Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
57 - 157
عقیدہ ثالثہ ________________صدر نشینانِ بزم عِزّ وجاہ
اس جناب عرش قباب کے بعد ( جن کے قبّہ اطہر اور گنبدِ انور کی رفعتیں عرش سے ملتی ہیں) مرتبہ اور انبیاء و مرسلین کا ہے ۔
صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین
کہ باہم ان میں تفاضل (اور بعض کو بعض پر فضیلت) مگر ان کا غیر، گو کسی مرتبہ ولایت تک پہنچے، فرشتہ ہو ( اگرچہ مقرب خواہ آدمی صحابی ہو خواہ اہلبیت ( اگرچہ مکرم تر و معظم ترین) ان کے درجے تک ( اس غیر کو ) وصول محال، جو قربِ الہٰی انہیں حاصل، کوئی اس تک فائز نہیں، اور جیسے یہ خدا کے محبوب، دوسرا ہر گز نہیں، یہ وہ صدر ( وبالا) نشینانِ بزم عزوجاہ ہیں ( اور والا مقامانِ محفل عزت و وجاہت اور مقربانِ حضرت عزت) کہ رب العالمین تبارک و تعالٰی خود ان کے مولٰی و سردار ( نبی مختار علیہ الصلوۃ والسلام الٰی یوم القرار) کو حکم فرماتا ہے:
اولئٰک الذین ھدی اﷲ فبھداھم اقتدہ ۔۱؂
 ( اﷲ اﷲ ! کوئی کیا اندازہ کرسکتاہے اس مقدس ذات برگزیدہ صفات کا جسے اس کے رب تبارک و تعالٰی نے محامد جمیلہ، محاسنِ جلیلہ، اخلاقِ حسنہ، خصائل محمودہ سے نوازا، سرِ اقدس پر محبوبیت کبرٰی کا تاج والا ابتہاج رکھا، جسے خلافتِ عظمی کا خلعت والا مرتبت پہنایا جس کے طفیل ساری کائنات کو بنایا، جس کے فیوض و برکات کا دروازہ تمام ماسوی اﷲ کو دکھایا۔ انہیں سے یہ خطاب فرمایا کہ) یہ وہ ہیں جنہیں خدا نے راہ دکھائی تو تو ان کی پیروی کر۔ اور فرماتا ہے :
فاتبعوا ملّۃ ابراہیم حنیفا  ۔۱؂
تو پیروی کر شریعتِ ابراہیم کی، جو سب ادیانِ باطلہ سے کنارہ کش ہو کر دین حقِ کی طرف جھک آیا۔
 ( ۱ ؎  القرآن الکریم         ۶/ ۹۰ )( ۱ ؎  القرآن الکریم         ۳/ ۹۵)
 (غرض انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام الٰی یوم الدین میں سے ، ہر نبی ، ہر رسول بارگاہِ عزت جل مجدہ میں بڑی عزت و وجاہت والا ہے، اور اس کی شان بہت رفیع ، ولہذا ہر نبی کی تعظیم فرض عین بلکہ اصل جملہ فرائض ہے اور) ان کی ادنٰی توہین مثل سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، کفر قطعی( ان میں سے کسی کی تکذیب و تنقیص ، کسی کی اہانت، کسی کی بارگاہ میں ادنٰی گستاخی ایسے ہی قطعاً کفر ہے جیسے خود حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی جناب پاک میں گستاخی و دریدہ دہنی ، والعیاذ باﷲ تعالی) اور کسی کی نسبت، صدیق ہوں خواہ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما ان ( حضرات قدسی صفات) کی خادمی و غاشیہ برادری( اطاعت و فرمانبرداری کہ یہ ان کے پیش خدمت و اطاعت گزار ہیں، اس) سے بڑھا کر ( افضلیت و برتری در کنار) دعوی ہم سری ( کہ یہ بھی مراتب رفیعہ اور ا ن کے درجاتِ علیہ میں ان کے ہمسر و برابر ہیں) محض بے دینی (الحاد و زندیقی ہے) جس نگاہِ اجلال و توقیر ( تکریم وتعظیم) سے انہیں دیکھنا فرض ( ہے اور دائمی فرض ) حاشا کہ اس کے سَو حصے سے ایک حصہ ( ۱۰۰/ ۱) دوسرے کو دیکھیں آخر نہ دیکھاکہ صدیق و مرتضےٰ رضی اللہ تعالٰی عنہما جس سرکارِ ابدقرار ( وسّرِہرکاز) کے غلام ہیں، اسی کو حکم ہوتا ہے ان کی راہ پر چل اور ان کی اقتداء سے نہ نکل ( تابہ دیگراں چہ رسد)

