Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
60 - 157
اور ( یہ اہل سنت و جماعت کا وہ عقیدہ ثابتہ محکمہ ہے کہ) اس عقیدہ کا خلاف اوّل تو کسی حدیث صحیح میں ہے ہی نہیں اور اگر بالفرض کہیں بوئے خلاف پائے بھی تو سمجھ لے کہ یہ ہماری فہم کا قصور ہے ( اور ہماری کوتاہ فہمی) ورنہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور خود حضرت مولٰی ( علی) و اہلبیت کرام ( صاحب البیت ادرٰی بما فیہ کے مصداق، اسرار خانہ سے مقابلۃً واقف تر) کیوں بلا تقیید ( کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر) انہیں افضل و خیر امت و سردار اوّلین و آخرین بتاتے، کیا آیہ کریمہ
فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم ونساء ناونساء کم وا نفسنا وانفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنۃ اﷲ علی الکذبین ۔۱؂
 ( تو ان سے فرمادو کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہارے عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت ڈالیں)
( ۱ ؎  القرآن الکریم             ۳/ ۶۱)
و حدیث صحیح من کنت مولاہ فعلی مولاہ  ۔۲؂
 (جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے) اور خبر
شدید الضعف وقوی الجرح
 ( نہایت درجہ ضعیف و قابل شدید جرح و تعدیل )
لحمک لحمی ودمک دمی  ۔۳؂
 (تمہارا گوشت میرا گوشت اور تمہارا خون میرا خون ہے)
( ۲ ؎ جامع الترمذی     ابواب المناقب    باب مناقب علی رضی اللہ عنہ                    امین کمپنی دہلی            ۲/ ۲۱۳)

(  مسند احمد بن حنبل         عن علی رضی اللہ عنہ        المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۸۴و ۱۱۸و ۱۱۹ و ۱۵۲)

( سنن ابن ماجہ     فضل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ            ایچ ایم سعید کمپنی کر اچی     ص ۱۲)

 (المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ        من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ         دارالفکر بیروت         ۳/ ۱۱۰)

(المعجم الکبیر            حدیث ۳۰۳۹             المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۳/ ۱۸۹)

(کنزالعمال حدیث ۳۲۹۰۴ و ۳۲۹۴۶ و ۳۲۹۵۰ و ۳۲۹۵۱             مؤسسۃ الرسالہ بیروت         ۱۱/ ۶۰۲و ۶۰۹ و۶۱۰)

