Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
75 - 157
(۴۹) تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے :
  وعندہ مفاتیح الغیب وجہ اختصا صھا بہ تعالٰی انہ لایعلمھا کما ھی ابتداءً الاّ ھو  ۳ ؎۔
یہ جو آیت میں فرمایا کہ غیب کی کنجیاں اﷲ ہی کے پاس ہیں اُس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا اس خصوصیت کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء ً بغیر بتائے ان کی حقیقت دوسرے پر نہیں کھلتی۔
 ( ۳ ؎ عنایۃ القاضی علٰی تفسیر البیضاوی         تحت آیتہ ۶ /۵۸    داراصادر بیروت   ۴ /۷۳)
(۵۰) تفسیر علامہ نیشاپوری میں ہے :
( قل لا اقول لکم ) لم یقل لیس عندی خزائن ا ﷲ لیعلم ان خزائن اﷲ وھی العلم بحقائق الاشیاء وما ھیاتھا عندہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باستجابۃ دعاء ہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی قولہ ارنا الا شیاء کما ھی ولکنہ یکلم الناس علٰی قدر عقولھم (ولا اعلم الغیب) ای لا اقول لکم ھذا مع انہ قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علمت ماکان وما سیکون ا ھ مختصراً  ۱ ؎۔
یعنی ارشاد ہوا کہ اے نبی ! فرمادو کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالٰی کے خزانے ہیں،  یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے خزانے میرے پاس نہیں۔ بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس ہیں،  تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے خزانے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس ہیں مگر حضور لوگوں سے انکی سمجھ کے قابل باتیں فرماتے ہیں،  اور وہ خزانے کیا ہیں،  تمام اشیاء کی حقیقت و ماہیت کا علم حضور نے اسی کے ملنے کی دعا کی اور اللہ عزوجل نے قبول فرمائی پھر فرمایا : میں نہیں جانتا یعنی تم سے نہیں کہتا کہ مجھے غیب کا علم ہے،  ورنہ حضور تو خود فرماتےہیں مجھے ماکان و مایکون کا علم ملا یعنی جو کچھ ہو گزرا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے انتہی۔
 ( ۱ ؎غرائب القرآن     (تفسیر النیسابوری)   تحت آلایۃ  ۶ /۵۰    مصطفٰی البابی مصر    ۷ /۱۱۲)
الحمدﷲ اس آیہ ئکریمہ کی " فرمادو میں غیب نہیں جانتا"  ایک تفسیر وہ تھی جو تفسیر کبیر سے گزری کہ احاطہ جمیع غیوب کی نفی ہے،  نہ کہ غیب کا علم ہی نہیں۔

دوسری وہ تھی جو بہت کتب سے گزری کہ بے خدا کے بتائے جاننے کی نفی ہے نہ یہ کہ بتائے سے بھی مجھے علم غیب نہیں۔

اب بحمدﷲ تعالٰی سب سے لطیف تر یہ تیسری تفسیر ہے کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ مجھے علم غیب ہے،  اس لیے کہ اے کافرو ! تم ان باتوں کے اہل نہیں ہو ورنہ واقع میں مجھے ماکان ومایکون کا علم ملا ہے۔
والحمدﷲ رب العلمین۔
امر چہارم 

علمِ غیب سے متعلق اجماعی مسائل
یہاں تک جو کچھ معروض ہوا جمہورائمہ دین کا متفق علیہ ہے۔

(۱) بلاشبہ غیر خدا کے لیے ایک ذرہ کا علم ذاتی نہیں اس قدر خود ضروریات دین سے اور منکر کافر۔

(۲) بلاشبہ غیر خدا کا علم معلومات الہیہ کو حاوی نہیں ہوسکتا،  مساوی درکنار تمام اولین و آخرین و انبیاء و مرسلین و ملائکہ و مقربین سب کے علوم مل کر علوم الہیہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ دونوں متناہی ہیں،  اور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہے بخلاف علوم الہیہ کو غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں۔ اور مخلوق کے علوم اگر چہ عرش و فرش شرق و غرب و جملہ کائنات از روزِ اول تا روزآخر کو محیط ہوجائیں آخر متناہی ہیں کہ عرش و فرش دو حدیں ہیں۔ روزِ اول و روزِ آخر دو حدیں ہیں۔ اور جو کچھ دو حدوں کے اندر ہو سب متناہی ہے۔
بالفعل غیر متناہی کا علم تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جملہ علوم خلق کو علم الہٰی سے اصلاً نسبت ہونیہی محال قطعی ہے نہ کہ معاذ اﷲ تو ہم مساوات۔ 

(۳) یوںہی اس پر اجماع ہے کہ اﷲ عزوجل کے دیئے سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلا م کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے یہ بھی ضروریاتِ دین سے ہے جو اس کا منکر ہوکافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔
 (۴) اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حصہ تمام انبیاء و تمام جہان سے اتم و اعظم ہے،  اﷲ عزوجل کی عطا سے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اﷲ عزوجل ہی جانتا ہے ،  مسلمانوں کایہاں تک اجماع تھا مگر وہابیہ کو محمد رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کی عظمت کس دل سے گوارا ہو۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ۔