(اے عقل خبردار ! یہاں مجال دم زدن نہیں)
عقیدہ رابعہ ________________ اعلٰی طبقہ ، ملائکہ مقربین
ان(انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام) کے بعد اعلٰی طبقہ ملائکہ مقربین کا ہے مثل ساداتنا و موالینا ( مثلاً ہمارے سرداروں اور پیش رو مددگاروں میں سے حضرت) جبرائیل ( جن کے ذمہ پیغمبروں کی خدمت میں وحی الہٰی لانا ہے) و (حضرت ) میکائیل ( جو پانی برسانے والے اور مخلوقِ خدا کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں) و ( حضرت ) اسرافیل ( جو قیامت کو صور پھونکیں گے) و ( حضرت ) عزرائیل ( جنہیں قبض ارواح کی خدمت سپرد کی گئی ہے) وحملہ ( یعنی حاملان ) عرش جلیل ، صلوات اﷲ و سلامہ علیہم اجمعین، ان کے علوِ شان و رفعت مکان ( شوکت و عظمت اور عالی مرتبت) کو بھی کوئی ولی نہیں پہنچتا) ( خواہ کتنا ہی مقرب بارگاہِ احدیّت ہو) اور ان کی جناب  میں گستاخی کا بھی بعینہ وہی حکم ( جو انبیاء مرسلین کی رفعت پناہ بارگاہوں میں گستاخی کا ہے کہ کفر قطعی ہے ان ملائکہ مقربین میں بالخصوص ) جبرئیل علیہ السلام مِن وَجہٍ رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے استاذ (عہ) ہیں
قال تعالٰی علمہ شدید القوی  ۔۱؂
 ( سکھایا ان کو یعنی سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو سخت قوتوں والے طاقتور نے، یعنی جبرائیل علیہ السلام نے جو قوت و اجلال خداوندی کے مظہرِ اتم ، قوت جسمانی وعقل و نظر کے اعتبار سے کامل وحی الہٰی کے بار کے متحمل ، چشم زدن میں سدرۃ المنتہٰی تک پہنچ جانے والے جن کی دانشمندی اور فراست ایمانی کا یہ عالم کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بارگاہوں میں وحی الہی لے کر نزول اجلال فرماتے اور پوری دیانتداری سے اس امانت کو ادا کرتے رہے)
عہ:  قال الامام الفخرالرازی وقولہ شدید القوی ، فیہ فوائد الاولٰی ان مدح المعلم مدح المتعلم فلوقال علمہ جبرائیل ولم یصفہ ماکان یحصل للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بہ فضیلۃ ظاھرۃ، الثانیۃ ھی ان فیہ ردّاً علیھم حیث قالوا اساطیر الاولین سمعھا وقت سفرہ الی الشام فقال لم یعلمہ احد من الناس بل معلمہ شدید القوی ۔۲؂الخ ولہذا قال الامام احمد رضا ماقال وھو حق ثابت ، واﷲ اعلم۔                 العبد محمد خلیل عفی عنہ
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی کے ارشاد  شدید القوٰی  میں کئی فائدے ہیں، پہلا فائدہ یہ  ہے کہ معلم کی مدح متعلم کی مدح ہوتی ہے، اگر اﷲ تعالٰی یوں فرماتا کہ اس کو جبرائیل نے سکھایا ہے، اور وصف شدید القوٰی سے اس کو متصف نہ فرماتا تو اس سے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فضیلت  ظاہرہ حاصل نہ ہوتی، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں رد ہے ان لوگوں کا جنہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کے قصے ہیں جن کو انہوں نے شام کی طرف سفر کے دوران سُن لیا ہے ، تو اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ انہیں لوگوں میں سے کسی نے نہیں سکھایا ان کا معلم تو شدید القوٰی ہے الخ، 

اسی لیے امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے جو کہا ہے وہ حقِ ثابت ہے۔(ت)
