Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
77 - 157
 (۶۱) نیز مواہب شریف میں ہے :
لاشک ان اﷲ تعالٰی قد اطلعہ علٰی ازید من ذٰلک والقی علیہ علوم الاولین والاخرین  ۳ ؎۔
کچھ شک نہیں کہ بلاشبہ اﷲ تعالٰی نے اس سے بھی زائد حضور کو علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور پر القا فرمایا۔
 ( ۳ ؎ المواھب اللدنیۃ   ا لمقصد الثامن  الفصل الثالث      المکتب الاسلامی بیروت  ۳/ ۵۶۰)
 (۶۲ تا ۶۴) امام قاضی پھر علامہ قاری پھر علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر امام سیوطی ہیں لکھتے ہیں :
النفوس القدسیۃ اذا تجردت عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الاعلٰی ولم یبق لھا حجاب فتری و تسمع الکل کالمشاھد ۱ ؎۔
پاک جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں، ملاء اعلٰی سے مل جاتی ہیں اور ان کے لیے کچھ پردہ نہیں رہتا تو سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے یہاں موجود ہیں۔
 ( ۱ ؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث حیثما کنتم فصلوا علٰی الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض   ۱ /۵۰۲)
 (۶۵) ملا علی قاری شریف شفاء شریف میں فرماتے ہیں  :
ان روح النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام  ۲ ؎۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روحِ کریم تمام جہان میں ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔
( ۲ ؎ شرح الشفاء للملاّ علی قاری فصل فی المواطن التی تستحب فیہا الصلوۃ والسلام دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۱۱۸)
 (۶۶) مدارج النبوۃ شریف میں ہے :
ہر چہ در دنیا است از زمانِ آدم تا اوان نفخہ اولٰی بروے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم منکشف ساختند تاہمہ احوال او را از اول تا آخر معلوم کرد ویارانِ خود رانیز از بعضے ازاں احوال خبر داد  ۳ ؎۔
جو کچھ دنیا میں ہے آدمی علیہ السلام کے زمانے سے نفخہ اُولٰی تک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر منکشف کردیا ہے یہاں تک کہ تمام احوال آپ کو اول سے آخر تک معلوم ہوگئے ان میں سے کچھ اپنے دوستوں کوبھی بتادیئے۔
 ( ۳ ؎ مدارج النبوۃ      باب پنجم،  وصل خصائص آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر   ۱ /۱۴۴)
 (۶۷) نیز فرماتے ہیں قدس سرہ  :
وھو بالکل شیئ علیم و وے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دانا ست برہمہ چیز از شیونات ذات الہٰی و احکام صفات حق واسماء وافعال وآثار بجمیع علوم ظاہر و باطن اول و آخر احاطہ نمودہ و مصداق "  فوق کل ذی علم علیم"  شدہ،  علیہ من الصلوات افضلہا و من التحیات اتمّہا و اکملہا ۴ ؎۔
وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے"  اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تمام چیزوں کو جانتے ہیں،  ا ﷲ کی شانوں اور اس کے احکام اور صفات کے احکام اور اسماء و افعال و آثار ہیں،  اور تمام علوم ظاہر و باطن،  اول و آخر کا احاطہ کرلیا اور " فوق کل ذی علم علیم "  کا مصداق ہوگئے،  ان پر اﷲ کی بہترین رحمتیں ہوں اور اتم و اکمل تحیات ہوں۔
 ( ۴ ؎ مدارج النبوۃ     مقدمۃ الکتاب    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ /۲و۳)
(۶۸) شاہ ولی اﷲ صاحب فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں :
افاض علیّ من جنابہ المقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیفیۃ ترقی العبد من حیّزہ الٰی حیّز القدس فیتجلّی لہ جینئذٍ کل شیئ کما اخبرعن ھذاا لمشھد فی قصۃ المعراج المنامی ۱ ؎۔
مجھ پر رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ سے فائض ہوا کہ بندہ کیونکر اپنی جگہ سے مقامِ مقدس تک ترقی کرتا ہے کہ ہر شے اس پر روشن ہوجاتی ہے جیسا کہ قصّہ معراج کے واقعہ میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس مقام سے خبر دی۔
