Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
66 - 157
رسالہ

رماح القہار علی کفر الکفار(۱۳۲۸ھ)

(قہار کا نیزہ مارنا کافروں کےکفر پر)

(تمہیدِ "خالص الاعتقاد")
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد ﷲ ھادی القلوب ÷ وافضل الصلوۃ والسلام علی النبی المطلع علی الغیوب ÷ المنّزہ من جمیع النقائص والعیوب  ÷ وعلی اٰلہ و صحبہ المطھرین من الذنوب ÷  القاھرین علٰی کل شقی مفترکذوب  ÷ صلوۃ وسلاما یتجدان بکل طلوع وغروب ÷
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے جو دلوں کو ہدایت دینے والا ہے،  اور افضل درود و سلام اس نبی کریم پر جو تمام غیبوں پر آگاہ اور تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے اور آپ کی آل پر اور صحابہ پر جو گناہوں سے محفوظ اور ہر بدبخت افتراء پرداز ( جھوٹے) پر غالب ہیں ایسا درود و سلام جو ہر طلوع و غروب کے ساتھ متجدد ہوتا رہتا ہے۔) (ت)

اللہ عزوجل جن قلوب کو ہدایت فرماتا ہے اُن کا قدم ثبات جادہ حق سے لغزش نہیں کرتا اگر ذریت شیطان اپنے وسوسے شوشے کچھ ڈالتی بھی ہے تو ہر گز اس پر اعتماد نہیں کرتے کہ ان کے رب نے فرمادیا ہے :
ان جاءکم فاسق بنبأ فتبیّنوا ۱ ؎۔
اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو فوراً تحقیق کرلو بے تحقیق اعتبار نہ کر بیٹھو۔
 (۱ ؎ القرآن الکریم ۴۹ /۶)
پھر جب امر حق اپنی جھلک اُنہیں دکھاتا ہے فوراً ان کا وہ حال ہوتا ہے جو ا ن کے رب نے فرمایا :
ان الذین اتقوا اذا مسھم طائف من الشیطٰن تذکروافاذاھم مبصرون " ۲ ؎۔
بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے،  ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔(ت)
 ( ۲ ؎القرآن الکریم     ۷ /۲۰۱)
معاً ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ابلیس لعین کی ذریت نے جو پردہ ڈالنا چاہا تھا دھواں بن کر اڑجاتا اور آفتابِ حق اپنی نورانی کرنوں سے شعاعیں ڈالنا چمک آتا ہے ۔ وہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی نے جب اﷲ واحد قہار اور  اس کے حبیب سیدابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین و تکذیب اُس حد تک پہنچائی کہ ابلیس لعین کی ہزارہا سال کی کمائی پر فوق لے گئی ادھر اﷲ تبارک و تعالٰی نے اپنے بندہ عالم اہلسنت مجدد و دین و ملت د ام ظلہم الاقدس کو اُن خبثا کی سرکوبی پر مقرار فرمایا ، الحمدﷲ سرکوبی بھی وہ فرمائی جس سے عرب و عجم گونج اٹھے،  اکابر علمائے کرام حرمین شریفین نے ان شیاطین کے اقوال تکذیب و توہین پر ان کو کافر مرتد زندیق ملحد لکھا اور صاف فرمادیا کہ "
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر " ۳ ؎۔
جو ایسوں کے ان اقوال پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی انہیں طرح کافر ہے کہ اس نے اﷲ عزوجل کی عزت محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عظمت کو ہلکا جانا اُن کے بدگویوں کو کافر نہ مانا،
 ( ۳ ؎حسام الحرمین علی منح الکفروالمین     مطبع اہلسنت وجماعت بریلی     ص ۹۴)
الحمد ﷲ یہ مبارک فتوٰی
مسمّٰی بہ حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین (۱۳۲۴ھ)
ایسا بے نظیر مرتب ہوا جس نے وہابیت کے دلوں میں رعب ،  قلعوں میں زلزلے ڈال دئے۔ پھر نفیس و بے مثال تمھید ایمان بآیات قرآن (۱۳۲۶ھ) اس محمدی خنجر پر اور الہٰی صیقل ہوئی جس نے خدا و رسول کے دشنام دہندوں کے سب حیلے مٹادیئے اور صاف صاف صرف قرآن عظیم کی آیتوں نے اُن پر حکمِ کفر لگادیئے۔ کافروں کے پاس اس کے جواب کیا ہوتے اور بے توفیق الہٰی توبہ کیونکر کرتے ناچار مکرو فریب ،  جھوٹ ،کذب،  تہمت افترا ،  بہتان گالیوں،  ہذیانوں پر اُترے جو عاجزوں کی پچھلی تدبیر ہے خادمان سنت نے گالیوں سے اعراض اور اپنی ذات سے متعلق تہمتوں افتراؤں سے بھی اغماض ہی کیا ، باقی دھوکے بازیوں کے جواب ظفر الدین الجید و کین کش پنجہ پیچ و بارش سنگی و پیکانِ  جانگداز و ضروری نوٹس ونیا زمانہ و کشف راز وغیرہارسائل و اعلانات سے دیتے رہے ان رسالوں اشتہاروں کے جواب سے کفر پارٹی نے پھر ایک کان گونگا ایک بہرا رکھا اصلاً کسی بات کا جواب نہ دیا اور اپنی ٹائیں ٹائیں سے باز بھی نہ آئی جب دیکھا کہ یوں کام نہیں چلتا بالاخر مرتا کیا نہ کرتا پارٹی نے دو تدبیریں وہ بے مثال سوچیں کہ ابلیس العین بھی عش عش کر گیا کان ٹیک دیئے ان کے حسن پر غش کر گیا۔
تدبیر اوّل :