( ۱ ؎  القرآن الکریم         ۵۳/ ۵ )

 ( ۲ ؎ مفاتیح الغیب ( التفسیر الکبیر ) تحت الآیۃ ۵۳/ ۵    دارالکتب العلمیہ بیروت     ۲۸/ ۲۴۵)
پھر وہ کسی کے شاگرد کیا ہوں گے جسے ان کا استاذ بنائیے۔ اسے سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا استاذ الاستاذ ٹھہرائیے یہ وہی ہیں جنہیں حق تبارک و تعالٰی رسول کریم ۔۱؂ مکین امین ۔۲؂ فرماتا ہے ( کہ وہ عزت والے مالک عرش کے حضور بڑی عزت والے ہیں ملاء اعلٰی کے مقتداء کہ تمام ملائکہ ان کے اطاعت گزار و فرماں بردار، وحیِ الہٰی کے امانت دار، کہ انکی امانت میں کسی کو مجال حرف زدن نہیں پیامِ رسانی وحی میں امکانِ نہ سہو کا نہ کسی غلط فہمی و غلطی کا اور نہ کسی سہل پسندی اورغفلت کا ، منصب رسالت کے پوری طرح متحمل، اسرار و انوار کے ہر طرح محافظ، فرشتوں میں سب سے اونچا ان کا مرتبہ و مقام اور قرُب قبول پر فائز المرام، وہ صاحبِ عزت و احترام کہ) نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا دوسرے کے خادم نہیں ۔ ( اور تمام مخلوقات میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اور ان کا محذوم و مطاع نہیں۔ اور جنگِ بدر میں فرشتوں کی ایک جمعیت کے ساتھ حضور کے لشکر کا ایک سپاہی بن کر شامل ہونا مشہور، زبان زد خاص و عام) اکابر صحابہ و اعاظم اولیاء کو ( کہ واسطہ نزول برکات ہیں) اگر ان کی خدمت ( کی دولت ) ملے دو جہاں کی فخر و سعادت جانیں پھر یہ کس کے خدمت گار یا غاشیہ بردار ہوں گے( اور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تو بادشاہِ کون و مکاں، مخدوم و مطاع ہر دو جہاں ہیں
صلی اللہ تعالٰی علیہ و علیہم اجمعین و بارک وسلم۔
 ( ۱ ؎ ا لقرآن الکریم         ۸۱/ ۱۹)(۲ ؎ القرآن الکریم         ۸۱/ ۲۰ و ۲۱)
عقیدہ خامسہ ۵ ______ اصحاب سیّدالمرسلین و اہلِ بیت کرام
ان ( ملائکہ مرسلین و ساداتِ فرشتگان مقربین ) کے بعد ( بڑی عزت و منزلت اور قُرب قبول احدیت پر فائز) اصحابِ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہیں، اور اُنہیں میں حضرت بتول ، جگر پارہ رسول ، خاتونِ جہاں، بانوے جہاں، سیدۃ النساء فاطمہ زہرا (شامل) اور اس دو جہاں کی آقا زادی کے دونوں شہزادے، عرش (اعظم) کی آنکھ کے دونوں تارے ، چرخِ سیادت ( آسمانِ کرامت ) کے مہ پارے ، باغِ تطہیر کے پیارے پھول ، دونوں قرۃ العین رسول ، امامین کریمین ( ہادیانِ باکرامت وباصفا) ، سعید ین شہیدین ( نیک بخت و شہیدانِ جفا) تقیین نقیین (پاک دامن، پاک باطن) نیرین (قمرین ، آفتاب رُخ و ماہتاب رُو) طاہرین ( پاک سیرت ، پاکیزہ خو) ابومحمد (حضرت امام ) حسن و ابوعبداﷲ ( حضرت امام ) حسین ، اور تمام مادرانِ اُمت ، بانوانِ رسالت ( امہات المومنین) ازواج مطہرات ) علی المصطفٰی وعلیہم کلہم الصلوۃ والتحیۃ( ان صحابہ کرام کے زمرہ میں) داخل کہ صحابی ہر وہ مسلمان ہے جو حالتِ اسلام میں اس چہرہ خدا نما( اور اس ذاتِ حق رسا) کی زیارت سے مشرف ہوا۔او راسلام ہی پر دنیا سے گیا۔( مرد ہو خواہ عورت، بالغ ہو خواہ نابالغ) ان ( اعلٰی درجاتِ والا مقامات ) کی قدر و منزلت وہی خوب جانتا ہے جو سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ کی عزت و رفعت سے آگاہ ہے۔