Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
78 - 157
(۷۳ و ۷۴) امام شعرانی قدس سرہ کتاب الجواہر والدرر نیز کتاب درۃ الغواص میں سید علی خواص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ناقل :
محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فھو الاول والاخر و الظاھر والباطن و قدولج حین اسرٰی بہ عالم الاسماء الذی اولھا مرکز الارض واخرھا السماء الدنیا بجمیع احکامھا و تعلقا تھا ثم ولج البرزخ الٰی انتہائہ وھو السماء السابعۃ ثم ولج علم العرش الٰی مالا نہایۃ الیہ،  وانفتح فی برزخیتہ تصور العوالم الالٰھیۃ والکونیۃ اھ ۱؂ ملتقطاً۔
محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہی اول و آخر و ظاہر و باطن ہیں وہ شب معراج مرکز زمین سے آسمان تک تشریف لے گئے اور اس عالم کے جملہ احکام اور تعلقات جان لیے پھر آسمان سے عرش اور عرش سے لاانتہا تک اور حضور کے برزخ میں تمام عالم علوی و سفلی کی صورتیں منکشف ہوگئیں۔
 ( ۱ ؎ الجواہر والدرر   علی ہامش الابریز     مصطفٰی البابی مصر        ص ۲۱۱ تا ۲۱۳)
 (۷۵) تفسیر کبیر میں زیر آیہ کریمہ :
"وکذلک نری ابراہیم ملکوت السمٰوت والارض" ۲ ؎۔
 ( اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ ت) فرمایا :
الاطلاع علی اثار حکمۃ اﷲ تعالٰی فی کل واحد من مخلوقات ھذا العالم بحسب اجناسہا وانواعہا واصنافہا واشخاصھا و احوالھا ممالا یحصل الاللا کابرمن الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ولہذا المعنی کان رسولنا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یقول فی دعاء اللھم ارنا الاشیاء کما ھی ۳ ؂۔
اس عالم کی تمام جنسوں اور نوعوں اور صنفوں اور شخصوں اور جَرموں ہر ہر مخلوق میں حکمت الہٰیہ کے آثار پر انہیں اکابر کو اطلاع ہوتی ہے جو انبیاء ہیں علیہم الصلوۃ والسلام اسی لیے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ الہٰی! ہم کو تمام چیزیں جیسی وہ ہیں دکھادے ا ھ۔
 (۲ ؎ القرآن الکریم    ۶ /۷۵) 

( ۳ ؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)     تحت آیۃ  ۶ /۷۵     المطبعۃ البہیتہ المصریۃ مصر   ۱۳ /۴۵)
اقول : یہاں مقصود اس قدر ہے کہ ان امام اہلسنت کے نزدیک انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اس عالم کی تمام مخلوقات کے ایک ایک ذرہ کی جنس ،  نوع،  صنف،  شخص۔ جسم اور ان سب میں اﷲ کی حکمتیں بالتفصیل جانتے ہیں،  وہابیہ کے نزدیک کافر و مشرک ہونے کو یہی بہت ہے،  بلکہ ان کے نزدیک امام ممدوح کو کافر و مشرک سے بہت بڑھ کر کہنا چاہیے۔

گنگوہی صاحب نے صرف اتنی بات کو کہ دنیا میں جہاں کہیں مجلس میلاد ہو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اطلاع ہوجائے،  زمین کا علم محیط مانا اور صاف حکمِ شرک جڑ دیا کہ "شرک نہیں تو کون سا حصّہ ایمان کا ہے" ۱ ؎۔
 ( ۱ ؎ البراہین القاطعۃ   بحث علم غیب   مطبع بلا سا واقع ڈھور   ص ۵۱)