(۱) حضور کو دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہیں ۔ ۱ ؎۔
 ( ۱ ؎ البراہین القاطعۃ   بحث علم غیب    مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱)
 (۲) وہ اور تو اور اپنے خاتمے کا بھی نہ جانتے تھے۲؂ ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ:

(۳) خدا کے بتائے سے بھی اگر بعض مغیبات کا علم ان کے لیے مانے جب بھی شرک ہے۔ ۳ ؎۔
 ( ۲ ؎ البراہین القاطعۃ   بحث علم غیب     مطبع بلاساواقع ڈھور    ص ۵۱)

( ۳ ؎ البراہین القاطعۃ   بحث علم غیب    مطبع بلاساواقع ڈھور     ص ۵۱)
 (۴) اس پر قہر یہ کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تو دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہ مانیں اور ابلیس لعین کے لیے تمام زمین کا علم محیط حاصل جانیں۔ ۴ ؎۔
 ( ۴ ؎ البراہین القاطعۃ    بحث علم غیب    مطبع بلاساواقع ڈھور            ص ۵۱)
 (۵) اس پر عذر کہ ابلیس کی وسعتِ علم نص سے ثابت ہے،  فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے۔ ۵؎۔
 ( ۵ ؎ البراہین القاطعۃ    بحث علم غیب    مطبع بلاساواقع ڈھور  ص ۵۱)
 (۶) پھر ستم،  قہر یہ کہ جو کچھ ابلیس کے لیے خود ثابت مانا محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے اس کے ماننے پر جھٹ حکمِ شرک جَڑ دیا یعنی خاص صفت ابلیس کے لیے تو ثابت ہے وہ تو خدا کا شریک ہے،  مگر حضور کے لیے ثابت کرو تو مشرک ہو۔

(۷) اس پر بعض غالی اور بڑھے اور صاف کہہ دیا کہ جیسا علم غیب محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ہے ایسا تو ہر پاگل ہر چوپائے کو ہوتا ہے۔ ۱ ؎۔
"  انّا اﷲ وانّا الیہ راجعون "
 ( بے شک ہم اﷲ کے مال ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف پھرنا ہے۔ت)
( ۱ ؎ تغییر العنوان مع حفظ الایمان     دریپہ کلاں دہلی بھارت،  ص ۱۷)
اصل بحث ان کلماتِ ملعونہ کی ہے،  خبثاء کا واکاٹ کہ ( پینترا بدل کر) اس سے بچتے اور علم کے خاص وغیرخاص ہونے کی بحث بے علاقہ لے دوڑتے ہیں کہ علمِ غیب کو آیات و احادیث نے خاص بخدا بتایا۔ فقہاء نے دوسرے کے لیے اس کے اثبات کو کفر کہا ہے،  اس کا جواب تو اوپر معروض ہوچکا کہ خدا کے ساتھ خاص وہی علم ذاتی و محیط حقیقی ہے غیر کے لیے اسی کے اثبات کو فقہاء کفر کہتے ہیں۔
علمِ عطائی غیر محیط حقیقی خدا کے لیے ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ معاذ اﷲ اس کی صفت خاصہ ہو یہ علم ہم نے نہ غیر خدا کے لیے مانا، نہ  وہ نصوص وا قوال ہم پر وارد ۔ ، مگر ان حضرات سے پوچھیے کہ آیات و احادیث حصر و اقوال فقہاء علم عطائی غیر محیط حقیقی کو بھی شامل ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو تمہارا کتنا جنون ہے کہ انہیں ہم پر پیش کرتے ہو ان کو ہمارے دعوے سے کیا منافات ہوئی اور اگر اسے بھی شامل ہیں تو اب بتائیے کہ گنگوہی صاحب آپ ابلیس کے لیے جو علمِ محیط زمین او ر تھانوی صاحب آپ ہر پاگل ہر چوپائے کے لیے جو علمِ غیب کے قائل ہیں آیا ان کے لیے علم ذاتی حقیقی مانتے ہیں یا اس کاغیر،  برتقدیر اول قطعاً کافر ہو،  برتقدیر ثانی بھی خود تمہارے ہی منہ سے وہ آیات وہ احادیث و اقوالِ فقہاء تم پر وارد۔ اور تم اپنے ہی پیش کردہ دلائل سے خود کافر و مرتد۔
اب کہیے ،  مفر کدھر ؟

ہاں مفرو ہی ہے کہ ابلیس اور پاگل اور چوپائے سب توعلم غیب رکھتے ہیں،  آیاتِ و احادیث و اقوالِ فقہاء ان کے لیے نہیں،  وہ تو صرف محمد رسول کی نفِی علم کے لیے ہیں۔
الالعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین
(خبردار ! ظالموں پر اﷲ تعالٰی کی لعنت ہے۔ت)
Flag Counter