Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
89 - 157
قرآن وحدیث و اقوالِ آئمہ حدیث سے اس مطلب پر دلائل بے شمار ہیں اور خدا انصاف دے تو یہی اقل قلیل کہ مذکور ہوئے بسیار ہوئے،  غرض شمس وامس کی طرح روشن ہوا کہ عقیدہ مذکورئہ زید کو معاذ اﷲ کفر و شرک کہنا خود قرآن عظیم پر تہمت رکھنا اور احادیث صحیحہ صریحہ شہیرہ کثیرہ کو رَد کرنا اور بہ کثرت آئمہئ دین و اکابر علمائے عاملین واعظم علمائے کاملین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ،  یہاں تک کہ شاہ ولی اللہ ،  شاہ عبدالعزیز صاحب کو بھی عیاذًا باﷲ کافر و مشرک بنانا اور بحکم ظواہر احادیث صحیحہ و روایات   معتمدہ فقیہہ خود کافر و مشرک بننا ہے اس کے متعلق احادیث و روایات و اقوالِ آئمہ و ترجیحات و تصریحات فقیر کے رسالہ
النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید و رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ علٰی کفریات ابی الوہابیۃ وغیرھا
میں ملاحظہ کیجئے۔
افسوس کہ ان شرک فروش اندھوں کو اتنا نہیں سوجھتا کہ علمِ الہی ذاتی ہے اور علمِ خلق عطائی،  وہ واجب یہ ممکن،  وہ قدیم یہ حادث،  وہ نامخلوق یہ مخلوق وہ نامقدور یہ مقدور،  وہ ضروری البقا یہ جائز الفنا،  وہ ممتنع التغیر یہ ممکن التبدّل ۔ ان عظیم تفرقوں کے بعد احتمال شرک نہ ہوگا مگر کسی مجنون کو،  بصیرت کے اندھے اس علم ماکان ومایکون بمعنی مذکور ثابت جاننے کو معاذ اﷲ علمِ الہٰی سے مساوات مان لینا سمجھتے ہیں حالانکہ العظمۃُ ﷲ علمِ الہٰی تو علمِ الہٰی جس میں غیر متناہی علوم تفصیلی فراوانی بالفعل کے غیر متناہی سلسلے غیر متناہی یا وہ جسے گویا مصطلح حساب کے طور پر غیر متناہی کا مکعب کہئے بالفعل وبالدوام ازلاً ابداً موجود ہیں۔ یہ شرق تا غرب و سماوات وارض وعرش تا فرش
وماکان ومایکون من اوّل یوم الٰی اٰخر الایام
سب کے ذرے ذرّے کا حال تفصیل سے جاننا وہ بالجملہ جملہ مکتوبات لوح و مکنونات قلم کو تفصیلاً محیط ہونا علوم محمد رسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے،  یہ تو ان کے طفیل سے ان کے بھائیوں حضرات مرسلین،  کرام علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ واکمل السلام بلکہ ان کی عطا سے ان کے غلاموں (ف) ،  بعض اعاظم اولیائے عظام قدست اسرار ہم کو ملا،  اور ملتا ہے ہنوز علومِ محمدیہ میں وہ بجارذخارنا پیدا کنار ہیں جن پر ان کی افضلیت کلیہ اور افضلیت مطلقہ کی بناء ہے۔
ف : تمام ماکان ومایکون کا علم علومِ حضور سے ایک علم ہے ، یہ تو ان کی عطا سے ان کے غلاموں اکابر اولیاء کو بھی ملتا ہے ۱۲ منہ ۔
اﷲ عزوجل کے بے شمار رحمتیں امام اجل محمد بوصیری شرف الحق والدین رحمۃ اﷲ علیہ پر قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں ۔
فانّ من جودک الدّنیا وضرّتھا		ومن علومک علم اللّوح والقلم۱ ؎۔
یعنی یارسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  دنیا و آخرت دونوں حضور کے خوانِ جودو کرم سے ایک ٹکڑا ہیں اور لوح و قلم کا تمام علم جن میں