تو امام کہ صرف زمین درکنار،  زمین و آسمان و فرش و عرش و تمام عالم کے جملہ اجناس و انواع و اصناف و اشخاص و اجرام کو نہ صرف حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلکہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا بھی علم محیط مانتے ہیں گنگوہی دھرم میں ان کو تو کئی لاکھ درجے ڈبل کافر ہونا چاہیے والعیاذ باﷲ تعالٰی ورنہ اصل بات یہ ہے کہ اصالۃ علوم غیب اور ان کے عطاو نیابت سے ان کے خدام اکابر اولیائے کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو بھی ایک ایک ذرہ عالم کا تفصیلی علم عطا ہونا ہر گز ممنوع نہیں بلکہ بتصریح اولیاء واقع ہے،  جیسا کہ عنقریب آتا ہے وﷲ الحمد۔
 (۷۶) یہی مضمون شریف تفسیر نیشا پوری میں بایں عبارت ہے :
الاطلاع علٰی تفاصیل اٰثار حکمۃ اﷲ تعالٰی فی کل احد من مخلوقات ھذہ العوالم بحسب اجناسہا وانواعہا واصنافہا واشخاصہا واعوارضہا ولواحقہاکما ھی لا تحصل الا  لاکابر الانبیاء و لہذا قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ "ارنی الاشیاء" کما ھی۲ ؎۔
ان عالموں کی مخلوقات میں سے ہر ایک کے تمام آثار حکمت الہٰیہ پر انکی جنسوں ،  نوعوں،  قسموں اور فردوں ،نیز عوارض و لواحق حقیقہ پر مطلع ہونا اکابر انبیاء کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا میں عرض کیا کہ مجھے اشیاء کی حقیقتیں دکھا۔(ت)
 ( ۲ ؎ غرائب القرآن (تفسیر النیسابوری)     آیۃ ۶ /۷۵  مصطفٰی البابی مصر    ۷ /۱۴۱)
اس میں اٰثار حکمۃ اﷲ کے ساتھ تفاصیل زائد ہے۔
"ھذاالعالم"
کی جگہ ھٰذہ العوالم ہے کہ نظر تفصیلی پر زیادہ دلالت کرتا ہے اور اجناس وانواع و اصناف و اشخاص کے ساتھ عوارض ولواحق بھی مذکور ہے کہ احاطہ جملہ جواہر و اعراض میں تصریح تر ہو،  اگرچہ اجناس عالم میں عوارض بھی داخل تھے پھر ان کے ساتھ کما ھی کا لفظ اور زیادہ ہے کہ صحت علم غیر مشوب بالخطاء والو ھم ( غلطی اور وہم کی آلائش سے پاک۔ت)کی تاکید ہو۔
فجزاھم اﷲ تعالٰی خیر جزا آمین۔
 (۷۷) نیشا پوری میں زیر آیۃ کریمہ
"وجئنا بک علٰی ھٰؤلاء شھیدا" ۱؂
 ( اور ا ے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں گے۔ت) فرمایا :
لانّ روحہ،  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شاہد علٰی جمیع الارواح والقلوب و النفوس لقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اول ما خلق اﷲ روحی۲ ؎۔
یہ جور ب عزوجل نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہم تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے"  اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روحِ انور تمام جہان میں ہر ایک کی روح،  ہر ایک کے دل،  ہر ایک کے دل،  ہر ایک کے نفس کا مشاہدہ فرماتی ہے۔ ( کوئی روح،  کوئی دل ،  کوئی نفس ان کی نظرِ کرم سے اوجھل نہیں جب تو سب پر گواہ بنا کر لائے جائیں گے کہ شاہد کو مشاہدہ ضرور ہے) اس لیے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے اﷲ تعالٰی نے میری روح کریم کو پیدا کیا( تو عالم میں جو کچھ ہوا حضور کے سامنے ہی ہوا)
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم     ۴ /۴۱)    (۲؎غرائب القرآن)
