اب وہابیہ کی مکاریاں دیکھیے۔
اولاً : انہیں معلوم ہوا کہ سرکار اعظم مدینہ طیبہ میں مفتی شافعیہ کو باتباع اہلِ ظاہر بعض مسائل قسم سوم میں خلاف ہے، خبثاء کا اپنا خلاف تو مسائل قسم اول میں تھا انکار ضروریاتِ دیں و توہین حضور پر نور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کرکے خود انہیں مفتی شافعیہ و جملہ مفتیانِ کرام ہر دو حرم محترم کے روشن فتوؤں سے کافر مرتد مستحقِ لعنتِ ابد ٹھہر چکے تھے، جھٹ سب سے ہلکی قسم سوم میں خلاف لاڈالا۔ دو فائدے سوچ کر ایک یہ کہ جب مسئلہ خود اہلسنت کا خلافیہ ہے تو ادھر بھی عباراتِ علماء مل جائیں گی۔ ناواقفوں کے سامنے غُل مچانے کی گنجائش تو ہوگی، دوسرے سب سے بڑا جل یہ کہ مفتی صاحب سے کوئی تحریر ہاتھ آسکے گی جسے بزورِ زبان و زورِ بہتان حسام الحرمین کا معاوضہ ٹھہرا سکین اور گلے پھاڑ کر چیخننا شروع کیا کہ علمِ غیب میں مناظرہ کرلو۔ ہیے کی پھوٹوں سے کہیے کہ مسائل قسم اول تو اصل الاصول مسائل علم غیب ہیں۔ خبیثو! تم ان کے منکر ہو کر باجماع علمائے حرمین شریفین کافرٹھہرچکے ہو۔ انہیں چھوڑ کر سب سے ہلکے مسائل قسم سوم کی طرف کہاں رہے جاتے ہو جو خود ہم اہلسنت کے خلافیہ ہیں۔ پہلے مسلمان تو ہو لو پھر کسی فرعی مسئلہ کو چھیڑو۔ اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی ملعون معاذ اﷲ اﷲ عزوجل کے لیے ہمارے ہی سے ہاتھ، پاؤں ، آنکھ، کان، گوشت ، پوست، استخواں سے مرکب مانے، اور جب اہل اسلام اس کی تکفیر کریں تو ید و عین میں مسئلہ خلافیہ تاویل و تفویض میں بحث کی آڑلے، اس سے یہی کہا جائے گا کہ ابلیس کے مسخرے تو توصراحۃً اُس قدوس متعالی عزجلالہ کو اپنا سا جسم مان کر کافر ہوچکا ہے تجھ سے اور اس مسئلہ خلافیہ اہلسنت سے کیا علاقہ۔ دجّال کے گدھے پہلے آدمی تو بن مسلمان تو ہو۔ پھر تفویض و تاویل پوچھیو، مسلمانو! ان خبثاء کے علمِ غیب رٹنے کا یہ حاصل ہے۔
تعسالھم واضل اعمالہم
( ان پر تباہی پڑے اور اللہ انکے اعمال برباد کرے۔ت)
ثانیاً پیش خویش یہ منصوبےگانٹھ کر ایک مقہور مخصوم آثم ماثوم (عہ) زنگی کافور موسوم کو (کہ مکہ معظمہ میں بعون اﷲ تعالٰی خائب و خاسر و ذلیل و مخصوم ہوچکا تھا یہاں تک کہ علمائے کرام حرم شریف نے اس کا نام ہی بدل کر مخصوم رکھ دیا تھا۔) متعین کیا کہ مکہ معظمہ میں تو چھل پیچ نہ چلا مجدد دین و ملت کے انوار علم نے حرم شریف کے کُوچے کو جگمگادیا ہے یہاں کے علمائے کرام بعون الملک العلام فریب میں نہ آئیں گے سرکار اعظم مدینہ طیبہ میں ہنوز
"الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ) "
