رسالہ
اِنبآءُ المصطفٰی بحال سِرّواخفٰی(۱۳۱۸ھ)
(مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خبر دیناپوشیدہ کی اور پوشیدہ ترین کی)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۴۸ : از دہلی چاندنی چوک موتی بازار ، مرسلہ بعض علماء اہلسنت ۲۱ ربیع الاخر شریف ۱۳۱۸ھ
حضرت علمائے کرام اہلسنت کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید (عہ)دعوٰی کرتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو حق تعالٰی نے علم غیب عطا فرمایا ہے، دنیا میں جو کچھ ہوا اور ہوگا حتی کہ بدئ الخلق سے لے کر دوزخ و جنت میں داخل ہونے تک کا تمام حال اور اپنی امت کا خیر و شر تفصیل سے جانتے ہیں۔ اور جمیع اولین و آخرین کو اس طرح ملاحظہ فرماتے ہیں جس طرح اپنے کفِ دست مبارک کو، اور اس دعوے کے ثبوت میں آیات و احادیث و اقوالِ علماء پیش کرتا ہے۔
( عہ : زید سے مراد جناب مولانا ہدایت رسول صاحب لکھنوی مرحوم ہیں )
بکر اس عقیدے کو کفر و شرک کہتا ہے اور بکمال درشتی دعوٰی کرتا ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کچھ نہیں جانتے، حتی کہ آپ کو اپنے خاتمے کا حال بھی معلوم نہ تھا، او ر اپنے اس دعوے کے اثبات میں کتاب تقویۃ الایمان کی عبارتیں پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ عقیدہ کہ آپ کو علمِ ذاتی تھا خواہ یہ کہ خدا نے عطا فرمادیا تھا۔ دونوں طرح شرک ہے۔
اب علمائے ربانی کی جناب میں التماس ہے کہ ان دونوں سے کون برسرِ حق موافق عقیدہ سلف صالح ہے اور کون بدمذہب جہنمی ہے، نیز عمرو کا دعوٰی ہے کہ شیطان کا علم معاذ اﷲ حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم سے زیادہ ہے۔ اس کا گنگوہی مرشد اپنی کتاب براھین قاطعہ کے صفحہ ۴۷ پر یوں لکھتا ہے کہ " شیطان کو وسعتِ علم نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعتِ علم کی کون سی نصف قطعی ہے۔۱ ؎۔
( ۱ ؎البراہین القاطعہ بحث علمِ غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص ۵۱)
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم لک الحمد سرمداً صل وسلم وبارک علٰی من علمتہ الغیب و نزھتہ من کل عیب وعلی اٰلہ وصحبہ ابداً رب انی اعوذ بک من ھمزات الشیاطین واعوذبک رب ان یحضرون
اے اﷲ تمام تعریفیں ہمیشہ ہمیشہ تیرے لیے ہیں، درود و سلام اور برکت نازل فرما اس پر جس کو تو نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور اس کو ہر عیب سے پاک بنایا ہے اور اس کی آل و اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ اے میرے پرورگار ! تیری پناہ شاطین کے وسوسوں سے، اور اے میرے پروردگار ! تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔(ت)
زید کا قول حق و صحیح اور بکر کا زعم مردود و قبیح ہے۔ بے شک حضرت عزت عزت عظمۃ نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو تمامی اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا۔ شرق تا غرب ، عرش تا فرش سب انہیں دکھایا۔
ملکوت السموت والارض
کا شاہد بنایا، روزِ اول سے روزِ آخر تک سب
ماکان ومایکون
انہیں بتایا، اشیائے مذکورہ سے کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔ علم عظیم حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ان سب کو محیط ہوا۔ نہ صرف اجمالاً بلکہ صغیر و کبیر، ہر رطب و یابس، جو پتّہ گرتا ہے، زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ کہی پڑا ہے سب کو جدا جدا تفصیلاً جان لیا، ﷲ الحمد کثیراً۔ بلکہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہرگز ہرگز محمد رسول اﷲ کا پورا علم نہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وصحبہ اجمعین و کّرم ، بلکہ علم حضور سے ایک چھوٹا حصہ ہے، ہنوز احاطہ علم محمدی میں وہ ہزار دو ہزار بے حد و کنار سمندر لہرا رہے ہیں جن کی حقیقت کو وہ خود جانیں یا ان کا عطا کرنے والا ان کا
مالک و مولٰی جل و علا الحمد ﷲ العلی الاعلٰی۔
