Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
62 - 157
عقیدہِ ثامنہ ۸_____  امامت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نیابتِ مطلقہ کو امامتِ کُبرٰی اور اس منصبِ عظیم پر فائز ہونے والے کو امام کہتے ہیں۔

امام المسلمین حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نیابت سے مسلمانوں کے تمام امور دینی و دنیوی میں حسب شرع تصرف عام کا اختیار رکھتا ہے اور غیر معصیت میں اس کی اطاعت تمام جہان کے مسلمانوں پر فرض ہوتی ہے۔
اس امام کے لیے مسلمان آزاد، عاقل، بالغ، قادر، قرشی ہونا شرط ہے، ہاشمی علوی اور معصوم ہونا اس کی شرط نہیں، ان کا شرط کرنا روافض کا مذہب ہے جس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ برحق امرائے مومنین ، خلفائے ثلٰثہ ابوبکر صدیق و عمر فاروق وعثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہم کو خلافتِ رسول سے جدا کردیں۔ حالانکہ ان کی خلافتوں پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اجماع ہے۔ مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم و حضرات حسنین رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ان کی خلافتیں تسلیم کیں۔ اور علویت کی شرط نے تو مولٰی علی کو بھی خلیفہ ہونے سے خارج کردیا۔ مولا علی کیسے علوی ہوسکتے ہیں۔ رہی عصمت تو یہ انبیاء و ملائکہ کا خاصہ ہے امام کا معصوم ہونا روافض کا مذہب ہے۔ (بہارِ شریعت)
ہم مسلمانانِ اہلسنت و جماعت کے نزدیک رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد ( خلافت و امامتِ صدیق اکبر ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) بالقطع التحقیق ( قطعاً ، یقیناً ، تحقیقاً) حقّہ راشدہ ہے ( ثابت و درست، رُشد و ہدایت پر مبنی) نہ غاصبہ جائرہ ( کہ غصب یا جور و جبر سے حاصل کی گئی) رحمت و رافت ( مہربانی و شفقت ) حسنِ سیادت ( بہتر ولائق تر امارت) ولحاظِ مصلحت (تمام مصلحتوں سے ملحوظ) و حمایتِ ملّت ( شریعت کی حمایتوں سے معمور) و پناہ اُمت سے مزین ( آراستہ و پیراستہ ) اور عدل و داد ( انصاف و برابری) و صدق و سداد ( راستی و درستی) ورشد و ارشاد ( راست روی و حق نمائی) و قطع فساد و قمع اہل ارتداد (مرتدین کی بیخ کنی) سے محلّٰی ( سنواری ہوئی) اوّل تلویحات و تصریحات  روشن و صریح ارشادات)
سیّد الکائنات علیہ وعلٰی آلہ افضل الصلوات والتحیات
اس بارے میں بہ کثرت وارد۔
دوسرے خلافت اس جناب تقوٰی مآب کی باجماعِ صحابہ واقع ہوئی، ( اور آپ کا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد تختِ خلافت پر جلوس فرمانا فرامین و احکام جاری کرنا، ممالک اسلامیہ کا نظم و نسق سنبھالنا، اور تمام امور مملکت و رزم و بزم کی باگیں اپنے دستِ حق پرست میں لینا و ہ تاریخی واقعہ مشہور و متواتر اظہر من الشمس ہے، جس سے دنیا میں موافق مخالف حتّٰی کہ نصارٰی و یہود و مجوس و ہنود کسی کو انکار نہیں۔ اور ان محبانِ خدا و نوابانِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ابداً ابداً سے شیعانِ علی کو زیادہ عداوت کا منبٰی یہی ہے کہ ان کے زعم  باطل میں استحقاقِ خلافت حضرت مولٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الاسنٰی میں منحصر تھا۔
جب بحکمِ الہٰی خلافتِ راشدہ، اوّل ان تین سرداران مومنین کو پہنچی روافض نے انہیں معاذ اﷲ مولٰی علی کا حق چھیننے والا اور ان کی خلافت وامامت کو غاصبہ جائرہ ٹھہرایا۔

