مسئلہ ۱۴۴ : ازشہر مسئولہ مولوی غلام قطب الدین صاحب ۴ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
راماسنگھم اب آریہ نہیں نصرانی ہے، رُوئے جواب جانبِ نصارٰی ہونا چاہیے۔
الجواب : بحمداﷲ وہ جواب کافی ووافی ہے صدر کلام اور ۴ و ۸ میں آریہ کی جگہ نصرانی لکھ لیجئے اور۸ کا شعر کاٹ دیجئے اور ۱۳ میں آریہ کی جگہ کرسچن، ہاں ۷ بالکل تبدیل ہوگا اسے یوں لکھئے۔
(۷) نہ ہر تفسیر معتبر نہ ہر مفسر مصیب، نصرانی کا ظلم ہے کہ نام لے آیات کا اور دامن پکڑے نامعتبر تفسیر ات کا، عربی زبان تو لسان مبین ہے، نہ ہر محل قابل تاویل، نہ ہر تاویل لائقِ تحویل کہ ہر شخص جہاں چاہے اپنی خواہش کے مطابق مطلب بنالے، اور محل محتمل میں تاویل صحیح کا باب بے شک واسع اور ہر زبان اور ہر قوم میں شائع و ذائع اس کا انکار نہ کرے گا مگر مکابر مفتون ، اور اس کا اقرار نہ کرے گا مگر دیوانہ مجنون، ہاں بائبل کی زبان ایسی پیچیدہ ہے کہ اور تو اور خود مصنف محرف کی سمجھ میں نہیں آتی۔ تواریخ کی دوسری کتاب باب ۲۱ درس ۲۰ اور باب ۲۲ درس ۱ و ۲ میں لکھا وہ بتیس برس کی عمر میں بادشاہ ہوا ۸ برس بادشاہت کی اور جاتا رہا داؤد کے شہر میں گاڑاگیا یروشلم کے باشندوں نے اس کے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اس کی جگہ بادشاہ کیا اخزیاہ ۴۲ برس کی عمر میں بادشاہ ہوا۔ یعنی باپ ۴۰ برس کی عمر میں مرا اس وقت بیٹا ۴۲ برس کا تھا۔ باپ سے دو برس پہلے پیدا ہولیا تھا۔ متی کی انجیل میں مسیح و داؤد علیہما الصلوۃ والسلام کے بیچ میں ۲۶ پشتیں ہیں اوراس میں عدد بھی گنادیا ہے کہ مسیح تاداؤد ۲۸ شخص ہیں۔ لیکن لوقا کی انجیل میں مسیح سے داؤد تک ۴۳ آدمی ہیں، ۱۵ پشتیں زائد اور اسماء بھی بالکل نامطابق ، ایضاً انجیل متی باب ۵ درس ۱۷ : یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابیں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پوری کرنے آیا ہوں۔ در س۱۸ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان و زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا۔ یہاں تو نسخ کا اس شدت سے انکار ہے اور جا بجا انجیل ہی میں نسخ احکام توریت کا اظہار ہے۔ اسی انجیل کے اسی باب درس ۳۱،۳۲ میں ہے یہ بھی لکھا گیا کہ جو کوئی اپنی جورو کو چھوڑ دے اسے طلاق نامہ لکھ دے پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ جوکوئی اپنی جورو کو زنا کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑدیوے اس سے زنا کرواتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیا ہ کرے زنا کرتا ہے ایضاً درس ۳۳ و ۳۴ تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا کہ اپنی قسمیں خداوند کے لیے پوری کر، پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ہر گز قسم نے کھانا ایضاً درس ۳۸ و۳۹ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت، پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے ایضاً باب ۱۹ درس ۸ و۹ موسٰی نے جو روؤں کو چھوڑ دینے کی اجازت دی پر میں تم سے کہتا ہوں جو کوئی اپنی جوروکو سوا زنا کے اور سبب سے چھوڑ دے اور دوسری سے بیا ہ کرے زنا کرتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی عورت کو بیاہے زنا کرتا ہے۔ یہی مضمون انجیل مرقس باب : ۱۰ درس ۲ تا ۱۲ میں ہے ان کے سوا بہت نظائر تناقض و نافہی کے ہیں تو ثابت ہوا کہ عبری زبان ہی ایسی پیچیدہ ہے کہ اس میں کتاب تصنیف کرنے والا خود اپنی نہیں سمجھتا، اور (۱۵) کے بعد یہ نمبر اور اضافہ کیجئے۔