معاوضہ بالمثل یعنی علمائے اسلام نے کفر پارٹی کے کفر پر حرمین طیبین کا فتوٰی شائع فرمایا تمام اسلامی دنیا میں کفر پارٹی ملعونہ پر تُھو تُھو ہورہی ہے،  پارٹی کے رنگ فق ہوئے،  جگر شق ہوئے ،  دَم اُلٹ گئے،  کلیجے پھٹ گئے مگر قہر قہار کا کیا جواب۔  اچھا اس کا جواب نہیں ہوسکتا تو لاؤ جاہلوں کے پھسلانے احمقوں کے بہکانے کو انوکھے افتراء کے پاپڑ بیلیں ،  معارضہ بالمثل کا جل کھیلیں یعنی پارٹی نے تو ضروریاتِ دین کا انکار کیا ہے اﷲ عزوجل کو جھوٹا کہا ہے ، ختم نبوت کا بکھیڑا اکھیڑا ہے،  نئی نبوتوں کا راگ چھیڑا ہے،  رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم سے کہیں اپنے بزرگ ابلیس لعین کے علم کو بڑھایا ہے، کہیں پاگلوں چوپایوں کے علم کو علم اقدس کے مثل بنایا ہے۔ شیطا ن لعین کو خدا کی صفت میں شریک ٹھہرایا ہے،  ان باتوں پر علمائے اسلام سے کفر وارتداد کا حکم پایا ہے،  دیکھو کسی نزعی اختلافی مسئلے میں عرب کے کسی مفتی کو ان علمائے کرام سے خلاف ہو تو اس کے متعلق کچھ لکھوائیں۔ اور اس میں گھناؤنی تہمتیں گندے افتراء اپنی طرف سے ملائیں ،اور بایں ہمہ حکم من مانتا نہ ملے تو حکم بھی جی سے نکال لیں افتراء کی مشین تو گھر میں چل رہی ہے خانگی سانچے میں ڈھال لیں ۔ بس نام کو کہیں بوئے خلاف ملنی چاہیے،  پھر کیا ہے ابلیس دے اور ذریت لے،  سوچتے سوچتے ایک مسئلہ علم خمس کا مِلا جس میں مدینہ طیبہ کے شافعی المذہب مفتی برزنجی صاحب کو شُبہ تھا اور ایک انہیں کو کیا یہ مسئلہ پہلے سے علمائے امت میں مختلف رہا ہے اکثر ظاہرین جانبِ انکار رہے اور اولیائے عظام اور ان کے غلام غلمائے کرام جانب اثبات واقرار رہے ،  ایسے مسئلے میں کسی طرف تکفیر چہ معنی تضلیل کیسی تفسیق بھی نہیں ہوسکتی۔
مسلمانو ! مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں۔

