| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
جمیع من سبّ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بشتمۃ اوعابہ ھو اعم من السب فان من قال فلان اعلم منہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقد عابد و نقصہ وان لم یسبہ (فھو ساب والحکم فیہ حکم الساب) من غیر فوق بینھما (لانستثنی منہ) (فصلاً ) اَی صورۃً (ولا نمتری) فیہ تصریحاً کان اوتلویحاً وھذا کلّہ اجماع من العلماء وائمۃ الفتوٰی من لدن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی علٰی عنھم الٰی ھلّم جرًّا ۱ ا ھ مختصراً ۔
یعنی جو شخص نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے یا حضور کو عیب لگائے اور یہ گالی دینے سے علم تر ہے کہ جس نے کسی کی نسبت کہا کہ فلاں کا علم نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم سے زیادہ ہے اس نے ضرور حضور کو عیب لگایا، حضور کی توہین کی، اگرچہ گالی نہ دی، یہ سب گالی دینے والے کے حکم میں ہے، ان کے اور گالی دینے والے کے حکم میں کوئی فرق نہیں، نہ ہم اس سے کسی صورت کا استثناء کریں نہ اس میں شک وتردد کو راہ دیں، صاف صاف کہا ہو یا کنایہ سے، ان سب احکام پر تمام علماء اور آئمہ فتوٰی کا اجماع ہے کہ زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے آج تک برابر چلا آیا ہے۔ اھ مختصراً
(۱ ؎ نسیم الریاض القسم الرابع الباب الاول مرکز اھل سنت برکاتِ رضا گجرات ہند ۴ /۳۳۵ و ۳۳۶)
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ فی الدنیا والاخرۃ ونعوذ بہ من الحور بعد الکور ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اللہ تعالٰی علیہ سید المرسلین واﷲ سبحانہ تعالی اعلم ۔
ہم اﷲ تعالٰی سے دنیاو آخرت میں معافی اور عافیت چاہتے ہیں اور کثرت کے بعد قلت سے اس کی پناہ چاہتے ہیں نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے اور درود نازل فرمائے اﷲ تعالٰی رسولوں کے سردار پر ، اور اﷲ سبحنہ و تعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت)
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس سوال کے ورود پر ایک مسبوط کتاب " بحرعباب" منقسم بہ چار باب مسمّٰی بہ نام تاریخی
" مائی الحبیب بعلوم الغیب " (۱۳۱۸ھ)
کی طرح ڈالی۔
باب اول : فصوص یعنی فوائد جلیلہ و نفائس جزیلہ کہ ترصیف دلائل اہلسنت کے مقدمات ہوں۔ باب دوم : نصوص یعنی اپنے مدعا پر دلائل جلائل قرآن وحدیث و اقوالِ آئمہ قدیم و حدیث۔ باب سوم : عموم و خصوص کہ احاطہئ علومِ محمدیہ میں تحریر محل نزاع کرے۔ باب چہارم :قطع اللصوص یعنی اس مسئلے میں تمام مہملات نجدیہئ نو وکہن کی سرفگنی و تکبر شکنی، مگر فصوص ونصوص کے ہجوم و وفور نے ظاہر کردیا کہ اطالت تاحدّ ملالت متوقع،
لہذا باذن اﷲ تعالٰی نفع عامّہ کے لیے اس بحرذخار سے ایک گوہرشہوار لامع الانوار گویا خزائن الاسرار سے درمختار مسمّی بہ نام تاریخی
"اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان ومایکون" (۱۳۱۸ھ)
(پوشیدہ موتی بشیر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علمِ ماکان ومایکون کے بارے میں۔ت) چنُ لیا جس نے جمع و تلفیق کے عوض نفع و تحقیق کی طرف بحمداﷲ زیادہ رُخ کیا۔ اس کے ایک ایک نور نے نورالسمٰوت والارض جل جلالہ کے عون سے وہ تابشیں دکھائیں کہ ظلماتِ باطلہ کا فور ہوتی نظر آئیں۔