(۱۶) ہر صغیرہ سے صغیرہ کو گناہ کہہ سکتے ہیں اگرچہ قبل ظہور رسالت ہو اور توسعاً خلاف اولٰی کو بھی جو ہر گز منافی نبوت نہیں لیکن نیک ہونا تو نبی کے لیے لازم ہے نہ وہ کہ جو خدا کا بیٹا ٹھہرے مگر یہ انجیلیں کہتی ہیں کہ مسیح ہر گز نیک نہیں، دیکھو متی باب ۱۹ درس ۱۶ و ۱۷ ایک نے اس سے کہا اے نیک استاد، اس نے کہا تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے، نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا، یہی مضمون انجیل مرقس باب ۱۰ ادرس ۱۷ و ۱۸ وانجیل لوقا باب ۱۸ درس ۸ ۱ اور ۱۹ میں ہے۔ وہاں اگر بعض مفسرین نے معاذ اللہ گناہگار ہونا مانا تھا تو یہاں تو خود انجیلیں مسیح کو معاذ اللہ صاف طور سے بدبتا رہی ہیں۔
(۱۷) گناہ نہیں مگر شریعت کی مخالفت لیکن بائیبل تو شریعت کو راساً باطل کررہی ہے گلیتوں کو پولس کا خط با ب ۳ درس وے سب جو شریعت ہی کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں سو لعنت کے تحت ہیں درس ۱۱: کوئی خدا کے نزدیک شریعت سے راستباز نہیں ٹھہرتا۔ درس ۱۲ : شریعت کو ایمان سے کچھ نسبت نہیں اور مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پکے راستبازوکامل الایمان ہیں تو ضرور شریعت سے جدا ہیں تو گناہگار ہیں کتاب یر میاہ باب ۹ درس ۱۲ و ۱۳ میں ہے۔ سرزمین کس لیے ویران ہوئی اور بیابان کے مانند جل گئی خداوند کہتا ہے اسی لیے کہ انہوں نے میری شریعت کو ترک کردیا اور اس کے موافق نہ چلے۔
(۱۸) بلکہ ترک اولےٰ یا کسی صغیرہ کا صدور یا بد ہونا بھی درکنار بائیبل تو مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو معاذ اﷲ صاف ملعون بتاتی ہے، خط مذکور باب ۳ درس ۳ ۱ مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کہ وہ ہمارے بدلے میں لعنت ہوا کیونکہ لکھا ہے جو کوئی کاٹھ پرلٹکایا گیا ہو سو لعنتی ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی، ایسے پوچ ولچر مذہب کے پابند کیوں دین حق اسلام کے خدام سے الجھتے ہیں اپنے گریبان میں منہ ڈالیں اور اپنی پگڑی کہ کبھی نہ سنبھلے گی سنبھالیں۔
واﷲ یہدی من یشاء الٰی صراط مستقیم
( اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵: از موضع پارہ پرگنہ مورانواں ضلع اناؤ مسئولہ محمد عبدالرؤف صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقیدہ ہے کہ چونکہ عالم الغیب صفت مختصہ باری تعالٰی ہے لہذا آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت لفظ عالم الغیب بالواسطہ یا بالعطایا کہنا بھی جائز نہیں اور نہ حضور پر نور کو کل علم غیب یعنی از روزِ ازل تا ابد شبِ معراج میں عطا فرمایا گیا تھا۔ البتہ بعض بعض علوم غیبیہ کا قائل ہے اور اپنے عقیدہ کی دلیل میں چند واقعات بطور اثبات نوشتہ علمائے دیوبند پیش کرتا ہے، مثلاً سورہ کہف کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بجواب اس سوال کے کہ اصحابِ کہف کس مدت تک سوئے تھے، فرمایا کل بتلاؤں گا، اور لفظ ان شاء اللہ تعالٰی نہ کہنے کی وجہ سے اٹھارہ روز تک وحی کا نزول نہ ہوا، اگر علمِ غیب ہوتا تو توقف نہ فرماتے۔