( ۳ ؎ کنزالعمال             حدیث ۳۲۹۳۶           موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۱/ ۶۰۷)
برتقدیر ثبوت ( بشرطیکہ ثابت وصحیح مان لی جائے) وغیر ذٰلک (احادیث و اخبار) سے انہیں آگاہی نہ تھی۔(ہوش و حواس، علم و شعور اور فہم و فراست میں یگانہ روزگار ہوتے ہوئے ان اسرارِ درون خانہ سے بیگانہ رہے اور اسی بیگانگی میں عمریں گزاردیں) یا ( انہیں آگاہی اور ان اسرار پر اطلاع) تھی تو وہ ( ان واضح الدلالۃ الفاظ) کا مطلب نہ سمجھے ( اور غیرت و شرم کے باعث اور کسی سے پوچھ نہ سکے۔)  یا سمجھے۔ (حقیقت  حال سے آگاہ ہوئے) اور اس میں تفضیل شیخین کا خلاف پایا ( مگر خاموش رہے اور جمہور صحابہ کرام کے برخلاف عقیدہ رکھا زبان پر اس کا خلاف نہ آنے دیا اور حالانکہ یہ ان کی پاک جنابوں میں گستاخی اور ان پر تقیہ ملعونہ کی تہمت تراشی ہے) تو ( اب ہم ) کیونکر خلاف سمجھ لیں( کسے کہہ دیں کہ ان کے دل میں خلاف تھا زبان سے اقرار ) اور تصریحات بیّنہ و قاطع الدلالۃ) (روشن صراحتوں قطعی دلالتوں) وغیر محتملۃ الخلاف کو ( جن میں کسی خلاف کا احتمال نہیں کوئی ہیر پھیر نہیں) کیسے پس پشت ڈال دیں
الحمد ﷲ رب العلمین
کہ حق تبارک و تعالٰی نے فقیر حقیر کو یہ ایسا جواب شافی تعلیم فرمایا کہ منصف ( انصاف پسندذی ہوش) کے لیے اس میں کفایت ( اور یہ جواب اس کی صحیح رہنمائی و ہدایت کے لیے کافی) اور متعصب کو ( کہ آتش غلو میں سُلگتا اور ضد و نفسانیت کی راہ چلتا ہے) اس میں غیظ بے نہایت
 ( قل موتوابغیظکم ۔۱؂
انہیں آتشِ غضب میں جلنا مبارک) ( ہم مسلمانانِ اہلسنت کے نزدیک ، حضرت مولٰی کی ماننا) یہی محبتِ علی مرتضٰی ہے اور اس کا بھی ( یہی تقاضا ) یہی مقتضٰی ہے کہ محبوب کی اطاعت کیجئے اور اس کے غضب اور اسی کروڑوں کے استحقاق سے بچئے ( والعیاذ باﷲ )
 ( ۱؎  القرآن الکریم            ۳ /۱۱۹)
اﷲ ! اﷲ وہ امام الصدیقین ، اکمل اولیاء العارفین سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ جس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم و محبت کو حفظ جان پر مقدم رکھا حالانکہ جان کا رکھنا سب سے زیادہ اہم فرض ہے۔ اگر بوجہ ظلم عدو مکابر وغیرہ نماز پڑھنے میں معاذ اﷲ ہلاک جان کا یقین ہو تو اس وقت ترکِ نماز کی اجازت ہوگی۔
یہی تعظیم و محبت و جاں نثاری و پروانہ واریِ شمع رسالت علیہ الصلوۃ والتحیۃ ہے جس نے صدیق اکبر کو بعد انبیاء و مرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہم اجمعین تمام جہان پر تفوق بخشا اور ان کے بعد تمام عالم، تمام خلق ، تمام اولیاء تمام عرفاء سے افضل و اکرم و اکمل و اعظم کردیا۔

وہ صدیق جس کی نسبت حدیث میں آیا کہ  ابوبکر کو کثرتِ صوم و صلوۃ کی وجہ سے تم پر فضیلت نہ ہوئی بلکہ اس سر کے سبب جو اس کے دل میں راسخ و متمکن ہے ۔۱؂
 ( ۱ ؎  کشف الخفا         حدیث ۲۲۲۶                    دارالکتب العلمیۃ بیروت             ۲/ ۱۷۰)
وہ صدیق جس کی نسبت ارشا دہوا  اگر ابوبکر کا ایمان میری تمام اُمت کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ابوبکر کا ایمان غالب آئے ۔۲؂
 ( ۲؎ تاریخ الخلفاء         فصل فیما ورد من کلام الصحابۃ الخ                دارصادربیروت                ص ۷۸)

(شعب الایمان         حدیث۳۶                    دارالکتب العلمیۃ  بیروت              ۱/ ۶۹)
وہ صدیق کہ خود اُن کے مولائے اکرم و آقائے اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا  کسی کا ہمارے ساتھ کوئی ایسا سلوک نہیں ہے جس کا ہم نے عوض نہ کردیا ہو سوا ابوبکر کے ، کہ ان کا ہمارے ساتھ وہ حسن سلوک ہے جس کا بدلہ اﷲ تعالٰی انہیں روز قیامت دے گا ۔۳؂
 ( ۳ ؎  جامع الترمذی          ابواب المناقب باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ    امین کمپنی دہلی    ۲/ ۲۰۷)
وہ صدیق جس کی افضلیت مطلقہ پر قرآنِ کریم کی شہادت ناطقہ ہے کہ فرمایا :
  ان اکرمکم عند اﷲ اتقاکم  ۔۴؂
تم میں سب سے زیادہ عزت والا اﷲ کے حضور وہ ہے جو تم سب میں اتقی ہے۔
اور دوسری آیۃ کریمہ میں صاف فرمادیا ۔
وسیجنبہاالاتقی ۔۵؂
قریب ہے کہ جہنم سے بچایا جائے گا وہ  اتقٰی۔
 ( ۴ ؎  القرآن الکریم            ۴۹/ ۱۳)( ۵ ؎ القرآن الکریم            ۹۲/ ۱۷)
بشہادت آیت اُولی ان آیات کریمہ سے وہی مراد ہے جو افضل و اکرم امتِ مرحومہ ہے، اور وہ نہیں مگر اہل سنت کے نزدیک صدیق اکبر، اور تفضیلیہ و روافض کے نزدیک یہاں امیر المومنین مولٰی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

