Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
63 - 157
عقیدہ عاشرہ ۱۰ _____  شریعت و طریقت
شریعت و طریقت ، دو راہیں متبائن نہیں ( کہ ایک دوسرے سے جدا اور ایک دوسرے کے خلاف ہوں ) بلکہ بے اتباع شریعت ، خدا تک وصول محال، شریعت تمام احکامِ جسم و جان و روح قلب و جملہ علومِ الہیہ و معارفِ نامتناہیہ کو جامع ہے جن میں سے ایک ایک ٹکڑے کا نام طریقت و معرفت ہے و لہذا باجماعِ قطعی جملہ اولیائے کرام کے تمام حقائق کو شریعتِ مطہرہ پر عرض کرنا فرض ہے، اگر شریعت کے مطابق ہوں حق و قبول ہیں ورنہ مردود و مخذول ( مطرود و نامقبول)

(تو یقیناً قطعاً شریعت ہی اصل کار ہے، شریعت ہی مناط و مدار ہے شریعت ہی محک و معیار ہے اور حق و باطل کے پرکھنے کی کسوٹی)
شریعت راہ کو کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ علٰی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کا ترجمہ ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی راہ۔ اور یہ قطعاً عام و مطلق ہے نہ کہ صرف چند احکامِ جسمانی سے خاص۔
یہی وہ راہ ہے کہ پانچوں وقت ، ہر نماز ہر رکعت میں اس کا مانگنا اور اس پر صبر و استقامت کی دُعا کرنا ہر مسلمان پر واجب فرمایا ہے کہ
اھدنا الصراط المستقیم  ۔۱؂
 ( ہم کو سیدھا راستہ چلا) ہم کو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی راہ پر چلا ، ان کی شریعت پر ثابت قدم رکھ۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم     ۱/ ۵)
یونہی طریق، طریقہ، طریقت راہ کو کہتے ہیں نہ کہ پہنچ جانے کو، تو یقیناً طریقت بھی راہ ہی کا نام ہے، اب اگر وہ شریعت سے جدا ہو تو بشہادت قرآن عظیم خدا تک نہ پہنچائے گی بلکہ شیطان تک جنت تک نہ لے جائے گی بلکہ جہنم میں کہ شریعت کے سوا سب راہوں کو قرآن عظیم باطل و مردود فرماچکا۔
لاجرم ضرور ہوا کہ طریقت یہی شریعت ہے اسی راہ روشن کا ٹکڑا ہے۔ اس کا اس سے جدا ہونا محال و ناسزاہے، جو اسے شریعت سے جدا مانتا ہے اسے راہِ خدا سے توڑ کر راہِ ابلیس مانتا ہے مگر حاشا، طریقیت حقّہ راہِ ابلیس نہیں قطعاً راہِ خدا ہے) نہ بندہ کسی وقت کیسی ہی ریاضات و مجاہدات بجالائے ۔ ( کیسی ہی ریاضتوں ، مجاہدوں اور چِلّہ کشیوں میں وقت گزارا جائے۔ اس رُتبہ تک پہنچے کہ تکالیف شرع ( شریعت و مطہرہ کے فرامین و احکامِ امرونہی) اس سے ساقط ہوجائیں اور اسے اسپ بے لگام و شُتر بے زمام کرکے چھوڑ دیا جائے۔
قرآن عظیم میں فرمایا:
انّ ربی علٰی صراط مستقیم  ۔۲؂
بے شک اسی سیدھی راہ پر میرا رب ملتا ہے۔
 ( ۲؎ القرآن الکریم    ۱۱/ ۵۶)
اور فرمایا:
  واَنّ ھٰذا صراطی مستقیمافاتبعوہ ولا تتبعواالسبل الاٰیۃ  ۔۱؂
شروع رکوع سے احکامِ شریعت بیان کرکے فرماتا ہے ۔ اور اے محبوب ! تم فرمادو کہ یہ شریعت میری سیدھی راہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور راستوں کے پیچھے نہ لگ جاؤ کہ وہ تمہیں خدا کی راہ سے جدا کردیں گے۔

