Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
88 - 157
اقوال ائمہ کرام  :
امام اجل سیّدی بوصیری قدس سرہ،  ام القرٰی میں فرماتے ہیں :
وسع العالمین علماً وحکمًا ۱ ؎۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم و حکمت تمام جہان کو محیط ہوا۔
 (۱ ؎ مجموع المتون     متن قصیدۃ الہمزیۃ فی مدح خیر البریۃ     الشؤن الدینیہ دولتہ قطر     ص ۱۸)
امام ابن حجر مکی اس کی شرح افضل القرٰی میں فرماتے ہیں  :
لانّ اﷲ تعالٰی اطلعہ علی العالم فعلم علم الاولین والاٰخرین وماکان ومایکون ۲ ؎۔
یہ اس لیے کہ بے شک عزوجل نے حضور اقدس  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کو تمام جہان پر اطلاع بخشی تو سب اگلے پچھلوں اور ماکان ومایکون کا علم حضور پر نور  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کو حاصل ہوگیا۔
 (۲؂افضل القراء لقراء ام القرٰی )
امام جلیل قدوۃ المحد ثین سیدی زین الدین عراقی استاذ امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی شرح مہذب میں پھر علامہ خفا جی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
  ان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرضت علیہ الخلائق من لدن اٰدم علیہ الصلوۃ والسلام الی قیام الساعۃ فعرفھم کلھم کما عُلّم ادم الاسماء ۳ ؎۔
حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر قیامِ قیامت تک کی تمام مخلوقات   الہٰی حضور سید عالم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کو پیش کی گئی حضور   صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  نے جمیع مخلوقات گزشتہ اور آئندہ سب کو پہچان لیا۔ جس طرح آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام نام سکھائے گئے تھے۔
 (۳ ؎ نسیم الریاض الباب الثالث     الفصل الاول فیما ورومن ذکر مکانتہ     مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند۲ /۲۰۸)
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں :
النفوسُ القدسیّۃ اذا تَجَرَّدَتْ عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الاعلٰی ولم یبق لہا حجاب فترٰی وتسمع الکل کالمشاھد۱ ؎۔
پاکیزہ جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہو کر عالمِ بالا سے ملتی ہیں ان کے لیے کوئی پردہ نہیں رہتا ہے وہ ہر چیز کو ایسا دیکھتی اور سنتی ہیں جیسے پاس حاضر ہیں۔
 (۱ ؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث حیثما کنتم فصلوا علیّ الخ    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض   ۱ /۵۰۲)
امام ابن الحاج مکی مدخل امام قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں :
  قد قال علماء ُ نار حمھم اﷲ تعالٰی لا فرق بین موتہ وحیاتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی مشاھدتہ لامّتہ و معرفتہ باحوالھم و نیاتھم وعزائمھم وخواطر ھم وذٰلک جلی عندہ،  لاخِفاء بہ۲ ؎۔
بے شک ہمارے علمائے کرام رحمہم اﷲ تعالٰی نے فرمایا رسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کی حالت دنیوی اور اس وقت کی حالت میں کچھ فرق نہیں ہے اس بات میں کہ حضور اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں ان کے ہر حال،  ان کی ہر نیت ،  ان کے ہر ارادے ،  ان کے دلوں کے ہر خطرے کو پہچانتے ہیں،  اور یہ سب چیزیں حضور  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  پر ایسی روشن ہیں جن میں اصلاً کسی طرح کی پوشیدگی نہیں۔
 (۲ ؎ المدخل لابن الحاج     فصل فی الکلام علٰی زیارۃ سیدالمرسلین   دارالکتاب العربی بیروت    ۱ /۲۵۲)

(المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر         الفصل الثانی    المکتب الاسلامی العربی بیروت            ۴ /۵۸۰)
یہ عقیدے ہیں علمائے ربانیین کے محمد رسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کی جناب ارفع میں،  جل جلالہ،  وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
شیخ شیوخ علمائے ہند مولانا شیخ محقق نور اﷲ تعالٰی مرقدہ المکرم مدارج شریف میں فرماتے ہیں :
