مخالفین کا استدلال محض باطل و خےال محال ہونا تو یہیں سے ظاہر ہوگیا، مگر فقیر نے اپنے رسائل میں ثابت کیا ہے کہ یہ استدلال ان ضلّال کے خود اقراری کفر و ضلال کا تمغہ ہے، نیز انہیں میں روشن کیا کہ خلق کے لیے ادعائے علم غیب پر فقہا کا حکم کفر بھی درجہ اولائے حقیقت حق میں اسی صورت علم ذاتی اور درجہ اخرائے طرزِ فقہاء میں علم مطلق بمعنی مرقوم کے ساتھ مخصوص ہے، جیسا کہ محققین کے کلام میں منصوص ہے۔
بکر پر مکر کا وہ زعم مردود جس میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نسبت " کچھ نہیں جانتے(ف)" کا لفظ ناپاک ہے وہ بھی کلمہ کفر و ضلال بیباک ہے بکر نے جس عقیدے کو کفر و شرک کہا اور اس کے رد میں یہ کلما بدفر جام بکا، خود اس میں تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو حضرت حق جل شانہ نے یہ علم عطا فرمایا ہے ، لاجرم بکر کی یہ نفی مطلق شاملِ علم عطائی بھی ہے اور خود بعض شیاطین الانس کے قول سے استناد بھی اس تعلیم پر دلیل جلی ہے کہ اس قول میں خواہ یوں اور خواہ یوں، دونوں صورت پر حکم شرک دیا ہے، اب اس لفظ قبیح کے کلمہ کفر صریح ہونے میں کیا تامل ہوسکتا ہے۔ قرآن عظیم کی روشن آیتوں کی تکذیب بلکہ سارے قرآن کی تکذیب رسالت نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا انکار بلکہ نبوت تمام انبیاء کا انکار، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص مکان بلکہ رب العزۃ جلالہ کی توہین شان، ایک دو کفر ہوں توگِنے جائیں۔
والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
ف : اپنے خاتمے کا حال حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو معلوم نہ ماننا صریح کفر ہے۔
یوں ہی اس کا قول کہ "اپنے خاتمے کا بھی حال معلوم نہ تھا" صریح کلمہ ئ کفر و خسار اور بیشمار آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ متواتر ہ کا انکار ہے۔ آیہ کریمہ
" لیغفرلک اﷲ "
مع حدیث صحیحین بخاری و مسلم ،
بعض اور سنئے،
قال اﷲ تعالٰی
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت) :
وللٰاخرۃ خیرلک من الاولٰی" ۱ ؎۔
اے نبی ! بے شک آخرت تمہارے لیے دنیا سے بہتر ہے۔
وقال اﷲ تعالٰی
(اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ ت) :
"ولسوف یعطیک ربک فترضٰی"۲ ؎۔
بے شک نزدیک ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا عطا فرمائے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔
جس دن اﷲ رسوانہ کرے گا نبی اور ان کے صحابہ کو ان کا نور ان کے آگے اور داہنے جوالان (عہ)کرے گا۔
عہ : دوڑے گا۔۱۲
وقال اﷲ تعالٰی
( اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت):
"عسٰی ان یبعثک ربک مقاماً محمودا " ۲ ؎۔
قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں تعریف کے مکان میں بھیجے گا جہاں اولین و آخرین سب تمہاری حمد کریں گے۔
وقال اﷲ تعالٰی
( اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت):
" تبرٰک الذی ان شآ ء جعل لک خیرا من ذٰلک جنّات تجری من تحتھا الانھٰر ویجعل لک قصورا o ۳ ؎۔
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنی مشیت سے تمہارے لیے اس خزانہ و باغ سے ( جس کی طلب یہ کافر کررہے ہیں) بہتر چیزیں کردیں جنتیں جن کے نیچے نہریں رواں اور وہ تمہیں بہشت بریں کے اونچے اونچے محل بخشے گا۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۹۳ /۴) (۲ ؎ القرآن الکریم ۹۳/ ۵ )
(۱ ؎ القرآن الکریم ۶۶ /۸) (۲ ؎ القرآن الکریم ۱۷ /۷۹)
(۳ ؎ القرآن الکریم ۲۵ /۱۰)
علٰی قراء ۃ الرفع قراۃ بن کثیر وابن عامر ورِوایۃ ابی بکر عن عاصم، الٰی غیر ذلک من الاٰیات ۔
یجعل کو مرفوع پڑھنے کی تقدیر پر جو کہ ابن کثیر اور ابن عامر کی قراء ۃ ہے اور ابوبکر کی عاصم سے یہ روایت ہے اس کے علاوہ اور بھی متعدد آیات ہیں۔(ت)