ماکان و مایکون
مندرج ہے حضور کے علوم سے ایک حصہ "
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلک وصحبک وبارک وسلم "
(۱؂ مجموع المتون    متن قصیدۃ البردۃ    الشئون الدینیۃ  دولۃ قطر      ص ۱۰)
مولانا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری زبدہ شرح بردہ میں فرماتے ہیں :
توضیحہ ان المراد بعلم اللّوح ما اثبت فیہ من النقوش القدسیۃ و الصور الغیبیۃ وبعلم القلم ما اثبت فیہ کما شاء والا ضافۃ لادنی ملابسۃ وکون علمھما من علومہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انّ علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات وحقائق ومعارف وعوارف تتعلق بالذات والصفات وعلمھما انما یکون سطراً من سطور علمہ ونہراً من بحور علمہ ثم مع ھذا ھو من برکۃ وجودہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱ ؎۔
یعنی توضیح اس کی یہ ہے کہ علمِ لوح سے مراد نقوشِ قدس وصور غیب ہیں جو اس میں منقوش ہوئے،  اور قلم کے علم سے مراد وہ ہیں جو اﷲ عزوجل نے جس طرح چاہا اس میں ودیعت رکھے،  ان دونوں کی طرف علم کی اضافت ادنی علاقے یعنی محلیت نقش و اثبات کے باعث ہے اور ان دونوں میں جس قدر علوم ثبت ہیں ان کا علم علوم محمدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک پارہ ہونا،  اس لیے کہ حضور اقدس  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کے علوم بہت اقسام کے ہیں،  ،  علوم کلیہ،  علوم جزئیہ،  علوم حقائق اشیاء و علومِ اسرار خفیہ اور وہ علوم اور معرفتیں کہ ذات و صفات حضرت عزت جل جلالہ،  سے متعلق ہیں اور لوح و قلم کے جملہ علوم علومِ محمدیہ کی سطروں سے ایک سطر،  اور ان کے دریاؤں سے ایک نہر ہیں،  پھر بہ ایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت وجود سے توہیں۔ کہ اگر حضور نہ ہوتے تو نہ لوح و قلم ہوتے نہ اُن کے علوم،
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
 (۱؂    الذبدۃ العمدۃ فی شرح البردۃ ناشر جمعیت علماء سکندریہ خیرپور سندھ  ص ۱۱۷)
منکرین کو صدمہ ہے کہ محمد رسول اﷲ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کے لیے روزِ اول سے قیامت تک کے تمام ماکان ومایکون کا علم تفصیلی ماناجاتا ہے لیکن بحمدﷲ تعالٰی وہ جمیع علم ماکان ومایکون علومِ محمد رسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کے عظیم سمندر وں سے ایک نہر بلکہ بے پایاں موجوں سے ایک لہر قرار پاتا ہے۔
والحمد ﷲ رب العٰلمین o وخسر ھنالک المبطلون o  فی قلوبھم مرض فزادھم اﷲ مرضا،  وقیل بُعدًا للقوم الظّٰلمین o
اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا اور باطل والوں کا وہاں خسارہ ہے،  ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اﷲ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور فرمایا گیا کہ دور ہوں ے انصاف لوگ (ت)
نصوصِ حصر :