دوئم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا حادثہ کہ کفار مکہ نے آپ کو متہم کیا اور آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم طلاق دینے پر آمادہ ہوگئے۔ اور اگر آپ کو علم ہوتا تو تذبذب کیوں ہوتا، وحی کے نزول پر آپ مطمئن ہوئے اور کہتا ہے کہ اگر کل علمِ غیب عطا فرمایا جاتا تو پھر وحی آنے کی کیا ضرورت تھی؟
(عقیدہ عمرو) برعکس اس کے عمرو کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور پر نور سید یوم النشور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر شب معراج میں اﷲ رب العزت نے جملہ اولین و آخرین مانند آفتابِ درخشاں روشن کردیئے تھے اور تمام علم ماکان ومایکون سے صدرِ مبارک حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو جلوہ افروز کردیا تھا اور جن باتوں سے آپ نے جواب نہیں دیا بلکہ سکوت اختیار فرمایا ان کو خدا اور حبیبِ خدا کے درمیانی اسرار مخفی کی جانب مبذول کرتا ہے، اور روز اول سے لے کر یوم الحشر کے تمامی علوم کو حضور سرور کائنات و مفخر موجودات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علوم کے سمندر کی ایک لہر کی برابر تصور کرتا ہے۔
الجواب : اس مسئلہ میں بفضلہ تعالٰی یہاں سے متعدد کتابیں تصنیف ہوئیں۔
الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ
پر اکابر علمائے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ وغیرہ ہا بلادِ اسلامیہ نے مہریں کیں،گرانقدر تقریظیں لکھیں خالص الاعتقاد دس سال سے شائع ہوا انباء المصطفٰی بیس سال سے ہزار کی تعداد میں بمبئی و بریلی و مراد آباد میں چھپ کر تمام ملک میں شائع ہوا اور بحمدہ تعالٰی سب کتابیں آج تک لاجواب ہیں، مگر وہابیہ اپنی بے حیائی سے باز نہیں آتے۔ علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ یعلم الغیب وارد ہے
کما فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح لملا علی القاری
( جیسا کہ ملا علی قاری کی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں ہے۔ت)
بلکہ خود حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما میں سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت ارشاد ہے:
کان رجلا یعلم علم الغیب ۔۱
وہ مرد کامل ہیں جو علمِ غیب جانتے ہیں۔ت)
مگر ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عزجلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اُس سے عرفاً علم بالذات متبادر ہے۔ کشاف میں ہے:
المراد بہ الخفی الذی لاینفذ فیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر ولہذا لایجوزان یطلق فیقال فلان یعلم الغیب ۔۲ ؎
اس سے مراد پوشیدہ شے ہے جس تک ابتداءً (بالذات ) سوائے باریکی جاننے والے یا خبیر ( اﷲ تعالٰی) کے کسی کے علم کی رسائی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علی الاطلاق یوں کہنا کہ فلاں غیب جانتا ہے جائز نہیں (ت)
( ۱ ؎ جامع البیان (تفسیر الطبری) تحت آیۃ وعلمنٰہ من لدنا علما داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵/ ۳۲۳)
( ۲ ؎ الکشاف تحت آیۃ ۲/ ۳ انتشارات آفتاب تہران ۱/ ۱۲۱)
اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آتا۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قطعاً بے شمار غیوب و ماکان مایکون کے عالم ہیں مگر عالم الغیب صرف اﷲ عزوجل کو کہا جائے گا جس طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قطعاً عزت جلالت والے ہیں تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل ہے نہ ہوسکتا ہے مگر محمد عزوجل کہنا جائز نہیں بلکہ اﷲ عزوجل و محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ غرض صدق وصورت معنی کو جواز اطلاق لفظ لازم نہیں نہ منع اطلاق لفظ کو نفی صحت معنی۔
امام ابن المنیر اسکندری کتاب الانتصاف میں فرماتے ہیں:
کم من معتقدلایطلق القول بہ خشیۃ ایہام غیرہ ممالا یجوز اعتقادہ فلا ربط بین الاعتقاد والاطلاق ۔۳
بہت سے معتقدات ہیں کہ جن کے ساتھ قول کا اطلاق اس ڈر سے نہیں کیا جاتا کہ ان میں ایسے غیر کا ایہام ہوتا ہے جس کا اعتقاد جائز نہیں، لہذا اعتقاد اور اطلاق کے درمیان کوئی لزوم نہیں۔(ت)
(۳ الانتصاف )
یہ سب اس صورت میں ہے کہ مقید بقید اطلاق اطلاق کیا جائے یا
بلا قید علی الاطلاق مثلاً عالم الغیب یا عالم الغیب علی الاطلاق
اوراگر ایسا نہ ہو بلکہ بالواسطہ یا بالعطاء کی تصریح کردی جائے تو وہ محذور نہیں کہ ایہام زائل اور مراد حاصل ۔
علامہ سید شریف قدس سرہ حواشی کشاف میں فرماتے ہیں:
وانما لم یجزالاطلاق فی غیرہ تعالٰی لانہ یتبادر منہ تعلق علمہ بہ ابتداء فیکون تنا قضا واما اذا قید وقیل اعلمہ اﷲ تعالٰی الغیب اواطلعہ علیہ فلا محذور فیہ ۔۱
علم غیب کا اطلاق غیر اﷲ پر اس لیے ناجائز ہے کہ اس سے غیر اللہ کے علم کاغیب کے ساتھ ابتداء ( بالذات ) متعلق ہونا متبادر ہوتا ہے تو اس طرح تناقض لازم آتا ہے لیکن اگر علم غیب کے ساتھ کوئی قید لگادی جائے اور یوں کہا جائے کہ اللہ تعالٰی نے اس کو غیب کا علم عطا فرمادیا ہے یا اس کو غیب پر مطلع فرمادیا ہے تو اس صورت میں کوئی ممانعت نہیں۔،(ت)
( ۱ ؎ حاشیہ سید الشریف علی الکشاف تحت آیۃ ۲/۳ انتشارات آفتاب تہران ۱/ ۲۸)
زید کا قول کذب صریح و جہل قبیح ہے، کذب تو ظاہر کہ بے ممانعت شرعی اپنی طرف سے عدم جواز کا حکم لگا کر شریعت و شارع علیہ الصلوۃ والسلام اور رب العزۃ جل و علا پر افتراء کررہا ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولا تقولوالما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذاحرام لتفترواعلی اﷲ الکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لا یفلحون o متاع قلیل ولھم عذاب الیم ۔۲
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں، یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ تعالٰی پر جھوٹ باندھو، بے شک جو اﷲ تعالٰی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا ، تھوڑا برتنا ہے اور انکے لیے دردناک عذاب ہے۔ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶و ۱۱۷)
اور جہل فاضح یہ کہ عالم الغیب صفت مختصہ باری تعالٰی ہونے پر بالواسطہ و بالعطا کہنے کے عدمِ جواز کو متفرع کررہا ہے شاید اس کے نزدیک علم غیب بالواسطہ ، وبالعطا خاصہ باری تعالٰی ہے یعنی دوسرے کے دیئے سے علم غیب خاص اﷲ تعالٰی کو ہوتا ہے اس کے غیر کو علم غیب بالذات بلاواسطہ ہے ایسا ہے تو اس سے بڑھ کر اور کفرِ اشد کیا ہے۔ گنگوہی صاحب نے تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو علم غیب بالذات بے عطائے الہی ملنے کے اعتقاد کو کفر نہ مانا تھا صرف اندیشہ کفر کہا تھا ان کے فتاوٰی حصہ اول صفحہ ۸۳ میں ہے:
