(۱۰۴) مولانا بحرالعلوم ملک العلماء قدس سرہ، شرح میں فرماتے ہیں :
محمد رضا گفتہ اے فکر تن نداشت و از جہت استغراق بعضی مغیبات برانبیاء مستور شوند انتہٰی، معنی بیت ایں چنیں ست کہ دل بخود مشغول بود کہ دل نفس دل رامشاہدہ می کرد و ذات باحدیث جمیع اسماء دردل ست پس بسبت استغراق دریں مشاہدات توجہ بسوئے اکوان نبود پس بعض اکوان مغفول عنہ ماند وایں وجہ وجیہ است۱ ؎۔
یعنی محمد رضا کہتا ہے دل کو بدن کی فکر نہ تھی اور استغراق کی وجہ سے بعض غیوب انبیاء سے چھپ جاتے ہیں انتہی، شعر کے معنی یہ ہیں کہ دل ذات دل کا مشاہدہ کررہا تھا اور ذات احدیث تمام اسماء کے ساتھ دل میں ہے، پس اس مشاہدہ میں مشغول ہونے کی وجہ سے توجہ عالم کی طرف نہ تھی اس لیے بعض حالات پوشیدہ رہے یہ بہترین توجیہ ہے۔(ت)
(۱)
(۱۰۵ و ۱۰۶ و ۱۰۷ و ۱۰۸) امام قرطبی شارح صحیح مسلم ، پھر امام عینی بدر محمود، پھر امام احمد قسطلانی شارح صحیح بخاری، پھر علامہ علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ حدیث
"وخمس لایعلمھن الا اﷲ"
کی شرح میں فرماتے ہیں۔
فمن ادعٰی علم شیئ منہا غیر مسند الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان کاذباً دعواہ ۲ ؎۔
یعنی جو کوئی قیامت و غیرہ خمس سے کسی شے کے علم کا اِدعا کرے اور اسے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت نہ کرے کہ حضور کے بتائے سے مجھے یہ علم آیا، وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔
( ۲ ؎ عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ادرۃ طباعۃ المنیریۃ بیروت ۱/ ۲۹۰)
(ارشاد الساری شرح البخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۴۱)
صاف معلوم ہوا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان پانچوں غیبوں کو جانتے ہیں اور اس میں سے جو چاہیں اپنے جس غلام کو چاہیں بتاسکتے ہیں، اور جو حضور کی تعلیم سے ان کے علم کا دعوٰی کرے اس کی تکذیب نہ ہوگی۔
(۱۰۹) روض النضیر شرح جامع صغیر امام کبیر جلال الملتہ والدین سیوطی سے اس حدیث کے متعلق ہے، ۔
" اما قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا ھو ففسر بانہ لا یعلمہا احد بذاتہ و من ذاتہ الا ھو لکن قد تعلم باعلام اﷲ تعالٰی فان ثمہ من یعلمھا وقد وجدنا ذٰلک لغیر واحد کما راینا جماعتہ علموامتی یموتون و علموا مافی الارحام حال حمل المرأۃ وقبلہ " ۱ ؎۔
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا کہ ان پانچویں غیبوں کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا اس کے یہ معنی ہیں کہ بذاتِ خود اپنی ذات سے انہیں اﷲ ہی جانتا ہے مگر خدا کے بتائے سے کبھی ان کو بھی ان کا علم ملتا ہے بے شک یہاں ایسے موجود ہیں جو ان غیبوں کو جانتے ہیں اور ہم نے متعدد اشخاص ان کے جاننے والے پائے ایک جماعت کو ہم نے دیکھا کہ ان کو معلوم تھا کب مریں گے اور انہوں نے عورت کے حمل کے زمانے میں بلکہ حمل سے بھی پہلے جان لیا کہ پیٹ میں کیا ہے۔
( ۱ ؎ روض النضیر شرح الجامع الصغیر )
(۱۱۰) شیخ محقق قدس سرہ، لمعات شرح مشکوۃ میں اسی حدیث کے ماتحت فرماتے ہیں :
المراد لا تعلم بدون تعلیم اﷲ تعالٰی منہ " ۲ ؎۔
مراد یہ ہے کہ قیامت وغیرہ غیب بے خدا کے بتائے معلوم نہیں ہوتے۔
( ۲ ؎ لمعات التنقیح شرح مشکٰوۃ المصابیح تحت حدیث ۳ مکتبۃ المعارف العلمیۃ لاھور ۱/ ۷۳)
(۱۱۱) علامہ ہیجوری شرح بُردہ شریف میں فرماتے ہیں :
لم یخرج صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من الدنیا الابعد ان اعلمہ اﷲ تعالٰی بھذہٰ الامور ای الخمسہ ۳"
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دنیا سے تشریف نہ لے گئے مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالٰی نے حضور کو ان پانچ غیبوں کا علم دے دیا۔
(۳؎ حاشیۃ الباجوری علی البردۃ تحت البیت فان من جودک الدنیا الخ مصطفی البابی مصر ص۹۲)
(۱۱۲) علامہ شنوانی نے جمع النہایۃ میں اسے بطور حدیث بیان کیا کہ :