اتنا ہی نہیں بلکہ تقیہ شقیہ کی تہمت کی بدولت حضرت اسد اﷲ غالب کو عیاذاً باﷲ سخت نامرد و بُزدل و تارکِ حق و مطیع باطل ٹھہرایا ۔ ع
دوستی  بے خِرداں دشمنی ست
 ( بے عقلوں کی دوستی دشمنی ہوتی ہے)
(الغرض آپ کی امامت و خلافت پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے) اور باطل پر اجماع  امّت (خصوصاً اصحابِ حضرت رسالت علیہ وعلیہم الصلوۃ والتحیۃ کا) ممکن نہیں۔ ( اور مان لیا جائے تو غصب و ظلم پر اتفاق سے عیاذاً باﷲ سب فساق ہوئے، اور یہی لوگ حاملانِ قرآن مبین و راویانِ دین متین ہیں، جو انہیں فاسق بتائے اپنے لیے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک دوسرا سلسلہ پیدا کرے یا ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، اسی طرح ان کے بعد خلافتِ فاروق ، پھر امامتِ ذی النورین، پھر جلوہ فرمائی ابوالحسنین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
عقیدہ تاسعہ ۹ ______ضروریاتِ دین
نصوصِ قرآنیہ ( اپنی مراد پر واضح آیاتِ فرقانیہ) و احادیثِ مشہورہ متواترہ ( شہرت اور تواتر سے مؤیّد) و اجماعِ امت مرحومہ مبارکہ ( کہ یہ قصرِ شریعت کے اساسی ستون ہیں اور شبہات و تاویلات سے پاک، ان میں سے ہر دلیل قطعی، یقینی واجب الاذعان والثبوت ، ان ) سے جو کچھ دربارہ الوہیت ( ذات و صفاتِ باری تعالٰی) ورسالت ( و نبوت انبیاء و مرسلین وحی رب العلمین) ( وکتب سماوی، و ملائکہ و جنِ وبعث و حشرو نشر و قیامِ قیامت ، قضاء و قدر) وماکان ومایکون ( جملہ ضروریاتِ دین) ثابت ( اور ان دلائل قطعیہ سے مدلل ان براہین واضحہ سے مبرہن ) سب حق ہیں اور ہم سب پر ایمان لائے جنت اور اسکے جانفزا احوال ( کہ
لاعین رأت ولا اُذن سمعت ولا خطرببال احدٍ ۔۱؂
وہ عظیم نعمتیں وہ نعیم عظمتیں اور جان و دل کو مرغوب و مطلوب و ہ لذتیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سُنا، اور نہ کسی کے دل پر اُن کا خطرہ گزرا)
 ( ۱ ؎صحیح البخاری     کتاب التفسیر         تحت آیۃ ۳۲/ ۱۷        قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲/ ۷۰۴)

(جامع الترمذی    ابواب التفسیر        سورۃ السجدۃ        امین کمپنی دہلی            ۲/ ۱۵۱)

(سُنن ابن ماجہ    ابواب الزہد         باب صفۃ الجنۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ص۳۳۱)
دوزخ اور اس کے جاں گزاحالات (کہ وہ ہر تکلیف و اذیت جو ادراک کی جائے اور تصور میں لائی جائے ، ایک ادنی حصہ ہے اس کے بے انتہا عذاب کا، والعیاذ باﷲ) قبر کے نعیم و عذاب ( کہ وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ) منکر نکیر سے سوال و جواب روزِ قیامت حساب و کتاب ووزنِ اعمال ( جس کی حقیقت اﷲ جانے اور اس کا رسول) و کوثر ( کہ میدانِ حشر کا ایک حوض ہے اور جنت کا طویل و عریض چشمہ) وصراط ( بال سےزیادہ باریک ، تلوار سے زیادہ تیز، پشتِ جہنم پر ایک پُل) و شفاعۃ عصاۃ اہلِ کبائر ( یعنی گناہگار ان اُمت مرحومہ کہ کبیرہ گناہوں میں ملوث رہے ان کے لیے سوالِ بخشش ) اور اس کے سبب اہل کبائر کی نجات الٰی غیر ذالک من الواردات سب حق ( ہے اور سب ضروری القبول) جبر و قدر باطل ( اپنے آپ کو مجبورِ محض یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی)۔
ولٰکن امر بین اَمَرین
 ( اختیارِ مطلق اور جبر محض کے بین بین راہِ سلامتی اور اس میں زیادہ غور و فکر سبب ہلاکت، صدیق و فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے۔ ماو شما کس گنتی میں) جو بات ہماری عقل میں نہیں آتی (اس میں خواہ مخواہ نہیں الجھتے اور اپنی اندھی اوندھی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑاتے بلکہ) اس کو موکول بخدا کرتے ( اﷲ عزوجل کو سونپتے کہ واﷲ اعلم بالصواب ) اور اپنا نصیبہ
اٰمنّا بہ کلّ من عندِ ربّنا ۔۱؂
بناتے ہیں ( کہ سب کچھ حق کی جانب سے ہے سب حق ہے اور سب پر ہمارا یمان) ؎
مصطفٰی اندر میاں آنگہ کہ می گوید بعقل	آفتاب اندر جہاں آنگہ کہ می جوید سہا ۔۲؂
مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف فرما ہوں تو اپنی عقل سے کون بات کرتا ہے سورج دنیا میں جلوہ گر ہو تو چھوٹے سے ستارے کو کون ڈھونڈتا ہے۔ت)

