| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
نوٹ : یہ کتاب حضرت گرامی مرتبت سید حسین حیدر میاں صاحب مارہروی علیہ الرحمہ کے ان خطوط کے جواب میں بطور مراسلہ لکھی گئی جو موصوف نے بعض دیانبہ کی الزام تراشیوں سے پیدا شدہ صورتِ حال پر پریشان ہو کر تحقیق کے لیے مصنف علیہ الرحمۃ کو تحریر فرمائے تھے اور وہ خطوط چند صفحات قبل رسالہ کی تمہید میں مذکور ہیں۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلّ علٰی رسولہ الکریم
بشرف ملاحظہ عالیہ حضرت والا درجیت ، بالا منزلت، عظیم البرکتہ حضرت مولٰنا مولوی سید حسین حیدر میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم العلمیہ، بعد تسلیم وآداب خادمانہ عارض۔ (۱) حضرت والا کو معلوم ہوگا کہ وہابیئہ گنگوہ دیوبند و نانوتہ و تھا نہ بھون و دہلی و سہسوان خذلہم اﷲ تعالٰی نے اﷲ عزو علا و حضور پرنور سیّد الانبیاء وعلیہم افضل ا لصلٰوۃ والثناء کی شان میں کیا کیا کلماتِ ملعونہ بکے، لکھے اور چھاپے، جن پر عامہ علماء عرب و ہند نے ان کی تکفیر کی، کتاب حسام الحرمین مع تمہید ایمان و خلاصہ فوائد فتاوٰی حاضرِ خدمت ہیں۔ زیادہ نہ ہو تو صرف دو رسالے اولین تمہیدِ ایمان و خلاصہ فوائد کو حرفاً حرفاً ملاحظہ فرمالیں کہ حق آفتاب سے زیادہ واضح ہے۔
(۲) اس کتابِ مستطاب کی اشاعت پر خدا اور رسول (جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کے بدگویوں کی جو حالتِ اضطراب و پیچ و تاب ہے، بیان سے باہرہے۔ دو سال سے اسی کتاب کی طبع کے بعد چیختے چلاتے اور طرح طرح کے غل مچاتے ، پرچوں ، اخباروں میں گالیوں کے انبار لگاتے ،سَوسَو پہلو بدلتے ،اِدھر اُدھر پلٹے کھاتے ہیں مگر اصل مبحث کا جواب دینا درکنار ،اس کانا لیے ہول کھاتے ہیں ،بدگویوں میں مرتضی حسن چاند پوری دیوبندی اور ان کے یار غار ثناءاللہ امرتسری غیر مقلد صرف اسی لیے غلم چانے ، بحثیں بدلنے، گالیاں چھاپنے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں جن کے غل پر پانچ پانچ رسالے میرے احباب کے ان کو پہنچے ہوئے ہیں ان سب کو بھی جواب غائب اور چیخ بدستور ، یہ تمام حال حضرت والا کو ملاحظہ رسالہ ظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب و اشتہار ضروری نوٹس و اشتہار نیا زمانہ کے ملاحظہ سے واضح ہوگا۔ سب مرسل خدمت ہیں، اور زیادہ تفصیل احباب فقیر کے رسالہ کین کش پنجہ پیچ و رسالہ بارش سنگی و رسالہ پیکان جانگداز کے ملاحظہ سے ظاہر ہوگی۔ یہ سب زیر طبع ہیں، بعد طبع بعونہ تعالٰی ان سے کہہ دوں گا کہ ارسالِ خدمت اقدس کریں۔ (۳) اب چند امور ضروری مختصراً عرض کروں کہ بعونہ تعالٰی اظہارِ حق و ابطالِ باطل کو بس ہوں۔
امراوّل وہابیہ کی افترا پر دازیاں
ان چالوں کے علاوہ خدا ورسول جل و علا وصلی الہ تعالٰی علیہ وسلم کے بدگویوں نے ادھر یہ مکر گانٹھا کہ کسی طرح معارضہ بالقلب کیجئے یعنی ادھر بھی کوئی بات ایسی نسبت کریں جس پر معاذ اﷲ حکم کفریا ضلال لگاسکیں۔ اس کے لیے مسئلہ غیب میں افترا چھانٹنے شروع کیے۔ (۱)کبھی یہ کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم، ذاتی ،بے اعطائے الٰہی مانتاہے ۔ (۲) کبھی یہ کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم ، علمِ الہٰی سے مساوی جانتا ہے صرف قدم و حدوث کا فرق کرتا ہے۔ (۳) کبھی یہ کہ باستثناء ذات و صفاتِ الہٰی باقی تمام معلوماتِ الہٰیہ کو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم محیط بتاتا ہے۔