دیکھو قرآن عظیم نے صاف فرمادیا کہ شریعت ہی صرف وہ راہ ہے جس کا منتہا اﷲ ہے اور جس سے وصول الی اﷲ ہے، اس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا اﷲ کی راہ سے دُور پڑے گا،
 ( ۱ ؎      القرآن الکریم     ۶/ ۱۵۳)
طریقت میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے شریعت ہی کے اتباع کا صدقہ ہے ورنہ بے اتباعِ شرع بڑے بڑی کشف راہبوں، جوگیوں، سنیا سیوں کو دیئے جاتے ہیں، پھر وہ کہاں تک لے جاتے ہیں، اسی نارِ جحیم وعذاب الیم تک پہنچاتے ہیں۔ (مقال العرفاء)
صوفی وہ ہے کہ اپنے ہوا ( اپنی خواہشوں، اپنی مرادوں) کو تابع شرع کرے ( بے اتباع شرع کسی خواہش پر نہ لگے ) نہ وہ کہ ہوا ( وہوس اور نفسانی خواہشوں) کی خاطر شرع سے دستبردار ہو( اوراتباع شریعت سے آزاد) شریعت غذا ہے اور طریقت قوت، جب غذا ترک کی جائے گی قوت آپ زوال پائے گی، شریعت آنکھ ہے اور طریقت نظر ( اور) آنکھ پھوٹ کر نظر (کا باقی رہنا) غیر متصور (عقل سلیم قبول نہیں کرتی تو شریعتِ مطہرہ میں کب مقبول ومعتبر) بعد از وصولِ ( منزل) اگر اتباعِ شریعت سے بے پروائی ہوتی ( اور احکامِ شرع کا اتباع لازم و ضرور نہ رہتا یا بندہ اس میں مختار ہوتا) تو سیّدالعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور امام الواصلین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ اس کے ساتھ احق ہوتے ( اور ترکِ بندگی و اتباع شرع کے باب میں سب سے مقدم و پیش رفت) نہیں ( یہ بات نہیں اور ہر گز نہیں) بلکہ جس قدر قربِ (حق) زیادہ ہوتا ہے شرع کی باگیں او ر زیادہ سخت ہوتی جاتی ہیں ( کہ)
حسنات الابرار سیئات المقربین  ۔۲؂
 ( ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے لیے عیب ہوتی ہیں)
نزدیکاں رابیش بود حیرانی
 (قریب والوں کو حیرت زیادہ ہوتی ہے)
 ( ۲ ؎      کشف الخفاء     حدیث ۱۱۳۵     دارالکتب العلمیۃ بیروت         ۱ /۳۱۸)
اور۔۔۔ع

جن کے رُتبے ہیں سوا، ان کو سوا مشکل ہے

آخر نہ دیکھا کہ سیّد المعصومین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رات، رات بھر عبادات و نوافل میں مشغول اور کارِ امّت کے لیے گریاں و ملول رہتے، نماز پنجگانہ تو حضور پر فرض تھی ہی نمازِ تہجد کا ادا کرنا بھی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر لازم بلکہ فرض قرار دیا گیا جب کہ اُمّت کے لیے وہی سنت کی سنت ہے۔
حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ احکامِ شریعت تو وصول کا ذریعہ تھے اور ہم واصل ہوگئے یعنی اب ہمیں شریعت کی کیا حاجت ۔ فرمایا  وہ سچ کہتے ہیں، واصل ضرور ہوئے مگر کہاں تک ؟ جہنم تک۔
چور اور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض وواجبات تو بڑی چیز ہیں، جو نوافل و مستحبات مقرر کردیئے ہیں بے عذرِ شرعی ان میں کچھ کم نہ کروں۔

تو خلق پر تمام راستے بند ہیں مگر وہ جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نشانِ قدم کی پیروی کرے۔
خلافِ پیغمبر کسے راہ گزید 		کہ ہر گز بہ منزل نہ خواہد رسید ۔۱؂
 ( جس کسی نے پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلاف راستہ اختیار کیا ہر گز منزل مقصود پر نہ پہنچے گا)

