Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
80 - 157
(۸۸) اور فرماتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ :
قلبی مطلع علٰی اسرارالخلیفۃ ناظرا لی وجوہ القلوب قد صفاہ الحق عن دنس رویۃسواہ حتّی صارلوحاً ینقل الیہ مافی اللوح المحفوظ وسلم علیہ ازمۃ اموراھل زمانہ وصرفہ فی عطائھم ومنعھم۳ ؎۔
  میرا دل اسرارِ مخلوقات پر مطلع ہے سب دلوں کو دیکھ رہا ہے اللہ تعالٰی نے اسے روایت ماسوا کے میل سے صاف کردیا کہ ایک لوح ہوگیا جس کی طرف وہ منتقل ہوتا ہے،  جو لوحِ محفوظ میں لکھا ہے۔( اللہ تعالٰی نے) تمام اہل زمانہ کے کاموں کی باگیں اسے سپرد فرمائیں اور اجازت فرمائی کہ جسے چاہیں عطا کریں،  جسے چاہیں منع فرمادیں۔
 ( ۳ ؎ بہجۃ الاسرار     ذکر کلمات     اخبر بہا عن نفسہ محدثابنعمۃ ربہ     دارالکتب العلمیہ بیروت     ص ۵۰)
(۸۹ و ۹۰ و ۹۱) والحمدﷲ رب العالمین
یہ اور ان کے مثل اور کلمات قدسیہ اجلہ اکابرائمہ مثل امام اوحد سیّدی نور الحق والدین ابوالحسن علی شطنوفی صاحب کتاب بہجۃ الاسرار وامام اجل سیدی عبداللہ بن اسعد یا فعی شافعی صاحبِ خلاصۃ المفاخروغیرہما نے حضور سے بہ اسانیدِ صحیحہ روایت فرمائے ،اور علی قاری وغیرہ علماء نے نزہتہ الخاطر وغیرہا کتب مناقب شریفہ میں ذکر کیے۔
 (۹۲) عارف کبیر احد الاقطاب الاربعہ سیدنا حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ترقیات کامل کے بارے میں فرماتے ہیں :
اطلعہ علٰی غیبہ حتی لا تنبت شجرۃ ولا تخضرورقۃ الابنظرہ۱ ؎۔
اﷲ تعالٰی اسے اپنے غیب پر مطلع کرتا ہے یہاں تک کہ کوئی پیڑ نہیں اُگتا اور کوئی پتہ نہیں ہریاتا مگر اس کی نظر کے سامنے۔
 ( ۱ ؎قول سیّداحمد رفاعی )
 (۹۳) عارف باﷲ حضرت سیدی رسلان دمشقی رضی ا للہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
العارف من جعل اﷲ تعالٰی فی قلبہ لوحاً منقوشاً باسرار الموجودات و بامدادہ بانوار حق الیقین یدرک حقائق تلک السطور علی اختلاف اطوار ھا ویدرک اسرار الافعال فلا تتحرک حرکۃ ظاھرۃً ولا باطنۃ فی الملک والملکوت الا ویکشف اﷲ تعالٰی عن بصیرۃ ایمانہ و عین عیانہ فیشھدھا علماً وکشفاً۲ ؎۔
عارف وہ ہے جس کے دل میں اللہ تعالٰی نے ایک لوح رکھی ہے کہ جملہ اسرار موجودات اس میں منقوش ہیں اور حق الیقین کے نوروں سے اسے مدد دی کہ وہ ان لکھی ہوئی چیزوں کی حقیقتیں خوب جانتا ہے باآنکہ انکے طور کس قدر مختلف ہیں اور افعال کے راز جانتا ہے تو ظاہری یا باطنی کوئی جنبش ملک یا ملکوت میں واقع نہیں ہوتی ،  مگر یہ کہ اﷲ تعالٰی اس کے ایمان کی نگاہ اور اس کے معاینہ کی آنکھ کھول دیتا ہے تو عارف اسے دیکھتا ہے اور اپنے علم وکشف سے جانتا ہے۔
 ( ۲ ؎الطبقات الکبرٰی ترجمہ ۲۷۴    رسلان الدمشقی      دارالفکر بیروت        ص ۲۱۴)
 (۹۴) (مذکور ہ بالا) یہ دونوں کلام کریم سیّدی امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے طبقاتِ کبٰری میں نقل کیے۔

(۹۵) سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے امام حضرت عزیزان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے :
زمین در نظر ایں طائفہ چو سفرہ ایست  ۳ ؎۔
اس گروہ کی نظر میں زمین دستر خوان کی طرح ہے۔(ت)
 ( ۳ ؎نفحات الانس      ترجمہ خواجہ بہاءُ الحق والدّین النقشبندی         انتشارات کتاب فروشی     ص ۳۸۷)
 (۹۶) حضرت خواجہ بہاؤ الحق والدین نقشبندی رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ کلامِ پاک نقل کرکے فرماتے  :
ومامی گوئیم چوں روئے ناخنے ست ہیچ چیز از نظر ایشاں غائب نیست۴ ؎۔
ہم کہتے ہیں کہ ناخن کی سطح کی طرح ہے،  کوئی چیز ان کی نظر سے غائب نہیں۔
 ( ۴ ؎نفحات الانس   ترجمہ خواجہ بہاءُ الحق والدّین النقشبندی انتشارات کتا ب فروشی ص ۸۸۔۳۸۷)
گنگوہی صاحب ! اب اپنے شیطانی شرک براہین کی خبر لیجئے۔

(۹۷) یہ دونوں ارشاد مبارک حضرت مولٰینا جامی قدس سرہ السامی نے نفحات الانس میں ذکر کیے۔