کا آفتاب طالع نہیں ہوا اور مفتی شافعیہ کو خمس میں اشتباہ ہے ہی وہاں جل کھیلیں، مخصوم ماثوم ہے، ذی ہوش سمجھا کہ اس قدر سے اپنی جگری چہیتوں کفر و ارتداد کی مصیبت بیتون کے اندرونی گہرے زخم جانکاہ کا کیا مرہم ہوگا کہ مسئلہ خود اہلسنت کا خلافیہ ہے بڑھ سے بڑھ اتنا ہوگا کہ مفتی صاحب اپنا قول مختار لکھ دیں اور دوسرے قول کو خلافِ تحقیق بتائیں، یہ تو آئمہ و علماء میں صحابہ کرام کے وقت سے آج تک برابر ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا اس سے کیا کام چلے گا، لہذا اس میں یہ نمک مرچ ملائے گئے کہ اعلٰیحضرت مجدد دین و ملت نے اپنے رسالہ میں علم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سوا علومِ ذات و صفات الہی کے جملہ معلوماتِ الہٰیہ غیر متناہیہ بالفعل کو بتفصیل تام محیط ٹھہرایا اور اس احاطہ میں علمِ الہٰی و علم نبوی میں صرف قدمِ و حدوث کا فرق بتایا ہے۔
مفتریوں پر کمالِ قہرِ الہٰی کا ثمر یہ کہ یہ من گھڑت باتیں رسالہ اعلٰیحضرت کی طرف نسبت کیں جس میں صراحۃً ان اباطیل کا روشن رَد ہے جس کا ذکر بعونہ تعالٰی عنقریب آتا ہے رسالے میں اگر ان باتوں کی نسبت ہاں ونہ، کچھ نہ ہوتا تو ان کا اس کی طرف منسوب کرنا سخت خبیث افتراء تھا نہ کہ رسالے میں بتصریح نام روشن و و اضح طور پر جن باتوں کا رد ہوا انہیں کو اس کی طرف نسبت کردیا جائے اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی معلون کہے قرآن عظیم میں عیسٰی مسیح کو خدا لکھا ہے
"ان اﷲ ھوالمسیح ابن مریم " ۱ ؎۔
( بے شک اﷲ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ت)
(۱ ؎ القرآن الکریم ۵ /۱۷)
اس سے یہی کہا جائے گا کہ اوملعون مجنون ابلیس کے مفتون سوجھ کر قرآن عظیم میں ایسا فرمایا ہے یا اس کا رَد ارشا د ہوا ہے کہ :
لقد کفر الذین قالوا ان اﷲ ھو المسیح ابن مریم قل فمن یملک من اﷲ شیئا ان ارادان یھلک المسیح ا بن مریم و امہ و من فی الارض جمیعا ۱۔
بے شک کافر ہیں وہ جو مسیح ابن مریم کو خدا کہتے ہیں تم فرمادو کہ کسی کو اﷲ پر کچھ اختیار ہے اگر وہ مسیح ابن مریم اور انکی ماں اور تمام اہل زمین کو فنا کردینا چاہیے۔
(۱ ؎ القرآن الکریم ۵ /۱۷)
اعلٰیحضرت نے یہ مبارک رسالہ مکہ معظمہ میں تصنیف فرمایا اکابر علمائے مکہ نے خواہش کرکے اس کی نقلیں لیں اس رسالہ کی قسم اول جناب مفتی برزنجی صاحب نے پڑھوا کر سنی حاش ﷲ ہزار ہزار بار حاش ﷲ زنہار معقول و مقبول نہیں کہ معاذ اﷲ خود حضرت ممدوح ایسے اخبث انجس افترائے ملعون تراشیں یا اُن کا تراشنا روا رکھیں بلکہ ضرور ضرور ان دل کے اندھوں نے اس مقدس مفتی کی ظاہری نابینائی سے فائدہ اٹھایا اور کوئی نہ کوئی کارروائی دھوکے فریب یا تحریف تصحیف کی عمل میں لائی گئی۔
انما یفتری الکذب الذی لایؤمنون ۲ ؎۔
(افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵)
اپنے پرانوں
المرجفون فی المدینۃ ۳ ؎۔
( مدینہ میں جھوٹ اڑانے والوں۔ ت) کا ترکہ پایا۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۴ ؎۔
( اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
( ۳ ؎القرآن الکریم ۳۳ /۶۰) (۴؎ القرآن الکریم ۲۶ / ۲۲۷)
ثالثاً : خبثاء نے کھایا بھی اور کال بھی نہ کٹا : مفتی صاحب نے ان افترائی اقوال پر بھی اتنا ہی حکم دیا کہ غلط اور تفسیرقرآن پر بے دلیل جرأت ہے اشقیاء کے طائفہ بھر کی چھاتیاں پھٹ گئیں کہ ہائے ہائے رسول کے شہر میں خدا کا قہر سر پر اوڑھا اور کچھ کام نہ چلا۔ اب رامپور، بریلی ، دیوبند، تھانہ بھون ، انبیٹھ گنگوہ، دہلی، پنجاب وغیرہا کے سب پنج غیب جڑجڑا کر کمیٹیاں ہوئیں اور رائے پاس ہولی کہ ابلیسی مسخرو! تم اور غم کرو۔ ارے افترا کی مشین تو تمہارے گھر چل رہی ہے۔ مجددِ ملت پر افترا جوڑے تھے حضرت مفی صاحب پر جوڑتے ہوئے کیوں مرے جاتے ہو، بنا برآں پہلے افتراء میں وہ جو علوم ذات و صفاتِ الہٰی کا استثناء رکھا تھا اپنے ہی چھپے ہوئے رسالے غایۃ المامول سے اسے بھی اڑادیا جناب منور علی رامپوری اینڈ کو جو اس رسالہ غایۃ المامول کے لانے والے چھانپے والے ہیں مسلمان سب سے پہلے انہیں کی دن دہاڑے چوری اور سر زوری ملاحظہ فرمائیں ۔ رسالے کے صفحہ ۳ پر مفتی صاحب کی طرف منسوب عبارت تویہ چھاپی :
ذھب فیہا ای صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علمہ محیط بکل شیئ حتی المغیبات الخمس وانہ لا یستثنٰی من ذلک الا العلم المتعلق بذات اﷲ تعالٰی وصفاتہ۔
اس کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم ہر شے کو محیط ہے حتی کہ مغیبات خمسہ کو بھی، اور وہ اﷲ تعالٰی کی ذات و صفات سے متعلق علم کے سوا کسی علم کو اس سے مستثنٰی نہیں کرتا۔ (ت)
جس میں علم متعلق بذاتِ الہٰی و صفاتِ الہی کا صریح استثناء موجود ہے اور اس عبارت کے منگھڑت خلاصہ کا ترجمہ آخر کتاب میں یوں چھاپا کہ "رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم بھی ایسا ہی محیط ہے جیسے اﷲ تعالٰی کا اور آپ کے علم اور اﷲ تعالٰی کے علم میں کوئی فرق نہیں سوائے حدو ث و قدم کے "۔
ملاحظہ ہو کہ وہ علم ذات و صفات کا استثناء یک لخت اڑ گیا ۔ اور بلا استثناء جمیع معلوماتِ الہیہ کو علم نبوی محیط ماننے کا بہتان جڑ گیا۔ بیجا بددین لوگ اکثر افتراء گانٹھا کرتے ہیں اس کا کچھ گلہ نہیں مگر۔
چہ دلاور است دُزدے کہ بکف چراغ دارد
( چور کتنا دلیر ہے کہ ہاتھ میں چراغ رکھتاہے ۔ت)
کاسماں اور ہی مزہ رکھتا ہے، جس کتاب میں تحریف کریں اسی کے ساتھ اسی کی پشت پر چھاپ دیں اور پھر سرِ بازار مسلمانوں کو آنکھیں دکھائیں۔ تف تف تف تف سے کیا ہوتا ہے جب خدا کی لعنت ہی کا خوف نہیں پھرا، پھر اس چالبازی کی کیا شکایت کہ مفتی صاحب کی طرف عبارت تو یہ منسوب کی
" العلنی علی رسالۃ ذھب فیھا"
