صحیحین بخاری و مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے :
قام فینا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مقاماً ماترک شیئا یکون فی مقامہ ذٰلک الٰی قیام الساعۃ الّاحدّث بہ حفظہ من حفظہ ونسیہ من نسیہ " ۲ ؎۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرنیش سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا سب بیان فرمادیا، کوئی چیز نہ چھوڑی، جسے یاد رہا یاد رہا، جو بھول گیا بھول گیا۔
(۲ ؎مشکوۃ المصابیح برمز متفق علیہ کتاب الفتن الفصل الاول مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۶۱)
(صحیح مسلم کتاب الفتن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۹۰)
(مسند احمد بن حنبل عن حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۸۵ و ۳۸۹)
یہی مضمون احمد نے مسند ، بخاری نے تاریخ، طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
صحیح بخاری شریف میں حضرت امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے :
"قام فینا النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مقاماً فاخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل اھل الجنۃ منازلھم و اھل النار منازلھم حفظ ذٰلک من حفظہ ونسیہ من نسیہ "۱ ؎۔
ایک بار سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرنیش سے لے کر جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ جانے تک کا حال ہم سے بیان فرمادیا۔ یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور بھول گیا جو بھول گیا۔
(۱ ؎ صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی قول اﷲ وھو الذی یبدء الخلق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۵۳)
صحیح مسلم شریف میں حضرت عمر و بن اخطب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے : ایک دن رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر سے غروبِ آفتاب تک خطبہ فرمایا، بیچ میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کچھ کام نہ کیا "
فاخبرنا بما ھو کائن الی یوم القیمۃ فاعلمنا احفظہ " ۲ ؎۔
اس میں سب کچھ ہم سے بیان فرمادیا جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جسے زیادہ یاد رہا۔
(۲ ؎ صحیح مسلم کتاب الفتن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۹۰)
جامع ترمذی شریف وغیرہ کتب کثیرئہ آئمہ حدیث میں باسانید عدیدہ و طرق متنوعہ دس صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
فرأیتہ عزّوجل وضع کفّہ بین کتفّی فوجدت برد انا ملہ بین ثدّی فتجلّٰی لی کل شیئ وعرفت۳ ؎۔
میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اس نے اپنا دستِ قدرت میر ی پشت پر رکھا کہ میرے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔
(۳ ؎ سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۲۴۶ دارالفکر بیروت ۵ /۱۶۰)
امام ترمذی فرماتے ہیں :
ھذا حدیث حسن سألت محمد بن اسمٰعیل عن ھذا الحدیث فقال صحیح" ۱ ؎۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے ، میں نے امام بخاری سے اس کا حال پوچھا، فرمایا صحیح ہے۔
(۱ ؎ سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۲۴۶ دارالفکر بیروت ۵ /۱۶۱)
اسی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اسی معراجِ منامی کے بیان میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
" فعلمت مافی السمٰوٰت وما فی الارض" ۲ ؎۔
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب میرے علم میں آگیا۔
(۲؎ سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۲۴۴ دارالفکر بیروت ۵ /۱۵۹)
شیخ محقق رحمۃ اﷲ علیہ شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
پس دانستم ہر چہ در آسمانہا وہرچہ در زمین ہا بود عبارت است از حصولِ تمامہ علوم جزوی و کلّی واحاطہ آں۳ ؎۔
چنانچہ میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے یہ تعبیر ہے تمام علوم کے حصول اور ان کے احاطہ سے چاہے وہ علوم جزوی ہوں یا کلُی ۔(ت)
(۳ ؎ اشعۃ اللمعات کتاب الصلوۃ باب المساجد و مواضع الصلوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳۳)
امام احمد مسند اور ابن سعد طبقات اور طبرانی معجم میں بسند صحیح حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ابویعلٰی وابن منیع و طبرانی حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
لقد ترکنارسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وما یحّرک طائر جناحیہ فی السمّاء الّا ذکر لنا منہ علما۴ ؎۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حال پر چھوڑا کہ ہوا میں کوئی پرندہ پَر مارنے والا ایسا نہیں جس کا علم حضور نے ہمارے سامنے بیان نہ فرمادیا ہو۔
