Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
68 - 157
مثلاً (۱) صفحہ ۳ پر ایک کتاب بنام تحفۃ المقلدین اعلٰیحضرت کے والد ماجد اقدس حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں قدس سرہ العزیز کے نام سے گھڑی اور بکمال بے حیائی کہہ دیا کہ مطبوعہ صبح صادق سیتا پور صفحہ ۱۵۔

(۲) صفحہ ۱۱ پر ایک کتاب بنام بدایۃ الاسلام اعلٰیحضرت اعلٰیحضرت کے جدِّا امجد حضور پُر نور سیدنا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام سے تراشی اور بکمال ملعونی کہہ دیا کہ مطبوعہ صبح صادق سیتا پور صفحہ ۳۰۔

(۳)صفحہ ۱ اور صفحہ ۲۰ پر ہدایۃ البریہ مطبوعہ صبح صادق کے علاوہ ایک ہدایۃ البریہ مطبوعہ لاہور اعلٰیحضرت کے والد روح اﷲ روحہ کے نام سے گھڑی اوراپنی تراشیدہ عبارتیں اس کی طرف منسوب کردیں کہ صفحہ ۱۳ میں فرماتے ہیں،  صفحہ ۴۱ میں فرماتے ہیں اور سب محض بناوٹ۔

(۴) صفحہ ۱۱ پر ایک کتاب بنام خزینۃ الاولیاء حضور اقدس انور حضرت سیدنا شاہ حمزہ مارہروی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نام اقدس سے گھڑی اور بکمالِ شقاوت کہہ دیا کہ مطبوعہ کانپور صفحہ ۱۵۔
 (۵) صفحہ ۲۰ پر ایک کتاب بنام تحفۃ المقلدین اعلٰیحضرت کے جدّا امجد نور اﷲ تعالٰی مرقدہ کے نام سے گھڑی اور بکمال شیطنت کہہ دیا مطبوعہ لکھنؤصفحہ ۱۲۔

(۶)صفحہ ۲۱ پر حضرت اقدس حضور سیدنا شاہ حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ملفوظات دل سے گھڑے اور بکمال اہلبیت کہہ دیا کہ مطبوعہ مصطفائی صفحہ ۱۷ اور خبیثہ شقیہ نے جو عبارت جی سے گھڑی وہ ہوتی تو مکتوب ہوتی نہ کہ ملفوظ اور اس کے اخیر میں دستخط بھی گھڑلیے کتبہ شاہ حمزہ مارہروی عفی عنہ  اﷲ کی مہر کا اثر کہ اندھی خبیثہ کو ملفوظ ومکتوب کا فرق تک معلوم نہیں اور دل سے گھڑنت کو آندھی۔ ع

عیب  بھی کرنے کو ہنر چاہیے

                          ع			          قدم فسق پیشتر بہتر



 (۷) خبیثہ ملعونہ نے صفحہ ۱۴ پر ایک کتاب بنام مراۃ الحقیقۃ حضور انور واکرم غوث دوعالم سیدناغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اسم مہر انور سے گھڑی اور بکمال بے ایمانی کہہ دیا کہ مطبوعہ مصر صفحہ ۱۸۔

(۸) صفحہ ۲۰ پر اعلٰیحضرت کے والد ماجد عطر اﷲ مرقدہ،  کی مہر مبارک بھی دل سے گھڑلی،  اور اس کی یہ صورت بنائی۔
29-1.jpg
حالانکہ حضرت والا کی مہرِ اقدس یہ تھی جو بکثرت کتب پر طبع ہوئی ہے۔
29-2.jpg
 (۹) حضرت اعلٰی قدس سرہ،  کی وفات شریف ۱۲۹۷ ھ میں واقع ہوئی خبیثہ نے مہر کا سَن ۱۳۰۱ لکھا یعنی وصال شریف کے چار برس بعد مہر کندہ ہوئی۔ سچ ہے جب لعنتِ الہٰی کا استحقاق آتا ہے،  آنکھ ، کان،  دل سب پٹ ہوجاتے ہیں۔