توہینِ شریعت کفر( اور علمائے دین کو سب وشتم، آخرت میں فضیحت و رسوائی کا موجب)
اور اس کے دائرہ سے خروج فسق ( و نافرمانی) صوفی ( تقوٰی شعار) صادق (العمل) عالم سنی صحیح العقیدہ پر خدا و رسول کے فرمان ( واجب الاذعان کے مطابق ) ہمیشہ یہ عقیدت رکھتا ہے کہ ( یہاں اصل میں بیاض ہے) ( علمائے شرع مبین و ارثانِ خاتم النبیین ہیں اور علومِ شریعت کے نگہبان و علمبردار ، تو ان کی تعظیم و تکریم صاحبِ شریعت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم ہے اور اس پر دین کا مدار ) اور عالمِ متدین خدا طلب ( خدا پرست، خدا ترس، خدا آگاہ) ہمیشہ صوفی سے ( یہاں اصل میں بیاض ہے) ( بتواضع و انکسار پیش آئے گا کہ وہ حق آگاہ اور حق کی پناہ میں ہے) اور اسے اپنے سے افضل و اکمل جانے گا( کہ وہ دنیاوی آلائشوں سے پاک ہے) جو اعمال اس ( صوفی صاف حق پرست و حق آگاہ) کے اس کی نظر میں قانونِ تقوٰی سے باہر نظر آئیں گے ( ان سے صرِف نظر کرکے معاملہ عالم الغیب والشہادۃ پر چھوڑے گا بمصداق ۔
ایکہ حمّالِ عیب خویشتید 	طعنہ برعیبِ دیگراں مکنید
 ( اے اپنے عیبوں کو اٹھانے والو! دوسروں کے عیب پر طعنہ زنی مت کرو)
اے اللہ ! سب کو ہدایت اور اس پر ثبات و استقامت ( ثابت قدمی) اور اپنے محبوبوں اور سچے پکے عقیدوں پر جہانِ گزران سے اٹھا،
آمین یا ارحم الراحمین ۔
اللّٰھم لک الحمد والیک المشتکٰی وانت المستعان ط ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اللہ تعالٰی علی الحبیب المصطفٰی وعلٰی اٰلہ الطیبین وصحبہ الطاہرین اجمعین
رسالہ اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفٰی والاٰل والاصحاب ختم ہوا۔
مسئلہ ۱۳۷ : از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب ۱۵ ربیع الاول شریف ۳۸ ۱۳ھ

موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام خواہش امتی بودن سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم چرا کرد حالانکہ از مرتبہ نبوت دیگر مرتبہ نیست فوق آں، و مرتبہ امت اسفل ازاں دیگر اینکہ ایں طور حدیث رابر عقائد چکار زیرا کہ انبیاء علیہم السلام درعلوئیں تمام عالم احتیاج ایشاں اندایشاں احتیاج کسے نیستند، بینوا توجروا
حضرت موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کی خواہش کیوں کی حالانکہ مرتبہ نبوت سے کوئی اور مرتبہ بلند نہیں ہے اور امت کا مرتبہ نبوت کے مرتبہ سے نیچے ہے، پھر اس طرح کی حدیث عقائد میں کیسے کار آمد ہوسکتی ہے اس لیے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بلندی کے اس مقام پر فائز ہیں کہ تمام جہا ن ان کا محتاج ہے وہ کسی کے محتاج نہیں، بیان فرماؤ اجردیئے جاؤ گے۔(ت)
الجواب : افضل غنی از فضل نیست سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم را مرتبہ از محبوبیت کبرٰی و جملہ فضائل عالیہ چناں بخشیدند کہ مرکب کسے بغباراونر سدتیرہ دروناں برفضل دیگراں حسد برند و اہل کمال چوں بینند کہ مارا بآں دسترٍس نیست انتسابِ بآں محبوب خواہند کہ در زیر عنایتش بروجہے خاص باشند انبیاء رابدیگراں احتیاج نبودن مسلم فاما بہ سیدا نبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہمہ رانیاز ست چنانکہ کریمہ اخذ میثاق ازانبیاء و حدیث صحیح مسلم  یرغب الیّ الخلق کلھم حتی خلیل اﷲ ابراہیم  ۔۱؂ براں شاہد عدل ست ایں چنیں احادیث رابا ہیچ عقیدہ خلاف نیست، واﷲ تعالٰی اعلم۔
افضل فضیلت سے مستغنی نہیں ہوتا۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو محبوبیت کبرٰی کا بلند مرتبہ اور تمام فضائل عالیہ اس طور پر حاصل ہوئے کہ کسی کا مرکب ان کے غبار تک نہیں پہنچ سکتا۔ تاریک دل والے دوسروں کی فضیلت پر حسد کرتے ہیں اور اہلِ کمال جب دیکھتے ہیں کہ ہمیں اس عظیم مقام تک رسائی حاصل نہیں تو وہ اس عظیم محبوب کی طرف اپنی نسبت کرنے کی پسند کرتے ہیں تاکہ بطورِ خاص اس کی نظرِ عنایت میں ہوجائیں، یہ بات مسلم ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام دوسروں کے محتاج نہیں لیکن سیدانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سب کو محتاجی ہے، جیسا کہ انبیاء سے اخذِ میثاق والی آیت کریمہ اور صحیح مسلم کی یہ حدیث اس پر شاہد عادل ہے کہ تمام مخلوق میری طرف راغب ہے حتی کہ جناب ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام بھی۔ اس قسم کی حدیثیں کسی عقیدہ کے مخالف نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
( ۱ ؎ صحیح مسلم          کتاب فضائل القرآن باب بیان القرآن انزل علی سبعۃ احرف     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۷۳)
مسئلہ ۱۳۸ : از گونڈل     مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب      ۲۶ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عوام مومنین سے عوام ملائکہ کا مرتبہ زیادہ ہے یا نہیں عوام مومنین کی تشریح فرمائیں۔
الجواب : حدیث میں ہے رب العزۃ جل و علا فرماتا ہے:
عبدی المؤمن احب الیّ من بعض ملئٰکتی  ۔۲؂
میرا مسلمان بندہ مجھے میرے بعض فرشتوں سے زیادہ پیارا ہے۔
 ( ۲ ؎ اتحاف السادۃ المتقین      کتاب اسرار الصوم     دارالفکر بیروت        ۴ /۱۹۳)
ہمارے رسول ملائکہ کے رسولوں سے افضل ہیں، اور ملائکہ کے رسول ہمارے اولیاء سے افضل ہیں، اور ہمارے اولیاء عوام ملائکہ یعنی غیر رسل سے افضل ہیں اور یہاں عوام مومنین سے یہی مراد ہے۔ نہ فسّاق و فجار کہ ملائکہ سے کسی طرح افضل نہیں ہوسکتے۔ انسان صفت ملکوتی و بہیمی وسبعی وشیطانی سب کا جامع ہے جو صفت اس پر غلبہ کرے گی اس کے منسوب الیہ سے زائد ہوجائے گا کہ اگر ملکوتی صفت غالب ہوئی کروڑوں ملائکہ سے افضل ہوگا ۔
اور بہیمی غالب ہوئی تو بہائم سے بدتر
اولئٰک کالا نعام بل ھم اضل ۔۱؂
 ( جو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ت) یونہی سبعی و شیطانی وہابیہ کو دیکھو، شیطان کہ ان سے سبق لیتا ہے، ابلیس کو ہزاروں برس کی عمر میں نہ سوجھی تھیں جو انہیں سوجھتی ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 ( ۱ ؎القرآن الکریم     ۷/ ۱۷۹)
مسئلہ ۱۳۹ : ازدارالطلبہ    مدرسہ سبحانیہ الہ آباد      مرسلہ مولوی ابراہیم صاحب     ۱۷ رمضان ۱۳۳۸ھ

