراض فرمایا اور حوالہ بخدا فرمادیا ،  کیا مستبعد ہے۔
فائدہ :

یہ انہیں جملوں سے ان چاروں شبہوں کے متعدد رد ہوگئے،  اب بتو فیقہ تعالٰی بعض افادیت ذکر نہ کریں کہ وہابیہ کی کمال حالت آفتاب سے زیادہ روشن ہواور چاروں شبہوں میں ہی ایک پر چار چاررَد ہوجائیں۔
فاقول : وباﷲ التوفیق
 ( چنا نچہ میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہے۔ت)
شبہہ اُولٰی : کے دو ردگزرے امرا دل و چہارم سے،  ثالثاً حضرات علمائے وہابیہ کی جہالت تماشا کردنی۔ امام احمد بن حنبل نے خواب دیکھا اور امام ابن سیرین سے تعبیر پوچھی۔ اے سبحان اﷲ! جھوٹ گھڑے تو ایسا گھڑے ،  امام ابن سیرین کی وفات سے ساڑھے تریپن (۲/۱۔۵۳ ) برس بعد امام احمد کی ولادت ہوئی ہے۔ ابن سیرین کی وفات نہم شوال ایک سودس (۱۱۰ھ) کو ہے اور امام احمد کی ولادت ربیع الاول ایک سو چونسٹھ (۱۶۴ھ) میں ۔
تقریب میں ہے :
"  محمد بن سیرین ثقۃ ثبت عابد کبیر القدرمات سنۃ عشرو مائۃ ۱ ؎۔
محمد بن سیرین ثقہ،  ثبت ،  عبادت گزار اور بڑی قدروو منزلت والے ہیں،  ان کا وصال ۱۱۰ھ میں ہوا۔ت)
 (۱ ؎ تقریب التہذیب     ترجمہ ۵۹۶۶    محمد بن سیرین        دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲ /۸۵)
وفیات الاعیان میں ہے :
محمد بن سیرین لہ الیدالطولٰی فی تعبیر الرؤیا توفی تاسع شوال یوم الجمعۃ سنۃ عشرومائۃ بالبصرۃ ۲ ؎۔
محمد بن سیرین جو کہ خوابوں کی تعبیر میں کامل مہارت رکھتے تھے ،  نے ۹ شوال ۱۱۰ھ بروز جمعہ میں بصرہ میں وفات پائی۔ت)
 (۲ ؎ وفیات الاعیان         ترجمہ ۵۶۵     محمد بن سیرین         دارالثقافۃ بیروت        ۴ /۱۸۲)
تقریب میں ہے :
"  احمد بن محمد بن حنبل مات احدی واربعین ولہ سبع وسبعون سنۃ ۳ ؎۔
امام احمد بن محمد بن حنبل نے ۲۴۱ھ میں وصال فرمایا جب کہ آپ کی عمر مبارک ۷۷ برس تھی۔(ت)
 (۳ ؎ تقریب التہذیب     ترجمہ ۹۶        احمد بن محمد بن حنبل        دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۴۴)
وفیات الاعیان میں ہے :
"  الامام احمد بن حنبل خرجت اُمّہ من مرو و ھی حامل بہ فولدتہ فی بغداد فی شہر ربیع الاول سنۃ اربع وستین ومائۃ ۱ ؎۔
امام احمد بن حنبل کی والدہ ماجدہ مرو سے نکلیں جبکہ امام احمد ان کے شکم میں تھے،  چنانچہ آپ کی والدہ نے آپ کو شہر بغداد میں ربیع الاول شریف ۱۶۴ھ میں جنا۔(ت)
 ( ۱ ؎ وفیات الاعیان         ترجمہ۲۰     احمد بن حنبل          دارالثقافۃ بیروت        ۱ /۶۴)
مگر یہ کہئے کہ امام احمد علیہ الرحمہ نے جب کہ اپنے جدا مجد کی پشت میں نطفے تھے یہ خواب دیکھا اور امام ابن سیرین نے مافی الارحام ( جو رحموں میں ہے۔ت) سے بھی خفی ترغیب مافی الاصلاب ( جو پشتوں میں سے۔ت) کو جانا اور تعبیر بیان کی۔

