Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
59 - 157
عقیدہ سادسہ (۶)__________ عشرہ مبشرہ و خلفائے اربعہ
اب ان سب میں افضل وا علٰی و اکمل حضرات عشرہ مبشرہ ہیں، وہ دس صحابی جن کے قطعی جنتی ہونے کی بشارت وخوشخبری رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی زندگی ہی میں سنادی تھی وہ عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں۔ یعنی حضرات خلفائے (۱ تا ۴ ) اربعہ راشدین ، حضرت طلحہ  بن عبید اﷲ ، حضرت زبیر بن العوام،حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ۔
؎    دہ یار بہشتی اند قطعی        بوبکر و عمر ، عثمان وعلی

سعد ست سعید وبوعبیدہ    طلحہ ست وزبیر وعبدالرحمن
اور ان میں خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین اور ان چار ارکان قصر ملت ( ملّت اسلامیہ کے عالی شان محل کے چار ستونوں) و چار انہار باغ شریعت ( اور گلستانِ شریعت کی ان چار نہروں) کے خصائص وفضائل، کچھ ایسے رنگ پر واقع ہیں کہ ان میں سے جس کسی کی فضلیت پر تنہا نظر کیجئے یہی معلوم ( و متبادرو مفہوم) ہوتا ہے کہ جو کچھ ہیں یہی ہیں ان سے بڑھ کر کون ہوگا ؎
بہر گلے کہ ازیں چار باغ می نگرم

بہار دامن دل می کشد کہ جا اینجاست
 ( ان چار باغوں میں سے جس پھول کو میں دیکھتا ہوں تو بہار میرے دل کے دامن کو کھینچتی ہے کہ اصل جگہ تو یہی ہے۔)
علی الخصوص شمع شبستان ولایت ، بہار چمنستانِ معرفت، امام الواصلین ، سیّد العارفین ( واصلانِ حق کے امام ، اہل معرفت کے پیش رو) خاتمِ خلافت نبوت ، فاتح سلاسل طریقت ، مولٰی المسلمین ، امیر المومنین ابوالائمۃ الطاھرین (پاک طینت ، پاکیزہ خصلت ، اماموں کے
جدامجد طاہر مطہر، قاسمِ کوثر، اسد اﷲ الغالب، مظہر العجائب والغرائب ، مطلوب کل طالب، سیدنا و مولانا علی بن طالب کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم وحشرنا فی زمرتہ فی یوم عقیم
کہ اس جناب گردوں قباب ( جن کے قبہ کی کلس آسمان برابر ہے ان ) کے مناقب جلیلہ ( اوصافِ حمیدہ) ومحامد جمیلہ ( خصائل حسنہ) جس کثرت و شہرت کے ساتھ ( کثیر و مشہور، زبان زد عام و خواص) ہیں دوسرے کے نہیں۔

