الحمدﷲ جس قدر قصص و روایات و اخبار و حکایاتِ علم عظیم محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے گھٹانے کو آیاتِ قطعیہ قرآنیہ میں پیش کی جاتی ہیں ان سب کا جواب انہیں دو فقروں میں ہوگیا ہے دو حال سے خالی نہیں، یا تو ان قصص سے تاریخ معلوم ہوگی یا نہیں، اگر نہیں تو ان سے استدلال درست نہیں کہ جب تاریخ مجہول تو ان کا تمامی نزولِ قرآن سے پہلے ہونا صاف معقول اور اگر ہاں تو دو حال سے خالی نہیں یا وہ تاریخ تمامی نزول سے پہلے کی ہوگی یا بعد کی،
پہلی صورت میں استدلال کرنا درست نہیں، برتقدیر ثانی اگر مدعائے مخالف میں نص صریح نہ ہو تو استناد محض خرط القتاد، مخالفین جو پیش کرتے ہیں سب انہیں اقسام کی ہیں۔ ان آیات کے خلاف پر اصلاً ایک دلیل صحیح صریح قطعی الافادہ نہیں دکھا سکتے، اور اگر بفرض غلط تسلیم ہی کرلیں تو ایک یہی جواب جامع و نافع و نافی و قامع سب کے لیے شافی و کافی ، کہ عموم آیاتِ قطعیہ قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض غلط ہے۔ اس مطلب پر تصریحاتِ آئمہ اصول سے احتجاج کروں اس سے یہی بہتر ہے کہ خود مخالفین کے بزرگوں کی شہادت پیش کروں۔ع
مدعی لاکھ پرہ بھاری ہے گواہی تیری
نصوص قطعیہ قرآن عظیم کے خلاف پر احادیث احاد کا سُنا جانا بالائے طاق، یہ بزرگوار صاف تصریح کرتے ہیں کہ یہاں خبر واحد سے استدلال ہی جائز نہیں، نہ اصلاً اس پر التفات ہوسکے، اسی براہن قاطعہ ما امر اﷲ بہ ان یوصل میں اسی مسئلہ علم غیب کی تقریریوں لکھتے ہیں : " عقائد مسائل قیاسی نہیں کہ قیاس سے ثابت ہوجائیں ، بلکہ قطعی ہیں، قطعیات نصوص سے ثابت ہوتے ہیں کہ خبرِ واحد یہاں بھی مفید نہیں، لہذا اس کا اثبات اس وقت قابلِ التفات ہو کہ قطعیات سے اس کو ثابت کرے۔" ۱ ؎۔
(۱ ؎ البراہین القاطعہ بحث علم غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص۵۱)
نیز صفحہ ۸۱ پر لکھا: " اعتقادات میں قطعیات کا اعتبار ہوتا ہے، نہ ظنیاتِ صحاح کا۔۲ ؎۔
صفحہ ۸۷ پر ہے: " احاد صحاح بھی معتبرنہیں، چنانچہ فنِ اصول میں مبرہن ہے۔" ۳ ؎۔
(۲ ؎ البراہین القاطعہ شب جمعہ میں ارواح کے اپنے گھر آنے کے اثبات میں روایات سب مخدوش ہیں ص۸۹)
(۳ ؎ البراہین القاطعہ مسئلہ فاتحہ اعتقادیہ ہے اس میں ضعاف کیا احادِ صحاح بھی قابلِ اعتماد نہیں ص ۹۶)
الحمدُ ﷲ تمام مخالفین کو دعوتِ عام ہے
" فاجمعوا شرکاء کم "
(اپنے شرکاء کو جمع کرلو۔ت) چھوٹے بڑے سب اکٹھے ہو کر ایک آیت قطعی الدلالۃ یا ایک حدیث متواتر یقینی الافادہ چھانٹ لائیں جس سے صاف صریح طور پر ثابت ہو کہ تمام نزولِ قرآن عظیم کے بعد بھی اشیائے مذکورہ ماکان ومایکون سے فلاں امر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر مخفی رہا جس کا علم حضور کو دیا ہی نہ گیا۔
فان لم تفعلواولن تفعلوا ۱ فاعلموا ان اﷲ لایھدی کیدالخائنین۲ ؎۔
اگر ایسی نص نہ لاسکو اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ کرسکو گے، تو خوب جان لو کہ اﷲ راہ نہیں دیتا دغا بازوں کے مکر کو۔
(اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت) یہی مولوی رشید احمد صاحب پھر لکھتے ہیں : " خودِ فخر عالم علیہ ا لسلام فرماتے ہیں "
واﷲ لاادری مایفعل بی ولا بکم " (الحدیث)
( اور بخدا میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ ت)
اورشیخ عبدالحق روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں " ۳ ؎۔
(۳ ؎ البراہین القاطعہ بحث علمِ غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص ۵۱)
قطع نظر اس سے کہ اس آیت و حدیث کے کیا معنی ہیں اور قطع نظر اس سے کہ یہ کس وقت کے ارشاد ہیں اور قطع نظر اس سے کہ خود قرآن عظیم و احادیثِ صحیحہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس کا ناسخ موجود کہ جب آیۃ کریمہ :"
لیغفرلک اﷲ ماتقدم من ذنبک وماتاخر " ۴ ؎۔
(تاکہ اﷲ بخش دے تمہارے واسطے سے سب اگلے پچھلے گناہ) نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کی :
ھنیأ لک یارسول اللہ لقدبیّن اﷲ لک ماذا یُفعل بک فماذا اُیفعل بنا " ۱ ؎۔
یارسول اﷲ ! آپ کو مبارک ہو، خدا کی قسم ! اﷲ عزوجل نے یہ تو صاف بیان فرمادیا کہ حضور کے ساتھ کیا کرے گا، اب رہا یہ کہ ہمارے ساتھ کیاکرے گا۔
(۴ ؎القرآن الکریم ۴۸ /۲)
(۱ ؎ صحیح البخاری کتاب المغازی ۲ /۶۰۰ و سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث۳۲۷۴ ۵ /۱۷۶)
تاکہ داخل کرے اﷲ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوںکو باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور مٹا دے ان سے ان کے گناہ ، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی مراد پانا ہے۔
(۲ ؎ القرآن الکریم ۴۸ /۵)
یہ آیت اور ان کے امثال بے نظیر اور یہ حدیث جلیل و شہیر۔
رہا شیخ عبدالحق کا حوالہ، قطع نظر اس سے کہ روایت و حکایت میں فرق ہے، اس بے اصل حکایت سے استناد اور شیخ محقق قدس سرہ العزیز کی طرف اسناد کیسی جرات و وقاحت ہے، شیخ رحمۃ اﷲ علیہ نے مدارج شریف میں یوں فرمایا ہے :
اینجا اشکال می آرند کہ در بعض روایات آمدہ است کہ گفت آں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم من بندہ ام نمی دانم آں چہ درپس ایں دیوارست، جوابش آنست کہ ایں سخن اصلے نہ دارد، وروایت بداں صحیح نشدہ است ۳ ؎۔
اس موقعہ پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں بندہ ہوں مجھے معلوم نہیں کہ اس دیوار کے پیچھے کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسکی کوئی اصل نہیں اور یہ روایت صحیح نہیں۔
( نماز کے قریب مت جاؤ ۔ت) پر عمل کرو گے تو خوب چین سے رہو گےع
اس آنکھ سے ڈرئیے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
امام ابن حجر عسقلانی ( رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ) فرماتے ہیں ۔"
لَااَصْلَ لَہ" ۴ ؎۔
یہ حکایت محض بے اصل ہے۔
(۴ ؎المواہب الدنیۃ المقصد الثالث الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۲۸)
امام ابن حجر مکی نے افضل القرٰی میں فرمایا :
" لم یُعرف سَنَد" ۱ ؎۔
اس کے لیے کوئی سند نہ پہنچانی گئی۔
(۱ ؎ افضل القرا لقراء ام القرٰی)
افسوس اسی منہ سے مقام اعتقادیات بتانا، احادیثِ صحیحہ بھی نامقبول ٹھہرنا، اسی منہ سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا علمِ عظیم گھٹا کر ایسی بے اصل حکایت سے سند لانا اور ملمع کاری کے لیے شیخ محقق کا نام لکھ جانا جو صراحۃً فرمارہے ہیں کہ اس حکایت کی جڑ نہ بنیاد ، آپ اس کے سوا کیا کہیے کہ ایسوں کی داد نہ فریاد۔ اﷲ اﷲ نبی صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مناقب عظیمہ اور باب فضائل سے نکلوا کر اس تنگنائے میں داخل کرائیں تاکہ صحیحیں بخاری و مسلم کی حدیثیں بھی مردود بنائیں اور حضور کی تنقیص شان میں یہ فراخی دکھائیں کہ بے اصل بے سند مقولے سب سما جائیں۔ع
حال ایمان کا معلوم ہے بس جانے دو
بالجملہ بحمداﷲ تعالٰی زید سُنی حفظہ اﷲ تعالٰی کا دعوٰی آیات قطعیہ قرآنیہ سے ایسے جلیل و جمیل طور سے ثابت جس میں اصلاً مجال دم زدن نہیں، اگر یہاں کوئی دلیل ظنّی تخصیص سے قائم بھی ہوتی تو عموم قطعی قرآن عظیم کے حضور مضمحل ہوجاتی ۔ نہ کہ صحیح مسلم و صحیح بخاری وغیرہا سُنن وصحاح و مسانید و معاجیم کی احادیث صریحہ ، صحیحہ ، کثیرہ ، شہیرہ اس عموم و اطلاق کی اور تاکید وتائید فرمارہی ہیں۔