یوں آپ کے طور پر رسول اﷲ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کی غیب دانی نہ ہوئی تو ابن سیرین کو علم غیب ہوا۔ یہ شاید حضراتِ  وہابیہ پر آسان ہو کہ ان کو اوروں کو فضائل سے اتنی عداوت نہیں جتنی اصل اُصول جملہ فضائل یعنی حضور اقدس  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  سے ہے۔
لطیفہ جلیلہ :
دیوبندی علماء کی جہالت اپنے قابل ہے،  ان کے اکابر کی ان سے بھی بڑھ کر ان کے قابل تھی، عالیجناب امام الوہابیہ مولوی گنگوہی صاحب آنجہانی اپنے ایک فتوے میں اپنی دادِ قابلیت دیتے ہوئے فرماتے ہیں،  حسین بن منصور کے قتل پر امام ابویوسف شاگردِ امام ابوحنیفہ جو کہ سیّد العلماء تھے اور سید الطائفہ جنید بغدادی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ جو تمام سلاسل کے مرجع ہیں دونوں نے فتوٰی قتل کا دیا،  بجا ہے۔ (حاشیہ: قتل پر قتل کا فتوٰی بھی قابل تماشا ہے،  یعنی قتل کو قتل کیا جائے یا قاتل کو ۔۱۲) درفنِ تاریخ ہم کمالے دارند ( فن تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ ت )

سیدنا امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات پنجم ربیع الاول یا ربیع الاخر ایک سو بیاسی ہجری (۱۸۲ھ) کو ہے اور حضرت حسین بن منصور حلاج قدس سرہ،  کا یہ واقع ۲۳ ذی القعدہ (۳۰۹ھ) تین سو نو ہجری میں،  دونوں میں قریب ایک سو اٹھائیس (۱۲۸) برس کے فاصلہ ہے مگر امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ کو غیب داں کہیے کہ اپنی وفات سے سوا سو برس بعد کے واقعہ کو جان کر حلاج کے قتل کا پیشگی فتوٰی دے گئے۔
تذکرۃ الحفاظ علامہ ذہبی میں ہے :
القاضی ابویوسف الامام العلامۃ الفقیہ العراقین صاحب ابی حنیفۃ اجتمع علیہ المسلمون مات فی ربیع الاٰخرسنۃ ثنتین و ثمانین ومائۃ عن سبعین سنۃ الاسنۃ ولہ اخبار فی العلم والسیادۃ ۱ ؎۔
قاضی ابویوسف امام،  علامہ ،  اہل کوفہ و بصرہ کے فقیہ اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد ہیں،  تمام مسلمان آپ پر متفق ہیں۔آپ نے ماہِ ربیع الثانی ۱۸۲ہجری کو ۶۹ برس کی عمر میں وصال فرمایا ۔علم و سیادت میں ان کی متعدد خبریں ہیں۔(ت)
 (۱ ؎ تذکرۃ الحفاظ         ترجمہ ۲۷۳   ۶/ ۴۲          ابویوسف یعقوب بن ابراہیم   دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۲۱۴)
وفیات الاعیان میں ہے :
کانت ولادۃ القاضی ابی یوسف سنۃ ثلث عشرۃ ومائۃ وتوفی یوم الخمیس اول وقت الظھر لخمس خلون من شہر ربیع الاول سنۃ اثنتین وثمانین و مائۃ ببغداد ۲ ؎۔
قاضی ابو یوسف کی ولادت ۱۱۳ھ کو اور وفات ۵ ربیع الاول ۱۸۲ھ بروز جمعرات بوقتِ اول ظہر بغداد میں ہوئی۔ت)
 (۲ ؎ وفیات الاعیان      ترجمہ ۸۲۴    قاضی ابویوسف یعقوب بن ابراہیم     دارالثقافۃ بیروت        ۶ /۳۸۸)
اسی میں تاریخِ  شہادتِ حضرت حلاج میں لکھا :
"یوم الثلثاء لسبع بقین وقیل لست بقین من ذی القعدۃ سنۃ تسع وثلثمائۃ ۳ ؎۔
۲۳ یا ۲۴ ذوالقعدہ ۳۰۹ھ بروز منگل (ت)
 (۳ ؎ وفیات الاعیان    ترجمہ ۱۸۹      الحاج حسین بن منصور      دارالثقافۃ بیروت    ۲ /۱۴۵)
سلطان اورنگزیب محی الدین عالمگیر انار ا ﷲ تعالٰی برہانہ کی حکایت مشہور ہے کہ کسی مدعیِ ولایت کا شہرہ سن کر اس کے پاس تشریف لے گئے،  اس کی عمر طویل بتائی جاتی تھی۔ سلطان نے پوچھا۔ جناب کی عمر شریف کس قدر ہے؟ کہا مجھے تحقیق تو یاد نہیں مگر جس زمانے مین سکندر ذوالقرنین امیر تیمور سے لڑرہا تھا میں جوان تھا سلطان نے فرمایا:
علاوہ کشف و کراماتِ درفن تاریخ ہم کمالے دارند
 (کشف و کرامات کے علاوہ فنِ تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں ۔ت)
Flag Counter