ذکر کن اُو را ودرود بفرست بروے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،  وباش در حال ذکر گویا حاضر ست پیش او در حالتِ حیات و می بینی تو او  رامتادب باجلال و تعظیم و ہیبت و امید بداں کہ وے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم می بیند ومی شنود کلام ترا زیرا کہ وے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم متصف است بصفات اﷲ ویکے از صفات الہی آنست کہ انا جلیس من ذکرنی ۱ ؎۔
ان کی یاد کر اور ان پر درود بھیج،  اور ذکر کے وقت ایسے ہوجاؤ گویا تم ان کی زندگی میں ان کے سامنے حاضر ہو اور ان کو دیکھ رہے ہو ،  پورے ادب اور تعظیم سے رہو،  ہیبت بھی ہو اور امید بھی،  اور جان لو کہ رسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  تمہیں دیکھ رہے ہیں اور تمہارا کلام سن رہے ہیں۔ کیونکہ وہ صفاتِ الہیہ سے متصف ہیں اور اللہ کی ایک صفت یہ ہے کہ جو مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس ہوتا ہوں۔
 (۱ ؎مدارج النبوۃ     باب یاز    دہم وصل نوع ثانی کہ تعلق معنوی است الخ   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۲ /۲۶۱)
اﷲ تعالٰی کی بے شمار رحمتیں شیخ محقق پر،  جب نبی  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کا دیکھنا ہمیں بیان کیا بدانکہ بڑھایا تاکہ اسے کوئی گویاکے نیچے داخل نہ سمجھے،  غرض ایمانی نگاہوں کے سامنے اس حدیث پاک کی تصویر کھینچ دی کہ :
اعبدِ اﷲ کانّک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک۲ ؎۔
اﷲ تعالٰی کی عبادت کر،  گویا تُو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہ دیکھے تو وہ تو یقینا تجھے دیکھتا ہے۔
 (۲ ؎صحیح بخاری     کتاب الایمان  باب سوال جبریل النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عن الایمان  قدیمی کتب خانہ ۱ /۱۲)

(صحیح مسلم  کتاب الایمان     باب سوال جبریل النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم   قدیمی کتب خانہ کراچی      ۱ /۲۹)
نیز فرماتے ہیں :
ہر چہ درد نیا است زمانِ آدم تانفحہ اولٰی بروے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم منکشف ساختند تاہمہ احوال رااز اول تاآخر معلوم کرد و یاران خود رانیز بعضے از اں احوال خبر داد ۳ ؎۔
جو کچھ دنیا میں زمانہئ آدم سے پہلے صور پھونکے جانے تک ہے ان (  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) پر منکشف کردیا یہاں تک کہ انہیں اول سے آخر تک تمام احوال معلوم ہوگئے۔ انہوں نے بعض اصحاب کو ان احوال میں سے بعض کی اطلاع دی۔
 (۳ ؎مدارج النبوۃ     کتاب الایمان      باب پنجم     وصل خصائص آنحضرت  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۱۴۴)
نیز فرماتے ہیں :
وھو بکل شیئ علیم o ووے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دانا است ہمہ چیز از شیونات ذات الہٰی و احکام صفاتِ حق و اسماء وافعال و آثار و جمیع علومِ ظاہر و باطن اول و آخر احاطہ نمودہ و مصداق فوق کل ذی علم علیم oعلیہ من الصلوت افضلہا من التحیات اتمہاواکملہا۱ ؎۔"
وھو بکل شیئ علیم ،
  اور وہ ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) سب چیزوں کو جاننے والے ہیں،  احوالِ احکام الہٰی احکامِ صفاتِ حق،  اسماء افعال آثار،  تمام علوم ظاہر و باطن،  اول و آخر کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ اور
"  فوق کل ذی علم علیم"
کے مصداق ہیں،  آ پ پر افضل درود اور اتم وواکمل سلام ہو۔ت)
 (۱ ؎ مدارج النبوۃ    مقدمۃ الکتاب   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱ /۲ و ۳)
شاہ ولی اﷲ دہلوی ،  فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں :
فاضَ علیّ من جنابہِ المقدّس صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کیفیۃُ ترقی العبدِ من حَیزہ الٰی حیزا لقدسِ فیتجلّٰی لہ حینئذٍ کُلُّ شَیئٍ کما اخبرعن ھٰذاا المشھد فی قصّۃِ المعراج المنامی" ۲ ؎۔
حضور اقدس  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کی بارگاہِ اقدس سے مجھ پر اس حالت کا علم فائض ہوا کہ بندہ اپنے مقام سے مقامِ قدس تک کیونکر ترقی کرتا ہے کہ اس پر ہر چیز روشن ہوجاتی ہے جس طرح حضور اقدس  صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے اس مقام سے معراجِ خواب کے قصے میں خبر دی۔
 (۲ ؎ فیوض الحرمین     مشہد اﷲ تعالٰی مخلوق کی طرف کتاب نازل کرنے کے لیے وقت کیا کرتا ہے  محمد سعید اینڈ سنز کراچی ۱۶۹)
Flag Counter