( اس کا سینہ انوارِ عرفان سے منور اور آنکھیں جمال حق سے مشرف ہیں، حق پر چلتا، حق پر جیتا اور حق کے لیے مرتا ہے اور قبول حق اس کا وطیرہ ہے) آفتاب  نیمروز( دوپہر کے چڑھتے سورج) سے روشن تر کہ محب ( سچا چاہنے والا) جب قدرت پاتا ہے اپنے محبوب کو صحبتِ بد ( برے ہم نشینوں اور بدکار رفیقوں ) سے بچاتا ہے۔ (اور مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا مانتا ہے کہ) حق تعالٰی قادر مطلق ( اور ہر ممکن اس کے تحت قدرت ہے) اور ( یہ کہ) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کے محبوب و سید المحبوبین ( تمام محبوبانِ بارگاہ کے سردار و سر کے تاج) کیا عقل سلیم (بشرطیکہ وہ سلیم ہو) تجویز کرتی ( جائز وگوارہ رکھتی) ہے کہ ایسا قدیر (فعال لمّا یرید جو چاہے اور جیسا چاہے کرے) ایسے عظیم ذی و جاہت، جانِ محبوبی وکانِ عزت ( کہ جو ہوگیا، جو ہوگا، اور جو ہورہا ہے انہیں کی مرضی پر ہوا۔ انہیں کی مرضی پر ہوگا اور انہیں کی مرضی پر ہورہا ہے۔ ایسے محبوب ایسے مقبول)کے لیے خیارخلق کو) ( کہ انبیاء و مرسلین کے بعد تمام خلائق پر فائق ہوں۔ حضور کا صحابی ) جلیس و انیس ( ہم نشین و غمخوار ) و یارو مددگار مقرر نہ فرمائے ( نہیں ہر گز نہیں تو جب کہ مولائے قادر و قدیر جل جلالہ نے انہیں، ان کی یاری و مددگاری ، رفاقت و صحبت کے لیے منتخب فرمالیا تو اب ) جو ان میں سے کسی پر طعن کرتا ہے جناب باری تعالٰی کے کمال حکمت و تمام قدرت ( پر الزام نقص و ناتمامی کا لگاتا ہے) یارسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی غایت محبوبیت ( کمال شانِ محبوبی) و نہایت منزلت ( وہ انتہائے عزت وجاہت اوران مراتب رفیعہ اور مناصب جلیلہ) پر حرف رکھتا ہے۔( جو انہیں بارگاہِ صمدیت میں حاصل ہیں تو یہ مولائے قدوس تعالٰی شانہ کی بارگاہ میں یا اس کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب پاک میں گستاخانہ زبان درازی و دریدہ دہنی ہے اور کھلی بغاوت) اسی لیے سرورِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔
اﷲ اﷲ فی اصحابی، لاتتخذوھم غرضاً من بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ط ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم ط ومن اذاھم فقداٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ ط ومن اذی اﷲ فیوشک ان یا خذہ ط ۔
خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو میرے اصحاب کے حق میں انہیں نشانہ نہ بنالینا میرے بعد جو انہیں دوست رکھتا ہے میری محبت سے انہیں دوست رکھتا ہے ، اور جوان کا دشمن ہے میری عداوت سے ان کا دشمن ہے، جس نے انہیں ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی، اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی، اور جس نے ا ﷲ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اﷲ تعالٰی اس کو گرفتار کرلے۔( یعنی زندہ عذاب و بلا میں ڈال دے)
رواہ الترمذی۱؂ وغیرہ ۔
 ( ۱ ؎ جامع الترمذی         کتاب المناقب          باب فی من سبّ اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     حدیث ۳۸۸۸دارالفکر بیروت        ۵/ ۴۶۳)

(مسند احمد بن حنبل         عن عبداﷲ بن مغفل المزنی                    المکتب الاسلامی بیروت         ۵/ ۵۴ و ۵۷)
Flag Counter