(۱۰) تقویت الایمان پر سے اعتراصات بزورِ زبان اٹھانے کو صفحہ ۲۸ پر ایک تقویت الایمان مطبوعہ مصطفائی گڑھی،  اور اس سے وہ عبارتیں نقل کردی جس کا دنیا بھر کی کسی تقویت الایمان میں نشان نہیں۔



جب حالت یہ ہے تو اپنی طرف کی فرضی خیالی تصانیف گھڑ دینے کی کیا شکایت۔ محمد نقی اجمیری جو کوئی شخص اس کا مصنّف ٹھہرایا ہے،  غالباً یہ بھی خیالی گھڑا یا کم از کم اسی فرضی ہے۔ ایک بزرگوار نے پہلے ایک اسی رنگ کا رسالہ حمایتِ اعلٰیحضرت میں لکھ کر یہاں چھاپنے کو بھیجا تھا جس میں مخالفانِ حضرت والا کے کلام ایسے ہی فرضی نقل کیے تھے۔الحمد ﷲ ا ہل سنت ایسی ملعون باتیں کب پسند کریں یہاں سے دھتکار دیا تو مخالف ہو کر دامن وہابیوں کا پکڑا اور ان کو یہ رسالہ سیف النقی بھیجا،  جھوٹے معبود کے پجاری تو ایسوں کے بھوکے ہی تھے۔
"  باسم المعبود الکذاب اللئیم "
کہہ کر قبول کرلیا اور اعلان چھاپاکہ بندہ کی معرفت یہ رسالہ اشرف علی وغیرہ بزرگان کی جملہ تصانیف مل سکتی ہیں۔ راقم اصغر حسین مدرسہ دیوبند۔
مسلمان اپنی ہی عادت پر قیاس کرتا ہے، گمان تھا کہ وہ حضرات بیحیا سے بے حیا ہوں،  پھر بھی ایسی ہی سخت سے سخت ناپاک ترخبیث گندی گھناؤنی ابلیسی ملعون تحریر کا نام لیتے کچھ تو شرمائیں گے جس کی کمال بے حیائیوں ڈھٹائیوں کی نظیر جہان بھر میں کہیں نہ پائیں گے۔ مگر واضح ہوا کہ وہاں بغضبِ الہی ایک حمام میں سب ننگے ہیں،  مدرسہ دیوبند سے اس کی اشاعت تو دیکھ ہی چکے،  اب در بھنگی صاحب کی حیاء ملاحظہ ہو،  ۱۴ ربیع الاخر شریف کو جناب تھانوی صاحب سے رجسٹری شدہ نوٹس میں استفسار فرمایا تھا کہ کیا آپ مناظرہ کو آمادہ ہوئے ہیں۔ کیا آپ نےد ربھنگی صاحب کو اپنا وکیل مطلق کیا ہے۔
آج سوا مہینہ گزرا تھانوی صاحب کو تو حسب عادت جو سونگھ جاتا تھا سونگھ گیا یا دماغ شریف سونٹھ کی ناس سے اونگھتا ہی رہتا ہے اور بھی اونگھ گیا۔ مگر ۳۰ ربیع الاخر شریف کو در بھنگی جی اچھلے،  اور اپنی ہی خصلت و نسبت کے موافق بہت کچھ کلمات ناپاک اور غلیظ اپنے دہن شریف سے اگلے اور ایک دو ورقہ اپنے نصیبوں کی طرح سیاہ فرمایا جس کا حاصل صرف اس قدر کہ ہاں ہم تھانوی صاحب کے وکیل ہیں،  کیا ہم نہیں کہتے کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں ہم نے معززوں کے سامنے کہہ دیا ہے کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں۔ ہاں ہاں اے لو،  خدا کی قسم ہم تھانوی کے وکیل ہیں تھانوی جی سے کیوں پوچھو کہ تم نے وکیل کیا یا نہیں،  ہم جو کہہ رہے ہیں کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں۔ اچھا تھانوی جی نہیں بولتے کہ ہم ان کے وکیل ہیں تو ان کے نہ بولنے سے کیا یہ مِٹ جائے گا کہ ہم تھانوی کے بول ہیں،  ہم خود تو بول رہے ہیں کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں تو گنگوہی کی آنکھوں کی قسم ہم تھانوی کے وکیل ہیں۔ مسلمانو! خدارا انصاف یہ صورتیں مناظرہ کرنے کی ہیں۔ اللہ و رسول ( جل و علا،  وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کی جیسی عزت ان کی نگاہوں مین ہے طشت ازبام ہے اسی پر تو عرب و عجم میں حل و حرم میں ان پر لعنتوں کا لام ہے۔ ہاں بعض دنیاوی عزتوں کا بھاری بوجھ پڑا کہ دفع الوقعتی کو دربھنگی صاحب مغالطہ دہی کے لیے اپنے منہ آپ جناب تھانوی صاحب کے وکیل بن بیٹھے۔ اوّل روز سے تھانوی صاحب پر تمام رسائل و اعلانات میں یہی تقاضا سوار تھا کہ خودمناظر ہ میں آتے ہول کھاتے ہو، کھاؤ اپنے مہر ودستخط سے کسی کو وکیل بناؤ،  بارے اب خدا خدا کرکے وکالت کی بھِنک سُنی تو اس کی تحقیقات حرام ہے۔ خود ساختہ وکیل صاحب کا جبروتی حکم ہے کہ جناب تھانوی صاحب کی مہر کیسی، دستخط کہاں کے۔ ان سے پوچھنا ہی بے ضابطہ ہے۔ ہم خود ہی جو کہہ رہے ہیں کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہے۔ تھانوی کو رجسڑی شدہ نوٹس پہنچا جس میں وکیل کرنے نہ کرنے کو ان سے پوچھا وہ نہ بولے ،  لاکھ نہ بولیں،  ان کے نہ بولنے سے کیا ہوا،  بس اتنا ہی ،  نہ کہ یہ سمجھا گیا کہ انہوں نے ہم دربھنگی صاحب کو وکیل ہر گز نہ کیا۔ پھر اس سے کیا ہوتا ہے ہم خود جو فرمارہے ہیں کہ ہاں ہم کو تھانوی جی نے وکیل کیا ہے۔ اس میں ہماری ہاں کے آگے تھانوی جی کے نائے نوئے یا ہائے ہوئے یا ٹال مٹول یا اول فول یا قول فعل کسی حرکت کا اصلاً اعتبار ہی کیا ہے،  آپ نے نہیں سُنا کہ    ع