(قال الرضا )

عرش پہ جا کہ مرغِ عقل تھک کے گرا ، غش آگیا	اور ابھی منزلوں پر ے، پہلا ہی آستان ہے  ۳؎
( ۱ ؎    القرآن الکریم         ۳/ ۷)

(۲؂)

( ۳ ؎  حدائق بخشش         مکتبہ رضویہ کراچی     حصہ اول     ص۷۹)
یاد رکھنا چاہیے کہ وحی الہٰی کا نزول، کتبِ آسمانی کی تنزیل ، جن و ملائکہ، قیامت و بعث، حشر ونشر حساب و کتاب ، ثواب و عذاب اور جنت و دوزخ کے وہی معنی ہیں جو مسلمانوں میں مشہور ہیں اور جن پر صدر اسلام سے اب تک چودہ سو سال کے کافہ مسلمین و مومنین دوسرے ضروریاتِ دین کی طرح ایمان رکھتے چلے آرہے ہیں مسلمانوں میں مشہور ہیں۔
جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہے اوران لفظوں کا تو اقرار کرے مگر ان کے نئے معنٰی گھڑے مثلاً یوں کہے کہ جنت و دوزخ و حشر ونشر و ثواب و عذاب سے ایسے معنی مراد ہیں جو ان کے ظاہر الفاظ سے سمجھ میں نہیں آتے۔ یعنی ثواب کے معنی اپنے حسنات کو دیکھ کر خوش ہونا۔ اور عذاب، اپنے برے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا ہیں۔ یا یہ کہ وہ روحانی لذتیں اور باطنی معنی ہیں وہ کافر ہے کیونکہ ان امور پر قرآن پاک اور حدیث شریف میں کھلے ہوئے روشن ارشادات موجود ہیں ۔
یونہی یہ کہنا بھی یقیناً کفر ہے کہ پیغمبروں نے اپنی اپنی اُمتوں کے سامنے جو کلام، کلامِ الہٰی بتا کر پیش کیا وہ ہر گز کلامِ الہی نہ تھا بلکہ وہ سب انہیں پیغمبروں کے دلوں کے خیالات تھے جو فوارے کے پانی کی طرح انہیں کے قلوب سے جوش مار کر نکلے اور پھر انہیں کے دِلوں پر نازل ہوگئے۔
یونہی یہ کہنا کہ نہ دوزخ میں سانپ، بچھو اور زنجیریں ہیں اور نہ وہ عذاب جن کا ذکر مسلمانوں میں رائج ہے، نہ دوزخ کا کوئی وجود خارجی ہے بلکہ دنیا میں اﷲ تعالٰی کی نافرمانی سے جو کلفت روح کو ہوئی تھی بس اسی روحانی اذیت کا اعلٰی درجہ پر محسوس ہونا اسی کا نام دوزخ اور جہنم ہے، یہ سب کفرقطعی ہے۔
یونہی یہ سمجھنا کہ جنت میں میوے ہیں نہ باغ، نہ محل ہیں نہ نہریں ہیں، نہ حوریں ہیں، نہ غلمان ہیں، نہ جنت کا کوئی وجود خارجی ہے بلکہ دنیا میں اللہ تعالٰی کی فرمانبرداری کی جو راحت روح کو ہوئی تھی بس اسی روحانیت کا اعلٰی درجہ پر حاصل ہونا اسی کا نام جنت ہے، یہ بھی قطعاً یقینا کفر ہے۔
یونہی یہ کہنا کہ اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں جن فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے نہ ان کا کوئی اصل وجود ہے نہ ان کا موجود ہونا ممکن ہے ، بلکہ اﷲ تعالٰی نے اپنی ہر ہر مخلوق میں جو مختلف قسم کی قوتیں رکھی ہیں جیسے پہاڑوں کی سختی، پانی کی روانی، نباتات کی فزونی بس انہیں قوتوں کا نام فرشتہ ہے ، یہ بھی بالقطع و الیقین کفر ہے۔

