Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
74 - 157
امر سوم

ذاتی و عطائی کی جانب علم کا انقسام اور علماء کی تصریحات
مخالفین کو تو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل کریمہ کی دشمنی نے اندھا بہرا کردیا،  انہیں حق نہیں سوجھتا مگر تھوڑی سی عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ یہاں کچھ بھی دشواری نہیں۔

علم یقیناً اُن صفات میں سے ہے کہ غیر خدا کو بعطائے خدا مل سکتا ہے،  توذاتی وعطائی کی طرف اس کا انقسام یقینی،  یونہی محیط وغیر محیط کی تقسیم بدیہی،  ان میں اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہونے کے قابل صرف ہر تقسیم کی قسم اول ہے یعنی علم ذاتی وعلم محیط حقیقی۔
تو آیاتِ واحادیث واقوال علماء جن میں دوسرے کے لیے اثباتِ علم غیب سے انکارہے ان میں قطعاً یہی قسمیں مراد ہیں۔ فقہا کہ حکمِ تکفیر کرتے ہیں انہیں قسموں پر حکم لگاتے ہیں کہ آخر مبنائے تکفیر یہی تو ہے کہ خدا کی صفتِ خاصہ دُوسرے کے لیے ثابت کی۔ اب یہ دیکھ لیجئے کہ خدا کے لیے علم ذاتی خاص ہے یا عطائی،  حاشا ﷲ علم عطائی خدا کے ساتھ ہونا درکنار خدا کے لیے محال قطعی ہے کہ دوسرے کے دیئے سے اسے علم حاصل ہو پھر خدا کے لیے علم محیط حقیقی خاص ہے یا غیر محیط،  حاشاﷲ علم محیط خدا کے لیے محال قطعی ہے جس میں بعض معلومات مجہول رہیں،  تو علمِ عطائی غیر محیط حقیقی غیر خدا کے لیے ثابت کرنا خدا کی صفتِ خاصہ ثابت کرنا کیونکر ہوا۔ تکفیر فقہاء اگر اس طرف ناظر ہو تو معنی یہ ٹھہریں گے کہ دیکھو تم غیر خدا کے لیے وہ صفت ثابت کرتے ہو جو زنہار خدا کی صفت نہیں ہوسکتی لہذا کافر ہو یعنی وہ صفت غیر کے لیے ثابت کرنی چاہیے تھی جو خاص خدا کی صفت ہے،  کیا کوئی احمق ایسا اخبث جنون گوارا کرسکتا ہے۔
" ولٰکن النجدیۃ قوم لایعقلون "
(لیکن نجدی بے عقل قوم ہے۔ت)
 (۲۹ و ۳۰) امام ابن حجر مکی فتاوٰی حدیثیہ میں فرماتے ہیں :
وما ذکرناہ فی الاٰیۃ صرح بہ النووی رحمۃ اﷲ تعالٰی فی فتاواہ فقال معناھا لایعلم ذٰلک استقلا لاً وعلم احاطۃ بکل المعلومات الاّ اﷲ تعالی ۱ ؎۔
یعنی ہم نے جو آیاتِ کی تفسیر کی امام نووی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصریح کی،  فرماتے ہیں آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ غیب کا ایسا علم صرف خدا کو ہے جو بذاتِ خود ہو اور جمیع معلومات کو محیط ہو۔
 ( ۱ ؎فتاوٰی حدیثیہ   مطلب فی حکم مااذا قال فلان یعلم الغیب   مصطفٰی البابی مصر        ص ۲۲۸)
 (۳۱) نیز شرح ہمزیہ میں فرماتے ہیں :
انہ تعالٰی اختص بہ لکن من حیث الاحاطۃ فلا ینافی ذلک اطلاع اللہ تعالٰی لبعض خواصہ علٰی کثیر من المغیبات حتی من الخمس التی قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فیھن خمس لا یعلمھن الا اللہ ۲ ؎۔
غیب اﷲ کے لیے خاص ہے مگر بمعنی احاطہ تو اس کے منافی نہیں کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے بعض خاصوں کو بہت سے غیبوں کا علم دیا یہاں تک کہ ان پانچ میں سے جن کو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔
( ۲ ؎افضل القراء القراء ام القرٰی    تحت شعرلک ذات العلوم الخ      مجمع الثقافی ابوظبی       ۴۴  ۔ ۱۴۳)
 (۳۲) تفسیر کبیر میں ہے :
قولہ ولا اعلم الغیب یدل علی اعترافہ بانہ غیر عالم بکل المعلومات ۱ ؎۔