گھر سے آیا ہے معتبر نائی
مسلمانو! نہ فقط مسلمانوں، جہان بھر کے ذرا سی بھی عقل و تمیز رکھنے والو! کبھی اس مزہ کی وکالت کہیں سنی ہے،  گویا اس پیرانہ سالہ میں دیو بندیوں نے گھیر گھار کر دوگز اٹیا کیا سر پر لپیٹ دی۔ گورنمنٹ گنگوہیت نے در بھنگی صاحب کے بیرسڑی کا بِلّا لگا دیا کہ موکل کے انکار اقرار کی کچھ حاجت نہیں فقط ان کا فرمانا کافی ہے ،  یا وہ تمام دیوبندیوں خواہ خواص تھانوی صاحب کے گھر کی عام مختاری کا ڈپلومہ ان کے پرودینا تھا جس کے بعد تو وکیل کی نسبت دریافت کرنا ہی بے ضابطگی ہے۔
مسلمانو! کیا وکالت یونہی ثابت ہوتی ہے،  کیا اس سے دربھنگی صاحب کی محض جھوٹی وکالت کا ہوائی ببولا نہ پھوٹ گیا۔ جناب تھانوی صاحب نے دبی زبان بھی اتنی ہانک نہ دی کہ میں نے وکیل تو کیا ہے،  کیا ایسے ہی منہ مناظرہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اللہ اللہ جناب تھانوی صاحب کی یہ گریز،  یہ فرار،  یہ ہول،  یہ خوف،  یہ صموت اور اس پر اذناب کی یہ حالتیں،  اور پھر مناظرہ کا نام بدنام ، ارے نامردی تو خدا نے دی ہے،  مار مار تو کیے جاؤ ازلی نصیبو انہیں حالتوں پر عظمائے اسلام کو لکھتے ہو کہ خدا نے جو ذلت اور رسوائی آخری عمر میں آپ کی گردن کا طوق بنادیا ہے کیا ان ناپاک چالوں اور بے شرمی کے حیلوں سے ٹال سکتے ہیں۔
ضربت علیھم الذلّۃ والمسکنۃ
 (ان پر مقررکردی گئی خواری اور ناداری ۔ت) کے مصداق ہو کر عزت کی طلب فضول اور عبث ہے۔
ارے منافقو! تمہارے اگلے تو اس سے بھی بڑھ کر کہہ گئے تھے کہ :"
لئن رجعنا الٰی المدینۃ لیخرجن الاعزّمنھا الاذل" ۱ ؎۔
اگر ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اُسے جو نہایت ذلت والا ہے۔(ت)
 ( ۱؎ القرآن الکریم  ۶۳ /۸)
اس پر قرآن عظیم نے کیا جواب دیا :
وﷲالعزۃ ولرسولہ وللمؤمنین و لٰکن المنفقین لایعلمون  ۲ ؎۔
عزت تو اﷲ و رسول اور مسلمانوں کے لیے ہے مگر منافقین کو خبر نہیں۔
 (۲ ؎القرآن الکریم  ۶۳ /۸)
وہ ملا عنہ ہمیشہ الہٰی عزت کو ذلت ہی تعبیر کرتے یا اندھے ابلیس کی اندھی نسلوں کو عزت کی ذلت نہیں سوجھتی،  اسی پر تو قرآن عظیم نے فرمایا :
قاتلھم اﷲ انی یؤفکون ۱ ؎۔
خدا انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
 (۱ ؎ القرآن الکریم     ۹ /۳۰)