 (۱ ؎فیوض الحرمین مشہد  اﷲ تعالٰی مخلوق کی طرف کتاب نازل کرنے کے وقت کہا کرتا ہے ،محمد سعید اینڈ سز کراچی ص۱۶۹)
 (۶۹) نیز اسی میں ہے :
العارف ینجذب الٰی حیزّ الحق فیصی عبداﷲ فتجلّٰی لہ کل شیئ ۲ ؎۔
عارف مقامِ حق تک کھنچ کر بارگاہِ قرب میں ہوتا ہے تو ہر چیز اس پر روشن ہوجاتی ہے۔
 (۲ ؎۔ فیوض الحرمین مشہد    قَدَم صدقِ عندربہم کی تفسیر     محمد سعید اینڈ سنز کراچی  ص ۱۷۵)
 (۷۰) اُسی میں ولی فرد کے خصائص سے لکھا ہے کہ وہ تمام نشأۃ عنصری جسمانی پر مستولی ہوتا ہے،  پھر لکھا کہ یہ استیلاء انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں تو ظاہر ہے۔
واما فی غیر ھم فمنا صب وراثۃ الانبیاء کالمجددیۃ و القطبیعۃ وظہور اٰثار ھا واحکامہا والبلوغ الٰی حقیقۃ کل علم وحال ۳ ؎۔
رہے غیر انبیاء ،  ان میں وراثت کے منصب ہیں جیسے مجدد و قطب ہونا۔ ان کے آثار و احکام کا ظاہر ہونا اور علم و حال کی حقیقت کو پہنچ جانا۔
 ( ۳ ؎۔فیوض الحرمین مشہد  مشہد آخر یعنی دقائق اور ان کے اثرات محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص ۲۸۰ و ۲۸۱)
(۷۱) اسی میں تقریر مذکور و تفصیل دقائق فرد کے بعد ہے :
بعد ذٰلک کلہ جبلت نفسہ نفساً قدسیۃ لایشغلہا شان عن شان ولایاتی علیہ حال من الاحوال الٰی التجرد الی النطقۃ الکلیۃ الا وھو خبیر بھا الاٰن وانما الاٰتی تفصیل لاجمال۱؎۔
اور اس سب کے بعد بات یہ ہے کہ مرد کا نفس اصل خلقت میں نفس قدسی بنایا جاتا ہے اسے ایک بات دوسری سے مشغول نہیں کرتی( یعنی یہ نہیں ہوتا کہ ایک دھیان میں اور طرف کا خیال نہ رہے بلکہ ہر جانب اس کی نگاہ ایک سی رہتی ہے) اور اب سے لے کر اس وقت تک کہ وہ سب سے جدا ہو کر مرکز عالم سے جا ملے یعنی وقتِ وفات تک جو کچھ حال اس پر آنے والا ہے اس سب کی اس وقت اسے خبر ہے،  وہ جو آئے گا اجمال کی تفصیل ہی ہوگا۔
 ( ۱ ؎ فیوض الحرمین      مشہد آخر ا یعنی دقائق اور ان کے اثرات      محمد سعید اینڈ سنز کراچی     ۸۶  ۔ ۲۸۵)
(۷۲) امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں :
ھذا مع انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان لایکتب ولکنہ اوتی علم کل شیئ حتی قدوردت اٰثار بمعرفتہ حروف الخط وحسن تصویرھا کقولہ لا تمدوا بسم اﷲ الرحمن الرحیم رواہ ابن شعبان من طریق ابن عباس وقولہ الحدیث الاخر الذی روی عن معٰویۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ انہ کان یکتب بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال لہ الق الدواۃ و حرّف القلم واقم الباء وفرق السین ولا تعور المیم و حسن اﷲ و مدّ الرحمن وجود الرحیم ۲ ؎۔
یعنی حالانکہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لکھتے نہ تھے مگر حضور کو ہر چیز کا علم عطا ہوا تھا یہاں تک کہ بے شک حدیثیں آتی ہیں کہ حضور کتابت کے حروف پہچانتے تھے اور یہ کہ کس طرح لکھے جائیں تو خوبصورت ہوں گے،  جیسے ایک حدیث ابن شعبان نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا "  بسم اﷲ کشش سے نہ لکھو ( سین میں دندانے ہوں نِری کشش نہ ہو) دوسری حدیث (مسند الفردوس) میں امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہوئی کہ یہ حضور کے سامنے لکھ رہے تھے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دوات میں صوف ڈالو اور قلم پر ترچھا قط دو اور بسم اﷲ کی ب کھڑی لکھو اور اس کے دندانے جدا رکھو اور میم اندھا نہ کردو( اس کے چشمہ کی سفیدی کھلی رہے) اور لفظ اﷲ خوبصورت لکھو اور لفظ رحمن میں کشش ہو ( رحمن یا رحمن یا رحمن یا رحمن) اور لفظ رحیم اچھا لکھو۔
 ( ۲ ؎ الشفاء بحقوق المصطفٰی فصل ومن معجزاتہ الباہرۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ     ۱ /۲۹۸ و ۲۹۹)
Flag Counter