ایک ضروریات دین اُن کا منکر بلکہ اُن میں ادنٰی شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔

دوم ضروریات عقائد اہلسنت،  ان کا منکر بدمذہب گمراہ ہوتا ہے۔

سوم وہ مسائل کہ علمائے اہلسنت میں مختلف فیہ ہوں اُن میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں۔

یہ دوسری بات ہے کہ کوئی شخص اپنے خیال میں کسی قول کو راحج جانے خواہ تحقیقاً یعنی دلیل سے اسے وہی مرجح نظر آیا خواہ تقلید کہ اسے اپنے نزدیک اکثر علماء یا اپنے معتمد علیہم کا قول پایا۔ کبھی ایک ہی مسئلہ کی صورتوں میں یہ تینوں قسمیں موجود ہوجاتی ہیں۔
مثلاً اﷲ عزوجل کے لیے ید وعین کا مسئلہ :
قال اﷲ تعالٰی یداﷲ فوق ایدیھم ۱ ؎۔
 ( اﷲ تعالٰی نے فرمایا : ان کے ہاتھوں پر اﷲ کا ہاتھ ہے۔ت)
وقال تعالٰی :  ولتصنع علی عینی  ۲ ؎۔
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔ ت)
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم     ۴۸ /۱۰)   ( ۲ ؎ القرآن الکریم     ۲۰ /۳۹)
ید ہاتھ کو کہتے ہیں ،  عین آنکھ کو۔ اب جو یہ کہے کہ جیسے ہمارے ہاتھ آنکھ ہیں ایسے ہی جسم کے ٹکڑے اﷲ عزوجل کے لیے ہیں وہ قطعاً کافر ہے اﷲ عزوجل کا ایسے یدو عین سے پاک ہونا ضروریات دین سے ہے،  اور جو کہے کہ اس کے یدو عین بھی ہیں تو جسم ہی مگر نہ مثل اجسام،  بلکہ  مشابہت  اجسام سے پاک و منزہ ہیں وہ گمراہ بددین کہ اﷲ عزوجل کا جسم و جسمانیات سے مطلقاً پاک ومنزہ ہونا ضروریات عقائد اہلسنت و جماعت سے ہے،  اور جو کہے کہ اﷲ عزوجل کے لیے یدوعین ہیں کہ مطلقاً جسمیت سے بری و مبرا ہیں وہ اس کی صفات قدیمہ ہیں جن کی حقیقت ہم نہیں جانتے نہ اُن میں تاویل کریں وہ قطعاً مسلم سُنّی صحیح العقیدہ ہے اگر چہ یہ عدم تاویل کا مسئلہ اہلسنت کا خلافیہ ہے متاخرین نے تاویل اختیار کی پھر اس سے نہ یہ گمراہ ہوئے کہ وہ کہ اجر اعلٰی المظاہر بمعنی مذکور کرتے ہیں جس کا حاصل صرف اتنا کہ
"  اٰمنّابہ کل من عندربنا"  ۳ ؎۔
 ( ہم اس پر ایمان لائے ،  سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ت)
( ۳؎ القرآن الکریم        ۳ /۷)
بعینہ یہی حالت مسئلہ علم غیب کی ہے۔ اس میں بھی تینوں قسم کے مسائل موجود ہیں۔

(۱) اﷲ عزوجل ہی عالم بالذات ہے اُس کے بتائے ایک حرف کوئی نہیں جان سکتا۔ 

(۲) رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اﷲ عزوجل نے اپنے بعض غیوب کا علم دیا۔