مگر اﷲ عزوجل کے لیے حمد کہ اس نے کسی کی تلبیس و تدلیس اور حق و باطل میں آمیزس و آویزش کو جگہ نہ چھوڑی، آیۃ کریمہ نے ایسے وصفِ خاص سے اتقٰی کی تعیین فرمادی جو حضرت صدیق اکبر کے سوا کسی پر صادق آہی نہیں سکتا۔
فرماتا ہے:
ومالِاَحدعندہ من نعمۃٍ تجزٰی  ۔ ۶؎
اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔
 ( ۶ ؎ القرآن الکریم            ۹۲/ ۱۹)
اور دنیا جانتی مانتی ہے کہ وہ صرف صدیقِ اکبر ہی ہیں جن کی طرف سے ہمیشہ بندگی و غلامی و خدمت و نیاز مندی اور مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے براہِ بندہ نوازی قبول و پذیرائی کا برتاؤ رہا یہاں تک کہ خودارشاد فرمایا کہ : بے شک تمام آدمیوں میں اپنی جان و مال سے کسی نے ایسا سلوک نہیں کیا جیسا ابوبکر نے کیا۔ ۔۱؂
 ( ۱ ؎ جامع الترمذی    ابواب المناقب    باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ         امین کمپنی دہلی    ۲/ ۲۰۷)
جب کہ مولٰی علی نے مولائے کل ، سیّد الرسل صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کنارِ اقدس میں پرورش پائی، حضور کی گود میں ہوش سنبھالا، اور جو کچھ پایا بظاہر حالات یہیں سے پایا، تو آیۃ کریمہ
  ومالاحد عندہ من نعمۃ تجزی  ۔۲؂
 (اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے) سے مولا علی قطعاً مراد نہیں ہوسکتے بلکہ بالیقین صدیقِ اکبر ہی مقصود ہیں، اور اسی پر اجماعِ مفسرین موجود۔
 ( ۲ ؎القرآ ن الکریم          ۹۲/ ۱۹)
وہ صدیق جنہیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرضیتِ حج کے بعد پہلے ہی سال میں امیر الحجاج مقرر فرمایا ا ور انہیں کو اپنے سامنے اپنے مرض المرت شریف میں اپنی جگہ امام مقرر فرمایا۔ 

حضرت مولی علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کا ارشاد ہے کہ  نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد جب ہم نے غور کیا ( تو اس نتیجہ پر پہنچے ) کہ نماز تو اسلام کا رُکن ہے اور اسی پر دین کا قیام ہے اس لیے ہم نے امورِ خلافت کی انجام دہی کے لیے بھی اس پر رضا مندی ظاہر کردی ، جسے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا تھا، اور اسی لیے ہم نے ابوبکر کی بیعت کرلی ۔۳؂
 ( ۳ ؎  الصواعق المحرقۃ        الباب الاول     الفضل الرابع                 دارالکتب العلمیۃ بیروت     ص ۴۳)
اور فاروق اعظم تو فاروق اعظم ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ، وہ فاروق جن کے لیے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا مانگی کہ :
اللّٰھمّ اعزّ الاسلام بعمر بن خطّاب خاصّۃ۔۴؂
الہٰی! اسلام کی خاص عمر بن خطاب کے اسلام سے عزتیں بڑھا۔
 ( ۴ ؎  سنن ابن ماجہ              فضل عمر رضی اللہ عنہ                         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۱۱)