یہی ترکہ اگر آ پ نے پایا کیا جائے شکایت ہے،  واقعی جن کو اﷲ تعالٰی اوندھا کہے ان کی اوندھی اوندھی مَت میں اس سے بڑھ کر ناپاک چال اور بے شرمی کا حیلہ کیا ہے کہ زید سے پوچھا جائے عمرو جو اپنے آپ کو تیرا وکیل بتاتا ہے کیا تو نے اسے وکیل کیا ہے اور کمال پاک چال اور بڑی شرمیلی حیلہ گری کیا ہے یہ کہ ۳۵ سال ضربیں کھا کر بعض دنیاوی رئیسوں کے دباؤ سے جب دم پر بنے تو ایک بے معنی خود وکیل بنے،  جب فرضی موکل صاحب سے تصدیق طلب ہو کہ کیا آپ نے اسے وکیل کیا تو پھر یا مظہر العجائب جواب مع مجیب غائب،  بس اور تو کیا کہوں اور اس سے بہتر کہہ بھی کیا سکوں جو قرآن عظیم فرما چکا  کہ :
قاتلھم اﷲ انی یؤفکون ۲ ؎۔
خدا انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
 (۲ ؎ القرآن الکریم     ۹ /۳۰)
خیر یہ تو مناظرہ دہلی کا خاتمہ تھا جو تھانوی صاحب کی کمال دہشت خواری بے تکان فراری یا در بھنگی بولوں میں اُن کی آخری عمر کی سخت ذلت وخواری پر ہوا ۔اور ہونا ہی چاہیے تھا کہ قرآن پاک فرماچکا تھا :
ان اللہ لا یھدی القوم الفاسقین۳؂ ۔
بے شک اللہ تعالٰی فاسقوں کو راہ نہیں دیتا(ت) اورصاف ارشاد فرمایا
"قاتلھم اﷲ اَنّٰی یؤفکون "۴ ؎
خداانہیں مارےکہاں اوندھے جاتے ہیں۔(ت)
 ( ۳ ؎القرآن الکریم     ۶۳ /۶)	 (۴ ؎القرآن الکریم ۹ /۳۰)
یہاں کہنا یہ ہے کہ رسالہ ملعونہ خبیثہ مذکورہ کے کوتک آپ ملاحظہ فرماچکے اور حاشا وہ اس کے چہارم کو تک بھی نہیں۔ خیال تھا کہ دیوبندی مدرسہ سے اگرچہ اس کی اشاعت کا اعلان ہے مگر کوئی دیوبندی مُلانا ایسی ناپاک ملعونہ کو اپنی کہتے کچھ تو لے جائے گا۔ لیکن یہ خیال غلط نکلا۔ اب یہی در بھنگی صاحب،  نہیں نہیں بلکہ کچھ دنوں کے لیے ان کے منہ یہی تھانوی صاحب ،  ہاں ہاں یہی سارے کے سارے دیوبندیوں کے مشکل کشا،  مناظر ،  بیرسٹر ،  پلیڈر ،  حاویئ جملہ اصول و نظائر اپنے اُسی خواری نامہ ۳۰ ربیع الاخر میں فرماتے ہیں،  تحریر میں بھی اب آپ کی حقیقت دیکھنی ہے،  سیف النقی اور دین کا ڈنکا تو طبع ہوچکا ہے۔ ملاحظہ سے گزرا ہوگا،  الشہاب الثاقب اور رجوم بھی طبع ہونے والا ہے،  وہ دیکھئے کس فخر کے ساتھ اس ملعونہ کا نام لیا ہے۔ اﷲ اﷲ مسلمانوں،  نہ صرف مسلمانوں،  دنیا بھر کے عاقلوں سے پوچھ دیکھو کہ کبھی کسی بیحیا سے بیحیا ناپاک،  گھناؤنی سے گھناؤنی ،  بے باک سے بے باک،  پاجی،  کمینی،  گندی قوم نے اپنے خصم کے مقابل بے دھڑک ایسی حرکات کیں۔ آنکھیں میچ کر گندا منہ پھاڑ کر ان پر فخر کیے۔ انہیں سرِ بازار شائع کیا اور ان پر افتخار ہی نہیں۔ بلکہ سُنتے ہیں کہ ان میں کوئی نئی نویلی،  حیادار،  شرمیلی ،  بانکی،  نکیلی،  میٹھی،  رسیلی ،  اچیل،  البیلی ، چنچل، انیلی،  اجودھیا باشی آنکھ یہ تان لیتی اُپجی ہے۔ع

