Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
82 - 157
(۱۱۶) علامہ سعد الدین تفتازانی شرح مقاصد میں فرقہ باطلہ معتزلہ خذلہم اﷲ تعالٰی کے کرامات اولیاء سے انکار اور ان کے شبہات فاسدہ کے ذکرو ابطال میں فرماتے ہیں :
الخامس وھو فی الاخبار عن المغیبات قولہ تعالٰی عالم الغیب فلا یظھر علٰی غیبہ احداً الا من ارتضٰی من رسول خص الرسل من بین المرتضین بالا طلاع علی الغیب فلا یطلع غیر ھم وان کانوا اولیاء مرتضین،  الجواب ان الغیب ھٰہنا لیس للعموم بل مطلق اومعین ھووقت وقوع القیٰمۃ بقرینۃ السباق ولا یبعدان یطلع علیہ بعض الرسل من الملٰئِکۃ او البشرفیصح الاستثناء ۱ ؎۔
یعنی معتزلہ کی پانچویں دلیل خاص علم غیب کے بارے میں ہے وہ گمراہ کہتے ہیں کہ اولیاء کو غیب کا علم نہیں ہوسکتا کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر مسلط نہیں کرتا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو،  جب غیب پر اطلاع رسولوں کے ساتھ خاص ہے تو اولیاء کیونکر غیب جان سکتے ہیں۔ائمہ اہلسنت (عہ) نے جواب دیا کہ یہاں غیب عام نہیں جس کے یہ معنے ہوں کہ کوئی غیب رسولوں کے سوا کسی کو نہیں بتاتا جس سے مطلقاً اولیاء کے علومِ غیب کی نفی ہوسکے،  بلکہ یہ تو مطلق ہے ( یعنی کچھ غیب ایسے ہیں کہ غیر رسول کو نہیں معلوم ہوتے) یا خاص وقت وقوعِ قیامت مراد ہے ( کہ خاص اس غیب کی اطلاع رسولوں کے سوا اوروں کو نہیں دیتے) اور  اس پر قرینہ یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں غیب قیامت ہی کا ذکر ہے۔ ( تو آیت سے صرف اتنا نکلا کہ بعض غیبوں یا خاص وقت قیامت کی تعیین پر اولیاء کو اطلاع نہیں ہوتی نہ یہ کہ اولیاء کوئی غیب نہیں جانتے،  اس پر اگر شبہہ کیجئے کہ اﷲ تو رسولوں کا استثناء فرمارہا ہے کہ وہ ان غیبوں پر مطلع ہوتے ہیں جن کو اور لوگ نہیں جانتے اب اگر اس سے تعین وقت قیامت لیجئے تو رسولوں کا بھی استثناء نہ رہے گا کہ یہ تو اُن کو بھی نہیں بتایا جاتا۔ اس کا جواب یہ فرمایا کہ ) ملائکہ یا بشر سے بعض رسولوں کو تعیین وقت قیامت کا علم ملنا کچھ بعید نہیں تو استثناء کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا ضرور صحیح ہے۔
عہ : فائدہ : اس نفیس عبارت کتاب العقائد اہلسنت سے ثابت ہوا کہ وہابیہ معتزلہ سے بھی بہت خبیث تر ہیں ، معتزلہ کو صرف اولیائے کرام کے علومِ غیب میں کلام تھا انبیاء کے لیے مانتے تھے ، یہ خبیث خود انبیاء سے منکر ہوگئے ، اور یہ بھی ثابت ہوا کہائمہ اہلسنت انبیاء واولیاء سب کے لیے مانتے ہیں وللہ الحمد ۱۲ منہ ۔
 ( ۱ ؎شرح المقاصد المبحث الثامن اولی ھوالعارف باﷲ تعالٰی دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۲ /۲۰۴ و۲۰۵)
(۱۱۷) امام قسطلانی شرح بخاری تفسیر سورہ رعد میں فرماتے ہیں :
لایعلم متی تقوم الساعۃ الا اﷲ الا من ارتضٰی من رسول فانہ یطلعہ من یشاء من غیبہ و الولی التابع لہ یا خذ عنہ۲ ؎۔
کوئی غیر خدا نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی سوااس کے پسندیدہ رسولوں کے کہ انہیں اپنے جس غیب پر چاہے اطلاع دیتا ہے۔ ( یعنی وقتِ قیامت کا علم بھی ان پر بند نہیں۔) رہے اولیاء وہ رسولوں کے تابع ہیں ان سے علم حاصل کرتے ہیں۔
