اب اے خارجیو، ناصبیو! ( حضرت ختنین و امامین جلیلین سے خصوصاً اپنے سینوں میں بغض و کینہ رکھنے اور انہیں چنین و چناں کہنے والو!) کیا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ( مذکور ہ بالا ) اس ارشاد عام اور جناب باری تعالٰی نے آیۃ کریمہ
رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ ۲
سے ( کہ اﷲ تعالٰی ان سے یعنی ان کی اطاعت و اخلاص سے راضی اور وہ اس سے یعنی اس کے کرم و عطا سے راضی) جناب ذوالنورین ( امیر المومنین حضرت عثمان غنی) و حضرت اسد اﷲ غالب( امیر المومنین علی بن ابی طالب) و حضرات سبطین کریمین ( امام حسن و امام حسین ) رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ( کو مستثنٰی کردیا اور اس استثناء کو تمہارے کان میں پھونک دیا ہے) یا اے شیعو! اے رافضیو! ان احکام شاملہ سے ( کہ سب صحابہ کو شامل ہیں اور جملہ صحابہ کرام ان میں داخل ہیں۔) خدا ورسول ( جل و علا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) نے ( امیر المومنین خلیفۃ المسلمین) جناب فاروق اکبر(وامیرالمومنین کامل الحیاءِ والایمان) حضرت مجہز جیش العسرۃ ( فی رضی الرحمن عثمان بن عفّان ) و جناب ام المومنین ، محبوبہ سیّد العالمین (طیبہّ ، طاہرہ ،عفیفہ) عائشہ صدیقہ بنتِ صدیق وحضرات طلحہ و زبیر و معاویہ ( کہ اوّل کے بارے میں ارشاد واردکہ اے طلحہ ! یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں قیامت کے ہولوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا ۔۳ اور ثانی کے باب میں ارشاد فرمایا یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں روزِ قیامت تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ تمہارے چہرہ سے جہنم کی اُڑتی چنگاریاں دور کردوں گا۔ ۴؎ امام جلال الدین سیوطی جمع الجوامع میں فرماتے ہیں سَنْدُہ صحیح ۔۵ اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔
( ۲ ؎القرآن الکریم ۹/ ۱۰۰)
( ۳ ؎ کنزالعمال حدیث ۳۶۷۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۴۶ و ۲۴۷)
( ۴ ؎ کنزالعمال حدیث ۳۳۲۹۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱/ ۶۸۳)
( ۵ ؎ کنزالعمال حدیث ۳۶۷۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۴۷ )
اور حضرت امیر معاویہ تو اول ملوکِ اسلام اور سلطنتِ محمدیہ کے پہلے بادشاہ ہیں اسی کی طرف تو راۃ مقدس میں اشارہ ہے کہ:
مولدہ بمّکۃ ومھاجرہ طیبۃ وملکہ بالشام ۔
وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی۔
(تو امیر معاویہ کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے، مگر کس کی ؟ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی) وغیرھم رضوان اﷲ تعالٰی علیہم الٰی یوم الدین کو خارج کردیا اور تمہارے کان میں ( اﷲ کے رسول نے چپ چاپ) کہہ دیا کہ اصحابی سے ہماری مراد اور آیت میں ضمیر ھم کے مصداق ان لوگوں کے سوا ( اور دوسرے صحابہ) ہیں جو تم ان کے اے خوارج ( اور اے روافض ) دشمن ہوگئے۔ اور عیاذًا باللہ ( انہیں ) لعن طعن سے یاد کرنے لگے ( اور شومئیِ بخت سے) نہ یہ جانا کہ یہ دشمنی، درحقیقت رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے دشمنی ہے اور ان کی ایذاء حق تبارک و تعالٰی کی ایذا ء ( اور جہنم کا دائمی عذاب جس کی سزا، مگر اے اﷲ ! تیری برکت والی رحمت اور ہمیشگی والی عنایت اس پاک فرقہ اہل سنت و جماعت پر، جس نے تیرے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سب ہم نشینوں اور گلستانِ صحبت کے گل چینوں کو ( ہمیشہ ہمیش کسی استثناء کے بغیر) نگاہِ تعظیم و اجلال ( اور نظرِ تکریم و توقیر) سے دیکھنا اپنا شعار و دثار ( اپنی علامت و نشان ) کرلیا اور سب کو چرخِ ہدایت کے ستارے اور فلکِ عزت کے سیّارے جاننا، عقیدہ کرلیا کہ ہر ہر فرد بشر ان کا ( بارونیکوکار) سرور عدول و اخیارو اتقیاء و ابرار کا سردار ( اور امت کے تمام عدل گستر، عدل پرور، نیکو کار، پرہیز گار اور صالح بندوں کے سرکا تاج ہے) تابعین سے لے کر تابقیامتِ امت کا کوئی ولی کیسے ہی پایہ عظیم کو پہنچے، صاحبِ سلسلہ ہو خواہ غیر ان کا، ہر گز ہر گز ان میں سے ادنٰی سے ادنی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا، اور ان میں ادنٰی کوئی نہیں ، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد صادق کے مطابق اوروں کا کوہِ اُحد کے برابر سونا ان کے نیم صاع (تقریباً دو کلو) جو کے برابر نہیں ۔۱ جو قُربِ خدا انہیں حاصل دوسرے کو میسر نہیں۔
( ۱ ؎ صحیح البخاری مناقب اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فضل ابی بکربعدالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱۸)
(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب تحریم سب الصحابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۰)
(سنن ابن ماجۃ فضل اہلِ بدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۵)
(سنن ابی داود کتاب السنۃ باب فی النہی عن سب اصحاب رسول اللہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۸۴)
اور جو درجات عالیہ یہ پائیں گے غیر کو ہاتھ نہ آئیں گے۔(اہلسنت کے خواص تو خواص، عوام تک) ان سب کو بالاجمال( کہ کوئی فرد ان کا شمول سے نہ رہ جائے ، از اوّل تا آخر ) پر لے درجے کا بّرو تقی( نیکو کار متقی ) جانتے اور تفاصیل احوال ( کہ کس نے کس کے ساتھ کیا کیا اور کیوں کیا، اس) پر نظر حرام مانتے (ہیں) جو فعل ( ان حضرات صحابہ کرام میں سے) کسی کا اگر ایسا منقول بھی ہوا جو نظر قاصر ( ونگاہ کوتاہ بیں) میں ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ٹھہرے( اور کسی کو تاہ نظر کو اس میں حرف زنی کی گنجائش ملے) اسے محمل حسن پر اتارتے ہیں۔( اور اسے ان کے خلوصِ قلب و حسن نیت پر محمول کرتے ہیں) اور اللہ کا سچا قول
رضی اللہ عنہم ۔۱
سُن کر آئینہ دل میں زنگ تفتیش کو جگہ نہیں دیتے۔(اور تحقیق احوال واقعی کے نام کا میل کچیل، دل کے آئینے پر چڑھنے نہیں دیتے) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علیہ وسلم حکم فرماچکے۔
اذا ذکراصحابی فامسکو ا ۔۲
جب میرے اصحاب کا ذکر آئے تو باز رہو۔
(سُوءِ عقیدت و بدگمانی کو قریب نہ پھٹکنے دو، تحقیق حال و تفتیش مآل میں نہ پڑو) ناچار اپنے آقا کا فرمان عالی شان ، اوریہ سخت وعیدیں ، ہولناک تہدیدیں ( ڈراوے اور دھمکیاں) سُن کر زبان بند کرلی اور دل کو سب کی طرف سے صاف کرلیا۔( اور بلاچونُ و چرا) جان لیا کہ ان کے رُتبے ہماری عقل سے وراء ہیں پھر ہم اُن کے معاملات میں کیا دخل دیں ان میں جو مشاجرات ( صورۃ نزاعات و اختلافات ) واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون ؟
( تُو خاک نشین گدا گر ہے اے حافظ! شور مت کر کہ اپنی سلطنت کے بھید بادشاہ جانتے ہیں)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۰۰)