ناچنے ہی کو جو نکلے تو کہاں کی گھونگھٹ
اس فاحشہ آنکھ نے کوئی نیا غمزہ تراشا اور اس کا نام شہابِ ثاقب رکھا ہے کہ خود اسی کے شیطانی بے حیائی پر شہاب ثاقب ہے اس میں وہ حیا پریدہ گیسو بریدہ افتخار سے استناد ، استنادسے اعتماد تک بڑھی ہے،  کہیں تو اسی ملعونہ بظلم مسمّات سیف النقی کا آنچل پکڑ کے سندلائی ا ور اس کا بھی سہارا چھوڑ خود اپنی طرف سے وہی بے سُری گائی وہ تازہ غمزہ پاروں تک پہنچا تو اِن شاء اﷲ العزیز اس کی جدا خبر لی جائے گی۔
مسلمانو ! بلکہ ہر مذہب کے عاقلو،  کیا ایسوں سے کسی مخاطبہ کا محل رہ گیا کیا اُن کا عجز لاکھوں آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوگیا۔بدنصیبوں میں کچھ بھی سکت ہوتی تو ایسی ناپاک حرکت جس کی نظیر آریوں ،  پادریوں ہندوؤں ،  بت پرستوں کسی میں نہ ملے ہر گز اختیار نہ کی جاتی۔