جو یہ عقیدہ رکھے کہ خود بخود آپ کو علم تھا بدون اطلاق حق تعالٰی کے تو اندیشہ کفر کا ہےلہذا امام نہ بنانا چاہیے اگر چہ کافر کہنے سے بھی زبان کو روکے ۔۱
( ۱ ؎ فتاوٰی رشیدیہ)
حالانکہ گنگوہی صاحب کا یہ قول خود ہی صریح کفر ہے بلاشبہہ جو غیر خدا کو بے عطا ئے الہٰی خود بخود علم مانے قطعاً کافر ہے اور جو اس کے کفر میں تردد کرے وہ بھی کافر۔ اسمعٰیل دہلوی صاحب نے دوسری شق لی تھی کہ اﷲ عزوجل کے علم غیب کو حادث و اختیاری مانا۔
تقویت الایمان میں ہے: غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہے کرلیجئے یہ اﷲ صاحب کی ہی شان ہے۔۲
( ۲ ؎ تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علمیی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۱۴)
یہ بھی صریح کلمہ کفر ہے مگر دونوں شقیں جمع کرنا کہ اللہ تعالٰی کا علم عطائی اور دوسرے کا ذاتی یہ اسی نتیجہ قول زید کا خاصہ ہے۔
دو واقعے کہ زید نے پیش کیے اگرچہ ان پر ابحاث اور بھی ہیں مگر کیا انباء المصطفی میں صاف نہ کہہ دیا گیا تھا کہ بحمد اﷲ تعالٰی نص قطعی سے روشن ہوا کہ ہمارے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اﷲ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون ( جو ہوچکا اور جو ہوگا ۔ت) کا علم دیا اور جب یہ علم قرآن عظیم کے تبیاناً لکل شیئ ہونے نے دیا اور پر ظاہر کہ یہ وصف تمام کلام مجید کا ہے نہ ہر آیت یا سورت کا تو نزول جمیع قرآن عظیم سے پہلے اگر بعض کی نسبت ارشاد ہو لم نقصص علیک ( ہم نے آپ پر بیان نہیں کیا ۔ت) ہر گز احاطہ علم مصطفوی کا کانافی نہیں، مخالفین جو کچھ پیش کرتے ہیں سب انہیں اقسام کے ہیں۔ ہاں ہاں تمام نجدیہ دہلوی گنگوہی جنگلی کو ہی سب کو دعوت عام ہے سب اکٹھے ہو کر ایک آیت یا ایک حدیث متواتر یقینی الافادۃ لائیں جس سے صریح ثابت ہو کہ تمام نزولِ قرآن کے بعد بھی ماکان و مایکون سے فلاں امر حضور پر مخفی رہا اگر ایسا نص نہ لاسکو اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لاسکو گے تو جان لو کہ اللہ راہ نہیں دیتا دغا بازوں کے مکر کو اھ ملخص ۔۳
( ۳ ؎ انباء المصطفٰی رضا اکیڈمی بمبئی ص ۷ تا ۱۰)
اس کے بعد بھی ایسے وقائع پیش کرنا کیسی شدید بے حیائی ہے، بلاشبہہ عمرو کا قول صحیح ہے جمیع ماکان وما یکون جملہ مندرجات لوح محفوظ کا علم محیط حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم کریم کے سمندروں سے ایک لہر ہے جیسا کہ علامہ قاری کی زبدہ شرح بردہ میں مصرح ہے ۔، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۶: از سیتا پور محلہ نرائن پور مکان مولوی الہٰی بخش صاحب مسئولہ علی حسین خان ۲۹ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کہے کہ غیب کا حال سوائے خدا تعالٰی کے کوئی نہیں جانتا ہے حتی کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بھی نہیں معلوم تھا بہ ثبوت اس روایت کے کہ ایک بار ابوجہل نے کنواں راستے میں کھو د کر خس پوش کردیا تھا اور خود بیماری کا حیلہ کرکے پڑرہا تھا جس وقت حضور عیادت کو گئے تو چاہ مذکور عین ر ہگزر میں تھا اس وقت جبرئیل علیہ السلام نے بذریعہ وحی معلوم کیا لہذا اولیاء اﷲ بھی نہیں جان سکتے بجز کشف والہام کے ۔ بینوا توجروا ( بیان فرمایئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب: یہ حق ہے کہ غیب کا حال سوارب عزوجل کے کوئی نہیں جانتا یعنی اپنی ذات سے بے اس کے بتائے اور یہ باطل ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بھی نہیں معلوم تھا قران کریم واحادیثِ صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ
ما کان وما یکون الٰی اٰخر الایام
( جو ہوچکا اور قیامت تک ہوگا۔ت) کے تمام غیب حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام پر منکشف فرمادیئے گئے اور حضور کے بتائے سے حضور کے غلام اولیائے کرام جانتے ہیں کشف والہام دونوں ان کے جاننے کے ذریعہ ہیں اور ان پر کوئی حد بندی نہیں۔ ان تمام مضامین کی تفصیل ہماری
کتاب انباء المصطفٰی وخالص الاعتقاد وغیرہما
میں ہے اور وہ ابوجہل کے کنویں والی حکایت محض ساختہ و بے اصل ہے۔ وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷: از ڈاکخانہ مولوی گنج ضلع گیا، مسئولہ عبدالمجید ۲۹ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جناب رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو غیب کی باتیں معلوم تھیں یا نہیں، مائۃ مسائل کے چوبیسویں سوال کے جواب میں روایت فقہی ملا علی قاری کی شرح فقہ اکبر ہے جاننا چاہیے کہ کوئی بات غیب کی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نہیں جانتے تھے مگر جس قدر کہ اﷲ تعالٰی اُن کو کسی وقت کوئی چیز معلوم کرادیتا تھا تو جانتے تھے جو کوئی اس بات کا اعتقاد کرے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم غیب کی باتیں معلوم کرلیتے تھے حنفیہ نے اس شخص پر صریح تکفیر کا حکم دیا ہے۔
لمعارضۃ قولہ تعالٰی قل لایعلم من فی السمٰوٰت والارض الغیب الا اﷲ وما یشعرون ایان یبعثون ۔۱
(اﷲ تعالٰی کے اس فرمان کے معارضہ کی وجہ سے ، تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اﷲ اور انہیں خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے ۔ ت) بینوا توجروا ( بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
(۱ القرآن الکریم ۲۷/ ۶۵ )
الجواب: زید عمرو کچھ کہیں مگر قرآن مجید وا حادیث صحیحہ کا ارشاد یہ ہے کہ حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام کو روزِ ازل سے روزِ آخر تک کے تمام غیوب کا علم عطا فرمایا گیا یہ بے شک حق ہے کہ انبیاء غیب اُسی قدر جانتے ہیں جتنا اُن کو ان کے رب نے بتایا بلاشبہہ بے اس کے بتائے کوئی نہیں جان سکتا اور یہ بھی حق ہے کہ احیاناً بتایا گیا کہ وحی حیناً بعد حین ہی اُترتی نہ کہ وقتِ بعثت سے وقتِ وفات تک ہر آن علی الاتصال، مگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ گنتی کی چیزیں معلوم ہوئیں اور ان کے علم کو قلیل و ذلیل قرار دینا مسلمان کا کام نہیں، اسی احیاناً تعلیم میں شرق و غرب وعرش و فرش کے ذرّہ ذرّہ کا حال روزِ ازل سے روزِ آخر تک تمام منکشف کردیا ، آیہ کریمہ میں علم ذاتی کی نفی ہے کہ کوئی شخص بے خدا کے بتائے غیب نہیں جانتا، یہ بے شک حق ہے اور اسی کے معارضہ کو حنفیہ نے کفر کہا ہے ورنہ یہ کہ خدا کے بتائے سے بھی کوئی نہیں جانتا اس کا انکار صریح کفر اور بکثرت آیات کی تکذیب ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل