فقیر نے تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے کہا تھا یہائمہ، علماء جو اپنے لیے مان رہے ہیں معلوم نہیں کہ مخالفین ان پر کون سا حکم جڑیں۔
(۸ و ۹) امام شعرانی کتاب الیواقیت والجواہر میں حضرت شیخ اکبر سے نقل فرماتے ہیں :
للمجتہدین القدم الراسخ فی علوم الغیب ۴ ؎۔
علم غیب میںائمہ مجتہدین کے لیے مضبوط قدم ہے۔
( ۴ ؎الیواقیت والجواہر البحث التاسع والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۸۰)
(۱۰ و ۱۱) مولٰنا علی قاری ( کہ مخالفین براہِ نافہمی اس مسئلہ میں ان سے سند لاتے ہیں) مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں کتاب عقائد تالیف حضرت شیخ ابوعبداﷲ شیرازی سے نقل فرماتے ہیں :
نعتقدان العبدینقل فی الاحوال حتی یصیر الی نعت الروحانیۃ فیعلم الغیب ۵ ؎۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ بندہ ترقیِ مقامات پا کر صفتِ روحانی تک پہنچتا ہے اس وقت اسے علمِ غیب حاصل ہوتا ہے۔
( ۵ ؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۲۸)
نورِ ایمان کی قوت بڑھ کر بندہ حقائق اشیاء پر مطلع ہوتا ہے اور اس پر غیب نہ صرف غیب بلکہ غیب کا غیب روشن ہوجاتا ہے۔
( ۱ ؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۱۹)
(۱۳) یہی علی قاری اسی مرقاۃ میں فرماتے ہیں :
الناس ینقسم الٰی فطن یدرک الغائب کالمشاھد وھم الانبیاء والٰی من الغالب علیھم متابعۃ الحس ومتابعۃ الوھم فقط وھم اکثر الخلائق فلا بدّلھم من معلم یکشف لھم المغیبات وما ھو الاالنبی المبعوث لھذا الامر ۲ ؎۔
آدمی دو قسم کے ہوتی ہیں، ایک وہ زیرک کہ غیب کہ مشاہد کی طرح جانتے ہیں اور یہ انبیاء ہیں، دوسرے وہ جن پر صرف حس و وہم کی پیروی غالب ہے اکثر مخلوق اسی قسم کی ہے۔ تو ان کو ایک بتانے والے کی ضرورت ہے جو ان پر غیبوں کوکھول دے اور وہ بتانے والا نہیں مگر نبی کہ خود اس کام کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
( ۲ ؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۲۰)
(۱۴ و ۱۵) یہی علی قاری شرح فقہ اکبر میں حضرت ابو سلیمان دارانی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ناقل :
الفراسۃ مکاشفۃ النفس ومعاینۃ الغیب وھی من مقامات الایمان ۳ ؎۔
فراستِ مومن (جس کا ذکر حدیث میں ارشاد ہوا ہے) وہ رُوح کا کشف اورغیب کا معائینہ ہے ۔ اور یہ ایمان کے مقاموں میں سے ایک مقام ہے۔
( ۳ ؎منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر خوارق العادات الخ مصطفٰی البابی مصر ص ۸۰)
(۱۶ و ۱۷) امام ابن حجر مکّی کتاب الاعلام، پھر علامہ شامی سل الحسام میں فرماتے ہیں:
الخواص یجوزان ان یعلمواالغیب فی قضیۃ اوقضایاکما وقع لکثیر منھم و اشتھر ۴ ؎۔
جائز ہے کہ اولیاء کو کسی واقعے یا وقائع میں علم غیب ملے جیسا کہ ان میں بہت کے لیے واقع ہو کر مشتہر ہوا۔
( ۴ ؎الاعلام بقواطع الاسلام مکتبۃ الحقیقۃ بشارع دارالشفقۃ استنبول ترکی ص۳۵۹)
( سل الحسام رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈیمی لاہور ۲ /۳۱۱)
(۱۸ و ۱۹) تفسیر معالم وتفسیر خازن میں زیر
قولہ تعالٰی : وما ھو علی الغیب بضنین ۵ ؎۔
ہے۔ یقول انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یاتیہ علم الغیب فلا یبخل بہ علیکم بل یعلّمکم ۱ ؎۔
یعنی اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو غیب کا علم آتا ہے وہ تمہیں بتانے میں بخل نہیں فرماتے بلکہ تم کو بھی اس کا علم دیتے ہیں۔
( ۵ ؎القرآن الکریم ۸۱ /۲۴)
( ۱ ؎معالم التنزیل تحت آیۃ ۸۱ /۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۴۲۲)
(لباب التاویل فی معانی التنزیل (تفسیر الخازن) ۴ /۳۹۹)
(۲۰) تفسیر بیضاوی زیر قولہ تعالٰی :
"وعلمنٰہ من لدنا علما" ۲
ہے۔ ای مما یختص بنا ولا یعلم الابتوفیقنا وھو علم الغیوب۳ ؎۔
یعنی اللہ عزوجل فرماتا ہے وہ علم کہ ہمارے ساتھ خاص ہے اور بے ہمارے بتائے ہوئے معلوم نہیں ہوتا وہ علمِ غیب ہم نے خضر کو عطا فرمایا ہے۔
( ۲ ؎ القرآن لکریم ۱۸ /۶۵)
( ۳ ؎ انوارالتنزیل (تفسیرالبیضاوی) تحت آیۃ ۱۸/۶۵ دارالفکربیروت ۳ /۵۱۰)
(۲۱) تفسیر ابن جریر میں حضرت سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے۔
