کیوں وہابیو! ہے کچھ دم ؟ ہاں ہاں تقویۃ الایمان و براہین قاطعہ کی شرک دانی لے کر دوڑیو، مشرک مشرک کی تسبیح بھانیو، کل قیامت کو کھل جائے گا کہ مشرک، کافر، مرتد خاسر کون تھا،
سیعلمون غدًا من الکذاب الاشر ۲ ؎۔
( بہت جلد کل جان جائیں گے کون تھا بڑھا جھوٹا اترونا ۔ ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۵۴ /۲۶)
اشر بھی دوقسم کے ہوتے ہیں :
(۱) اَشر قولی کہ زبان سے بَک بَک کرے۔
(۲) اشرفعلی کہ زبان سے چپ اور خباثت سے باز آئے۔
وہابیہ اشرقولی و اشرفعلی دونوں ہیں۔
" قاتلھم اﷲ انّی یؤفکون "۳ ؎۔
( اﷲ انہیں مارے کیا اوندھے جاتے ہیں)
(۳؎القرآن الکریم ۹ /۳۰)
حضرت سیدّی شاہ عبدالعزیز قد سنا اﷲ بسرہ العزیز، اجلّہ اکابراولیاء عظام و اعاظم سادات کرام سے ہیں، بدلگام وہابیہ سے کچھ تعجب نہیں کہ ان کی شان کریم میں حسب عادت لئیم گستاخی و زبان درازی کریں، لہذا مناسب کہ اس پاک، مبارک ، لاڈلے بیٹے کی تائیدمیں اس کے مہربان باپ ، مسلمانوں کے مولٰی، اﷲ واحد قہار کے غالب شیر، سیدنا امیرا لمومنین مولٰی علی مشکل کشا حاجت روا، کافرکُش ، مومن پناہ کرم کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے بعض ارشادات ذکر کروں کہ سگانِ زرد کے برادر شغال اس اسدِ ذوالجلال کی بو سونگھ کر بھاگیں، اور شرک شرک بکنے والے منہ میں قہر کے پتھر ہوں ، اورپتھروں سے آگیں۔
(۷۹) ابن النجار ابوالمعتمر مسلم بن اوس وجاریہ بن قدامہ سعدی سے راوی کہ امیر المومنین ابوالائمۃ الطاہرین سیّدنا علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا :
سلونی قبل ان تفقدونی فانّی لا اُسأل عن شیئ دون العرش الّا اخبرت عنہ ۱ ؎۔
مجھ سے سوال کرو قبل اس کے کہ مجھے نہ پاؤ کہ عرش کے نیچی جس کسی چیز کو مجھ سے پوچھا جائے میں بتادوں گا۔
(۱؎۔)
عرش کے نیچے کُرسی، ہفت آسمان، ہفت زمین اور آسمانوں اور زمینوں کے درمیان جو کچھ ہے تحت الثّٰری تک سب داخل ہے، مولٰی علی فرماتے ہیں کہ اس سب کو میرا علم محیط ہے ان میں جو شَے مجھ سے پوچھو میں بتادوں گا، رضی اللہ تعالٰی ۔
(۸۰) امام ابن الانباری کتاب المصاحف میں اور امام ابو عمر بن عبدالبرکتاب العلم میں ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
قال شھدت علی بن ابی طالب یخطب فقال فی خطبتہ سلونی فواﷲ لاتسألونی عن شیئ الٰی یوم القیمٰۃ الاّ حد تثکم بہ ۲ ؎۔
میں مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ، کے خطبہ میں حاضر تھا امیر المومنین نے خطبہ میں ارشاد فرمایا مجھ سے دریافت کرو خدا کی قسم قیامت تک جو چیز ہونے والی ہے مجھ سے پوچھو میں بتادوں گا۔
( ۲ ؎۔جامع بیان العلم وفضلہ باب فی ابتداء العالم جلساء بالفائدۃ و قولہ سلونی دارالفکر بیروت ۱ /۱۳۸)
امیر المومنین فرماتے ہیں : کہ میرا علم قیامت تک کی تمام کائنات کو حاوی ہے، یہ دونوں حدیثیں امامِ جلیل ، جلال الملۃ والدین سیوطی نے جامع کبیر میں ذکر فرمائیں۔
(۸۱ تا ۸۴) ابن قتیبہ پھر ابن خلکان پھر امام دمیری پھر علامہ زرقانی شرح مواہب اللدنیا میں فرماتے ہیں :
الجفر جلد کتبہ جعفر الصادق کتب فیہ لاھل البیت کل ما یحتاجون الٰی علمہ و کل مایکون الٰی یوم القیمۃ ۳ ؎۔