(۴ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر غفار ی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۱۵۳)
(مجمع الزوائد عن ابی الدرداء کتاب علامات النبوۃ باب فیما اوقی من العلم، الخ دارالکتاب ۸ /۲۶۴)
نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض و شرح زرقانی للمواہب میں ہے :
ھذا تمثیل لبیان کل شیئ تفصیلاً تارۃً واجمالاً اُخرٰی۱۔
یہ ایک مثال دی ہے اس کی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہر چیز بیان فرمادی، کبھی تفصیلاً کبھی اجمالاً ۔
(۱ ؎ نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل و من ذٰلک مااطلع الخ مرکز اہلسنت برکایت رضا گجرات ۳ /۱۵۳)
(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالثامن الفصل الثالث القسم الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۷ /۲۰۶)
مواہب امام قسطلانی میں ہے :
ولا شک ان اﷲ تعالٰی قد اطلعہ علٰی اَزْیَدَمن ذٰلک والقٰی علیہ علم الاوّلین والاخرین۲؎۔
اور کچھ شک نہیں کہ اﷲ تعالٰی نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس سے زیادہ علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور پر القاء کیا، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
(۲ ؎ المواہب اللدنیہ المقصدالثامن الفصل مااخبربہ صلی اللہ علیہ وسلم من الغیب المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۵۶۰)
طبرانی معجم کبیر اور نصیم بن حماد کتاب الفتن اور ابونعیم حلیہ میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ قدرفع لی الدنیا فانا انظر الیہا والٰی ما ھوکائن فیہا الٰی یوم القیامۃ کانمّا انظر الٰی کفی ھذہ جلیان من اﷲ جلاّہ لنبیّہ کما جلّاہ لنبیّن من قبلہ ۳ ؎۔
بے شک میرے سامنے اﷲ عزوجل نے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ، اس روشنی کے سبب جو اﷲ تعالٰی نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد سے پہلے انبیاء کے لیے روشن کی تھی۔صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
(۳ ؎ حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۳۸ حدید بن کریب دارلکتاب العربی بیروت ۶ /۱۰۱)
(کنزالعمال حدیث ۳۱۸۱۰ و ۳۱۹۷۱ موسستہ الرسالہ بیروت ۱۱ /۳۷۸ و ۴۲۰)
اس حدیث ہے کہ جو کچھ سماوات وارض میں ہے اور جو قیامت تک ہوگا اس سب کا علم اگلے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی عطا ہوا تھا اور حضرت عزت عزوجلالہ نے اس تمام ماکان ومایکون کو اپنے ان محبوبو ں کے پیش نظر فرمادیا، مثلاً مشرق سے مغرب تک سماک سے سمک تک ، ارض سے فلک تک اس وقت جو کچھ ہورہا ہے ، سیدنا ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام والتسلیم ہزار ہا برس پہلے اس سب کو ایسا دیکھ رہے تھے گویا اس وقت ہر جگہ موجود ہیں، ایمانی نگاہ میں یہ نہ قدرتِ الہی پر دشوار اور نہ عزت و وجاہت انبیاء کے مقابل بسیار، مگر معترض بیچارے جن کے یہاں خدائی کی حقیقت اتنی ہو کہ ایک پیڑ کے پتّے گنِ دیئے وہ آپ ہی ان حدیثوں کو شرکِ اکبر کہنا چاہیں اور جو آئمہ کرام و علمائے اعلان ان سے سند لائے ، انہیں مقبول مسلم رکھتے آئے، جیسے امام خاتم الحفاظ جلال الملّۃ والدین سیوطی مصنف خصائص کبری و امام شہاب احمد محمد خطیب قسطلانی صاحب مواہب لدنّیہ وامام ابوالفضل شہاب ابن حجر مکی ہیثمی شارح ہمزیہ و علامہ شہاب احمد مصری خفا جی صاحب نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض و علامہ محمد عبدالباقی زرقانی شارح مواہب وغیرہم رحمہم اﷲ تعالٰی انہیں مشرک کہیں۔
والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
صحیح مسلم و مسند امام احمد و سُنن ابنِ ماجہ میں ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
عرضت علیّ امتی باعمالہا حسنہا وقبیحھا۱ ؎۔
میری ساری اُمت اپن سب اعمالِ نیک و بد کے ساتھ میرے حضور پیش کی گئی۔
(۱ ؎ صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن البصاق فی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۷)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۸۰)
طبرانی اور ضیاء مختارہ میں حذیفہ بن اُسید رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
"عرضت علٰی امتی البارحۃ لدی ھٰذہ الحجرۃ حتی لانا اعرف بالرّجل منھم من احد کم بصاحبہ" ۲ ؎۔
گزشتہ رات مجھ پر میری اُمّت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی بے شک میں ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانے۔
والحمدﷲ ربّ العالمین
(سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)