 (۸۷) حافظ الحدیث سیدی احمد سلجماسی قدس سرہ،  اپنے شیخ کریم حضرت سیدی عبدالعزیز بن مسعود  دباغ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کتاب مستطاب ابریز میں روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے آیہ کریمہ
"و علّم اٰد م الاسماء کلھا" ۳ ؎۔
 ( اور اﷲ تعالٰی نےآدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھائے۔ ت)کے متعلق فرمایا :
المراد بالاسماء الاسماء العالیۃ لا الاسماء النازلۃ فان کل مخلوق لہ اسم عال واسم نازل ،  فالاسم النازل ھو الذی یشعر بالمسمّٰی فی الجملۃ والاسم العالی ھوالذی یشعر باصل المسّٰمی ومن ایّ شیئ ھو و بفائدۃ المسمّٰی ولای شیئ یصلح الفاس من سائر مایستعمل فیہ وکیفیۃ صنعۃ الحداد لہ فیعلم من مجرد سماع لفظہ وھذہ العلوم والمعارف المتعلقۃ بالفاس وھکذا کل مخلوق ، والمراد بقولہ تعالٰی"  الاسماء کلہا "  الاسماء التی یطیقہا ادم ویحتاج الیہا سائر البشر اولھم بھا تعلق وھی من کل مخلوق تحت العرش الٰی ماتحت الارض فیدخل فی ذلک الجنۃ والنار والسمٰوٰت السبع وما فیھن وما بینھن وما بین السماء والارض و ما فی الارض من البراری والقفار والا ودیۃ والبحار والاشجار فکل مخلوق فی ذلک ناطق اوجامد اّلا و آدم یعرف من اسمہ تلک الامور الثٰلثۃ اصلہ وفائدتہ وکیفیۃ ترتیبہ ووضع شکلہ فیعلم من اسم الجنۃ من این خلقت ولایّ شیئ خلقت و ترتیب مراتبہاد وجمیع ما فیہا من الحور وعدد من یسکنہا بعد البعث ویعلم من لفظ النار مثل ذلٰک ویعلم من لفظ السماء مثل ذلک ولایّ شیئ کانت الاولٰی فی محلہا والثانیۃ وھکذا فی کل سماء ویعلم من لفظ الملئکۃ من ای شیئ خلقوا ولا یّ شیئ خلقوا وکیفیۃ خلقھم وترتیب مراتبھم وبایّ شیئ استحق ھذا الملک ھذا المقام واستحق غیرہ مقاماً اخر وھکذا فی کل ملک فی العرش الٰی ماتحت العرض فھٰذہ علوم ادم واولادہ من الانبیاء  علیہم الصلوۃ والسلام والاولیاء الکمل رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ،  و انما خص اٰدم بالذکر لانہ اوّل من علم ھٰذہ العلوم و من علمہا من اولادہ فانما علمہا بعدہ ولیس المرادانہ لایعلمہا الا اٰدم و انما خصصنا ھا بما یحتاج الیہ و ذریتہ و بما یحتاج الیہ و ذریتہ و بما یطیقونہ لئلا یلزم من عدم التخصیص الا حاطۃ بمعلومات اﷲ تعالٰی وانما قال تنزلت اشارۃ الی الفرق بین علم النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بھذہ العلوم و بین علم اٰدم وغیرہ من الانبیاء علیہم الصلوۃ بہا فانھم اذا توجھوا الیہا یحصل لھم شبہ مقام عن مشاھدۃ الحق سبحانہ وتعالٰی واذاتوجھوا نحو مشاھدۃ الحق سبحانہ وتعالٰی حصل لھم شبہ النوم عن ھذہ العلوم،  ونبینا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لقوتہ لایشغلہ ھذا عن ھذا فھواذا توجہ نحوالحق سبحانہ و تعالٰی حصلت لہ المشاھدۃ التامۃ وحصل لہ مع ذلک مشاھدۃ ھذہ العلوم وغیرھما مما لایطلق واذاتوجہ نحوھذہ العلوم حصلت لہ مع حصول ھذہ المشاھدۃ فی الحق سبحٰنہ و تعالٰی فلا تحجبہ مشاھدۃ الحق عن مشاھدۃ الخلق ولا مشاھدۃ الخلق عن مشاھدۃ الحق سبحٰنہ وتعالٰی۱؂ " ۔