(المستدرک للحاکم         کتاب معرفۃ الصحابۃ                        دارالفکر بیروت         ۳/ ۸۳)
اس دعا ئے کریم کے باعث عمر فاروق اعظم کے ذریعہ سے جو جو عزتیں اسلام کو ملیں ، جو جو بلائیں اسلام ومسلمین سے دفع ہوئیں مخالف موافق سب پر روشن و مبینّ ، ولہذا سیّدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ:
مازلنا اعزۃً منذاسلم  ۔۱؂
 (بخاری) ہم ہمیشہ معزز رہے جب سے عمر اسلام لائے۔
 ( ۱ ؎  صحیح البخاری     کتاب مناقب اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم         مناقب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۵۲۰)
وہ فاروق جن کے حق میں خاتم النبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :  اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔۲؂(رضی اللہ عنہ)
 ( ۲ ؎ جامع الترمذی     ابواب المناقب            مناقب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ    امین کمپنی دہلی         ۲ /۲۰۹)

(المستدرک للحاکم     کتاب  معرفۃ الصحابۃ                            دارالفکر بیروت        ۳/ ۸۳)
یعنی آپ کی فطرت اتنی کاملہ تھی کہ اگر دروازہ نبوت بند نہ ہوتا تو محض فضلِ الہٰی سے وہ نبی ہوسکتے تھے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے نبوت کا کوئی مستحق نہیں)

وہ فاروق جن کے بارے میں ارشادِ محبوب رب العالمین موجود کہ:  عمر کہیں ہو حق اس کی رفاقت میں رہے گا ۔۳؂
 ( ۳ ؎  کنزالعمال     حدیث ۳۲۷۱۵ و ۳۲۷۳۵        مؤسسۃ الرسالہ بیروت                    ۱۱/ ۵۷۳ و۵۷۷)
وہ فاروق جن کے لیے صحابہ کرام کا اجماع کہ  عمر علم کے نو حصے لے گئے ۔ ۴؎ جب کہ ابوبکر صدیق صحابہ میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔
 ( ۴ ؎تاریخ الخلفاء     ذکر عمر بن الخطاب             فصل فی اقوال  الصحابۃ فیہ      دار ابن حزم بیروت         ص ۹۸ )
وہ فاروق کہ جس راہ سے وہ گزر جائیں شیاطین کے دل دہل جائیں۔۵؂
 (۵ ؎ صحیح البخاری     مناقب عمر فاروق رضی اللہ عنہ                         قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱/ ۵۲۰)
وہ فاروق کہ جب وہ اسلام لائے ملاءِ اعلٰی کے فرشتوں نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں تہنیت و مبارکبادیوں کی ڈالیاں نذرانے میں پیش کیں۔۶؂
 ( ۶ ؎  کنزالعمال    حدیث ۳۲۷۳۸     موسسۃ الرسالہ بیروت        ۱۱/ ۵۷۷)
وہ فاروق کہ ان کے روزِ اسلام سے اسلام ہمیشہ عزتیں اور سربلندیاں ہی پاتا گیا۔ ان کا اسلام فتح تھا ان کی ہجرت نصرت اور ان کی خلافت رحمت (ر ضی اللہ تعالٰی عنہ)

اور جب ثابت ہوگیا کہ قربِ الہی ( معرفت و کثرت ثواب میں) شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کو مزیت و تفوّق ( زیادت وفوقیت ) ہے تو ولایت (خاصہ جو کہ ایک قُربِ خاص ہے کہ مولٰی عزوجل اپنے برگزیدہ بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے یہ) بھی انہیں کی اعلٰی ہوئی( اور ولایت شیخین ، جملہ اکابر اولیاء کی ولایت سے بالا)