کُتب حدیث و تصانیف علمائے قدیم و حدیث میں اس کے دلائل کا بسط شافی اور بیان وافی ہے اور اگر کچھ نہ ہو تو بحمداﷲ قرآن عظیم خود شاہد عدل و حکم فصل ہے۔
اتاری ہم نے تم پر کتاب جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت و بشارت۔
(۱ ؎ القرآن الکریم ۱۶ /۸۹)
قال اﷲ تعالٰی
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت) :
ماکان حدیثا یفترٰی ولکن تصدیق الذی بین یدیہ وتفصیل کل شیئ " ۲ ؎۔
قرآن وہ بات نہیں جو بنائی جائے بلکہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے اور ہر شے کا صاف جدا جدا بیان ہے۔
(۲ ؎ القرآن الکریم ۱۳ /۱۱۱)
وقال اﷲ تعالٰی
( اﷲ تعالٰی نے فرمایا۔ت) :
مافرطنا فی الکتب من شیئ ۳ ؎۔
ہم نے کتاب میں کوئی شے اٹھا نہیں رکھی۔
(۳ ؎ القرآن الکریم ۶/ ۳۸)
اقول : وباﷲ التوفیق
( میں کہتا ہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ۔ت) جب فرقان مجید میں ہر شے کا بیان ہے اور بیان بھی کیسا ، روشن اور روشن بھی کس درجہ کا، مفصل ، اور اہلسنت کے مذہب میں شے ہر موجود کو کہتے ہیں، تو عرش تا فرش تمام کائنات جملہ موجودات اس بیان کے احاطے میں داخل ہوئے اور منجملہ موجودات کتابت لوحِ محفوظ بھی ہے تابالضرورت یہ بیانات محیط، اس کے مکتوب بھی بالتفصیل شامل ہوئے۔ اب یہ بھی قرآن عظیم سے ہی پوچھ دیکھئے کہ لوحِ محفوظ میں کیا لکھا ہے۔
قال اﷲ تعالٰی
" (اﷲ تعالٰی نے فرمایا۔ت) :
وکل صغیر وکبیر مستطر ۴ ؎۔
ہرچھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔
(۴ ؎القرآن الکریم ۵۴ /۵۳)
وقال اﷲ تعالٰی "
( اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت) :
" وکل شیئ احصینٰہ فی امام مبین " ۱ ؎۔
ہر شَے ہم نے ایک روشن پیشوا میں جمع فرمادی ہے۔
(۱ ؎ القرآن الکریم ۳۶ /۱۲)
وقال اﷲ تعالٰی
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت) :
"ولا حبّۃ فی ظلمٰت الارض ولارطب ولایا بس الا فی کتٰب مبین " ۲ ؎۔
کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک مگر یہ کہ سب ایک روشن کتاب میں لکھا ہے۔
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۶/ ۵۹)
اور اصول میں مبرہن ہوچکا کہ نکرہ حیز نفی میں مفید عموم ہے اور لفظ کُل تو ایسا عام ہے کہ کبھی خاص ہو کر مستعمل ہی نہیں ہوتا اور عام افادہ استغراق میں قطعی ہے، اور نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول رہیں گی۔ بے دلیل شرعی تخصیص و تاویل کی اجازت نہیں۔ ورنہ شریعت سے امان اٹھ جائے، نہ احادیث احاد اگرچہ کیسے ہی اعلٰی درجے کی ہوں ، عمومِ قرآن کی تخصیص کرسکیں بلکہ اس کے حضور مضمحل ہوجائیں گی بلکہ تخصیص متراخی نسخ ہے اور اخبار کا نسخ ناممکن اور تخصیص عقلی عام کو قطعیت سے نازل نہیں کرتی نہ اس کے اعتماد پر کسی ظنی سے تخصیص ہوسکے تو بحمد اﷲ تعالٰی کیسے نص صحیح قطعی سے روشن ہوا کہ ہمارے حضور صاحبِ قرآن صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اﷲ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون الٰی یوم القیمۃ جمیع مندرجاتِ لوح محفوظ کا علم دیا اور شرق و غرب و سماء و ارض و عرش فرش میں کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا ۔
وﷲ الحجۃ الساطعۃ
اور جب کہ یہ علم قران عظیم کے
تبیانا لکل شیئ ۳۔
( ہر چیز کا روشن بیان ۔ت) ہونے نے دیا،
(۳ ؎ القرآن الکریم ۱۶ /۸۹)
اور پُر ظاہر کہ یہ وصف تمام کلام مجید کا ہے، نہ ہر آیت یا سورت کا، تو نزول جمیع قرآن شریف سے پہلے اگر بعض انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نسبت ارشاد ہو
" لم نقصص علیک " ۴ ؎۔
( ان کا قصّہ ہم نے آ پ پر بیان نہیں کیا۔ت) یا منافقین کے با ب میں فرمایا جائے :
لاتعلمھم ۵ ؎۔
(آپ ان کو نہیں جانتے۔ت) ہر گز ان آیات کے منافی اور علمِ مصطفوی کا نافی نہیں۔
(۴ ؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۷۸) (۵ ؎ القرآن الکریم ۹ /۱۰۱)