اس کلام نورانی و اعلام ربانی ایمان افروز ،  کفران سوز کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر چیز کے دو نام ہیں علوی و سفلی،  سفلی نام تو صرف مسمی سے ایک گونہ آگاہی دیتا ہے۔ اور علوی نام سنتے ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ مسمّٰی کی حقیقت و ماہیت کیا ہے اور کیونکر پیدا ہوا اور کاہے سے بنا اور کس لیے بنا، آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام اشیاء کے یہ علوی نام تعلیم فرمائے گئے جس سے انہوں نے حسبِ طاقت و حاجت ِ بشری تمام اشیاء جان لیں اور یہ زیر عرش سے زیر فرش تک کی تمام چیزیں ہیں جس میں جنت و دوزخ و ہفت آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے اور جنگل اور صحرا اور نالے اور دریا اور درخت وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے غرض یہ تمام مخلوقات ناطق و غیر ناطلق ان کے صرف نام سننے سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو معلوم ہوگیا کہ عرش سے فرش تک ہر شے کی حقیقت یہ ہے اور فائدہ یہ ہے اور اس ترتیب سے اس شکل پر ہے۔ جنت کا نام سنتے ہی انہوں نے جان لیا کہ کہاں سے بنی اور کس لیے بنی اور اس کے مربتوں کی ترتیب کیا ہے اور جس قدر اس میں حوریں ہیں اور قیامت کے بعد اتنے لوگ اس میں آجائیں گے اسی طرح نار ( دوزخ ) یوں ہی آسمان،  اور یہ کہ پہلا آسمان وہاں کیوں ہوا اور دوسرا دوسری جگہ کیوں ہوا،  اسی طرح ملائکہ کا لفظ سننے سے انہوں نے جان لیا کہ کاہے سے بنے اور کیونکر بنے اور ان کے مرتبوں کی ترتیب کیا ہے اور کس لیے یہ فرشتہ اس مقام کا مستحق ہوا اور دسرا دوسرے کا۔ اسی طرح عرش سے زیرِ زمین تک ہر فرشتے کا حال،  اوریہ تمام علوم صرف آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کو نہیں بلکہ ہر نبی اور ہر ولی کامل کو عطا ہوئے ہیں،  علیہم الصلوۃ والسلام ،  آدم کا نام خاص اس لیے لیا کہ انکو یہ علوم پہلے ملے،  پھر فرمایا کہ ہم نے بقدر طاقت وحاجت کی قید لگا کر صرف عرش تا فرش کی تمام اشیاء کا احاطہ اس لیے رکھا کہ جملہ معلوماتِ الہٰیہ کا احاطہ نہ لازم آئے اور ان علوم میں ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں یہ فرق ہے کہ اور جب ان علوم کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ان کو مشائدہ حضرت عزت جلالہ، سے ایک گونہ غفلت سی ہوجاتی ہے اور جب مشاہدہ حق کی طرف توجہ فرمائیں تو ان علوم کی طرف سے ایک نیند سی آجاتی ہے مگر ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ان کی کمال قوت کے سبب ایک علم دوسرے علم سے مشغول نہیں کرتا،  وہ عین مشاہدہ حق کے وقت ان تمام علوم اور ان کے سوا اور علموں کو جانتے ہیں جن کی طاقت کسی میں نہیں اور ان علوم کی طرف عین توجہ میں مشاہدہ حق فرماتے ہیں اور ان کو نہ مشاہدہ حق ،  مشاہدہ خلق سے پردہ ہو نہ مشاہدہ خلق مشاہدہ حق سے ،  پاکی و بلندی اسے جس نے ان کو یہ علوم اور یہ قوتیں بخشیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم     ۲ /۳۱)

( ۱ ؎ الابریز   الباب السابع    دار الکتب العلمیہ بیروت    ص ۳۸۲ و ۳۸۳)
Flag Counter