(۱) زید کہتا ہے کہ تقلید شخصی واجب نہیں کہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اگر واجب ہوتی تو احادیث میں کہیں نہ کہیں ذکر ہوتا۔ عمرو کہتا ہے واجب ہے بالخصوص امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی، زید کا قول صحیح ہے یا عمر وکا ؟

(۲) زید کہتا ہے قراء ت خلف الامام کرنی چاہیے نہ کی جائے گی تو نماز صحیح نہ ہوگی، اور اس کے ثبوت میں احادیث پیش کرتا ہے ، عمرو کہتا ہے نہ کرنا چاہیے، زید احادیث و تفاسیر کے علاوہ اور کسی دلیل کو نہیں مانتا، کہتا ہے کہ فقہ قیاسی ہے احادیث وتفاسیر کے مقابل قابل عمل نہیں۔

(۳) زید کہتا ہے آمین بالجہر کرنا چاہیے کہ احادیث سے ثابت ہے۔ عمرو مانع ہے، کس کا قول ٹھیک ہے؟
الجواب :

(۱) تقلید فرض قطعی ہے،
قال اﷲ تعالٰی:  فاسئلوااھل الذکر ان کنتم لا تعلمون  ۔۲؂
تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ہے۔(ت)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:  الاسئلوا ان لم یعلموافانما شفاء العی السؤال  ۔۳؂
اگر وہ نہیں جانتے تو پوچھتے کیوں نہیں کیونکہ جہالت کی شفاء سوال کرنا ہے۔(ت)
 ( ۲ ؎القرآن الکریم     ۱۶/ ۴۳)