(۲ ؎ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الرعد    دارالکتاب العربی بیروت    ۷ /۱۸۶)
یہاں اس خاص غیب کے علم میں بھی اولیاء کے لیے راہ رکھی ،  مگر یوں کہ اصالۃً انبیاء کو ہے اور ان کو ان سے ملتا ہے،  اور حق یہی ہے کہ آیئہ کریمہ غیر رسل سے علم غیوب میں اصالت کی نفی فرماتی ہے نہ کہ مطلق علم کی۔
 (۱۱۸ و۱۱۹) علامہ حسن بن علی مدابغی حاشیہ فتح المبین امام ابن حجر مکی اور فاضل ابن عطیہ فتوحات وہبیہ  شرح اربعین امام نووی میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو علم قیامت عطا ہونے کے باب میں فرماتے ہیں :
الحق کما قال جمع انّ اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی لم یقبض نبینا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حتی اطلعہ علی کل ما ابھمہ عنہ الا انہ امر بکتم بعض والا علام ببعض  ۱ ؎۔
یعنی حق مذہب وہ ہے جو ایک جماعت علماء نے فرمایا کہ اللہ عزوجل ہمارے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا یہاں تک کہ جو کچھ حضور سے مخفی رہا تھا اس سب کا علم حضور کو عطا فرمادیا،  ہاں بعض علوم کی بنسبت حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کو حکم دیا کہ کسی کو نہ بتائے اور بعض  کے بتانے کا حکم کیا۔
 (۱؂)
 (۱۲۰) علامہ عشماوی کتاب مستطاب عجب العجاب شرح صلاۃ سیّدی احمد بدوی کبیر صلی اللہ تعالٰی عنہ میں فرماتے ہیں :
قیل انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوتی علمہا (ای الخمس ) فی اٰخرالامرلکنہ امرفیہابالکتمان وھٰذاالقیل ھوالصحیح۲ ؎۔
یعنی کہا گیا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو آخر میں ان پانچوں غیبوں کا بھی علم عطا ہوگیا مکر ان کے چھپانے کا حکم تھا،  اور یہی قول صحیح ہے۔
 (۲؂عجب العجاب شرح صلٰوۃ سید احمد کبیر بدوی)
تنبیہ جلیل
الحمد ﷲ یہ بطورِ نمونہ ایک سو بیس عبارات قاہرہ میں جن سے وہابیت کی پوچ ذلیل عمارت نہ صرف منہدم ہوئی بلکہ قارون اور اس کے گھر کی طرح بفضلہ تعالٰی تحت الثرٰی پہنچتی ہے،  اور بحمدہ تعالٰی یہ کل سے جز ہیں،  ایسے ہی صدہا نصوص جلیلہ و عظیمہ دیکھنا ہوں تو فقیر کی کتاب
"مالیئ الجیب بعلوم الغیب ۱۳۱۸ ھ" و  رسالہ "اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان وما یکون ۱۳۱۸ھ"
ملاحظہ ہوں کہ نصوص کے دریا ہیں چھلکتے،  اور حُبِّ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چاند چمکتے اور تعظیم حضور کے سورج دمکتے،  اور نور آیمان کے تارے جھلکتے ، ا ور حق کے باغ مہکتے اور ہدایت کے پھول چہکتے اور نجدیت کے کوے سسکتے اور وہابیت کے بوم بلکتے،  اور بد بوح گستاخ پھڑکتے ۔
والحمد ﷲ رب العلمین۔
وہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی ان نصوص قاہرہ کے مقابل ادھر ادھر  سے کچھ عبارات دربار تخصیص غیوب نقل کر لاتے اور بغلیں بجاتے ہیں حالانکہ یہ محض جہالت،  کج فہمی بلکہ صریح مکاری اور ہٹ دھرمی ہے انصافاً وہ ہمارے ہی بیان کا دوسرا پہلو دکھاتے ہیں۔