، جس کا صاف مفادیہ کہ یہ مضمون اس رسالہ کا ہے، حالانکہ رسالہ میں اس کا صاف رَد لکھا ہے، اور باطنی طائفہ نجدیت کے امام (عہ: اسماعیل دہلوی کی صراط مستقیم میں) معصوم سفلی آسمان کذب و افتراء کے بدر منور اس کا ترجمہ یوں گانٹھتے ہیں " اپنے دوسرے رسالہ علم غیب کی مجھ کو خبر دی اور اس کا یہ مدعا بیان کیا ۔" یعنی یہ مدعا زبانی بیان میں تھا نہ کہ رسالہ میں۔
تاکہ کوئی رسالہ کا تپانچہ دے کر جھوٹ بکنے والا لوٹ دے کر مفتریو رسالہ میں یہ قول لکھا ہے یا اس کا رَد کیا ہے۔ پھر اس ننھی سی کتر بیونت کا کیا گلہ کہ مفتی صاحب کی طرف عبارت تو یہ منسوب کی
" فلم ال جھدا فی بیان ان الآیۃ المذکورۃ لا تدل علی مدعاہ دلالۃ قطعیۃ "
جس کا صاف ترجمہ یہ ہے کہ میں نے اپنے چلتی اس بیان میں کمی نہ کی کہ آیت ان کے دعوٰی پر ایسی دلالت نہیں کرتی جو یقینی قطعی ہو۔ اب قصروہابیت کے منور محل کا چمکتا ترجمہ سنئے ۔ آیت مذکور ہ تمہارے دعوی کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ کہاں نفی تیقن کہ یقینی طور پر اثبات نہیں اور کہاں استحالہ کی دلیل ہو ہی نہیں سکتی دو سطر کے ترجمہ میں یہ ڈھٹائیاں اور واں گھائیاں یہ دلربائیاں اور پھر دین و دیانت کا دعوٰی پر قرار ۔ ع
چوں وضوئے محکم بی بی تمیز
( بی بی تمیز کے محکم مضبوط وضو کی طرح۔ت)
پھر یہ شرمیلی جھانولی تو خاص انعام دینے کے قابل کہ اسی صفحہ ۳ عبارت مفتی صاحب میں قادیانی ، پھر طائفہ امیریہ امیر حسن سہسوانی ، پھر طائفہ نذیریہ نذیر حسین دہلوی ، پھر طائفہ قاسمیہ قاسم نانوتوی ، پھر رشید احمد گنگوہی، پھر اشرف علی تھانوی، یہ سارے کے سارے نام بنام مذکور تھے اور ان سب پر جب کہ وہ اقوال ان کے ہوں احکام کفر و ضلال مسطور تھے، تنِ وہابیت کی منور جان جو سرمائی نظروں سے اس کے ترجمہ پر آئیں تو یوں جھلک دے کر الوپ ہوجائیں کہ ہندوستان میں کچھ لوگ گمراہ اور اہلِ کفر ہیں جو ایسا ایسا کہتے ہیں منجملہ ان کے غلام احمد قادیانی وغیرہ وغیرہ ملاحظہ ہو اپنے پانچوں کو کیا وغیرہ وغیرہ کے پردے میں بٹھایا، وغیرہ کی خاک ڈال کر بلی کی طرح چھپایا ہے غرض ؎
عیّار ہو مکّار ہو جو آج ہو تم ہو بندے ہو مگر خوفِ خدا نہیں رکھتے
_______________________________
ارے بیباک! کیا کہنا ہے تیری اس وغیرہ کا یہی پردہ ہے سارے ایر غیر ا نتھُّو خیرا کا
بریلی کے وہابیہ بھی انہیں حضرت کی چال پر پھول کر اپنی بتیاں والی تحریر سر بازار تشہیر کر ابیٹھے۔ مسلمانوں نے پانسو روپے انعام کا اشتہار دیا اگر ایک ہفتہ میں اپنے افتراؤں کا ثبوت دے دیں۔ معیاد گزری اور اس سے دو چند زمانہ گزرا، اور پھر سہ چند تک نوبت پہنچی مگر کسی مفتری کذب کے لب نہ کھلے :
فبھت الذی کفر ، واﷲ لایھدی القوم الظالمین ۱ ؎۔
تو ہوش اڑ گئے کافر کے، اور اﷲ راہ نہیں دکھاتاظالموں کو۔ ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲ /۲۵۸)