 (۳ ؎سنن ابی داؤد  کتاب الطہارۃ    باب المجدور یتیمم   آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۴۹)
اگر ایک مذہب کی پابندی نہ کی جائے تو یا وقت واحد میں شیئ واحد کو حرام بھی جانے گا اور حلال بھی جیسے قراءت مقتدی شافعیہ کے یہاں واجب اور حنفیہ کے یہاں حرام اور وقت واحد میں شے کا حرام و حلال دونوں ہونا محال ، یا یہ کرے گا کہ ایک وقت حلال سمجھے گا دوسرے وقت حرام، تو یہ اس آیت میں داخل ہونا ہوگاکہ
یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما ۔۱؂
 ( ایک سال اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور ایک سال اسے حرام ٹھہراتے ہیں۔ت) لاجرم پابندیِ مذہب لازم ، اور اس کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 ( ۱ ؎القرآن الکریم     ۹/ ۳۷)
 (۲) فقہ کا نہ ماننے والاشیطان ہے، ائمہ کا دامن جو نہ تھامے وہ قیامت تک کوئی اختلافی مسئلہ حدیث سے ثابت نہیں کرسکتا، جسے دعوٰی ہو سامنے آئے اور زیادہ نہیں اسی کا ثبوت دے کہکتا کھانا حلال ہے یا حرام؟ آیت نے تو کھانے کی حرام چیزوں کو صرف چار میں حصر فرمایا ہے۔ مردار اور رگوں کا خون، اور خنزیر کا گوشت اور وہ جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیا جائے تو کتا درکنار سوئر کی چربی اور گردے اور اوجڑی کہاں سے حرام ہوگی کسی حدیث میں ان کی تحریم نہیں اور آیت میں لحم فرمایا ہے جو ان کو شامل نہیں، غرض یہ لوگ شیاطین ہیں، ان کی بات سننا جائز نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳) عمرو کا قول ٹھیک ہے، آمین دعا ہے اور دعا کے اخفاء کا قرآن عظیم میں حکم ہے اور حدیث مرفوع بھی اسی کا افادہ فرماتی ہے کہ:
واذاقال ولا الضالین قولوا امین فان الامام یقولہا  ۔۲؂
جب امام  ولاالضالین کہے تم آمین کہو کہ امام بھی کہے گا۔
 ( ۲ ؎سنن النسائی     کتاب الافتتاح باب جہر الامام آمین      نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۱۴۷)

(مسند احمد بن حنبل    عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ    المکتب الاسلامی بیروت        ۲/ ۲۷۰)
معلوم ہوا کہ آہستہ کہے گا، اصل یہ ہے کہ امام کے فعل کے ساتھ اس کا فعل ہو اگر وہ آمین بالجہر کہتا مقتدیوں کو معلوم ہوتا تو یہ فرمایا جاتا کہ جب وہ آمین کہے تم بھی کہو۔ یہاں یہ نہ فرمایا بلکہ اس کا فعل بتایا کہ جب وہ ولا الضالین کہے تم امین کہو اور اس کی موافقت کہ خفی تھی ظاہر فرمادی کہ وہ بھی کہے گا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۲: از شہر محلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ قیام میلاد شریف اگر مطلقاً ذکر خیر کی وجہ سے کیا جاتا ہے تو اول وقت سے کیوں نہیں کیا جاتا اس لیے کہ اول سے ذکرِ خیر ہی ہوتا ہے، اور اگر اس خیال سے کیا جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رونق افروز ہوتے ہیں تو کیا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اول وقت سے رونق افروز نہیں ہوتے اگر ہوتے تو ابتداءً مجلس مبارک قیام ہی سے کیوں  نہیں ہوتا اور اگر نہیں تو کیا فظھرفولد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) ہی کے وقت جلوہ افروز ہوتے اور تا قیام تشریف فرمارہتے اور فوراً لوگوں کے بیٹھتے ہی تشریف لے جاتے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے، کہ حضور کا آنا لوگوں کے قیام ونیز میلادخواں کے فظھر فولد کہنے پر موقوف ہے، کیا یہ زید کا کہنا لغو ہے یا نہیں اور اس کا کافی جواب کیا ہے؟ بینوا توجروا ( بیان فرماؤ اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب : زید کی یہ سب حماقتیں جہالتیں سفاہتیں ہیں مہمل ولا یعنی شقوق اپنی طرف سے ایجاد کیے اور جو وجہ حقیقی ہے اس کی طرف اسے ہدایت نہ ہوئی، تعظیم ذکر اقدس مثل تعظیم ذاتِ انور ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، تعظیم ذات باختلافِ حالات مختلف ہوتی ہے، معظم کے قدوم کے وقت قیام کیا جاتا ہے اور اس کے حضور کے وقت بادب اس کے سامنے بیٹھنا تعظیم ہے۔ ذکر شریف میں بھی ذکر قدوم کی تعظیم قیام سے ہے اور باقی وقت کی تعظیم بادب قعود سے۔
ولٰکن الوھابیۃ قوم لایعقلون
 (لیکن وہابی بے عقل قوم ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم،
Flag Counter