(پھر) حضرات شیخین ، صاحبین صہرین ( کہ ان کی صاحبزادیاں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے شرفِ زوجیت سے مشرف ہوئیں اور امہات المومنین ، مسلمانوں ایمان والوں کی مائیں کہلائیں) وزیرین (جیسا کہ حدیث شریف میں وارد کہ میرے دو وزیر آسمان پر ہیں جبرائیل و میکائیل اور دو وزیر زمین پر ہیں ابوبکر و عمر ۔۱؂ رضی اللہ تعالٰی عنہما) امیرین ( کہ ہر دو امیر المومنین ہیں) مشیرین ( دونوں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مجلس شورٰی کے رکن اعظم (ضجیعین ( ہم خواجہ اور دونوں اپنے آقا و مولٰی کے پہلو بہ پہلو آج بھی مصروفِ استراحت ) رفیقین (ایک دوسرے کے یارو غمگسار) سیّدنا و مولٰنا عبداﷲ العتیق ابوبکر صدیق و جناب حق مآب ابوحفص عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما کی شانِ والا سب کی شانوں سے جدا ہے اور ان پر سب سے زیادہ عنایت خدا اور رسولِ خدا جل جلالہ و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بعد انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین کے جو مرتبہ ان کا خدا کے نزدیک ہے دوسرے کا نہیں اور رب تبارک و تعالٰی سے جو قرب و نزدیکی اور بارگاہِ عرش اشتباہ رسالت میں جو عزت و سر بلندی ان کا حصہ ہے اوروں کا نصیبا نہیں، اور منازل جنت و مواہب ۔ بے منت (عہ) میں انہیں کے درجات سب پر عالی فضائل و فواضل ( فضیلتوں اور خصوصی بخششوں ) و حسنات طیبات ( نیکیوں اور پاکیزگیوں) میں انہیں کو تقدم و پیشی ( یہی سب پر مقدم۔ یہی پیش پیش ہمارے علماء و ائمہ نے اس ( باب) میں مستقل تصنیفیں فرما کر سعادتِ کونین و شرافتِ دارین حاصل کی( ان کے خصائل تحریر میں لائے ، ان کے محاسن کا ذکر فرمایا، ان کے اولیات و خصوصیات گنائے) ورنہ غیر متناہی ( جو ہماری فہم و فراست کی رسائی سے ماورا ہو۔ اس) کا شمار کس کے اختیار واﷲ العظیم اگر ہزاروں دفتر ان کے شرح فضائل ( اور بسط فواضل) میں لکھے جائیں یکے ازہزار تحریر میں نہ آئیں۔
عہ: مطبوعہ رسالہ میں وزاب بے منت مطبوع ہے اور حاشیہ پر تحریر کہ اصل میں ایسا ہے، فقیر نے اسے مواہب لکھا جب کہ  منازل کا ہم قافیہ ہے مناہل  یعنی چشمے اور انسب یہی ہے ۱۲ محمد خلیل ۔
(۱؎ کنزالعمال         حدیث ۳۲۶۶۱     مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۱/ ۵۶۳ )
وعلٰی تفنن واصفیہ بحسنہ

یغنی الزمان وفیہ مالم یوصف
 ( اور اس کے حسن کی تعریف کرنے والوں کی عمدہ بیانی کی بنیاد پر زمانہ غنی ہوگیا اور اس میں ایسی خوبیاں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا)

مگر کثرتِ فضائل و شہرتِ فواضل ( کثیر در کثیر فضلیتوں کا موجود اور پاکیزہ ، و برتر عزتوں مرحمتوں کا مشہور ہونا) چیزے دیگر ( اور بات ہے) اور فضیلت و کرامات ( سب سے افضل اور بارگاہِ عزت میں سب سے زیادہ قریب ہونا۔) امرے آخر (ایک اور بات ہے اس سے جدا و ممتا ز) فضل اﷲ تعالٰی کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے ۔
قُل ان الفضل بِیَد اﷲ یؤتیہ من یشاء ۔۱؂
 ( ۱ ؎  القرآن الکریم ۳ / ۷۳)
اس کی کتاب کریم اور اس کا رسول عظیم علیہ و علٰی آلہ الصلوۃ والتسلیم علی الاعلان گواہی دے رہے ہیں۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے والد ماجد مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں :
کہ وہ فرماتے ہیں :
کنت عندالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاقبل ابوبکر وعمر فقال یا علی ھٰذا ن سیّدا کہول اھل الجنۃ و شبابھا بعد النبیین والمرسلین ۔۱؂(رواہ الترمذی ، و ابن ماجہ وعبداﷲ بن الامام احمد)
میں خدمت اقدس حضور افضل الانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھا کہ ابوبکر و عمر سامنے آئے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی! یہ دونوں سردار ہیں اہل جنت کے سب بوڑھوں اور جوانوں کے، بعد انبیاء و مرسلین کے۔
 ( ۱ ؎   مسند احمد بن حنبل      عن علی رضی اللہ عنہ                         المکتب الاسلامی بیروت     ۱/ ۸۰)

(جامع الترمذی     ابواب المناقب     مناقب ابی بکر الصدیق حدیث ۳۶۸۵         دارالفکربیروت         ۵/ ۳۷۶)

(سُنن ابن ماجہ             فضل ابی بکر الصدیق                ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ص ۱۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے راوی ، حضور کا ارشاد ہے:
ابوبکر و عمر خیر الاولین وا لاخرین وخیر اھل السمٰوٰت وخیر اھل الارضین الاالنبیین والمرسلین  ۔۲؂(رواہ الحاکم فی الکنٰی و ابن عدی و خطیب)
ابوبکر و عمر بہتر ہیں سب اگلوں پچھلوں کے، اور بہتر ہیں سب آسمان والوں سے اور بہتر ہیں سب زمین والوں سے، سوا انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کے۔
 ( ۲ ؎ کنزالعمال بحوالہ الحاکم فی الکنٰی                     حدیث ۳۲۶۴۵     مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۱ /۵۶۰)

