| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
ہاں ہاں وہابیو! گنگوہیو! دیوبندیو! تھانویو دہلویو! امرتسریو ! بات کے پکے اور قول کے سچے ہو تو آنکھیں بند کرکے منہ کھول کر صاف کہہ ڈالو کہ ہاں ہاں شاہ ولی اللہ سے لے کر فقہاء محدثین مفسرین، متکلمین اکابر علماء، اکابر علماء، سے لے کر اولیاء اولیاء سے لے کر آئمہ اطہار ، آئمہ اطہار سے لے کر انبیاء عظام، انبیاء عظام سے لے کر سید الانبیاء ، سیدالانبیاء ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) سے لے کر واحد قہار تک تمہارے دھرم میں سب کافر ہیں، اس کی بحث ہے اس میں کلام ہے۔ دو چار، دس بیس عبارات تخصیص دکھانے، کروٹیں بدلنے، کہنے، مکرنے ، اڑے اڑے پھرنے سے کام نہیں چلتا ۔
یہ کہنا آسان تھا کہ احمد رضا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم غیب کا قائل ہوگیا اور یہ عقیدہ کفر کا ہے، مگر نہ دیکھا کہ احمد رضا کی جان کن کن پاک دامنوں سے وابستہ ہے، احمد رضا کا سلسلہ اعتقاد علماء، اولیاء آئمہ صحابہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے اﷲ رب العالمین تک مسلسل ملا ہوا ہے۔
والحمد ﷲ رب العالمین ۔
گرچہ خوردیم نسبتے سست بزرگ
(اگرچہ ہم چھوٹے ہیں مگر نسبت بلند ہے۔ت) حضرت مولوی معنوی قدس سرہ، پر اﷲ عزوجل کی بے شمار رحمتیں، کیا خوب فرمایا ہے:
رومی سخن کفر نگفتست و نگوید، منکر مشویدش کافر شودآنکس کہ بانکار برآمد مردود جہاں شد
(رومی نے کفر کی بات نہیں کہی ہے اور نہ کہے گا۔ اس کے منکر مت ہو۔ کافر وہ شخص ہوتا ہے جس نے انکار ظاہر کیا مردود جہاں ہوگیا ۔ت) اب اپنا ہی حال سوجھو کہ تمہاری آگ کا لوکا کہاں تک پہنچا جس نے علماء، اولیاء و ائمہ و صحابہ و انبیاء و مصطفٰی ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) و حضرت کبریا (جل وعلا) سب پر معاذ اﷲ وہی معلون حکم لگادیا اور "کافر شود مردود جہاں شد" کا تمغہ لیا۔
پھر کیا تمہاری یہ آگ اﷲ و روسول ( جل و علا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کو ضرر پہنچائے گی؟ حاش ﷲ بلکہ تمہیں کو جلائے گی، اور بے توبہ مرے تو اِن شاء اﷲ القہار ابد الاباد تک
" ذق انّک انت الاشرف الرشید
"( اس کا مزہ چکھ بےشک تو اشرف رشید ہے۔ ت) کا مزہ چکھائے گی۔
پھر بھی ہم کہیں گے انصاف ہی کی ۔ تمام آئمہ واولیاء و محبوبانِ خدا کو تم کافر کہو تو جائے شکایت نہیں، انہوں نے قصور ہی ایسا یکا ہے، ابلیس کی وسعتِ علم ماننی تمہارے کلیجے کا سُکھ آنکھوں کی ٹھنڈک ہوئی، براہینِ قاطعہ میں جس کا گیت گایا ہے، انہوں نے یہ تو کہا نہیں، لے کر چلے وسعتِ علم تمہارے دشمن محمد رسول اﷲ اور ان کے غلاموں کی، صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہ وسلم پھر ان پر کیوں نہ یہ حکم جڑو کہ کون سا ایمان کا حصہ ہے۔
یہاں تک تو تم پر آسانی تھی مگر ذرا خدا کی تکفیر ٹیڑھی کھیر ہوگی، کاذب تو کہہ دیا کافر کہتے کچھ تو آنکھ جھپکے گی، اور سب سے بڑھ کر پتھر کے تلے دامن جناب شاہ ولی اللہ صاحب کا معاملہ ہے جسے وہابیہ کے لیے سانپ کے منہ کی چھچھوندر کہیے تو بجا ہے، نہ اگلتی بنتی ہے نہ نگلتے، وہ کہہ کر چل بسے کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ان کے غلاموں عارفوں پر ہر چیز روشن ہوتی ہے، وہ ہرعلم ہر حال کی حقیقت کو پہنچے ہوتے ہیں، وفات تک جو کچھ آنے والا ہے ہر حال کی اس وقت خبر رکھتے ہیں" کہاں تو وہ مجالس میلاد پر اطلاع ماننے سے گنگوہی بہادر کا نکھنڈ شرک بلکہ اوندھی سمجھ میں ایک ہی نکاح کی خبر ماننے سے وہ فتاوٰی حنفیہ کی تکفیریں اور کہاں یہ ولی الٰہی بڑے بول جو کھال لگی رکھیں نہ ڈھول۔ اب انہیں کافر نہیں کہے تو غریب سنیوں کی تکفیر کیسے بن پڑے اور وہابیت کی مٹی پلید ہو وہ الگ ، اور اگر دل کڑا کرکے ان پر بھی کفر کی جڑ دی تو وہابیت بیچاری کا کٹھم ناٹھ ہوگیا۔ ان کے کافر ہوتے ہی اسمعیل جی کہ انہیں کے گیت گائیں، انہیں کو امام و مقتد و پیز و پیشوا و حکیم اُمت و صاحب وحی و عصمت مانیں، کافر در کافر، کافروں کے بچے، کافروں کے چیلے ہوئے اور تم سب کہ اسمعیل جی کے شاہ صاحب کے معتقد و مداح بنتے تھے۔ تو ساتھ لگے گیہوں کے گھن تم سب کے سب کافرانِ کہن اﷲ اﷲ کفر کو بھی تم سے کیا محبت ہے کہ کسی پہلو چلو، کوئی روپ بدلو وہ ہر پھر کر تمہارے ہی گلے کا ہار ہوتا ہے۔
گر براند نر ود و ر برود باز آید مگسِ کفر بود خالِ رخ وہابی
(اگر بھگائے تو نہیں جاتی اور اگر جائے تو لوٹ آتی ہی کفر کی مکھی وہابی کے چہرے کا تِل ہے۔ت)
کذٰلک العذاب والعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوایعلمون o
وصلی اﷲ تعالٰی علیہ سیّدنا ومولٰینا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین، والحمد ﷲ رب العلمین
مار ایسی ہوتی ہے اور بےشک آخرت کی مار سب سے بڑی ہے ، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے اور درود نازل فرمائے اﷲ تعالٰی ہمارے آقا و مولٰی محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ کی آل پر اور آپ کے تمام اصحاب پر، اور سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا۔(ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶۸ /۳۳)
فقیر احمد رضا خان قادری عفی عنہ از بریلی ۱۴ ربیع الاول شریف روز شنبہ ۱۳۲۸ھ رسالہ خالص الاعتقاد ختم ہوا ۔