Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
73 - 157
وہابیہ پر غضبوں کی ترقیاں
پہلا غضب:  ان پرائمہ کے اقوال تھے کہ دریا سے قطرہ عرض کیے ان پر تو یہیں تک تھا کہ یہ سبائمہ دین ان مخالفینِ دین کے مذہب پر معاذاﷲ کافر و مشرک ٹھہرتے ہیں۔

دوسرا غضب :  اس سے زیادہ آفت اُس حدیث ابن عباس میں تھی کہ معاذ اﷲ عبداﷲ ابن عباس خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے علمِ غیب بتا کر کافر قرار پاتے ہیں۔

تیسرا غضب : اُس سے عظیم تر اشد آفت مواہب شریف اور زرقانی کی عبارات میں تھی کہ نہ صرف عبداللہ ابن عباس بلکہ عام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علمِ غیب پر ایمان لا کر وہابیہ کے دھرم میں کافر ہوئے جاتے ہیں۔
چوتھا غضب : اس سے سخت تر ہولناک آفت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی دوسری حدیث میں تھی کہ سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام نبی ہیں خود اپنے لیے علمِ غیب بتا کر معاذ اللہ ( حاکم بدہن وہابیہ) کا فر ٹھہرتے ہیں۔
پانچواں غضب : اُس سے بھی انتہا درجہ کی حد سے گزری ہوئی آفت کہ سیدنا موسٰی کلیم اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کہ اجماعاً قطعاً ،  یقینا،  ایماناً اللہ کے رسول و نبی اور اولواالعزم من الرسل سے ہیں وہابیہ کی تکفیر سے کہاں بچتے ہیں۔

خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے خود ان سے کہا کہ مجھے علمِ غیب ہے جو آپ کو نہیں ،  اور موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر کچھ انکار نہ فرمایا۔ کیا اس پر ایک وہابی نہ کہے گا کہ افسوس ایک ناؤ کا تختہ توڑ دینے یا گرتی دیوار بے اُجرت سیدھی کردینے پر وہ اعتراض کہ باوصفِ  وعدہ صبر نہ ہوسکا اور وہابی شریعت کی رُو سے منہ بھر کلمہ کفر سُنا اور شربت کا گھونٹ پی کر چپ رہے۔

خیر ،ان سب آفتوں کا وہابیہ کے پاس تین کہاوتوں سے علاج تھا۔
موسٰی علیہ الصلوۃوالسلام نے حضرت خضر کے لیے علم غیب تسلیم کیا تو وہابیہ کہہ سکتے تھے کہ موسٰی بددین خود مایاں بددین خود ،  حضرت خضر علیہ الصلوۃو السلام نے اپنے لیے علم غیب بتایا تو وہ اس شیطانی مثل کی آڑ لے سکتے تھے کہ ناؤ کس نے ڈبوئی،  خواجہ  خصر نے۔

ابن عباس وصحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے علم غیب جانا تو کسی دہن دریدہ وہابی کو کہتے کیا لگتا کہ :
پیراں نمی پرند مریداں مے پرانند
 (پیر نہیں اُڑتے بلکہ مرید انہیں اڑاتے ہیں۔ت)
لعنۃ اﷲ علی الظلمین
 ( ظالموں پر اﷲ تعالٰی کی لعنت،  ت)
مگر چھٹا غضب : دُھر کی قیامت تو خود اﷲ واحد قہار نے ڈھادی،  پورا قہر اس آیۃ کریمہ اور اس کی شانِ نزول نے توڑا۔ یہاں اﷲ عزوجل یہ حکم لگارہا ہے کہ جو شخص رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی غیب دانی سے منکر ہو وہ کافر ہے،  وہ اﷲ و رسول سے ٹھٹھا کرتا ہے،  وہ کلمہ گوئی کرکے مرتد ہوتا ہے،  افسوس کہ یہاں اس چوتھی مثل کے سوا کچھ گنجائش نہیں کہ ؎
مازیاران چشم یاری داشتیم 		خود غلط بود آنچہ ماپندا شتیم
 (ہم نے دوستوں سے دوستی کی امید رکھی تھی جو کچھ ہم نے گمان کیا وہ خود غلط تھا۔ت)

بھلا جس خدا کی توحید بنی رکھنے کے لیے نبی سے بگاڑی،  رسولوں سے بگاڑی،  سب کے علم پر دولتی جھاڑی ،  غضب ہے وہی خدا وہابیہ کو چھوڑ کر رسول کا ہوجائے،  الٹا وہابیہ پر حکم کفر لگائے،  سچ ہے اب کسی سے دوستی کا دھرم نہ رہا،  معلوم نہیں کہ اب مخالفین اپنے سرگروہوں کا فتوٰی مانتے ہیں یا اﷲ واحد قہار کا،
  ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ
 (نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سے ، ت)
Flag Counter