یعنی آیت میں جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ کو ارشاد ہوا تم فرمادو میں غیب نہیں جانتا،  اس کے یہ معنی ہیں کہ میرا علم جمیع معلومات الہٰیہ کو حاوی نہیں۔
 ( ۱ ؎ مفاتیح الغیب)
 (۳۳ و۳۴) امام قاضی عیاض شفا شریف اور علامہ شہاب الدین خفا جی اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں۔
 (ھذہ المعجزۃ) فی اطلاعہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی الغیب (المعلومۃ علی القطع) بحیث لایمکن انکارھا اوالتردد فیہا  لا حدٍ من العقلاء (لکثرۃ رواتھا  واتفاق معانیھا علی الاطلاع علی الغیب) وھذالاینافی الاٰیات الدالۃ علی انہ لایعلم الغیب الا اﷲ وقولہ ولوکنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر فان المنفی علمہ من غیرواسطۃ وامّا اطلاعہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علیہ با علام اﷲ تعالٰی لہ فامرمتحقق بقولہ تعالٰی فلایظھر علٰی غیبہ احداً الّا من ارتضٰی من رسول "۲ ؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا معجزہ علم غیب یقیناً ثابت ہے جس میں کسی عاقل کو انکار یا تردّد کی گنجائش نہیں کہ اس میں احادیث بکثرت آئیں اور ان سب سے بالاتفاق حضور کا علم غیب ثابت ہے اور یہ ان آیتوں کے کچھ منافی نہیں جو بتاتی ہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اور یہ کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس کہنے کا حکم ہوا کہ میں غیب جانتا تو اپنے لیے بہت خیر جمع کرلیتا ،  اس لیے کہ آیتوں میں نفی اس علم کی ہے جو بغیر خدا کے بتائے ہو اور اﷲ تعالٰی کے بتائے سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو علم غیب ملنا تو قرآن عظیم سے ثابت ہے،  کہ اﷲ اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوا اپنے پسندیدہ رسول کے۔
 ( ۲ ؎نسیم الریاض شرح الشفا للقاضی عیاض ومن ذٰلک ما اطلع علیہ من الغیوب     مرکز اہلسنت برکات رضا     ۳ /۱۵۰)
(۳۵) تفسیر نیشا پوری میں ہے :
لا اعلم الغیب فیہ دلالۃ علی ان الغیب بالاستقلال لا یعلمہ الّا اﷲ۳ ؎۔
آیت کے یہ معنی ہیں کہ علم غیب جو بذاتِ خود ہو وہ خدا کے ساتھ خاص ہے۔
 ( ۳ ؎غرائب القرآن (تفسیرالنیسابوری)     تحت آیۃ ۶ /۵۰            مصطفٰی البابی مصر         ۶ /۱۱۰)
 (۳۶) تفسیر انموذج جلیل میں ہے :
" معناہ لایعلم الغیب بلادلیل الا اﷲ اوبلا تعلیم الا اﷲ اوجمیع الغیب الااﷲ"  ۱ ؎۔
آیت کے یہ معنی ہیں کہ غیب کو بلادلیل و بلا تعلیم جاننا یا جمیع غیب کو محیط ہونا یہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے۔
 ( ۱ ؎)
 (۳۷) جامع الفصولین میں ہے :
یجاب بانہ یمکن التوفیق بان المنفی ھو العلم بالاستقلال لا العلم بالاعلام اوالمنفی ھو المجزوم بہ لا المظنون ویؤیدہ،  قولہ تعالٰی اتجعل فیہا من یفسد فیھا الاٰیۃ لانّہ غیب اخبر بہ الملٰئکۃ ظنا منھم اوبا علام الحق فینبغی ان یکفر لوادعاہ مستقلاً  لا لو اخبربہ باعلام فی نومہ اویقظتہ بنوع من الکشف اذلامنافاۃ بینہ وبین الاٰیۃ لما مرّمن التوفیق  ۲ ؎۔