 (۹۸) امامِ اجل سیّدی علی وفارضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
لیس الرجل من یقیدہ العرش وما حواہ من الا فلاک والجنّۃ والنّار ،  وانما الرجل من نقذ بصرہ الٰی خارج ھذاالوجود کلہ وھناک یعرف قدر عظمۃ موجوہ سبحٰنہ و تعالٰی۱؂ ۔
مرد وہ نہیں جسے عرش اور جو کچھ اس کے احاطہ میں ہے آسمان و جنت و ناریہی چیزیں محدود مقید کرلیں ،  مرد وہ ہے جس کی نگاہ اس تمام عالم کے پار گزر جائے وہاں اسے موجدِ عالم سبحنہ و تعالٰی کی عظمت کی قدر کھلے گی۔
 (۱ ؎الیواقیت والجواھر       البحث الرابع والثلاثون        دار احیاء التراث العربی بیروت      ۲/ ۳۷۰ )
(۹۹) یہ پاکیزہ کلام کتاب الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر میں نقل فرمایا ۔
 (۱۰۰) ابریز شریف میں ہے :
سمعتہ رضی اللہ تعالٰی عنہ احیانا یقول ما السمٰوٰت السبع والارضون السبع فی نظر العبدالمؤمن الاکحلقۃ ملقاۃ فی فلاۃ من الارض ۲ ؎۔
یعنی میں نے حضرت سید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بارہا سنا کہ فرماتے ساتویں آسمان اور ساتویں زمینیں مومن کامل کی وسعتِ نگاہ میں ایسے ہیں جیسے ایک میدانِ لق و دق میں ایک چھلا پڑا ہوا۔
 ( ۲ ؎ الابریز   الباب السادس     مصطفی البابی مصر    ص۲۴۲)
 (۱۰۱) امام شعرانی کتاب الجواہر میں حضرت سیدی علی خواص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
الکامل قلبہ مراۃ للوجودالعلوی و السفلی کلہ علی التفصیل۳ ؎۔
کامل کا دل تمام عالم علوی و سفلی کا بروجہ تفصیل آئینہ ہے۔
 (۳ ؎الجواھر والدرر علی ھامش  الابریز   الباب السادس     مصطفی البابی مصر    ص۲۲۳)
(۱۰۲) امام رازی تفسیر کبیر میں رَد معتزلہ کے لیے حقیقتِ کرامات اولیاء پر دلائل قائم کرنے میں فرماتے ہیں :
الحجۃ السادسۃ لا شک انّ المتولی للافعال ھوالروح لاالبدن ولہذا نری ان کل من کان اکثر علماً باحوال عالم الغیب کان اقوٰی قلباً ولہذا قال علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ واﷲ ماقلعت باب خیبر بقوۃ جسدانیۃ ولٰکن بقوۃ ربانیۃ وکذٰلک العبداذا واظب علی الطاعات بلغ الی المقام الذی یقول اﷲ تعالٰی کنت لہ سمعاً وبصراًفاذا صار نور اجلال اللہ تعالٰی سمعاً لہ سمع القریب و البعید واذاصارذٰلک النور بصراً لہ راٰی القریب والبعید واذا صارذٰلک النوریدا لہ قدر علی التصرف فی الصعب و السہل والبعید والقریب۱ ؎۔
یعنی اہل سنت کی چھٹی دلیل یہ ہے کہ بلاشبہہ افعال کی متولی تو روح ہے نہ کہ بدن،  اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جسے احوال عالم غیب کا علم زیادہ ہے اس کا دل زیادہ زبردست ہوتا ہے، ولہذا مولٰی علی نے فرمایا : خدا کی قسم میں نے خیبر کا دروازہ جسم کی قوت سے نہ اکھیڑا بلکہ ربانی طاقت سے،  اسی طرح بندہ جب ہمیشہ طاعت میں لگا رہتا ہے تو اس مقام تک پہنچتا ہے جس کی نسبت رب عزوجل فرماتا ہے کہ وہاں میں خود اس کے کان آنکھ ہوجاتا ہوں تو جب اجلالِ الہی کا نور اس کا کان ہوجاتا ہے بندہ نزدیک ، دور سب سنتا ہے اور جب وہ نور اس کی آنکھ ہوجاتا ہے بندہ نزدیک و دور ،سب دیکھتا ہے اور جب وہ نور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہے بندہ سہل و دشوار و نزدیک و دور میں تصرفات کرتا ہے۔
 ( ۱ ؎مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر )   تحت آیۃ ۱۸/ ۹  دار الکتب العلمیہ بیروت     ۲۱/ ۷۷)
 (۱۰۳) حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلوی دفتر ثالث مثنوی شریف میں موزہ و عقاب کی حدیث مستطاب میں فرماتے ہیں حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
گرچہ ہر غیبے خدا مارا  نمود		دل دراں لحظہ بخود مشغول بود۲ ؎
 (اگرچہ ہر غیب خدا نے ہم کو دکھایا ہے لیکن دل اس وقت اپنی ذات میں مشغول تھا۔ ت)
( ۲ ؎ مثنوی معنوی    ربودن عقب موزہ رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم    نورانی کتب خانہ پشاور  دفتر سوم    ص ۸۱)
Flag Counter