ارے دم ہے کسی تھانوی،  دربھنگی،  سرہنگی،  سربھنگی،  انبٹھی،  دیوبندی ،  نانوتوی،  گنگوہی،  امرتسری،  دہلوی،  جنگلی کو ہی میں کہ اُن من گھڑت کتابوں،  اُن کے صفحہ ،  اُن کی عبارتوں کا ثبوت دے اور نہ دے سکے تو کسی علمی بحث یا انسانی بات میں کسی عاقل کے لگنے کے قابل اپنا منہ بناسکے۔ ؎

اسی کو تک پہ یہ لپکا کہ کوئی منہ لگے تیرے

جو تجھ سے بڑھ کے گندا ہو وہ پاجی منہ لگے تیرے
بھلا یہ تو اصغر حسین جی دیوبندی ومرتضٰی حسن جی دربھنگی وحسین احمد جی اجودھیا باشی کے تانگے تھے خود پر انے جہان دیدہ گرم وسردچشیدہ عالیجناب تھانوی صاحب کا چرچہ ملاحظہ ہو۔

ارے بے دم ہے کسی وہابی بے دم میں
اسی ذی العقدہ ۲۸ھ کی ۲۰ تاریخ کو اعلٰیحضرت مجددِ دین و ملت نے " تھانوی صاحب کا چرخہ"  کے نام ایک مفاوضہ عالیہ مسمّٰی بنام تاریخی ابحاث اخیرہ (۱۳۲۸ھ) امضا فرمایا جس کے تذکارات نمبر۹میں ارشاد ہو! " یہ مانا کہ جب جواب بن ہی نہ پڑے تو کیا کیجئے کس گھر سے دیجئے مگر والا جنابا! ایسی ایسی صورتوں میں انصاف یہ تھا کہ اپنے اتباع کا منہ بند کرتے معاملہ دین میں ایسی ناگفتنی حرکات پر انہیں لجاتے شرماتے ،  اگر جناب کی سے ترغیب نہ تھی تو کم از کم آپ کے سکوت نے انہیں شہ دی یہاں تک کہ انہوں نے سیف النقی جیسی تحریر شائع کی جس کی نظیر آج تک کسی آریہ یا پادری سے بھی بن نہ پڑی" 

پھر استفسارات میں فرمایا۔

(۷) آخر آپ بھی اللہ واحد قہار جل و علا کا نام تو لیتے ہیں اسی واحد قہار جبار کی شہادت سے بتائیے کہ یہ حرکات  جو آپ کے یہاں کے علمائے مناظرین کررہے ہیں صاف صریح اُن کے عجز کامل اور نہایت گندے جملہ بزدل کی دلیل روشن ہیں یا نہیں۔

(۸) جو حصرات ایسی حرکات اور اتنی بے تکلفی اختیار کریں،  چھپوائیں،  بیچیں،  بانٹیں،  شائع و آشکار کریں،  پیش کریں،  حوالہ دیں،  افتخار کریں،  امورِ مذکورہ کو رواہ رکھیں،  ترکِ انسداد و انکار کریں کسی غافل کے نزدیک لائق خطاب ٹھہراسکتے ہیں یا صاف ظاہر ہوگیا کہ مناظرہ آخر ہوگیا۔

(۹) اُسی واحد قہار جل جلالہ کی شہادت سے یہ بھی بتادیجئے کہ وہ رسالہ ملعونہ جو خاص جناب کے مدرسہ دیوبند سے اشاعت ہورہا ہے اس اشاعت کی آپ کو اطلاع تو ظاہر مگر اس میں آپ کے مشورے آپ کی شرکت ہے یا نہیں؟ نہیں تو آپ کی رضا ورغبت ہے یا نہیں،  نہیں تو آپ کو سکوت اور اس سکوت کا محصل اجازت ہے یا نہیں۔ الخ۔

تھانوی صاحب حسب ِ عادت خاموش و خود فراموش ،  غرض بات وہی ہے کہ ایک حمام میں سب ننگے۔ع