یہ چند حرفی فتوٰی کہ اس کے لمعات سے ایک شعشہ اور بلحاظ تاریخ
بنام ابناء المصطفٰی بحال سّرواخفی
( مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو پوشیدہ اور پوشیدہ ترین کے حال کی خبر دینا ۔ت) مسمّٰی ہے۔ اس کے تمام اشارات خفیہ کا بیان مفصل اسی پر محول ذی علم ماہر تو ان ہی چند حروف سے اِنشاء اﷲ تعالٰی سب خرافات و جزافات مخالفین کو کیفر چشانی کرسکتا ہے مگر جو صاحب تفصیل کے ساتھ دست نگر ہوں بعونہ تعالٰی رسائل مذکور ہ کے لآلی متلالی سے بہرہ ور ہوں، حضراتِ مخالفین سے بھی گزارش ہے کہ اگر توفیقِ الہی مساعدت کرے یہی حرفِ مختصر ہدایت کرے تو ازیں چہ بہتر، ورنہ اگر بوجہ کوتاہی فہم و غلبہئ وہم و قلتِ تدرّب و شدتِ تعصب اپنی تمام جہالاتِ فاحشہ کی پردہ دری ان مختصر سطور میں نہ دیکھ سکیں۔ تو اسی مہر جہاں تاب کا انتظار کریں۔ جو بہ عنایت الہٰی و اعانت رسالت پناہی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کی تمام ظلمتوں کی صبح کردے گا۔ ان کا ہر کاسہ سوال آبِ زلال رَدو ابطال سے بھردے گا۔
الا انّ موعد ھم الصبح الیس الصبح بقریب ط وما توفیقی الاّ باﷲ علیہ توکلت والیہ اُنیب ط۔
خبردار ! بے شک ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے کیا صبح قریب نہیں، اور میری توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔(ت) کیا فائدہ کہ اس وقت آپ کا خواب غفلت کچھ ہذیات (بے ہودہ گوئی) کا رنگ دکھائے، اور جب صبح ہدایت افق سعادت سے طالع ہو تو کھل جائے کہ ۔۔۔۔۔۔ع خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو کہا افسانہ تھا
معہذا طائفہ ارانب وثعالب کو یہی مناسب کہ جب شیر ژیاں کو چہل قدمی کرتا دیکھ لیں سامنے سے ٹل جائیں اپنے اپنے سوراخوں میں جان چھپائیں، نہ یہ کہ اس وقت اس کے خرام نرم پر غرّہ ہو کر آئیں اس کی آتشِ غضب کو بھڑکائیں اپنی موت اپنے منہ بلائیں ،ع
نصیحت گوش کن جاناں کہ از جاں دور تر خواہند شغالانِ ہزیمت مند خشم شیر ہیجارا
(اے دوست ! نصیحت سُن کہ اپنی جان سے دور چاہتے ہیں، شکست پسند گیدڑ بپھرے ہوئے شیر کے غصےکو۔ت)
اقول : قولی ھذا واستغفراﷲ لی ولسائر المؤمنین والمؤمنات و الصلوۃ الزاکیات والتحیّات النامیات علٰی سید نا محمدٍ نبی المغیبات مظھر الخفیات وعلٰی الہ وصحبہ الاکارم السادات واﷲ سبحنہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اَتَمُّ واحکم"
میں کہتا ہوں یہ میرا قول ہے، اور میں اﷲ تعالٰی سے اپنے لیے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، پاکیزہ درود اور بڑھنے والے سلام ہوںہمارے سردار محمد پر جو غیب کی خبریں دینے والے اور پوشیدہ باتوں کو ظاہر فرمانے والے ہیں اور آپ کی آل و اصحاب پر جو بزرگی والے سردار ہیں، اور اﷲ سبحانہ و تعالٰی خوب جانتا ہے اور اﷲ جل مجدہ، کا کلام اتم اور مستحکم ہے۔(ت)
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی کتـــبــــــــــــــــــــــــہ عفی عنہ بمحمدن المصطفٰی النبی الامّی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رسالہ انباء المصطفٰی بحال سرّواخفٰی ختم ہوا۔