یونہی جن و شیاطین کے وجود کا انکار اور بدی کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا کفر ہے اور ایسے اقوال کے قائل یقیناً کافر اور اسلامی برادری سے خارج ہیں۔
فائدہ  جلیلہ
مانی ہوئی باتیں چار (۴) قسم ہوتی ہیں۔
 (۱) ضروریاتِ دین :
ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع  قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہی جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔
 (۲) ضروریاتِ مذہبِ اہلسنت و جماعت :
ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوعِ شبہہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے اسی لیی ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ ، بذمذہب ، بددین کہلاتا ہے۔
(۳) ثا بتات محکمہ :
ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی، جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح و مضمحل اور التفاتِ خاص کے ناقابل بنادے۔ اس کے ثبوت کے لیے حدیث احاد، صحیح یا حسن کافی ، اور قول سوادِ اعظم و جمہور علماء کا سندِ وافی ،
فانّ ید اﷲ علی الجماعۃ
( اﷲ تعالٰی کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ت)

ان کا منکر وضوحِ امر کے بعد خاطی و آثم خطاکارو گناہگار قرار پاتا ہے، نہ بددین و گمراہ نہ کافر و خارج از اسلام
 (۴) ظنّیات  محتملہ:
ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنّی بھی کافی، جس نے جانبِ خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہو، ان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وارکہا جائے گا نہ گنہگار ، چہ جائیکہ گمراہ ، چہ جائیکہ کافر۔

ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے جو فرقِ مراتب نہ کرے اور ایک مرتبے کی بات کو اس سے اعلٰی درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکّار فیلسوف ۔۔۔۔۔۔ع
ہر سخن و قتے ہر نکتہ مقامے دارد
 ( ہر بات کا کوئی وقت اور ہر نکتے کا کوئی خاص مقام ہوتا ہے۔ت)

اور ۔۔۔۔۔۔ع
گرفرق مراتب نہ کنی زندیقی
 ( اگر تُو مراتب کے فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو زندیق ہے۔ت)

اور بالخصوص قرآنِ عظیم بلکہ حدیث ہی میں تصریح صریح ہونے کی تو اصلاً ضرورت نہیں حتّٰی کہ مرتبہ اعلٰی اعنی ضروریاتِ دین میں بھی۔

بہت باتیں ضروریاتِ دین سے ہیں جن کا منکر یقیناً کافر مگر بالتصریح ان کا ذکر آیات و احادیث میں نہیں، مثلاً باری عزوجل کا جہل محال ہونا۔
قرآن عظیم میں اﷲ عزوجل کے علم و احاطہ کا لاکھ جگہ ذکر ہے مگر امتناع و امکان کی بحث کہیں نہیں پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں تو بے شک اﷲ تعالٰی سب کچھ جانتا ہے،
عالم الغیب و الشہادۃ
ہے، کوئی ذرّہ اس کے علم سے چھپا نہیں۔
مگر ممکن ہے کہ جاہل ہوجائے تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس کے امکان کا سلبِ صریح قرآن میں مذکور نہیں۔ حاش ﷲ ! ضرور کافر ہے اور جو اسے کافر نہ کہے خود کافر، تو جب ضروریاتِ دین ہی کے ہر جزئیہ کی تصریح صریح، قرآن و حدیث میں ضرور نہیں تو ان سے اُتر کر اور کسی درجے کی بات پر یہ مڑ چڑا پن کہ ہمیں تو قرآن ہی میں دکھاؤ ورنہ ہم نہ مانیں گے ، نِری جہالت ہے یا صریح ضلالت، مگر جنون و تعصب کا علاج کسی کے پاس نہیں۔

تو خوب کان کھول کر سُن لو اور لوحِ دل پر نقش رکھو کہ جسے کہتا سنو  ہم اماموں کا قول نہیں جانتے ہمیں تو قرآن و حدیث چاہیے۔ جان لو کہ یہ گمراہ ہے ، اور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بددین، دینِ خدا کا بدخواہ ہے۔
مسلمانو ! تم ان گمراہوں کی ایک نہ سُنو۔ اور جب تمہیں قرآن میں شبہہ ڈالیں تم حدیث کی پناہ لو۔ اگر حدیث میں ایں و آں نکالیں تم ائمہ دین کا دامن پکڑو۔ اس درجے پر آکر حق و باطل صاف کھل جائے گا اور ان گمراہوں کا اڑایا ہوا، سارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں سے دھل جائے گا اور اس وقت یہ ضال، مضل طائفے بھاگتے نطر آئیں گے۔
کانَّھم حمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ  ۔۱؂
 ( گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں کہ شیر سے بھاگے ہوں) (الصارم الربانی ملخصاً)
 (۱؂ القرآن الکریم      ۷۴/ ۵۰ و ۵۱)
Flag Counter