بے حیا باش آنچہ خواہی کُن

( بے حیا ہوجا پھر جو چاہے کر، ت)
خیر ایسوں کے منہ کہاں تک لگیں اصل بات جس پر اس تمہید کا آغاز تھا عرض کریں کہ اللہ عزوجل جن قلوب کو ہدایت فرماتا ہے ان کا قدم ثبات جادہ حق سے لغزش نہیں کرتا اگر ذریتِ شیطان وسوسے ڈالے تو اس پر اعتماد نہیں کرتے پھر جب امرِ حق جھلک دکھاتا ہے معاً ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اس کی تصدیق والا حضرت بالا در جت معلٰی برکت حضرت سید حسین حیدر میاں صاحب قبلہ حسینی زیدی واسطی مارہری دامت برکاتہم کا واقعہ نفیسہ ہے حضرت والا اجلہ سادات عظام و صاحبزادگان سرکار مارہرہ مطہرہ و تلامذہ اعلٰیحضرت تاج الفحول محب الرسول مولٰینا مولوی حافظ حاجی شاہ محمد عبدالقادر صاحب قادری عثمانی بدایونی قدس سرہ الشریف سے ہیں لکھنؤ ا پنے بعض اعزہ کے معالجہ کو تشریف لائے تھے،  شیاطین غراب خوارِ دیوبندیہ کی غرابیں تو ہندوستان میں برساتی حشرات الارض کی طرح پھیلی ہیں حضرت جھوائی ٹولہ میں فرو کش تھے دروازہ کے قریب ایک شب کچھ دیوبندی غرابوں کا آپس میں یہ ذکر کرتے سناکہ مولوی احمد رضا خاں صاحب رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے غلمِ غیب کے قائل ہوگئے ہیں اور یہ عقیدہ کفر کاہے،  اور حسبِ عادت افتراء و تہمت بک رہے تھے حضرت کو بہت ناگوار گزرا۔ مگر اللہ اکبر ادھر رب عزوجل کا ارشاد کہ :
ان جاء کم فاسق بنبأ فتبیّنُوا۱؂۔
جب کوئی فاسق تمہارے پاس کچھ خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلو۔
 (۱ ؎ القرآن الکریم     ۴۹/ ۶ )
ادھر حضرت میں دینِ متین کی حرارت ،  صبح ہی اعلٰیحضرت مجدد المائۃ الحاضرہ کے نام والا نامہ تحریر فرمایا جس کے ہاشمی تیور یہاں تک تھے کہ "  بہر نوع مجھ کو اپنی تسکین کی ضرورت ہے اگر آپ سے ممکن ہو تو فرمادیجئے ۔"  حتی کہ ارشاد فرمایا تھا ۔ "  اگر اس میرے عریضہ کا جواب شافی آپ نہ دیں گے تو یہ عقیدہ علم غیب کا مجھ کو اپنا تبدیل کرنا پڑے گا۔
اعلٰیحضرت مجدد دین و ملت نے فوراً یہ خط جو اس وقت بنام خالص الاعتقاد آپ کے پیش نظر ہے حضرتِ  والا کورجسٹری بھیجا اور اس سے کے ساتھ
"انباء المصطفی" و "حسام الحرمین" و "تمھید ایمان" و "بطش غیب" و "ظفر الدین الطیب "
  وغیرہا بھی ارسال کیے۔ الحمدﷲ کہ اسی آیۃ کریمہ کا ظہور ہوا کہ
تذکروافاذاھم مبصرون  ۲ ؎۔
تقوٰی والوں پر شیطان کچھ وسوسہ ڈالے تو وہ معاً ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ 

اس خط و رسائل کو تمام و کمال تین ہفتہ میں ملاحظہ فرما کر حضرت والا نے یہ دو گرامی نامے اعلٰیحضرت کو ارسال فرمائے۔
 ( ۲ ؎القرآن الکریم ۷/ ۲۰۱)
Flag Counter