جفر ایک جلد ہے کہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لکھی اور اس میں اہل بیت کرام کے لیے جس چیز کے علم کی انہیں حاجت پڑے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب تحریر فرمادے۔
( ۳؎حیوۃ الحیوان الکبرٰی تحت لفظ الجفرۃ مصطفٰی البابی مصر ۱ /۲۷۹)
(وفیات الاعیان ترجمہ عبدالمومن صاحب المغرب ۴۰۸ دارالثقافت بیروت ۳ /۲۴۰)
(۸۵) علامہ سید شریف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں :
الجفر والجامعۃ کتابان لعلی رضی اللہ تعالٰی عنہ قد ذکر فیہما علی طریقۃ علم الحرو ف الحوادث التی تحدث الی انقراض العالم وکانت الائمۃ المعروفون من اولادہ یعر فونہما ویحکمون بھما وفی کتاب قبول العھدالذی کتبہ علی بن موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما الی المامون انک قد عرفت من حقوقنا ما لم یعرفہ اباؤک فقلبت منک عھدک الا ان الجفروالجامعۃ یدلان علی انہ لایتم ولمشائخ المغاربۃ نصیب من علم الحروف ینتسبون فیہ الی اھل البیت ورأ یت انا بالشام نظما اشیرفیہ بالرموز الٰی احوال ملوک مصرو سمعت انہ مستخرج من ذینک الکتابین اھ۱ " ۔
یعنی جفر و جامعہ امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی دو کتابیں ہیں بے شک امیر المومنین نے ان دونوں میں علم الحروف کی روش پر ختم دنیا تک جتنے وقائع ہونے والے ہیں سب ذکر فرمادیئے ہیں اور ان کی اولاد امجاد سےائمہ مشہورین رضی اللہ تعالٰی عنہم اُن کتابوں کے رموز پہچانتے اور ان سے احکام لگاتے تھے۔ اور مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا ابن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد و لیعہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)
اور مشائخِ مغرب اس علم سے حضہ اور اس میں اہل بیت کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اپنے انتساب کا سلسلہ رکھتے ہیں، ا ور میں نے ملک شام میں ایک نظر دیکھی جس میں شاہانِ مصر کے احوال کی طرف رمزوں میں اشارہ کیا ہے میں نے سنا کہ وہ احکام انہی دونوں کتابوں سے نکالے ہیں۔ انتہٰی
(۱ شرح مواقف النوع الثانی المقصد الثانی منشورات شریف الرضی قم ایران ۶ /۲۲)
اس علم علوی شریف مبارک کی بحث اور اس کے حکم شرعی کی جلیل تحقیق بحمد ﷲ تعالٰی فقیر کے رسالہ " مجتلی العروس و مراد النفوس۱۳۲۸ھ" میں ہے جو اس کے غیر میں نہ ملے گی۔
(۸۶) حضور پرنور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
وعزۃ ربی ان السعداء والاشقیاء لیعرضون علی عینی فی اللوح المحفوظ ۱ ؎۔
عزت الہی کی قسم بے شک سب سعید و شقی میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں میری آنکھ لوح محفوظ میں ہے۔
لولالجام الشریعۃ علٰی لسانی لا خبرتکم بما تاکلون و ماتدخرون فی بیوتکم انتم بین یدی کا لقوار یریرٰی مافی بواطنکم وظواھر کم ۲۔
اگر میری زبان پر شریعت کی روک نہ ہوتی تو میں تمہیں خبر دیتا جو کچھ تم کھاتے اور جو کچھ اپنے گھروں میں اندوختہ کرکے رکھتے ہو تم میرے سامنے شیشہ کی مانند ہو، میں تمہارا ظاہر وباطن سب دیکھ رہا ہوں۔
( ۲ ؎ بہجۃ الاسرار ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ محدثابنعمۃ ربہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۵۵)