بایں ہمہ (کہ اُس کی ذاتِ کریم دوسری ذوات کی مناسبت سے معّرا ہے اور اس کی صفاتِ عالیہ اوروں کی صفات کی مشابہت سے مبّرا) اس نے اپنی حکمت کا ملہ ( و رحمت شاملہ) کے مطابق عالم ( یعنی ماسوی اﷲ ) کو جس طرح وہ ( اپنے علم قدیم ازلی سے ) جانتا ہے۔ ایجاد فرمایا ( تمام کائنات کو خلعت وجود بخشا۔ اپنے بندوں کو پیدا فرمایا انہیں کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں زبان وغیرہ عطا فرمائے اور انہیں کام میں لانے کا طریقہ الہام فرمایا ۔ پھر اعلٰی درجہ کے شریف جو ہر یعنی عقل سے ممتاز فرمایا جس نے تمام حیوانات پر انسان کا مرتبہ بڑھایا۔ پھر لاکھوں باتیں ہیں جن کا عقل ادراک نہیں کرسکتی تھی۔ لہذا انبیاء بھیج کر کتابیں اتار کرذراذرا سی بات بتادی۔ اور کسی کو عذر کی کوئی جگہ باقی نہ چھوڑی) اور مکلفین کو( جو تکلیف شرعی کے اہل، امرونہی کے خطاب کے قابل، بالغ عاقل ہیں) اپنے فضل وعدل سے دو فرقے کردیا
فریق فی الجنّۃ ۔۱
( ایک جنتی و ناجی، جس نے حق قبول کیا)
وفریق فی السعیر۔۲
( دوسرا جہنمی وہالک ، جس نے قبولِ حق سے جی چرایا۔)اور جس طرح پر تووجود ( موجود حقیقی جل جلالہ) سے سب نے بہرہ پایا( اور اسی اعتبار سے وہ ہست و موجود کہلایا) اسی طرح فریق جنت کو اس کے صفات کمالیہ سے نصیبہ خاص ملا ( دنیاو آخرت میں اس کے لیے فوزو فلاح کے دروازے کھلے اور علم و فضل خاص کی دولتوں سے اس کے دامن بھرے) دبستان ( مدرسہ)
علّمک مالم تکن تعلم ۔۳
( اور دارالعلوم
علّم الانسان مالم یعلم ۴ ؎
( میں تعلیم فرمایا ( کہ جو کچھ وہ نہ جانتا تھا اُسے سکھایا پھر)
وکان فضل اﷲ علیک عظیما۔۵
نے اوررنگ آمیزیاں کیں( کہ اللہ تعالٰی کا فضل عظیم اس پر جلوہ گستر رہا،
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۴۲ / ۷ ) ( ۲ ؎ القرآن الکریم ۴۲/ ۷)( ۳ ؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۳ )( ۴ ؎ القرآن الکریم ۹۶/ ۵)( ۵ ؎القرآن الکریم ۴/ ۱۱۳ )
مولائے کریم نے گونا گوں نعمتوں سے اسے نوازا۔ بے شمار فضائل و محاسن سے اسے سنوارا۔ قلب وقالب ، جسم و جاں، ظاہر و باطن کو رذائل اور خصائل قبیحہ مذمومہ سے پاک صاف اور محامد و اخلاق حسنہ سے اسے آراستہ و پیراستہ کیا۔ اور قرُبِ خداوندی کی راہوں پر اُسے ڈال دیا) اور یہ سب تصدق (صدقہ و طفیل ) ایک ذات جامع البرکات کا تھا جسے اپنا محبوب خاص فرمایا۔ ( مرتبہ محبوبیت کُبرٰی سے سرفراز فرمایا کہ تمام خلق حتّٰی کہ نبی و مرسل و ملک مقرب جویائے رضائے الہٰی ہے اور وہ ان کی رضا کا طالب )
مرکز دائرہ ( کُن) و دائرہ مرکز کاف ونون بنایا، اپنی خلافت کا ملہ کا خلعتِ رفیع المنزلت اُس کے قامتِ موزوں پر سجایا کہ تمام افرادِ کائنات اس کے ظل ظلیل ( سایہ ممدورافت) اور ذیل جلیل ( دامن معمور رحمت) میں آرام کرتے ہیں۔ اعاظم مقربین ( کہ اُس کی بارگاہِ عالی جاہ میں قربِ خاص سے مشرف ہیں) ( ان ) کو ( بھی) جب تک اس مامن جہاں ( پناہ گاہِ کون و مکان) سے توسّل نہ کریں ( انہیں اس کی جناب والا میں وسیلہ نہ بنائیں) بادشاہ ( حقیقی عزّ اسمہ وجل مجدہ) تک پہنچناممکن نہیں کنجیاں، خزائنِ علم و قدرت، تدبر و تصرف کی، اس کے ہاتھ میں رکھیں ، عظمت والوں کو مہ پارے ( چاند کے ٹکڑے ، روشن تارے ) اور اس کو اس نے آفتاب عالم تاب کیا کہ اس سے اقتباس انوار کریں ( عرفان و معرفت کی روشنیوں سے اپنے دامن بھریں) اور اس کے حضور انا زبان پر ( اور اپنے فضائل و محاسن، ان کے مقابل ، شمار میں) نہ لائیں اس ( محبوب اجل و اعلٰی) کے سراپردہ عز ت و اجلال کو وہ عزت و رفعت بخشی کہ عرش عظیم جیسے ہزاراں ہزار اس میں یوں گم ہوجائیں جیسے بیدائے ناپیدا کنار ( وسیع و عریض بیابان، جس کا کنارہ نظر نہ آئے اس) میں ایک شلنگ ذرہ کم مقدار( کہ لق و دق صحرا میں اس کی اُڑان کی کیا وقعت اور کیا قدرت و منزلت)
علم وہ وسیع و غزیر ( کثیر درکثیر) عطا فرمایا کہ علومِ اوّلین و آخرین اس کے بحر علوم کی نہریں یا جوشش فیوض کے چھینٹے قرار پائے ( شرق تا غرب، عرش تا فرش انہیں دکھایا، ملکوت السموٰت والارض کا شاہد بنایا) روزِ اوّل سے روزِ آخر تک کا، سب ماکان ومایکون انہیں بتایا) ازل سے ابد تک تمام غیب وشہادت ( غائب و حاضر) پر اطلاع تام ( وآگاہی تمام انہیں ) حاصل،
الا ماشاء اﷲ
( اور ہنوز ان کے احاطہ علم میں وہ ہزار در ہزار، بے حدو بے کنار سمندر لہرا رہے ہیں جن کی حقیقت وہ جانیں یا اُن کا عطا کرنے والا اُن کا مالک و مولٰی جل و علا) بصر (و نظر) وہ محیط ( اور اس کا احاطہ اتنا بسیط) کہ شش جہت مقابل ( کہ بصارت کو ان پر اطلاع تام حاصل) دنیا اس کے سامنے اٹھالی کہ تمام کائنات تا بروزِ قیامت ، آنِ واحد میں پیش نظر ( تو وہ دنیا کو اور جوکچھ دنیا میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کو ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے اپنی ہتھیلی کو، اور ایمانی نگاہوں میں نہ یہ قدرت الہی پر دشوار نہ عزت ووجاہت انبیاء کے مقابل بسیار) سمع والا کے نزدیک پانچ سو برس راہ کی صدا جیسے کان پڑی آواز ہے اور ( بعطائے قادرِ مطلق) قدرت ( و اختیارات ) کا تو کیا پوچھنا، کہ قدرت قدیر علی الاطلاق جل جلالہ کی نمونہ و آئینہ ہیں ، عالم علوی و سفلی ( اقطار و اطرافِ زمین و آسمان) میں اس کا حکم جاری۔ فرمانروائی کن کو اس کی زباں کی پاسداری ، مردہ کو قم کہیں ( کہ بحکم الہی کھڑا ہوجا تو وہ) زندہ اور چاند کو اشارہ کریں (تو) فوراً دو پارہ ہو۔ جو ( یہ ) چاہتے ہیں خدا وہی چاہتا ہے کہ یہ وہی چاہتے ہیں جو خدا چاہتا ہے۔
منشورِ خلافت مطلقہ ( تامہ ، عامہ، شاملہ، کاملہ) و تفویض تام کا فرمان شاہی) ان کے نام نامی ( اسم گرامی) پر پڑھا گیا اور سکہ و خطبہ ان کا ملاء ادنی سے عالمِ بالا تک جاری ہوا۔ ( تو وہ اللہ عزوجل کے نائب مطلق ہیں اور تمام ماسوی اللہ تمام عالم ان کے تحت تصرف ان کے زیر اختیار، ان کے سپرد کہ جو چاہیں کریں جسے جو چاہیں دیں اور جس سے جو چاہیں واپس لیں تمام جہان میں کوئی ان کا پھیرنے والا نہیں اور ہاں کوئی کیونکر ان کا حکم پھیر سکے کہ حکم الہی کسی کے پھیرے نہیں پھرتا۔ تمام جہان ان کا محکوم اور تمام آدمیوں کے وہ مالک ، جو انہیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنت سے محروم مل۔