قال انّک لن تستطیع معی صبرا، وکان رجلا یعلم علم الغیب قد علم ذٰلک ۴ ؎۔
حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے موسٰی علیہ السلام سے کہا : آپ میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔ خضر علمِ غیب جانتے تھے انہیں علم غیب دیا گیا تھا۔
( ۴ ؎ جامع البیان (تفسیر الطبری) تحت آیۃ ۱۸/ ۶۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۳۲۳)
(۲۲) اُسی میں ہے عبداﷲ ابن عباس نے فرمایا : خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا :
لم تحط من علم الغیب بما اعلم ۵ ؎۔
جو علم غیب میں جانتا ہوں آپ کا علم اُسے محیط نہیں۔
( ۵ ؎ جامع البیان (تفسیر الطبری) تحت آیۃ ۱۸ /۶۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۳۲۳)
(۲۳) امام قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں :
النبوۃ التی ھی الاطلاع علی الغیب ۶ ؎۔
نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ علم غیب جاننا۔
( ۶ ؎ المواہب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۷)
(۲۴) اُسی میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اسم مبارک نبی کے بیان میں فرمایا :
النبوأۃ ماخوذۃ من النباء وھوالخبر ای ان اﷲ تعالٰی اطلعہ علٰی غیبہ ۷ ؎۔
حضور کو نبی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کو اپنے غیب کا علم دیا۔
( ۷ ؎ المواہب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۵ و ۴۶)
(۲۵) اُسی میں ہے :
قداشتھروانتشر امرہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بین اصحابہ بالاطلاع علی الغیوب ۱ ؎۔
بے شک صحابہ کرام میں مشہورو معروف تھا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو غیبوں کا علم ہے۔
( ۱ ؎ المواہب اللدنیۃ المقصد الثامن الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۵۵۴)
(۲۶) اُسی کی شرح زرقانی میں ہے :
اصحابہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جازمون باطلاعہ علی الغیب " ۲ ؎۔
صحابہ کرام یقین کے ساتھ حکم لگاتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو غیب کا علم ہے۔
( ۲ ؎ شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۷ /۲۰۰)
(۲۷) علی قاری شرہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں :
" علمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حاو لفنون العلم (الٰی ان قال) ومنہا علمہ بالامور الغیبیۃ "۳ ؎۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم اقسام علم کو حاوی ہے غیبوں کا علم بھی علمِ حضور کی شاخوں سے ایک شاخ ہے۔
( ۳ ؎ الزبدۃ العمدۃ شرح البردۃ تحت شعرو واقفون لدیہ عندحدّھم جمعیۃ علماء سکندریہ خیر پور سندھ ص ۵۷)
(۲۸) تفسیر امام طبری اور تفسیر درمنثور میں بروایت ابوبکر بن ابی شیبہ استاذ امام بخاری و مسلم وغیرہائمہ محدثین سیدنا امام مجاہد تلمیذ خاص حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ہے :
" انہ قال فی قولہ تعالٰی ولئن سألتھم لیقولن انما کنّا نخوض ونلعب قال رجل من المنافقین یحدثنا محمد ان ناقۃ فلان بوادی کذا وکذا وما یدریہ بالغیب " ۴ ؎۔
انہوں نے فرمایا اﷲ کے قول " ولئن سالتھم " الخ کی تفسیر میں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے کہا کہ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) ہم سے بیان کرتے ہیں کہ فلاں کی اونٹنی فلاں فلاں وادی میں ہے بھلا وہ غیب کی باتیں کیا جانیں۔(ت)
( ۴ ؎ جامع البیان (تفسیر الطبری) تحت آیۃ ۹ /۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰ /۱۹۶)
(الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ وغیرہ تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۰)
یعنی کسی کا ناقہ گم ہوگیا تھا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ " وہ فلاں جنگل میں ہے " ایک منافق بولا" محمد غیب کیا جانیں" اسی پر اللہ عزوجل نے یہ آیتِ کریمہ اتاری کہ ان سے فرمادیجئے کہ " اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیتوں سے ٹھٹھاکرتے ہو، بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ایمان کے بعد۔
حضرت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ آیت مخالفین پر کیسی آفت ہے۔