بیس (۲۰) روز بعد بعض بے حیا پردہ نشینوں نے کسی اپنے سعید کی فرضی آڑ سے دیوبندی کمیٹیوں کا نتیجہ چھاپا۔ پہلے دو اندھیر تھے تو اس میں افترابرافترا، افترا برافترا کے ڈھیر تھے اور واقعی کوئی ملعون طائفہ اپنے لعنتی افتراؤں کا ثبوت کہاں سے لائے سوا اس کے کہ لعنتوں پر لعنت ، غضبوں پر غضب اوڑھے، اس پر مسلمانوں نے
العذاب البئیس علی انجس حلائل ابلیس
ان پر نازل کیا اور تین ہزار روپے کا اعلان دیا اور ان کی مہلت تین ہفتے کردی اور برسم شہادت ان کے الفاظ کی ٹوکری در بھنگی وغیرہ سب کے ظاہر پیر تھانوی صاحب کے سردھردی ، اگرچہ برسوں کا تجربہ شاہد ہے کہ وہ تین توڑے دیکھ کر بھی لب نہ(عہ) کھولیں گے۔ اُن کی مہر دہن جب ٹوٹے کہ کچھ گنجائش سوجھے، خیر ایک تدبیر تو کفر پارٹی کی یہ تھی۔ دوسری تدبیر لعنتِ تحمیر اشد ملعونی کی بولتی تصویر فلک شیطنت کی بدر منیر ابلیس لعین کی بڑی ہمشیر اﷲ و رسول پر حملہ کے لیے کفر پارٹی کی ننگی شمشیر، یعنی رسالہ
ملعون و شقی ظلماً مسمّٰی سیف النقی۔
اس خبیثہ ملعونہ رسالہ نے وہ طرز اختیار کی کہ وہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی پر سے ۳۵ برس کا قرضہ ایک دم میں اُتروادے،
عہ : یہی واقع ہوا دس برس سے زیادہ گزرے تھانوی صاحب خاموش باختہ ہوش۔
آستانہ علویہ رضویہ سے پینتس سال کامل ہوئے کہ وہابیہ کا رداشاعت پارہا ہے اور آج تک بفضل وھاب جل و علا لاجواب رہا ہے۔ کسی گنگوہی ، نانوتوی ، انبٹھی ، تھانوی ، دیوبندی، دہلوی، امرتسری کو تاب نہ ہوئی کہ ایک حرف کا جواب لکھیں اور جب مطالبہ جواب کتب کا نام آیا ہے، متکلمین طائفہ نے جو مناظرہ رٹ رہے ہیں وہ وہ چک پھیریاں لیں، وہ وہ اڑان گھاٹیاں دکھائیں جن کا بیان رسالہ
الاستمتاع بذوات القناع
سے ظاہر شریفہ ظریفہ رشیدہ رسیدہ نے اپنے اقبال وسیع سے ان کے ادبار پر وضیق کو ایسی فراخی حوصلہ کی لَے سکھائی ہے کہ چاہیں تو ایک ایک منٹ میں اپنے خصموں کی ایک ایک کتاب کا جواب لکھ دیں۔ اور وہ بھی بے مثل و لاجواب لکھ دیں یعنی خصم کا جو قول چاہیں نقل کریں اور اس کے مخالف جتنی عبارات چاہیں خصم کے آباء واجداد و مشائخ کی طرف سے گھڑلیں اور ان کی تصانیف کے نا م بھی تراش لیں، ان کے مطبع بھی اپنے افترائی سانچے میں ڈھال لیں اور سر بازار بکمال حیا آنکھیں دکھانے کو ہوجائیں کہ تم تو کہتے ہو اور تمہارے والد ماجد اس کے خلاف فلاں کتاب میں یوں فرماتے ہیں، تمہارے جدامجد کا فلاں کتاب میں یہ ارشاد ہے ۔ فلاں مشائخ کرام فلاں فلاں کتاب میں یوں فرماگئے ہیں ان کتابوں کے یہ یہ نام ہیں، فلاں فلاں مطبع میں چھپی، ان کے فلاں فلاں صفحہ پر یہ عبارات ہیں ، کہیے اس سے بڑھ کر پکا اور کامل ثبوت اور کیا ہوگا۔ اور بعنایتِ الہٰی حقیقت دیکھئے تو ان کتابوں کا اصلاً کہیں روئے زمین پر نام و نشان نہیں ، نِری من گھڑت خیالی تراشیدہ خوابہائے پریشان جن کی تعبیر فقط اتنی کہ