ملکوت السموات والارض
ان کے زیر فرمان، تمام زمین اُن کی ملک اور تمام جنت ان کی جاگیر) دنیا ودیں میں جو جسے ملتا ہے ان کی بارگاہِ عرش اشتباہ سے ملتا ہے۔ ( جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دے دی گئیں۔ رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں۔ دنیا و آخرت حضور ہی کی عطا کا ایک حصہ ہے۔ ؎
فانّ من جودک الدنیا و ضرّتھا ۔۱
( بے شک دُنیا وآخرت آپ کے جودو سخا سے ہے)
(۱ مجموع المتون قصیدۃ بردۃ فی مدحہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الشئون الدینیہ دولۃ قطر ص ۱۰)
تو تمام ماسوی اﷲ نے جو نعمت، دنیاوی و اخروی ، جسمانی یا روحانی، چھوٹی یا بڑی پائی انہیں کے دستِ عطا سے پائی۔ انہیں کے کرم ، انہیں کے طفیل ، انہیں کے اسطے سے ملی۔ اللہ عطا فرماتا ہے اور ان کے ہاتھوں ملا، ملتا ہے اور ابدالاباد تک ملتا رہے گا جس طرح دین و ملت ، اسلام و سنت ، صلاح و عبادت ، زہد و طہارت اور علم و معرفت ساری دینی نعمتیں ان کی عطا فرمائی ہوئی ہیں۔ یونہی مال و دولت ، شفاء و صحت، عزت و رفعت اور فرزند و عشرت یہ سب دنیاوی نعمتیں بھی انہیں کے دستِ اقدس سے ملی ہیں۔
قال الرضا : ؎
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے حاشا غلط غلط، یہ ہوس بے بصر کی ہے ۱؎
قال الرضا : ؎
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے حاشا غلط غلط، یہ ہوس بے بصر کی ہے ۱؎
وقال الفقیر ؎
بے اُن کے توسُل کے، مانگے بھی نہیں ملتا بے اُن کے توسط کے، پرسش ہے نہ شنوائی
وہ بالا دست حاکم کہ تمام ماسوی اﷲ ان کا محکوم اور ان کے سوا عالم میں کوئی حاکم نہیں۔(ملکوت السمٰوات والارض میں ان کا حکم جاری ہے، تمام مخلوقِ الہی کو ان کے لیے حکمِ اطاعت و فرمانبرداری ہے وہ خدا کے ہیں، اور جو کچھ خدا کا ہے سب ان کا ہے۔ ؎
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا ، تیرا ؎۲
( ۱ ؎ حدائقِ بخشش حاضری بارگاہ بہیں جائے حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص ۹۴)
( ۲ ؎ حدائق بخشش وصل اول درنعت رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص ۲)
جو سر ہے اُن کی طرف جھکا ہوا، اور جو ہاتھ ہے وہ ان کی طرف پھیلا ہوا۔)
سب اُن کے محتاج اور وہ خدا کے محتاج ( وہی بارگاہِ الہی کے وارث ہیں اور تمام عالم کو انہیں کی وساطت سے ملتا ہے ) قرآن عظیم ان کی مدح وستائش کا دفتر ( اور ) نام ان کا ہر جگہ نامِ الہٰی کے برابر ۔ ؎
ورفعنالک ذکر کا ہے سایہ تجھ پر ذکر اونچا ہے ترا، بول ہے بالا تیرا ۔۳
( ۳ ؎ حدائق بخشش وصل چہارم ، درمنافحت اعداء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص ۹)
احکامِ تشریعیہ، شریعت کے فرامین، اوامرو نواہی سب ان کے قبضہ میں، سب ان کے سپرد، جس بات میں جو چاہیں اپنی طرف سے فرمادیں، وہی شریعت ہے، جس پر جو چاہیں حرام فرمادیں، اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کردیں، اور جو فرض چاہیں معاف فرمادیں وہی شرع ہے، غرض وہ کارخانہ الہی کے مختارِ کل ہیں، اور خُسر و ان عالم اس کے دستِ نگرو محتاج)