قدورد ان اﷲ تعالٰی لم یخرج النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حتی اطلعہ علٰی کل شیئ۴ ؎۔
بے شک وارد ہوا کہ اللہ تعالی نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا جب تک کہ حضور کو تمام اشیاء کا علم عطا نہ فرمایا۔
(۴)
(۱۱۳) حافظ الحدیث سیدی احمد مالکی غوث الزمان سید شریف عبدالعزیز مسعود حسنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
ھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لا یخفی علیہ شیئ من الخمس المذکورۃ فی الایۃ لشریفۃ وکیف یخفی علیہ ذٰلک والاقطاب السبعۃ من امتیہ الشریفۃ یعلمو نہا وھم دون الغوث فکیف بسسیدالاولین والآخرین الذی ھو سبب کل شیئ و منہ کل شیئ ۱۔
یعنی قیامت کب آئے گی ، مینہ کب اور کہاں اور کتنا برسے گا، مادہ کے پیٹ میں کیا ہے، کل کیا ہوگا، فلاں کہاں مرے گا، یہ پانچوں غیب جو آیہ کریمہ میں مذکور ہیں ان میں سے کوئی چیز رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر مخفی نہیں، اور کیونکر یہ چیزیں حضور سے پوشیدہ ہیں، حالانکہ حضور کی امت سے ساتوں قطب ان کو جانتے ہیں اور ان کا مرتبہ غوث کے نیچے ہے، غوث کا کیا کہنا پھران کا کیا پوچھنا۔جو سب اگلوں پچھلوں سارے جہان کے سردار اور ہر چیز کے سبب ہیں اور ہر شے انہیں سے ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
(۱)
(۱۱۴) نیز ابریز عزیز میں فرمایا :
قلت للشیخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فان علماء الظاھر من المحدیثین وغیرھم اختلفوا فی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ھل کان یعلم الخمس فقال رضی اللہ تعالٰی عنہ کیف یخفی امرالخمس علیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم والواحد من اھل التصرف من امتہ الشریفۃ لایمکنہ التصرف الا بمعرفۃ ھذہ الخمس۲ ؎۔
یعنی میں نے حضرت شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ س ے عرض کی کہ علماء ظاہر محدثین مسئلہ خمس میں باہم اختلاف رکھتے ہیں، علماء کا ایک گروہ کہتا ہے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ان کا علم تھا ، دوسرا ان کار کرتا ہے، ا س میں حق کیا ہے ؟ فرمایا ( جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ِپانچویں غیبوں کا علم مانتے ہیں وہ حق پر ہیں) حضور سے یہ غیب کیونکر چھپے رہیں گے حالانکہ حضور کی امت شریفہ میں جو اولیائے کرام اہلِ تصرف ہیں ( کہ عالم میں تصرف فرماتے ہیں) وہ جب تک ان پانچوں غیبوں کا علم مانتے ہیں وہ حق پر ہیں) حضور سے یہ غیبکیونکر چھپے رہیں گے حالانکہ حضور کی امت شریفہ میں جو اولیائے کرام اہلِ تصرف ہیں ( کہ عالم میں تصرف فرماتے ہیں) وہ جب تک ان پانچوں غیبوں کو جان نہ لیں تصرف نہیں کرسکتے۔
( ۲ ؎ الابریز الباب الثانی مصطفی البابی مصر ص۱۶۷ و ۱۶۸)
(۱۱۵) تفسیر کبیر میں زیر آیہ کریمہ
"عالم الغیب فلا یظھر علٰی غیبہ احداً الا من ارتضٰی من رسول ۳"
فرمایاای وقت وقوع القیمٰۃ من غیب الذی لایظھرہ اﷲ لا حد فان قیل فاذا حملتم ذلک علی القیٰمۃ فکیف قال الا من ارتضٰی من رسول " مع انہ لا یظھر ھذا الغیب لا حد قلنا بل یظھرہ ، عند قرب القیٰمۃ"۱ (ملخصاً)
یعنی قیامت کے واقع ہونے کا وقت اس غیب میں سے ہے جس کو اﷲ تعالٰی کسی پر ظاہر نہیں کرتا اگر کہا جائے کہ جب تم نے آیت کو علمِ قیامت پر محمول کیا تو کیسے اﷲ نے فرمایا : "الاّ من ارتضٰی من رسول" باوجود یہ کہ یہ غیب اﷲ کسی پر ظاہر نہیں کرے گا، ہم جواب دیں گے کہ قیامت کے قریب ظاہر کرے گا۔(ت)
(۳القرآن الکریم ۷۲/ ۱۰۲)
(۱مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر ) تحت آیۃ ۷۲/ ۲۶ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۳۰/ ۱۶۸)
اس نفیس تفسیر نے صاف معنی آیت یہ ٹھہرائے کہ اﷲ عالم الغیب ہے، وہ وقتِ قیامت کا علم کسی کو نہیں دیتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