(۳) رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علم اوروں سے زائد ہے ابلیس کا علم معاذ اﷲ علم اقدس سے ہر گز وسیع تر نہیں۔

(۴) جو علم اﷲ عزوجل کی صفت خاصہ ہے جس میں اُس کے حبیب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو شریک کرنا بھی شرک ہو وہ ہرگز ابلیس کے لیے نہیں ہوسکتا جو ایسا مانے قطعاً مشرک کافر ملعون بندہ ابلیس ہے۔

(۵) زید و عمرو ہر بچے پاگل ،  چوپائے کو علمِ غیب میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مماثل کہنا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صریح توہین اور کھلا کفر ہے،  یہ سب مسائل ضروریاتِ دین سے ہیں اور اُن کا منکر ان میں ادنٰی شک لانے والا قطعاً کافر،  یہ قسمِ اول ہوئی۔
 (۶)اولیاء کرام نفعنا اللہ تعالٰی ببرکاتھم فی الدارین کو بھی کچھ علومِ غیب ملتے ہیں مگر بوساطت رسل علیھم الصلٰوۃ والسلام۔ معتزلہ خذلھم اللہ تعالٰی کہ صرف رسولوں کے لیے اطلاع غیب مانتے اور اولیاء کرم رضی اللہ تعالٰی عنھم کا علومِ غیب کا اصلاًحصہ نہٰں مانتے گمراہ ومبتدع ہیں۔

(۷) اﷲ عزوجل نے اپنے محبوبوں خصوصاً سید المحبوبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم کو غیوب خمسہ سے بہت جزئیات کا علم بخشا جو یہ کہے کہ خمس میں سے کسی فرد کا علم کسی کو نہ دیا گیا ہزار ہا احادیث متواترۃ المعنٰی کا منکر اور بدمذہب خاسر ہے،  یہ قسم دوم ہوئی۔

(۸) رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تعیینِ وقتِ قیامت کا بھی علم ملا۔

(۹) حضور کو بلا استثناء جمیع جزئیات خمس کا علم ہے۔
 (۱۰)جملہ مکنونات قلم و مکتوبات لوح بالجملہ روزِ اول سے روزِ آخر تک تمام ماکان ومایکون مندرجہ لوحِ محفوظ اور اس سے بہت زائد کا عالم ہے جس میں ماورائے قیامت تو جملہ افراد خمس داخل اور دربارہ قیامت اگر ثابت ہو کہ اس کی تعیین وقت بھی درج لوح ہے تو اسے بھی شامل،  ورنہ دونوں احتمال حاصل۔

(۱۱) حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو حقیقتِ روح کا بھی علم ہے۔
 (۱۲) جملہ متشابہات قرآنیہ کا بھی علم ہے،  یہ پانچوں مسائل قسم سوم سے ہیں کہ ان میں خود علماء و آئمہ اہل سنت مختلف رہے ہیں جس کا بیان بعونہ تعالٰی عنقریب واضح ہوگا ان میں مثبت و نافی کسی پر معاذ اﷲ کفر کیا معنی ضلال یا فسق کا بھی حکم نہیں ہوسکتا جب کہ پہلے سات مسئلوں پر ایمان رکھتا ہو اور ان پانچ کا انکار اُس مرض قلب کی بنا پر نہ ہو جو وہابیہ قاتلہم اﷲ تعالٰی کے نجس دلوں کو ہے کہ محمد رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل سے جلتے اور جہاں تک بنے تنقیص و کمی کی راہ چلتے ہیں ،
فی قلوبھم مرض فزادھم اﷲ مرضا ولا ھل السنۃ من اﷲ احمد رضا امین۔
 ( ان کے دلوں میں بیماری ہے ان کی بیماری اور بڑھ گئی اور اہل سنت کے لیے اﷲ عزوجل کی طرف سے بہترین رضا ہو،  آمین ! ت)
Flag Counter