اور احادیثِ کریمہ میں تو جس تفصیل جلیل سے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و خصائص وقتِ وفاتِ مبارک و برزخ مطہر و حشر منور و شفاعت و کوثر و خلافتِ عظمٰی و سیادتِ کبرٰی ودخولِ جنت و رویت وغیرہا وارد ہیں، انہیں جمع کیجئے تو ایک دفتر طویل ہوتا ہے۔ یہاں صرف ایک حدیث تبرکاً سُن لیجئے۔
جامع ترمذی وغیرہ میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتےہیں:
انا اول الناس خروجا اذا بعثوا و انا خطیبھم اذا وفدوا، وانا خطیبھم اذا اُنصتوا، وانا مستشفعھم اذا حُبِسوا، وانا مبشرھم اذا یئسوا لِکرامۃٍ و المفاتیح یومئذٍ بیدی، وانا اکرم ولد اٰدم علی ربی یطوف علیّ الف خادمٍ کانھم بیض مکنون اولؤلؤ منثور ۱؎۔
جب لوگوں کا حشر ہوگا تو سب سے پہلے میں مزار اطہر سے باہر تشریف لاؤں گا، اور جب وہ سب دم بخود رہیں گے تو اُن کا خطبہ خواں میں ہوں گا، اور جب وہ رو کے جائیں گے تو ان کا شفاعت خواہ میں ہوں گا۔ اور جب وہ نا امید ہوجائیں گے تو ان کا بشارت دینے والا میں ہوں گا، عزت کے لیے اور تمام کنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گی ، لواء الحمد اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا، بارگاہِ عزت میں میری عزت تمام اولادِ آدم سے زائد ہے، ہزار خدمتگار میرے اردگرد گھومیں گے گویا وہ گردو غبار سے پاکیزہ انڈے ہیں محفوظ رکھے ہوئے یاجگمگاتے موتی ہیں بکھیرے ہوئے۔
(۱ ؎ جامع الترمذی ابواب المناقب باب منہ امین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۱)
(دلائل النبوۃ ذکر الفضیلۃ الرابعۃ باقسام اﷲ بحیاتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عالم الکتب بیروت ص ۱۳)
(سنن الدارمی باب مااعطی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۴۹ دارالمحاسن للطباعۃ ۱ /۳۰)
(الدرالمنثور بحوالہ ابن مردویۃ عن انس رضی اللہ عنہ مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ۶ /۳۰۱)
بالجملہ بکر پر مکر کے گمراہ و بددین ہونے میں اصلاً شُبہہ نہیں ، اور اگر کچھ نہ ہوتا تو صرف اتنا ہی کہ تقویۃ الایمان پر جو حقیقتاً تفویۃ الایمان ہے اس کا ایمان ہے، یہی اس کا ایمان سلامت نہ رکھنے کو بس تھا، جیسا کہ فقیر کے رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ وغیرہا کے مطالعے سے ظاہر ہے۔ع
اذاکان الغراب دِلّیْل قومٍ سیھدیھم طریق الہا لکینا۲
( جب کّوا کسی قوم کا رہبر ہو تو وہ اس کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دے گا۔ت) والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
(۲ ؎ )
وہ شخص جو شیطان کے علم ملعون کو علمِ اقدس حضور پر نور عالمِ ماکان ومایکون صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زائد ہے اس کا جواب اس کفرستانِ ہند میں کیا ہوسکتا ہے،
ان شاء اﷲ القہار
(اگر بہت قہر فرمانے والا خدا نے چاہا۔ ت) روزِ جزا وہ ناپاک ناہنجار اپنے کیفر کفری گفتار کو پہنچے گا۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱ ؎۔
(اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کون سی کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
(۱ ؎ القرآن الکریم ۲۷ /۲۲۷ )
یہاں اسی قدر کافی ہے کہ یہ ناپاک کلمہ صراحتاً محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو عیب لگانا ہے، اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو عیب لگانا کلمہ کفر نہ ہوا تو اور کیا کلمہ کفر ہوگا۔
والذین یؤذون رسول اﷲ لھم عذاب الیم " ۲ ؎۔
اور جو لوگ رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دکھ کی مار ہے۔
(۲ ؎ القرآن الکریم ۹ /۶۱)
ان الذین یؤذون اﷲ وسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والاخرۃ واعدلھم عذاباً مھینا ۳ ؎۔
جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول کو، اﷲ نے اُن پر لعنت فرمائی ہے دنیا اور آخرت میں ، اور ان کے لیے تیار کررکھی ہے ذلت والی مار۔