 (یعنی فقہانے دعوی علم غیب پر حکمِ کفر کیا اور حدیثوں اورآئمہ ثقات کی کتابوں میں بہت غیب کی خبریں موجود ہیں جن کا انکار نہیں ہوسکتا) اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ فقہاء نے اس کی نفی کی ہے کہ کسی کے لیے بذاتِ خود علم غیب مانا جائے، خدا کے بتائے سے علمِ غیب کی نفی نہ کی،  یا نفی قطعی کی ہے نہ ظنی کی،  اور اس کی تائید یہ آیت کریمہ کرتی ہے،  فرشتوں نے عرض کیا تُو زمین میں ایسوں کو خلیفہ کرے گا جو اس میں فساد و خونریزی کریں گے۔ ملائکہ غیب کی خبر بولے مگر ظناً یا خدا کے بتائے سے،  تو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بےخدا کے بتائے سے ،  تو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بے خدا کے بتائے علمِ غیب ملنے کا دعوٰی کرے نہ یوں کہ براہِ کشف جاگتے یا سوتے میں خدا کے بتائے سے،  ایسا علمِ غیب آیت کے کچھ منافی نہیں۔
 ( ۲ ؎ جامع الفصولین     الفصل الثامن والثلاثون     اسلامی کتب خانہ کراچی        ۲ /۳۰۲)
 (۳۸ و ۳۹) ردالمحتار میں امام صاحبِ ہدایہ کی مختارات النوازل سے ہے :
  لوادعٰی علم الغیب بنفسہ یکفر  ۱ ؎۔
اگر بذاتِ خود علم غیب حاصل کرلینے کا دعوٰی کرے تو کافر ہے۔
 ( ۱ ؎ ردالمحتار     کتاب الجہاد    باب المرتد     داراحیاء التراث العربی بیروت        ۳ /۲۹۷)
 (۴۰ تا ۴۴) اسی میں ہے :
قال فی التتار خانیۃ وفی الحجۃ ذکر فی الملتقط انہ لایکفر لان الاشیاء تعرض علٰی  روح  النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وان الرسل یعرفون بعض الغیب قال اﷲ تعالٰی عالم الغیب فلا یظہر علٰی غیبہ احد ا الامن ارتضٰی من رسول اھ قلت بل ذکروا فی کتب العقائد ان من جملۃ کرامات الاولیاء الاطلاع علی بعض المغیبات و ردوا علی المعتزلۃ المستدلین بھذہ الاٰیۃ علٰی نفیھا ۲ ؎۔
تاتارخانیہ میں ہےکہ فتاوی حجہ میں ہے،  ملتقط میں فرمایا :کہ "جس نے اﷲ ورسول کو گواہ کرکے نکاح کیا کافر نہ ہوگا۔ اس لیے کہ اشیاء نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روحِ مبارک پر عرض کی جاتی ہیں اور بے شک رسولوں کو بعض علم غیب ہے،  اﷲ تعالٰی فرماتا ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو"  علامہ شامی نے فرمایا کہ بلکہائمہ اہلسنت نے کتبِ عقائد میں فرمایا کہ بعض غیبوں کا علم ہونا اولیاء کی کرامت سے ہے اور معتزلہ نے اس آیت کو اولیاء کرام سے اس کی نفی پر دلیل قرار دیا۔ ہمارےائمہ نے اس کا رَد کیا یعنی ثابت فرمایا کہ آیہ کریمہ اولیاء سے بھی مطلقاً علم غیب کی نفی نہیں فرماتی ۔
 ( ۲ ؎ ردالمحتار   کتاب النکاح   قبیل فصل فی المحرمات   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۲۷۶)
 (۴۵) تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان میں ہے :
لم ینف الاالدرایۃ من قبل نفسہ وما نفی الدرایۃ من جھۃ  الوحی ۳؎ ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی ذات سے جاننے کی نفی فرمائی ہے خدا کے بتائے سے جاننے کی نفی نہیں فرمائی۔
 ( ۳ ؎ غرائب القرآن  (تفسیر النیساپوری)  تحت آیۃ ۴۶ /۹     مصطفٰی البابی مصر   ۸ /۲۶ )
 (۴۶ و ۴۷) تفسیر جمل شرح جلالین و تفسیر خازن میں ہے :
المعنی لا اعلم الغیب الا ان یطلعنی اﷲ تعالٰی علیہ  ۱ ؎۔
آیت میں جو ارشاد ہوا کہ میں غیب نہیں جانتا۔ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ میں بے خدا کے بتائے نہیں جانتا۔
 ( ۱ ؎لباب التاویل (تفسیر الخازن)        تحت الآیۃ ۷ /۱۸۸  ، ۲ /۲۸۰    والفتوحات (تفسیرالجمل)        ۳ /۱۵۸)
 (۴۸) تفسیر البیضاوی میں ہے :
لااعلم الغیب مالم یوح الی ولم ینصب علیہ دلیل ۲ ؎۔
آیت کے یہ معنی ہیں کہ جب تک کوئی وحی یا کوئی دلیل قائم نہ ہو مجھے بذاتِ خود غیب کا علم نہیں ہوتا۔
 ( ۲ ؎ انوارالتنزیل (تفسیر البیضاوی )     تحت آیۃ ۶ /۵۰     دارالفکر بیروت    ۲ /۴۱۰)
Flag Counter