Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
69 - 157
نامہ اوّل :
بسم اللہ الرحمن الرحیم، وبہ نستعین ونصلی ونسلم علٰی نبیہ الکریم

حضرت مولٰینا وبالفضل اولٰنا دام ظلہم وبرکاتہم وعمر ہم۔
از حقر سید حسین حیدر بعد تسلیم نیاز عرض خدمت عالی اینکہ نوازش نامہ عالی عرض دار لایا ۔معزز فرمایا اوتعالٰی ذاتِ والا کو بایں تجدید و تاسیس دین متین سلامت رکھے اس صدی کے مجدد اﷲ تعالٰی نے ہمارے سب کے واسطے ذات ِ عالی کو بھیجاہے رسائل عنایت فرمودہ جناب میں نے حرف بحرف پڑھے اور تمام دن انہیں کے مطالعہ میں گزرتا ہے اگرچہ اس مسئلہ میں جو کچھ میں نے وقتاً فوقتاً آپ کی زبان سے سنا تھا اسی حبلِ متین کو مضبوط پکڑے ہوئے تھا اب اس تقریر والا نے تو میرے اس عقیدہ کو ایسا فولاد کردیا ہے کہ جس کا بیان نہیں،  فتوٰی انباء المصطفٰی نے بوجہ اپنی طبع (عہ)کے مجھ کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور نہ اس تحریر کے بعد مجھ کو حاجت رہی ،  نسخہ" تمہیدِ ایمان"  کو دیکھ کر میں اپنی مسرت کا حال کیا عرض کروں علمائے حرمین شریفین نے جو کچھ تحریر فرمایا وہ مشتے نمونہ خروار ہے اور میرا یہی عقیدہ ہے اخوت اسلامی ورشتہ خاندانی سے قطع نظر کرکے ابتداء سے میرا یہی عقیدہ ہے کہ اب ہندوستان و عرب میں آپ کا مثل نہیں ہے اور یہ امر بلا مبالغہ میرے دل میں راسخ ہوگیا ہے وہ لوگ جن سے اس بات میں مجھ سے گفتگو ہوئی تھی ابھی تک مجھ کو نہیں ملے ہیں اب وہ ملیں تو رسالہ حرمین طیبین دکھاؤں اور جواب لُوں میں ے دیوانِ نعمت برادرم حسن رضا خان صاحب مرحوم کو لکھا مرحوم مجھ سے وعدہ فرماگئے تھے کہ بعد طبع تجھ کو ضرور بھیجوں گا اللہ تعالٰی ان کو اپنی آغوش رحمت میں رکھے مورخہ ۷ ربیع الثانی یوم دوشنبہ رسائل مطبوعہ جدید مجھ کو ضرور مع دیوان بھیج دیں آج کل انہیں سے دل بہلتا ہے مکرر وہی مطالعہ میں رہتے ہیں اللہ تعالٰی آ پ کو زندہ و سلامت رکھے زیادہ نیاز فقط ،  احقر سید حسین حیدر از لکھنؤ جھوائی ٹولہ ،  مکان حکیم حسن رضا مرحوم۔
اس مدت میں رسائل کین کشن پنجہ پیچ و بارش سنگی و پیکان جانگداز بھی بفضلہ تعالٰی تیار ہوگئے کہ حسب الحاکم مع دیوان نعت شریف مصنف حضرت مولٰنا مولوی حاجی حسن رضا خان صاحب رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ روانہ خدمت حضرت والا کیے گئے ادھر اس مدت میں حضرت والا کو وہ مخالفین بھی مل گئے جن کو یہ الہٰی تلواریں دکھا کر حضرت نے پسپا کیا،  اور یہ دوسرا نامہ نامی احضا فرمایا:
عہ :  مراد آباد کی طبع دوم کا بہت ناقص چھپا تھا کہ پڑھنے میں دقت تھی۱۲۔
نامہ دوم
حضرت مولٰنا و بالفضل والمجد اولٰنا مدظلہم وبرکاتہم علٰی سائر المسلمین ،  بعد تسلیم نیاز آنکہ پولندہ دیوان نعت شریف مع رسائل عطیہ حضور پہنچے اﷲ آپکو زندہ رکھے جن لوگوں سے میری گفتگو ہوئی تھی وہ انہیں مرضی حسن در بھنگی کے اتباع میں ہیں بارش سنگی و اشتہارات میں نے سب سنائے۔اس پر بڑا تعجب ظاہر کیا،  میں نے کہا کہ مولٰنا صاحب نے مناظرہ سے انکار نہ فرمایا ،  بلکہ ان شرائط پر مباحثہ و مناظرہ تمام طائفہ سے فرمایا،  اشتہارات وغیرہ دیکھ کر کہا کہ یہ اُن تک پہنچے نہیں ورنہ وہ ایسے نہ تھے کہ رسالہ کا جواب فوری نہ دیتے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ تو پرانا منجھا ہوا سچ ہے کہ ڈاک لُٹ گئی۔ اُس پر کہا کہ اب ہم تحریر کرتے ہیں رسائل کا نام وغیرہ جو جواب آئے گا۔  آپ ( عہ)کو مطلع کریں گے۔ پھر کہا کہ مولوی صاحب کو لازم نہ تھا کہ علمائے دین کی تکفیر کرتے قلم ان کا بہت تیز ہے۔ میں نے کہا کہ یہ قوم اعداء اﷲ پر جہاد کے لیے پیدا ہوئی ہے۔ اب تلوار نہیں رہی تو خدائے تعالٰی نے وہی کاٹ چھانٹ ان کے قلم کو عطا فرمادی ہے۔ اثنائے ذکر میں یہ بھی کہا کہ مولوی رشید احمد صاحب کے ایک شآگرد کے مقابلہ میں مولوی صاحب کا سارا عرب دشمن ہوگیا اگر وہاں سے چلے نہ آتے تو بڑی مشکل پڑتی۔ میں نے کہا یہ ہی ایک فقرہ آ پ نے سچ فرمایا ہے آپ کے مضمون کی شہادت جو علماءِ حرمین نے دی ہے وہ میرے پاس ہے اسے دیکھ لیجئے کیسا بڑا لکھا مگر اس طرح کا کوئی فقرہ آپ نکال لائیں تو میں مانوں،  عبارات میں نے پڑھنا شروع کیں۔ اور اُن حیا دارون کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوا میں لاحول پڑھ کر اٹھ کھڑا ہوا فقط ۲۹۔۴ ۔ ۱
مسلمانو ! حضرات کی عیاریاں مکاریاں حیا داریاں ملاحظہ کیں حضرت والا سید صاحب قبلہ دامت برکاتہم کی طرح جس بندہ کو خدا عقل و ایمان و انصاف دے گا وہ ان مکاروں ابلیس شعاروں پر لاحول ہی پڑھ کر اٹھے گا۔

اب بعونہ تعالٰی خالص الاعتقاد مطالعہ کیجئے اور اپنے ایمان و یقین و محبت و غلامی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تازگی دیجئے۔
والحمدﷲ رب العٰلمین وافضل الصلوۃ واکمل السلام علٰی سیدنا و مولٰنا والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین 

 سید عبدالرحمن غفرلہ
 (عہ : اب تک ان صاحبوں نے بھی کروٹ نہ لی تو وہ سب کو ایک ہی مرض الموت لاحق ہے۱۲)
Flag Counter