یعنی جن آیات واحادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ علمِ غیب خاصہ خدا تعالٰی ہے،  مولٰی عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا،  قطعاً حق اور بحمداﷲ تعالٰی مسلمان کے ایمان ہیں مگر منکر متکبر کا اپنے دعوائے باطلہ پر ان سے استدلال اور ا س کی بنا پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم ماکان ومایکون بمعنی۔ مذکور ماننے والے پر حکمِ کفر و ضلال ،  نصِ جنون و خام خیال بلکہ خود مستلزمِ کفر و ضلال ہے۔
علم بہ اعتبار منشا دو قسم ہے : ذاتی کہ اپنی ذا ت سے بے عطائے غیر ہو،  اور عطائی کہ اﷲ عزوجل کا عطیہ ہو،  اور بہ اعتبارِمتعلق بھی دو قسم ہے،  علم مطلق یعنی محیط حقیقی ،  تفصیلی فعلی فروانی کہ جمیع معلوماتِ الہٰیہ عزوعلاء کو جن میں غیر متناہی معلومات کے سلاسل وہ بھی غیر متناہیہ وہ بھی غیر متناہی بار داخل اور خود کنہ ذات   الہی و احاطہ تامِ صفاتِ الہٰیہ نامتناہی سب کو شامل فرداً فرداً تفصیلاً مستغرق ہو اور مطلق علم یعنی جاننا،  اگر محیط باحاطہ حقیقیہ نہ ہو،  ان تقسیمات میں علم ذاتی و علم مطلق یعنی مذکور بلاشبہ اﷲ عزوجل کے لیے خاص ہیں اور ہر گز کسی غیر خدا کے لیے ان کے حصول کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
ہم ابھی بیان کر آئے کہ علم ماکان و مایکون بمعنی مسطور اگرچہ کیسا ہی تفصیلی بروجہ اتم واکمل ہو علومِ محمدیہ کی وسعت عظیمہ کو نہیں پہنچتا ، پھر علوم محمدیہ تو علومِ الٰہیہ ہیں،  جل و علا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،  مطلق علم ہرگز حضرت حق عزوعلا سے خاص نہیں بلکہ قسم عطائی تو مخلوق ہی کے ساتھ خاص ہے۔

مولٰی عزوجل کا علم عطائی ہونے سے پاک ہے،  تو نصوصِ حصر میں یقیناً قطعاً وہی قسمِ اوّل مراد ہوسکتی ہے۔ نہ کہ قسمِ اخیر،  اور بداہۃً ظاہر کہ علم تفصیل جملہ ذرّات ماکان ومایکون بمعنی مزبور بلکہ اس سے ہزار  در ہزار ازید وافزوں علم بھی کہ بہ عطائے الہٰی مانا جائے اسی قسم اخیر سے ہوگا۔ تو نصوصِ حصر کو مدعائے مخالف سے اصلاً مس نہیں بلکہ وہ اس کی صریح جہالت پر نص ہیں،  وﷲ الحمد،  یہ معنی بآنکہ خودبدیہی وواضح ہے،  آئمہ دین نے اس کی تصریح بھی فرمائی۔
امام اجل ابوزکریا نووی رحمۃ اﷲ علیہ اپنے فتاوٰی پھر امام ابنِ حجر مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اپنے فتاوٰی حدیثیہ میں فرماتے ہیں :
  لایعلم ذٰلک استقلالاً وعلم احاطۃٍ بکل المعلومات الا اﷲ تعالٰی اما المعجزات والکرامات فباعلام اﷲ تعالٰی اما المعجزات والکرامات فبا علام اﷲ تعالٰی لھم علمت و کذا ماعُلِمَ باجراء العادۃ ۱ ؎۔
یعنی آیت میں غیر خدا سے نفی علمِ غیب کے یہ معنی ہیں کہ غیب اپنی ذات سے بے کسی کے بتائے جاننا اور ایسا علم کہ جمیع معلومات الہیہ کو محیط ہوجائے یہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی کو نہیں رہے انبیاء کے معجزات اور اولیاء یہ تو اﷲ عزوجل کے بتانے سے انہیں علم ہوا ہے یونہی وہ باتیں کہ عادت کی مطابقت سے جن کا علم ہوتا ہے۔
 ( ۱ ؎فتاوی حدیثیہ    مطلب فی حکم ما اذا قال قائل فلان یعلم الغیب   مصطفی البابی مصر  ص  ۲۲۸)
Flag Counter