(ہاں) مگر ایک درجہ قُرب الہٰی جل جلالہ و رزقنا اﷲ کا ( ضروری اللحاظ اور خصوصا  حضرات علماء و فضلاء اُمّت کی توجہ کا مستحق ہے اور وہ یہ ہے کہ مرتبہ تکمیل پر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جانب کمالات نبوت حضرات شیخین کو قائم فرمایا، اور جانبِ کمالاتِ ولایت حضرت مولا علی مشکل کشا کو تو جملہ اولیائے مابعد نے مولٰی علی ہی کے گھر سے نعمت پائی، انہیں کے دستِ نگر تھے، انہیں کے دستِ نگر ہیں اور انہیں کے دستِ نگر رہیں گے)
پر ظاہر ہے کہ سیرالی اﷲ میں تو سب اولیاء برابر ہوتے ہیں اوروہاں
لا نفرق بین احد من رّسلہ ۔۱؂
 ( ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے) کی طرح
لانفرق بین احدٍ من اولیائہ
(ہم اس کے دوستوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے) کہا جاتا ہے ( یعنی تمام اولیاء اﷲ اصل طریقِ ولایت یعنی سیرالی اﷲ میں برابر ہوتے ہیں۔ اور ایک دوسرے پر سبقت و فضیلت کا قول باعتبار سیر فی اﷲ کیا جاتا ہے کہ جب سالک عالمِ لاہوت پر پہنچا۔ سیرو سلوک تمام ہوا، یعنی سیرالی اللہ  سے فراغت کے بعد سیر فی اﷲ ہوتی ہے اور اس کی نہایت وحد نہیں) جب ( عالم لاہوت پر پہنچ کر) ماسوائے الہٰی آنکھوں سے گر گیا اور مرتبہ فنا تک پہنچ کر آگے قدم بڑھا تو وہ سیر فی اﷲ ہے اس کے لیے انتہا نہیں اور یہیں تفاوت قُرب (بارگاہِ الہٰی میں عزت و منزلت اور کثرتِ ثواب میں فرق ) جلوہ گر ہوتا ہے جس کی سیرفی اﷲ زائد وہی خدا سے زیادہ نزدیک، پھر بعضے بڑھتے چلے جاتے ہیں( اور جذبِ الہٰی انہیں اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے ان کی یہ سیر کبھی ختم نہیں ہوتی) اور بعض کو دعوتِ خلق ( و رہنمائیِ مخلوق الہی) کے لیے منزل ناسوتی عطا فرماتے ہیں( جسے عالم شہادت و عالم خلق و عالم جسمانی وغیرہ بھی کہتے ہیں۔ اور اس منزل میں تعلق مع اﷲ کے ساتھ ان میں خلائق سے علاقہ پیدا کردیا جاتا ہے اور وہ خلق خدا کی ہدایت کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں) ان سے طریقہ خرقہ و بیعت کا رواج پاتا ہے اور سلسلہ طریقت جنبش میں آتا ہے مگر یہ معنی اسے مستلزم نہیں( اور اس سے یہ لازم نہیں آتا) ان کی سیر فی اﷲ اگلوں سے بڑھ جائے۔(اور یہ دعوت خلق ور ہنمائی مخلوق کے باعث بارگاہِ الہٰی میں ان سے سوا عزت و منزلت اور ثواب میں کثرت پاجائیں)
 (۱؂ القرآن الکریم    ۲/ ۲۸۵)
ہاں یہ ایک فضل جداگانہ ہے کہ انہیں ملا اور دوسروں کو عطا نہ ہوا تو یہ کیا ؟ ( اوراسی کی تخصیص کیسی ؟) اس کے سوا صدہا خصائص حضرت مولٰی کو ایسے ملے کہ شیخین کو نہ ملے۔ مگر ( بارگاہِ الہٰی میں) قرب و رفعتِ درجات میں اُنہیں کو افزونی رہی( انہیں کو مزیّت ملی اور انہیں کے قدم پیش پیش رہے) ورنہ کیا وجہ ہے کہ ارشاداتِ مذکورہ بالا میں انہیں ان سے افضل و بہتر کہا جاتا ہے ( اور وہ بھی علی الاطلاق کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر) اور ان ( یعنی حضرت مولٰی علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ الاسنٰی ) کی افضیلت ( اور ان کی ان حضرات پر تفضیل) کا بہ تاکید اکید ( مؤکد در مؤکد) انکار کیاجاتا ہے حالانکہ ادنٰی ولی، اعلٰی ولی سے افضل نہیں ہوسکتا ہے، آخر دیکھئے حضرت امیر ( مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم) کے خلفائے کرام میں حضرت سبط اصغر (سیدّنا امام حسین) و جناب خواجہ حسن بصری کو تنزل ناسوتی ملا اور حضرت سبط اکبر (سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے کوئی سلسلہ جاری نہ ہوا حالانکہ قربِ ولایت امام مجتبٰی ( سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ) ولایت و قرب خواجہ ( حسن بصری) سے بالیقین اتم واعلٰی ( برتر و بالا) اور ظاہر احادیث سے سبط اصغر شہزادہ گلگلوں قبا (شہیدِ کرب وبلا) پر بھی ان کا فضل ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
Flag Counter