( ۲ ؎ المعجم الکبیر حدیث ۱۴۲۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۹۶)
( ۳ ؎ دیوانِ حافظ ردیف شین معجمہ سب رنگ کتاب گھر دہلی ص ۲۵۸)
(ع۔۔ تیرا منہ ہے کہ تُو بولے یہ سرکاروں کی باتیں ہیں)
حاشا کہ ایک کی طرف داری میں دوسرے کو بُرا کہنے لگیں، یا ان نزاعوں میں ایک فریق کو دنیا طلب ٹھہرائیں بلکہ بالیقین جانتے ہیں کہ وہ سب مصالح دین کے خواستگار تھے( اسلام و مسلمین کی سربلندی ان کا نصب العین تھی پھر وہ مجتہد بھی تھے ،تو) جس کے اجتہاد میں جو بات دینِ الہی و شرع رسالت پناہی جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے اصلح وانسب ( زیادہ مصلحت آمیز اور احوالِ مسلمین سے مناسب تر) معلوم ہوئی، اختیار کی، گو اجتہاد میں خطا ہوئی اور ٹھیک بات ذہن میں نہ آئی۔ لیکن وہ سب حق پر ہیں( اور سب واجب الاحترام ) ان کا حال بعینہ ایسا ہے جیسا فروعِ مذہب میں ( خود علمائے اہلسنت بلکہ ان کے مجتہدین مثلاً امام اعظم) ابوحنیفہ ( امام ) شافعی ( وغیرہما) کے اختلافات نہ ہر گز ان منازعات کے سبب، ایک دوسرے کو گمراہ فاسق جاننا نہ ان کا دشمن ہوجانا ( جس کی تائید مولٰی علی کے اس قول سے ہوتی ہے کہ :
اخواننا بغوا علینا۔۱
یہ سب ہمارے بھائی ہیں کہ ہمارے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔
مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں، خدا و رسول کی بارگاہوں میں معظم و معزز اور آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں
اصحابی کا لنجوم ۔۲
( ۲ ؎ کشف الخفاء حرف الہمزہ مع الصاد حدیث ۳۸۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۱۱۸)
بالجملہ ارشاداتِ خدا و رسول عزّ مجدہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے (اس پاک فرقہ اہل سنّت و جماعت نے اپنا عقیدہ اور ) اتنا یقین کرلیا کہ سب ( صحابہ کرام) اچھے اور عدل و ثقہ، تقی، نقی ابرار (خاصانِ پروردگار ) ہیں۔ اوران ( مشاجرات ونزاعات کی) تفاصیل پر نظر گمراہ کرنے والی ہے، نظیر اس کی عصمتِ انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء ہے کہ اہلِ حق ( اہلِ اسلام ، اہلسنت وجماعت) شاہراہِ عقیدت پر چل کر ( منزل) مقصود کو پہنچے ۔ اور ارباب ( غوایت واہل) باطل تفصیلوں میں خوض ( و ناحق غور) کرکے مغاک ( ضلالت اور) بددینی ( کی گمراہیوں) میں جا پڑے کہیں دیکھا
وعصٰی اٰدم ربہ فغوٰی ۔۳
( کہ اس میں عصیاں اور بظاہر تعمیل حکمِ ربانی سے رو گردانی کی نسبت حضرت آدم علیہ السلام کی جانب کی گئی ہے۔)
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۲۰/ ۱۲۱)
کہیں سنا
لیغفر لک اﷲ ماتقدم من ذنبک وماتاخّر۔۱
( جس سے ذنب یعنی گناہ و غفران ذنب یعنی بخشش گناہ کی نسبت کا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جنابِ والا کی جانب گمان ہوتا ہے)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۴۸/ ۲)
کبھی موسٰی ( علیہ السلام ) و قطبی ( قومِ فرعون) کا قصہ یاد آیا ( کہ آپ نے قطبی کو آمادہ ظلم پاکر ایک گھونسا مارا اور وہ قطبی قعرگور میں پہنچا۔۲
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲۸/ ۱۵)
کبھی ( حضرت) داؤد ( علیہ الصلوۃ والسلام اوراُن کے ایک اُمتّی) اور یّاہ کا فسانہ سُن پایا( حالانکہ یہ الزام تھا یہود کا حضرت داؤد علیہ السلام پر، جسے انہوں نے خوب اُچھالا اور زبان زد عوام الناس ہوگیا۔ حتی کہ بربنائے شہرت، بلا تحقیق و تفتیش احوال بعض مفسرین نے اس واقعہ کو من و عن بیان فرمادیا ، جب کہ امام رازی ۳؎ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ میری تحقیق میں سراسر باطل و لغو ہے۔