( وہ کون؟ )
اعنّی سیّدالمرسلین
( رہبرِ رہبراں) ،
خاتم النبیین
( خاتم پیغمبراں)
رحمۃ للعلمین
( رحمتِ ہر دو جہاں)
، شفیع المذنبین
( شافع خطا کاراں ،)
قائد الغر المحجلین
( ہادی نوریاں و روشن جبیناں) ،
سرّ اﷲ المکنون
( رب العزت کا راز سربستہ)
دُرّ اﷲ المخزون
( خزانہ الہٰی کا موتی، قیمتی و پوشیدہ)
سرور القلب المحزون
(ٹوٹے دلوں کا سہارا )
عالم ماکان وماسیکون
( ماضی و مستقبل کا واقف کار)
تاج الاتقیاء
( نیکو کاروں کے سر کا تاج)
نبی الانبیاء
( تمام نبیوں کا سرتاج )
محمّدن (المصطفٰی) رسول رب العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ وبارک وسلم الٰی یوم الدین ۔
بایں ہمہ ( فضائل جمیلہ و فواضل جلیلہ و محاسنِ حمیدہ و محامد محمودہ وہ ) خدا کے بندہ و محتاج ہیں ( اور
یسئلہ من فی السمٰوٰت والارض ۱
کے مصداق ۔حاش ﷲ کہ عینیت یا مثلیت کا گمان ( تو گمان یہ وہم بھی ان کی ذاتِ کریمہ ، ذاتِ الہی عزشانہ کی عین یا اس کے مثل و مماثل یا شبیہ و نظیر ہے) کافر کے سوا مسلمان کو ہوسکے۔ خزانہ قدرت میں ممکن۔( وحادث و مخلوق) کے لیے جو کمالات متصور تھے ( تصور و گمان میں آسکتے تھے یا آسکتے ہیں) سب پائے کہ دوسری کو ہم عنانی ( و ہمسری اور ان مراتبِ رفیعہ میں برابری) کی مجال نہیں، مگر دائرہِ عبدیت وافتقار ( بندگی و احتیاج) سے قدم نہ بڑھا، نہ پڑھا سکے۔ العظمۃ ﷲ خدائے تعالٰی سے ذات و صفات میں مشابہت ( و مماثلت) کیسی۔ ( اس سے مشابہ و مماثل ہونے کا شبہ بھی اس قابل نہیں کہ مسلمان کے دل ایمان منزل میں اس کا خطرہ گزر سکے، جب کہ اہل حق کا ایمان ہے کہ حضور اقدس سرور عالم عالم اعلم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ان احساناتِ الہی کا جو بارگاہِ الہی سے ہر آن، ہر گھڑی ، ہر لحظہ، ہر لمحہ ان کی بارگاہِ بیکس پناہ پر مبذول رہتے ہیں، ان انعامات اور ان ) نعمائے خداوندی کے لائق جو شکر و ثناء ہے اسی پورا پورا بجا نہ لاسکے نہ ممکن کہ بجالائیں کہ جو شکر کریں وہ بھی نعمت آخر موجب شکر دیگر
الٰی مالا نھایۃ لہ نعم وافضال خداوندی
( ربّانی نعمتیں اور بخششیں خصوصاً آپ پر) غیر متناہی ہیں۔ ان کی کوئی حدو نہایت نہیں، انہیں کوئی گنتی و شمار میں نہیں لاسکتا۔
قال اﷲ تعالٰی وللاخرۃ خیر لک من الاولٰی ۔۲
( اے نبی بے شک ہر آنے والا لمحہ تمہارے لیے گزرے ہوئے لمحہ سے بہتر ہے اور ساعت بساعت آپ کے مراتبِ رفیعہ ترقیوں میں ہیں)مرتبہ
قاب قوسین او ادنٰی۱
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۵۵/ ۲۹) (۲ ؎ القرآن الکریم ۹۳/ ۴) ( ۱ ؎ القرآن الکریم ۵۳/ ۹)
کا پایا ۔ ( اور یہ وہ منزل ہے کہ نہ کسی نے پائی اور نہ کسی کے لیے ممکن ہے اس تک رسائی وہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ شب اسرٰی مجھے میرے رب نے اتنا نزدیک کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو کمانوں بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا۔) ۔۲ قسم کھانے کو فرق کا نام رہ گیا۔؎
کمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو! تم اول آکر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے، کدھر گئے تھے ۔۳
دیدارِ الہٰی بچشم سر دیکھا، کلامِ الہی بے واسطہ سُنا،( بدن ا قدس کے ساتھ، بیداری میں، اوریہ وہ قرب خاص ہے کہ کسی نبی مرسل و ملک مقرب کو بھی نہ کبھی حاصل ہوا اور نہ کبھی حاصل ہو)
( ۲ ؎ صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی و کلم اﷲ موسٰی تکلیما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰)
( ۳ ؎ حدائق بخشش معراج نظم نذر گدا بحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۰۵)
محملِ لیلٰی ( ادراک سے ماوراء ) کروڑوں منزل سے کروڑوں منزل ( دُور ) ( اور ) خرد خردہ میں ( عقل نکتہ دان، دقیقہ شناس) دنگ ہے۔ ( کوئی جانے تو کیا جانے اور کوئی خبر دے تو کیا خبر دے) نیا سماں ہے نیا رنگ ) ( ہوش و حواس ان وسعتوں میں گم اور دامانِ نگاہ تنگ) قُرب میں بعد ( نزدیکی میں دوری) بعد میں قرب ( دوری میں نزدیکی) وصل میں ہجر ( فرقت میں وصال ) ع
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے ۔۴
عقل و شعور کو خود اپنا شعور نہیں، دست و پا بستہ خود گم کردہ حواس ہے، ہوش و خرد کو خود اپنے لالے پڑے ہیں وہم و گمان دوڑیں تو کہاں تک پہنچیں، ٹھوکر کھائی اور گرے ؎
سراغ این و متٰی کہاں تھا، نشان کیف واِلٰی کہاں تھا
نہ کوئی راہی، نہ کوئی ساتھی ، نہ سنگ منزل، نہ مرحلے تھے ۔؎۵
جس راز کو اللہ جل شانہ ظاہر نہ فرمائے بے بتائے کس کی سمجھ میں آئے اور کسی بے وقار کی کیا مجال کہ درون خانہ خاص تک قدم بڑھائے)
( ۴ ؎ حدائق بخشش معراج نظم نذر گدابحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۱۰)
(۵ ؎ حدائق بخشش معراج نظم نذر گدابحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۱۰)
گوہر شناور دریا ( گویا موتی پانی میں تیر رہا ہے) مگر ( یوں کہ) صدف ( یعنی سیپی) نے وہ پردہ ڈال رکھا ہے کہ نم سے آشنا نہیں ( قطرہ تو قطرہ، نمی سے بھی بہرہ ور نہیں) اے جاہلِ ناداں، علم ( وکنہ حقیقت) کو علم والے پر چھوڑ اور اس میدان دشوار جو لان سے ( جس سے سلامتی سے گزر جانا جوئے شیر لانا ہے اور سخت مشقتوں میں پڑنا) سمندِ بیان ( کلام و خطاب کی تیز و طرار سواری) کی عنان ( باگ دوڑ) موڑ ( اس والا جناب کی رفعتوں ، منزلتوں اور قُربتوں کے اظہار کے لیے) زبان بند ہے پر اتنا کہتے ہیں کہ خلق کے آقا ہیں، خالق کے بندے، عبادت ( و پرستش ) ان کی کفر ( اور ناقابلِ معافی جرم) اور بے ان کی تعظیم کے حبط ( برباد ، ناقابل اعتبار، منہ پر مار دیئے جانے کے قابل) ایمان ان کی محبت و عظمت کا نام ( اور فعل تعظیم، بعد ایمان، ہر فرض سے مقدم) اور مسلمان وہ جس کا کام ہے نامِ خدا کے ساتھ ، ان کے نام پر تمام
والسلام علٰی خیر الانام والال والاصحاب علی الدّوام۔