فقیر گزارش کرچکا کہ مسئلہ عموم و خصوص اُن اجماعات بعد کہ امر چہارم میں معروض ہوئے علمائے اہلسنت کا خلافیہ ( اختلافی ) ہے ۔ عامہ اولیاء کرام و بکثرت علمائے عظام جانب تعمیم ہیں اور یہی ظاہر نصوص قرآن عظیم و مفادات احادیث حضور پرنور علیہ  افضل الصلوۃ والتسلیم ہے۔
اور بہت اہل رسوم جانب خصوص گئے،  ان میں بھی شاید نرے متقشفوں کا یہ خیال ہو ورنہ ان کے لیے اس پر ایک باعث ہے جس کا بیان مع چند نظائرِ نفسیہ فقیر کے رسالے
"  انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیئ" (۱۳۲۰ھ)
میں مشرح ہے تو ایسی عبارات سے ہمیں کیا ضرر،  ہم نے کیا دعوٰی اجماع کیا تھا کہ خلاف دکھاؤ ۔

وہاں تم اپنی جہالت سے مدعِی اجماع تھے یہاں تک کہ مخالف کی تکفیر کر بیٹھے۔ تو ہر طرح تم پر قہر کی مار ہے ایجابِ جزئی سے موجبہ کلیہ کا ثبوت چاہنا مجنون کا شعار ہے۔ 

تم دس عبارتیں خصوص میں لاؤ ہم سو نصوص عموم میں دکھائیں گے پھر ظواہر قرآن و حدیث و عامہ اولیائے قدیم و حدیث ہمارے ساتھ ہیں،  اور اسی میں ہمارے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی فضیلت کی ترقی اور خود اسی بارے میں ان کا رب فرماچکا کہ  :
علمک مالم تکن تعلم وکان فضل اﷲ علیک عظیماً ۱ ؎۔
سکھادیا تمہیں جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اﷲ کا فضل تم پر بڑا ہے۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۱۳)
جسے ا ﷲ بڑا کہے اسے گھٹائے کیونکر بنے،  معہذا اگر بفرض باطل خدا کا فضل عظیم چھوٹا اور مختصر ہی ہو۔ مگر ہم نے ظواہر قرآن و حدیث وتصریحات صدہاائمہ ظاہر و باطن کے اتباع سے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیادہ رقعت شان چاہ کر اسے بڑا مانا تو بحمداﷲ تعالٰی اﷲ کے فضل اور اس کے حبیب کی تعظیم ہی کی۔

اور اگر واقع میں وہ فضلِ الہٰی ویسا ہی بڑا ہے اور تم نے برخلاف ظواہر نصوص قرآن و حدیث اسے ہلکا اور چھوٹا جانا تو تمہارا معاملا معکوس ہوا۔
"  فایّ الفریقین احق بالامن "  ۲ ؎۔
خیال کرلو کہ کون سا فریق زیادہ مستحقِ امن ہے۔
(۲؎القرآن الکریم     ۶ /۸۱)
غرض یہاں چند پریشان عبارات خصوص کا سنانا محض جہل ہے یا سخت مکر،  کلام تو اس میں ہے کہ تم اقوال عموم بمعنی مرقوم بلکہ اس سے بھی لاکھوں درجے ہلکے پر حکمِ شرک و کفر جڑرہے ہو۔ گنگوہی جی کی قاطعہ براہین دیکھو ۔ صرف اتنی بات کہ جہاں مجلس میلاد مبارک ہو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اطلاع ہوجائے،  علمِ محیط زمین ٹھہرادیا۔ پھر اسے خدا کا خاصہ اور ساتھ ہی اپنے معبود و ابلیس کی صفت بتا کر صاف حکمِ شرک پھٹادیا اور شرک بھی کیسا جس میں کوئی حصہ ایمان کا نہیں پھر عرش تا فرش کا علم تو زمین کے علم محیط سے کروڑ ہا کروڑ درجے بڑا ہے پھر ماکان وما یکون کا تو کیا ہی کہنا ہے۔
اسی طرح اور تعمیمات کہ کلامِائمہ دین و علمائے معتمدین میں گزریں۔ اس کا ماننے والا اگر معاذ اﷲ ایک حصہ کافر تھا تو ان کا ماننے والا تو پدموں سنکھوں کافروں کے برابر ایک کافر ہوگا۔

یونہی تمہارا امام علیہ ماعلیہ تقویۃ الایمان میں بعطائے الہی بھی غیب کی بات کا علم ماننے کو شرک کہہ چکا پھر گنگوہی جی کا شرک تو میلاد مبارک کی اطلاع پر اُچھلا تھا۔ ان امام جی نے ایک پیڑ کے پتے ہی جاننے پر شرک اُگل دیا۔
Flag Counter