(الصواعق المحرقہ بحوالہ الحاکم و ابن عد ی و الخطیب    الباب الثالث الفصل الثالث        دارالکتب العلمیۃ بیروت      ص ۱۱۹)
خود حضرت مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ نے بار بار اپنی کرسی مملکت و سطوت ( و دبدبہ) خلافت میں افضلیت مطلقہ شیخین کی تصریح فرمائی ( اور صاف صاف واشگاف الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ دونوں حضرات علی الاطلاق بلا قیدِ جہت و حیثیت تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں) اور یہ ارشاد ان سے بتواتر ثابت ہوا کہ اسی سے زیادہ صحابہ  و تابعین نے اسے روایت کیا۔ اور فی الواقع اس مسئلہ ( افضلیت شیخ کریمین) کو جیسا حق مآب مرتضوی نے صاف صاف واشگاف بہ کرات و مرات ( بار بار موقع بہ موقع اپنی ) جَلَوات و خلوات ( عمومی محفلوں ، خصوصی نشستوں ) و مشاہد عامہ و مساجد جامعہ ( عامۃ الناس کی مجلسوں اور جامع مسجدوں) میں ارشاد فرمایا دوسروں سے واقع نہیں ہوا۔
 ( ازاں جملہ وہ ارشاد گرامی کہ) امام بخاری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ، حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزادہ جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
قال قلت لابی ایّ الناس خیر بعد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم؟ قال ابوبکر قال قلت ثم من ؟ قال عمر  ۔۱؂
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ سے عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا : ابوبکر میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا عمر۔
 ( ۱ ؎ صحیح البخاری     مناقب اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم         باب فضل ابی بکر بعد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۵۱۸)
ابوعمر بن عبداﷲ ، حکم بن حجل سے اور دار قطنی اپنی سنن میں راوی، جناب امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ تعالٰی فرماتے ہیں:
لااجد احداً  فضلنی علٰی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حدالمفتری  ۔۲؂
جسے میں پاؤں گا کہ شیخین ( حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما) سے مجھے افضل بتاتا ( اور مجھے ان میں سے کسی پر فضیلت دیتا ) ہے اسے مُفتری (افتراء و بہتان لگانے والے) کی حد ماروں گا کہ اسی (۸۰) کوڑے ہیں۔
 ( ۲ ؎الصواعق المحرقۃ         بحوالہ الدارقطنی             الباب الثالث            دارالکتب العلمیۃ بیروت    ص۹۱)
ابوالقاسم طلحی کتاب السّنّۃ میں جناب علقمہ سے راوی:
بلغ علیّاً ان اقواماً یفضّلونہ علٰی ابی بکر و عمر فصعد المنبر فحمداﷲ واثنی علیہ ثم قال ایہا الناس ! انہ بلغنی ان اقواما یفضّلو نی علٰی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیہ حد المفتری ، ثم قال ان خیر ھٰذہ الامۃ بعد نبیہا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ابوبکر ثم عمر ثم اﷲ اعلم بالخیر بعدہ قال وفی المجلس الحسن بن علی فقال واﷲ لوسمی الثالث لسمّٰی عثمٰن  ۔۳؂
