Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
76 - 157
امر پنجم

علمِ غیب کی اختلافی حدود اور مسلکِ عرفاء
فضلِ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے منکروں کو جہنم جانے دیجئے۔ تتمہ کلام استماع فرمائیے،  ان تمام اجماعات کے بعد ہمارے علماء میں اختلاف ہوا کہ بے شمار علوم غیب جو مولٰی عزوجل نے اپنے محبوب اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو عطا فرمائے آیا وہ روزِ اوّل سے یومِ آخر تک تمام کائنات کو شامل ہیں جیسا کہ عموم آیات و احادیث کا مفاد ہے یا ان میں تخصیص ہے۔
بہت اہلِ ظاہر جناب خصوص گئے ہیں،  کسی نے کہا متشابہات کا ،  کسی نے کہا خمس کا،  کسی نے کہا ساعت کا،  اور عام علماء باطن اور ان کے اتباع سے بکثرت علماء ظاہر نے آیات و احادیث کو ان کے عموم پر رکھا ماکان ومایکون بمعنی مذکور میں ازانجا کہ غایت میں دخول و خروج دونوں محتمل ہیں،  ساعت داخل ہو یا نہیں بہرحال یہ مجموعہ بھی علومِ الہٰیہ سے ایک بعض خفیف بلکہ انباء المصطفٰی حاضر ہے۔
میں نے قصیدہ بردہ شریف اور اس کی شرح ملا علی قاری سے ثابت کیا ہے کہ علم الہٰی تو علم الہٰی جو غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہے،  یہ مجموعہ ماکان کا علمِ علوم محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سمندر سے ایک لہر ہے،  پھر علمِ الہٰی غیر متناہی کے آگے اس کی کیا گنتی،  اﷲ کی قدر نہ جاننے والے اسی کو معاذ اﷲ علمِ الہٰی سے مساوات ٹھہراتے ہیں،
وما قدروا اﷲ حق قدرہ ۱ ؎۔
 (اﷲ کی ویسی قدر نہ کی جیسی قدر کرنے کا حق ہے۔ت)
 ( ۱؂ القرآن الکریم    ۳۱/ ۳۴)
اور واقعی جب ان کے امام الطائفہ کے نزدیک ایک پیڑ کے پتے گن دینے پر خدائی آگئی تو ماکان ومایکون تو بڑی چیز ہے۔ خیر انہیں جانے دیجئے یہ خاص مسئلہ جس طرح ہمارے علماء اہلسنت میں دائر ہے مسائل خلافیہ اشاعرہ وماتریدیہ کے مثل ہے کہ اصلاً محلِ لوم نہیں۔
ہاں ہمارا مختار قولِ اخیر ہے جو عام عرفائے کرام و بکثرت اعلام کا مسلک ہے،  اس بارے میں بعض آیات و احادیث وا قوالِائمہ حضرات کو فقیر کے رسالہ انباء المصطفٰی میں ملیں گے۔ اور
اللؤلؤالمکنون فی علم البشیر وماکان ومایکون
وغیرہ رسائل فقیر میں بحمد اﷲ تعالٰی کثیر ووافر ہیں۔ اور اقوال اولیائے کرام و علمائے عظام کی کثرت تو اس درجہ ہے کہ ان کے شمار کو ایک دفتر عظیم درکار ،  یہاں بطورِ نمونہ صرف بعض اشاراتِائمہ پر اقتصار،
  وما توفیقی الا با ﷲ العزیز الغفار،
حدیث صحیح جامع ترمذی جس میں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
"  تجلّٰی کل شیئ وعرفتُ "  ۱ ؎۔
ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی ۔
 ( ۱ ؎ جامع سنن الترمذی     کتاب التفسیر من سورۃ ص حدیث ۳۲۴۶    دارالفکر بیروت      ۵ /۱۶۰)
اور فرمایا :
علمت ما فی السمٰواتِ وما فی الارض  ۲ ؎۔
میں  نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں  ہے۔
( ۲ ؎ جامع سنن الترمذی     کتاب التفسیر من سورۃ ص حدیث ۳۲۴۴     دارالفکر بیروت     ۵ /۱۵۹)
 (۵۱) شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
دانستم ہر چہ در آسما نہا و ہر چہ در زمینہا بود عبارت ست از حصول تمامہ علوم جزئی و کُلی واحاطہ آں۳ ؎۔
"میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں تھا"  اس حدیث میں تمام علوم جزی و کلی کے حاصل ہونے اور ان کے احاطہ کرنے کا بیان ہے۔(ت)
 ( ۳ ؎ اشعۃ اللمعات   کتاب الصلوۃ   باب المساجد  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ /۳۳۳)
(۵۲) امام محمد بوصیری قصیدہ بردہ شریف میں عرض کرتے ہیں۔ع
فان من جودک الدنیا وضرتھا 		ومن علومک علم اللوح والقلم۴ ؎۔
یارسول اﷲ ! دنیا و آخرت دونوں حضور کی بخشش سے ایک حصہ ہیں اور لوح و قلم کا علم (جس میں تمام ماکان و مایکون ہے) حضور کے علوم سے ایک ٹکڑا ہے۔
 ( ۴ ؎ مجموع المتون  متن قصیدۃ البردۃ   الشئون الدینیۃ دولۃ قطر ص ۱۰)
 (۵۳) علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
کون علمھما من علومہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات و حقائق و دقائق وعوارف ومعارف تتعلق بالذات والصفات وعلمھما یکون سطرامن سطور علمہ ونھراً من بحور علمہ ثم مع ھذا ھو من برکۃ وجودہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱ ؎۔
لوح و قلم کا علم علومِ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک ٹکڑا اس لیے ہے کہ حضور کے علم متعدد انواع ہیں کلیات،  جزئیات،  حقائق دقائق،  عوارف اور معارف کہ ذاتِ و صفاتِ الہٰی سے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم تو حضور کے مکتوب علم سے ایک سطر اور اس کے سمندروں سے ایک نہر ہے پھر بایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت و جود سے تو ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
 ( ۱ ؎ الزبدۃ العمدۃ فی شرح البردۃ    ناشر   جمعیۃ علماء سکندریہ خیر پور سندھ   ص ۱۱۷)
 (۵۴) ام القرٰی شریف میں ہے :
وسع العٰلمین علماً و حلماً  ۲ ؎۔
حضور کا علم و حلم تمام جہان کو محیط ہے۔
 (۲؎مجموع المتون   متن قصیدۃ الہمزیہ فی مدح خیر البریۃ الشؤن الدینیۃ دولتہ قطر     ص۱۸)
 (۵۵) امام ابن حجر مکی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
لان اﷲ تعالٰی اطلعہ علی العالم فعلم علم الاولین والاخرین ماکان ومایکون۳ ؎۔
اس لیے کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کو تمام عالم پر اطلاع دی،  تو سب اولین وآخرین کا علم حضور کو ملا جو ہو گزرا اور جو ہونے والا ہے سب جان لیا۔
( ۳ ؎ افضل القرا لقراء ام القرٰی )
 (۵۶ و ۵۷) نسیم الریاض میں ہے :
ذکر العراقی فی شرح المھذب انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرضت علیہ  الخلائق من لدن اٰدم علیہ الصلوۃ والسلام الٰی قیام الساعۃ فعرفھم کلّھم کما علم اٰدم الاسماء۴ ؎۔
امام عراقی شرح مہذب میں فرماتی ہیں کہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر قیامت تک کی تمام مخلوقات الہٰی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  پر عرض کی گئیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب کو پہچان لیا جس طرح آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام نام تعلیم ہوئے تھے۔
 ( ۴ ؎ نسیم الریاض الباب الثالث فصل فیما وردمن ذکر مکانتہ مرکز اہلسنت برکاتِ رضا گجرات الہند ۲ /۲۰۸)
(۵۸) اسی لیے امام بوصیری مدحیہ ہمزیہ میں عرض کرتے ہیں : ع
لک ذات العلوم من عالم الغیب 	ومنہا لاٰدم الاسماء ۱ ؎۔
عالم غیب سے حضور کے لیے علوم کی ذات ہے اور آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے نام۔
 ( ۱ ؎ مجموع المتون  متن قصیدۃ الہمزیہ الشئون الدینیۃ دولۃ قطر   ص۱۱)
(۵۹ و ۶۰)امام ابن حاج مکی مدخل اور امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں :
  قد قال علماؤ نار حمھم اﷲ تعالٰی ان الزائر یشعر نفسہ بانہ واقف بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کما ھو فی حیاتہ اذلافرق بین موتہ وحیاتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعنی فی مشاھد تہ لا متہ و معرفتہ باحوالھم ونیّا تھم وعزائمھم وخواطر ھم وذٰلک عندہ،  جلی لا خفاء فیہ  ۲ ؎۔
بے شک ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ زائر اپنے نفس کو آگاہ کردے کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے جیسا کہ حضور کی حیاتِ ظاہر میں،  اس لیے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں،  نیتوں ،  ارادوں اور دل کے خطروں کو پہچانتے ہیں،  اور یہ سب حضور پر روشن ہے جس میں اصلاً پوشیدگی نہیں۔
 ( ۲ ؎ المدخل لابن الحاج فصل فی الکلام علی زیارۃ سید المرسلین دار الکتاب العربی بیروت    ۱/ ۲۵۲)

( المواھب اللدنیۃ   ا لمقصد العاشر    الفصل الثانی      المکتب الاسلامی بیروت   ۴/ ۵۸۰ )
Flag Counter