( ۳ ؎ مفاتیح الغیب (التفسیرالکبیر) تحت الآیۃ ۳۸/ ۲۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲۶/ ۱۶۵)
غرض بے عقل بے دینوں اور بے دین بدعقلوں نے یہ افسانہ سُن پایا تو لگے چوُن و چرا کرنے تسلیم و گردن نہادوں کے زینہ سے اُترنے پھر ناراضی خدا و رسول کے سوا اور بھی کچھ پھل پایا؟ اور (اُلٹا )
خُضتم کالّذی خاضوا (۴ ؎ )
( اور تم بے ہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے اور اتباع باطل میں ان کی راہ اختیار کی) نے
ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکٰفرین ۔۵
( مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اُترا) کا دن دکھایا
الّا ان یشاء ربی ۔۶ ان ربک فعال لما یرید۔۷
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۹/ ۶۹)( ۵ ؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۷۱)
( ۶ ؎ القرآن الکریم ۶/ ۸۰)( ۷ ؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۰۷)
(مسلمان ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کبیرہ گناہوں سے مطلقاً اور گناہِ صغیرہ کے عمداً ارتکاب، اور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو اور مخلوق خدا ان کے باعث ان سے دُور بھاگے نیز ایسے افعال سے جو وجاہت و مروت اور معززین کی شان و مرتبہ کے خلاف ہیں قبل نبوت اور بعد نبوت بالاجماع معصوم ہیں)
اللّٰھم اثبات علی الہٰدی انک انت العلی الاعلٰی ۔
(اے اللہ ! ہم تجھ سے ہدایت پر ثابت قدمی مانگتے ہیں، بے شک تُو ہی بلند و برتر ہے)
صحابہ کرام کے باب میں یاد رکھنا چاہیے کہ۔
( وہ حضرات رضی اللہ تعالٰی عنہم انبیاء نہ تھے، فرشتے نہ تھے کہ معصوم ہوں، ان میں سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲ و رسول کے احکام کے خلاف ہے۔
اﷲ عزوجل نے سورہ حدید میں صحابہ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دو قسمیں فرمائیں۔
(۱) من انفق من قبل الفتح وقٰتل۔
(۲) الذین انفقوا من بعد وقاتلوا ۔۱
یعنی ایک وہ کہ قبل فتح مکہ مشرف بایمان ہوئے راہِ خدا میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب کہ ان کی تعداد بھی بہت قلیل تھی۔ اور وہ ہر طرح ضعیف و درماندہ بھی تھے، انہوں نے اپنے اوپر جیسے جیسے شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال ڈال کر، بے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نذر کردیا۔ یہ حضرات مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ہیں، ان کے مراتب کا کیا پوچھنا۔
دوسرے وہ کہ بعد فتح مکہ ایمان لائے، راہِ مولا میں خرچ کیا اور جہا دمیں حصہ لیا۔ ان اہلِ ایمان نے اس اخلاص کا ثبوت جہاد مالی و قتالی سے دیا، جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرتِ تعداد اور جاہ و مال ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے، اجر اُن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان سابقون اوّلون والوں کے درجہ کا نہیں۔
اسی لیے قرآن عظیم نے ان پہلوں کو ان پچھلوں پر تفضیل دی۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۰)
اور پھر فرمایا :
کُلاّ وعد اﷲ الحسنٰی ۔۲
ان سب سے اﷲ تعالی نے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کو، محروم کوئی نہ رہے گا۔
اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں فرماتا ہے:
اولئٰک عنھا مبعدون۔۱
وہ جہنم سے دُور رکھے گئے ہیں۔
لایسمعون حسیسہا۲ ؎
وہ جہنم کی بھنک تک نہ سُنیں گے۔
وھم فی مااشتھت انفسھم خٰلدون ۔۳
وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں میں رہیں گے۔
لایحزنھم الفزع الاکبر ۔۴
قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی۔
تتلقّٰھم الملٰئکۃ۔
فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔
ھٰذا یومکم الذی کنتم توعدون۔۵
یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۰) ( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۱ )
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۲) ( ۳ ؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۲ )
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۳) ( ۵ ؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۳ )
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان اﷲ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے۔
اور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں ارشاد الہٰی کے مقابل پیش کرنا اہلِ اسلام کا کام نہیں۔
رب عزوجل نے اسی آیت حدید میں اس کا منہ بھی بند کردیا کہ دونوں فریق صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمادیا۔
واﷲ بما تعملون خبیر ۔۶
اور اللہ کو خُوب خبر ہے جو تم کرو گے۔
( ۶ ؎ القرآن الکریم ۵۷/۱۰)
بایں ہمہ اس نے تمہارے اعمال جان کر حکم فرمادیا کہ وہ تم سب سے جنت بے عذاب و کرامات و ثواب بے حساب کا وعدہ فرماچکا ہے۔
تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر طعن کرے، کیا طعن کرنے والا ، اﷲ تعالٰی سے جُدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، اس کے بعد جو کوئی کچھ بکے وہ اپنا سر کھائے اور خود جہنم میں جائے۔
علامہ شہاب الدین خفا جی، نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں: جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کُتوں میں سے ایک کُتا ہے۱۔ (احکامِ شریعت وغیرہ)
( ۱ ؎ نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۳/ ۴۳۰)
تنبیہ ضروری
اہلِ سنت کا یہ عقیدہ کہ
ونکف عن ذکر الصحابۃ الابخیر ۔۲
یعنی صحابہ کرام کا جب بھی ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے، انہیں صحابہ کرام کے حق میں جو ایمان و سنت و اسلام حقیقی پر تادمِ مرگ ثابت قدم رہے اور صحابہ کرام جمہور کے خلاف، اسلامی تعلیمات کے مقابل ، اپنی خواہشات کے اتباع میں کوئی نئی راہ نہ نکالی اور وہ بدنصیب کہ اس سعادت سے محروم ہو کر اپنی دکان الگ جما بیٹھے اور اہل حق کے مقابل، قتال پر آمادہ ہوگئے۔ وہ ہرگز اس کا مصداق نہیں اس لیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ جنگِ جمل و صفین میں جو مسلمان ایک دوسرے کے مقابل آئے ان کا حکم خطائے اجتہادی کا ہے، لیکن اہل نہروان جو مولا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی تکفیر کرکے بغاوت پر آمادہ ہوئے وہ یقیناً فساق، فجار، طاغی وباغی تھے اور ایک نئے فرقہ کے ساعی و ساتھی جو خوارج کے نام سے موسوم ہوا اور اُمّت میں نئے فتنے اب تک اسی کے دم سے پھیل رہے ہیں۔(سراج العوارف وغیرہ)
( ۲ ؎ شرح عقائد النسفی درالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص ۱۱۶)