یعنی جناب مولٰی علی کو خبر پہنچی کہ لوگ انہیں حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما پر تفضیل دیتے( اور حضرت مولٰی کو ان سے افضل بتاتے) ہیں۔ پس منبر پر تشریف لے گئے اور اﷲ تعالٰی کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر سے افضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے سُنا ہوتا تو اس میں سزا دیتا یعنی پہلی بار تفہیم ( وتنبیہ) پر قناعت فرماتا ہوں پس اس دن کے بعد جسے ایسا کہتے سنوں گا تو وہ مفتری ( بہتان باندھنے والا) ہے اس پر مفتری کی حد لازم ہے، پھر فرمایا بے شک بہتر اس امت کے بعد ان نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ابوبکر ہیں پھر عمر، پھر خدا ، خوب جانتا ہے بہتر کو ان کے بعد، اور مجلس میں امام حسن ( رضی اللہ عنہ) بھی جلوہ فرما تھے انہوں نے ارشاد کیا خدا کی قسم اگر تیسرے کا نام لیتے تو عثمان کا نام لیتے۔
 ( ۳ ؎  ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء بحوالہ ابی القاسم         مسند علی بن ابی طالب             سہیل اکیڈمی        ۱/ ۶۸)
بالجملہ احادیثِ مرفوعہ و اقوالِ حضرت مرتضوی و اہلبیت نبوت اس بارے میں لا تعداد ولا تحصی ( بے شمار ولا انتہا) ہیں کہ بعض کی تفسیر فقیر نے اپنے رسالہ تفضیل (عہ ) میں کی ۔
عہ:  اعلٰیحضرت قدس سرہ العزیز نے مسئلہ تفضیل شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما پر نوے (۹۰) جز کے قریب ایک کتاب مسمّٰی بہ منتہی التفصیل لمبحث التفضیل لکھی پھر مطلع القمر ین فی ابانۃ سبقۃ العمرین میں اس کی تلخیص کی، غالباً اس ارشاد گرامی میں اشارہ اسی کی طرف ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔ محمد خلیل القادری عفی عنہ)
اب اہل سنت ( کے علمائے ذوی الاحترام) نے ان احادیث و آثار میں جو نگاہ غور کو کام فرمایا تو تفضیل شیخین کی صدہا تصریحیں ( سیکڑوں صراحتیں) علی الاطلاق پائیں کہیں جہت و حیثیت کی قید نہ دیکھی کہ یہ صرف فلاں حیثیت سے افضل ہیں اور دوسری حیثیت سے دوسروں کو افضیلت ( حاصل ہے) لہذا انہوں نے عقیدہ کرلیا کہ گو فضائل خاصہ و خصائص فاضلہ ( مخصوص فضیلتیں اور فضیلت میں خصوصیتیں) حضرت مولٰی ( علی مشکل کُشا کرم اﷲ تعالٰی وجہہ) اور ان کے غیر کو بھی ایسے حاصل ( اور بعطائے الہٰی وہ ان خصوصیات کے تنہا حامل) جو حضرات شیخین ( کریمین جلیلین ) نے نہ پائے جیسے کہ اس کا عکس بھی صادق ہے ( کہ امیرین وزیرین کو وہ خصائصِ غالیہ اور فضائل عالیہ، بارگاہ  الہی سے مرحمت ہوئے کہ ان کے غیر نے اس سے کوئی حصہ نہ پایا ) مگر فضل مطلق کُلّی ( کسی جہت و حیثیت کا لحاظ کیے بغیر فضیلت مطلقہ کُلّیہ) جو کثرتِ ثواب و زیادتِ قُربِ ربّ الارباب سے عبارت ہے وہ انہیں کو عطا ہوا ( اوروں کے نصیب میں نہ آیا)
 (یعنی اﷲ عزوجل کے یہاں زیادہ عزت و منزلت جسے کثرتِ ثواب سے بھی تعبیر کرتے ہیں وہ صرف حضرات شیخین نے پائی۔ اس سے مراد اجرو انعام کی کثرت و زیادت نہیں کہ بارہا مفضول کے لیے ہوتی ہے۔

حدیث میں ہمراہیانِ سیدّنا امام مہدی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت آیا کہ ان میں سے ہر ایک کے لیے پچاس کا اجر ہے۔ صحابہ نے عرض کیا ان میں کے پچاس کا یاہم میں کے ؟ فرمایا  بلکہ تم میں کے تو اجر ان کا زائد ہوا۔

انعام و معاوضہ محنت انہیں زیادہ ملا مگر افضلیت میں وہ صحابہ کے ہمسر بھی نہیں ہوسکتے، زیادت درکنار، کہاں امام مہدی کی رفاقت اور کہاں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صحابیت، اس کی نظیر بلاتشبیہ یوں سمجھئے کہ سلطان نے کسی مہم پر وزیر اور بعض دیگر افسروں کو بھیجا، اس کی فتح پر ہر افسر کو لاکھ لاکھ روپے انعام دیئے اور وزیر کو خالی پروانہ خوشنودی مزاج دیا تو انعام انہیں افسروں کو زیادہ ملا اور اجر و معاوضہ انہوں نے زیادہ پایا مگر کہاں وہ اور کہاں وزیراعظم کا اعزاز (بہار شریعت)
Flag Counter