(۱) العلم ذاتی مختص بالمولٰی سبحٰنہ وتعالٰی لایمکن لغیرہ ومن اثبت شیئامنہ ولوادنٰی من اَدنٰی من ادنٰی من ذرۃ لاحد من العٰلمین فقد کفر واشرک ۱ ؎۔
علمِ ذاتی اﷲ عزوجل سے خاص ہے اس کے غیر کے لیے محال ہے، جو اس میں سے کوئی چیز اگرچہ ایک ذرّہ سے کمتر سے کمتر غیر خدا کے لیے مانے وہ یقیناً کافرو مشرک ہے۔
غیر متناہی بالفعل کو شامل ہوناصرف علمِ الہٰی کے لیے ہے۔
( ۲ ؎ الدولۃ المکیۃ النظر الاول مطبعہ اہلسنت بریلی ص۶)
(۳) اُسی میں ہے :
احاطۃ احد من الخلق بمعلومات اﷲ تعالٰی علٰی جھۃ التفصیل التام محال شرعا وعقلا بل لوجمع علوم جمیعا العٰلمین اولاً واٰخراً لما کانت لہ نسبۃ ما اصلا الی علوم اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی حتی کنسبۃ حصۃ من الف الف حصص قطرۃ الٰی الف الف بحر ۳ ؎۔
کسی مخلوق کا معلوماتِ الہٰیہ کو بتفصیل تام محیط ہوجانا شرع سے بھی محال ہے، اور عقل سے بھی، بلکہ اگر تمام اہلِ عالم اگلے پچھلوں سب کے جملہ علوم جمع کیے جائیں تو اُن کو علومِ الہٰیہ سے وہ نسبت نہ ہوگی جو ایک بُوند کے دس لاکھ حصوں سے ایک حصے کو دس لاکھ سمندروں سے۔
( ۳ ؎ الدولۃ المکیۃ النظر الاول مطبعہ اہلسنت بریلی ص۶)
(۴) اُسی کی نظر ثانی میں ہے :
زھر وبھر ممّا تقرر ان شبہۃ مساواۃ علوم المخلوقین طرا اجمعین بعلم ربنا الٰہ العٰلمین ما کانت لتخطر ببال المسلمین ۱ ؎۔
ہماری تقریر سے روشن و تاباں ہوگیا کہ تمام مخلوق کے جملہ علوم مل کر بھی علمِ الہٰی سے مساوی ہونے کا شبہہ اس قابل نہیں کہ مسلمان کے دل میں اس کا خطرہ گزرے۔
میرا مختصر فتوٰی ابناء المصطفٰی بمبئی مراد آباد میں تین بار ۱۳۱۸ھ سے ہزاروں کی تعداد میں طبع ہو کر شائع ہوا، ایک نسخہ اسی کا کہ رسالہ الکلمۃ العلیا(ف) کے ساتھ مطبوع ہوا مرسل خدمت ہے، اس سے بڑھ کر جس امر کا اعتقاد میری طرف کوئی نسبت کرے مفتری کذاب ہے اوراﷲ کے یہاں اس کا حساب۔
ف : الکلمۃ العلیا مصنفہ صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ
امر دوم
بندوں کو علم غیب عطا ہونے کی سندیں اور آیاتِ نفی کی مراد
انہیں عبارات سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ علمِ غیب کا خاصہ حضرتِ عزت ہونا بے شک حق ہے، اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے :
قل لایعلم من فی السمٰوٰت والارض الغیب الااﷲ ۱ ؎۔
تم فرمادو کہ آسمانوں اور زمین میں اﷲ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲۷ /۶۵ )
اور اس سے مراد وہی علم ذاتی و علم محیط ہے کہ وہی باری عزوجل کے لیے ثابت اور اس سے مخصوص ہیں۔ علم عطائی کہ دوسرے کا دیا ہوا ہو۔ علم غیر محیط کہ بعض اشیاء سے مطلع بعض سے ناواقف ہو، اﷲ عزوجل کے لیے ہو ہی نہیں سکتا، اس سے مخصوص ہونا تو دوسرا درجہ ہے، اوراﷲ عزوجل کی عطا سے علوم غیب غیر محیط کا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کوملنا بھی قطعاً حق ہے، اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتاہے۔
(۱) وماکان اﷲ لیطلعکم علی الغیب وٰلکن اﷲ یجتبی من رسلہ من یشاء ۲ ؎۔
اﷲ اس لیے نہیں کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کرے ہاں اﷲ اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے چُن لیتا ہے۔
(۲) اور فرماتا ہے :
عالم الغیب فلا یظھر علٰی غیبہ احدًا الّا من ارتضٰی من رسول۳ ؎۔
اﷲ عالم الغیب ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوا اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
(۳) اور فرماتا ہے :
وماھو علی الغیب بضنین ۴ ؎۔
یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں۔
(۴) اور فرماتا ہے :
ذٰلک من انباء الغیب نُوحیہ الیک ۵ ؎۔
اے نبی ! یہ غیب کی باتیں ہم تم کو مخفی طور پر بتاتے ہیں۔
(۵) حتی کہ مسلمانوں کو فرماتا ہے :
یؤمنون بالغیب ۱ ؎۔
غیب پر ایمان لاتے ہیں۔
(۲ ؎ القرآن الکریم ۳ / ۱۷۹) ( ۳ ؎ القرآن الکریم ۷۳ /۲۷ )
(۴ ؎القرآن الکریم ۸۱ /۲۴) ( ۵ ؎ القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۲ )
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲ /۳)
ایمان تصدیق ہے اور تصدیق علم ہے جس شیئ کا اصلاً علم ہی نہ ہو اس پر ایمان لانا کیونکر ممکن، لاجرم تفسیر کبیر میں ہے۔
(۶) لایمتنع ان تقول نعلم من الغیب مالنا علیہ دلیل ۲ ؎۔
یہ کہنا کچھ منع نہیں کہ ہم کو اس غیب کا علم ہے جس میں ہمارے لیے دلیل ہے۔
( ۲ ؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۲ /۳ المطبعۃ البہیۃ المصریہ مصر ۲ /۲۸)
(۷) نسیم الریاض میں ہے :
لم یکلفنا اﷲ الایمان بالغیب الّاوقد فتح لنا باب غیبہ ۳ ؎۔
ہمیں اﷲ تعالٰی نے ایمان بالغیب کا جبھی حکم دیا ہے کہ اپنے غیب کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا ہے۔
( ۳ ؎نسیم الریاض فصل ومن ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۳ /۱۵۱)