(۴) کبھی یہ کہ امورِ غیر متناہیہ بالفعل کو حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم بتفصیل تمام حاوی ٹھہراتا ہے۔ حالانکہ واحد قہار یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ سب ان اشقیاء کا افترا ہے۔ سچے ہیں تو بتائیں کہ ان میں سے کون سا جملہ فقیر کے کس رسالے، کس فتوے ، کس تحریر میں ہے؟
قل ھا توا برھانکم ان کنتم صٰدقین۱ ۔
تم فرماؤ لاؤ اپنی دلیل اگر سچے ہو۔(ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲ /۱۱۱ )
فاذلم یاتوا بالشہداء فاولئٰک عنداﷲ ھم الکٰذبون ۲؎۔
تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اﷲ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲۴ /۱۳)
انمایفتری الکذب الذین لا یؤمنوں باٰیٰت اﷲ اولئٰک ھم الکٰذِبون ۳ ؎۔
جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اﷲ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں۔(ت)
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵)
یہی بیانات لوگوں کے سامنے بیان کرکے ان کو پریشان کرتے ہیں ان کا پریشان ہونا حق بجانب ہے اس پر اگر کوئی عالم مخالفت کرے تو ضرور اسے لائق و مناسب ہے۔ مفتریانِ کذَّاب اگر ان کلمات کا خود مجھ سے استفتاء کرتے تو سب سے پہلے ان باطل باتوں کا رَدّو ابطال میں کرتا۔
فقیر نے مکہ معظمہ میں جو رسالہ
" الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ "
اس باب میں تصنیف کیا جس کی متعدد نقول علماء کرام مکہ نے لیں اس میں ان تمام خرافات کا رَد صریح موجود ہے۔ ان اباطیل کل یا بعض پر جو عالم مخالفت کرے یا رَ د لکھے وہ رَد لکھے وہ رَدّو خلافت حقیقۃً انہیں ملعون افتراؤں پر عائد ہوگا۔ نہ اس پر جو ان اکاذیب سے بحمداﷲ ایسا بری ہے جیسے وہ مفتریانِ کذاب دین و حیا سے۔
وسیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون ۴ ؎۔
اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(ت)
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۲۷ /۲۲۷)
حضرت والا کو حق سبحانہ، وتعالٰی شفائے کامل و عاجل عطا فرمائے۔ اگر براہِ کرم قدیم و لطفِ عمیم یہاں تشریف فرما ہو کر خادم نوازی کریں تو اصل رسالہ جس پر مولانا تاج الدین الیاس و مولانا عثمان بن عبدالسلام مفتیانِ مدینہ منورہ کی اصل تقریظات اُن کی مُہری دستخطی موجود ہیں، نظرِ انور سے گزاروں گا۔ فی الحال اُس کی دو چار عبارات عرض کرتا ہوں جن سے روشن ہوجائے گا کہ مفتریوں کے افتراء کس درجہ باطل و پادر ہوا ہیں، جس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی ید باطن کہے" اہلسنت کا مذہب صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر تبّرا اور صدیقہ طاہرہ ( رضی اللہ تعالٰی عنہا) پر بہتان اٹھانا ہے۔"
والعیاذ باﷲ رب العالمین ،
میرے رسالہ کی نظر اول میں ہے۔