مسئلہ ۱۲۶: بریلی محلہ بہاری پور مرسلہ بمعرفت سلطان احمد خاں سائل پیر محمد عبداﷲ ۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
حالت مندرجہ ذیل کب واقع ہوگی، زہرہ برج حوت میں طالع ہواور قمر برج سرطان میں بنظر تثلیث زہرہ ہو لیکن بتربیع و مقابلہ مریخ ناظر بزحل نہ ہو۔ امید کہ ماہرانِ علمِ ہیئت جواب باصواب دیں۔
الجواب : یہ سائل کی غلطی ہے کہ مریخ تربیع یا مقابلہ سے ناظر زحل نہ ہو بلکہ یہاں مقصود یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی زہرہ کو نظر دشمنی سے نہ دیکھتا ہو کہ تربیع یا مقابلہ ہے زہرہ سے اگر ساقط ہوں اور باہم نظر عداوت رکھتے ہوں کیا حرج ہے، بالجملہ عرض یہ ہے کہ زہرہ برج شرف میں ہو اور قمر اپنے بیت میں اور زہرہ کو بنظر تمام دوستی دیکھتا ہو اور زہرہ مریخ وزحل کی نظر عداوت تربیع و مقابلہ سے محفوظ ہو یہ صورت نہ اس سال ہے نہ سال آئندہ ہے، ہاں وہ کہ سائل نے بیان کیا۔۲۷ مارچ ۱۹۲۰ء کو ہوگی زہرہ حوت کے ۱۱ درجہ میں ہوگی قمر سرطان کے ۱۱ درجہ میں کہ پورے ۱۲۰ درجے ( ایک سو بیس درجہ) کا فاصلہ اور کامل نظر تثلیث ہے، مریخ عقرب کے ۸ درجے ۶ دقیقے زحل سنبلہ کے ۶ درجے ۶ دقیقے کہ کامل نظر تسدیس نظر نیم دوستی ہے نہ تربیع ہے نہ مقابلہ لیکن زہرہ و زحل کا فاصلہ ۶ برج سے صرف ۵ درجے زائد ہوگا، زہرہ اگرچہ مقابلہ زحل سے منصرف ہوچکی ہے مگر دونوں کے مطرح شعاع ۷ و ۹ درجے کے مجموع کے نصف یعنی ۸ درجے سے فاصلہ کم ہے تو ہنوز حکم مقابلہ باقی ہے تیسرے دن زائل ہوگا جب تک ماہ سرطان سے بھی نکل جائے گا اور تثلیث سے بھی گزر جائے گا ، ہاں مریخ اگرچہ زہرہ سے ساقط نہیں مگر تثلیث میں ہے کہ تمام دوستی ہے نہ تربیع و مقابلہ فقط۔
مسئلہ ۱۲۷: از شہر محلہ ملو کپور مسئولہ قدرت علی خان ۱۵ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کہتا ہے کہ جملہ انبیاء و ملائکہ علیہم السلام معصوم ہیں دوسرا شخص کہتا ہے کہ سوائے پنجتن پاک کے کوئی معصوم نہیں۔ اور تیسرا شخص کہتا ہے کہ پنجتن پاک کوئی چیز نہیں ہیں سوائے خلفائے راشدین کے۔
الجواب : پہلے شخص کا قول حق و عقیدہ اہلسنت ہے، اور دوسرے کا قول صریح گمراہی و رفض و کلمہ کفر ہے، اور تیسرے شخص کا قول بدتراز بول میں بھی ایک کھلا پہلو کفر کا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸: ازنانگل لکڑی ضلع گورگانوہ ڈاکخانہ ڈھنبہ مسئولہ حافظ غلام کبریا صاحب پیش امام مسجد کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ۔
(۱) زید کہتا ہے اولیاء سے مدد مانگنا دور سے ،ا ور ہر وقت حاضر ناظر سمجھنا شرک ہے، کیونکہ یہ خاص اﷲ تعالٰی کی صفت ہے دوسرے کی نہیں، قرآن شریف کا ثبوت دیتا، (نواں پارہ) کہہ دو میں نہیں مالک اپنی جان کا نہ نفع کا نہ ضرر کا۔
(۲) اولیاء اﷲ کی قبروں کی خاک ہاتھ میں لے کر منہ پر ملنا کیسا ہے؟ طواف قبر اولیاء کا کرنا بعضے کہتے ہیں طواف صرف کعبہ شریف کے واسطے ہے۔
(۳) شیخ عبدالحق نے ترجمہ مشکوۃ میں فرمایا ہے پیغمبروں کی سب دُعا مقبول نہیں ہوتی۔
(۴) خانقاہِ اولیاء پر جمع نہ ہونا حدیث کاثبوت دیتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے یا اللہ ! میری قبر کو عیدگاہ نہ بنائیو۔
(۵) اگر نبی کو غیب داں سمجھے تو کافر ہے کیونکہ ان کو علم عطائیہ ہے وہ غیب نہیں ہوسکتا کیونکہ غیب کے معنی یہ ہیں کہ بے اطلاع کیے معلوم ہو وہ غیب ہے۔
الجواب :
(۱) جس نے کہا کہ دُور سے سننا صرف اُس کی شان ہے اس نے رب عزوجل کی شان گھٹائی وہ پاک ہے اس سے کہ دور سے سُنے ، وہ ہر قریب سے قریب تر ہے، دور سے سننا اس کی عطا سے اس کے محبوبوں ہی کی شان ہے، اُسے حاضر و ناظر بھی نہیں کہہ سکتے، وہ شہید و بصیر ہے، حاضر و ناظر اس کی عطا سے اُس کے محبوب علیہ افضل الصلوۃ والسلام ہیں، کما فی رسائل الشیخ عبدالحق محدث الدہلوی قدس سرہ اُس آیۃ کریمہ سے اس کا کیا ثبوت ہوا ، جھوٹا دعوٰی کرنا اور قرآن مجید پر اس کی تہمت رکھنا مسلمان کا کام نہیں، نفع وضرر کا مالک بالذات اُس واحد حقیقی کے سوا کوئی نہیں ، آیت میں اسی کی نفی ہے، ورنہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں تو فرعون کو مالکِ نفع و ضرر لکھا ہے۔ پھر محبوبانِ بارگاہِ کا کیا کہنا وہ بے شک اس کی تملیک سے ہمارے نفع و ضرر کے مالک ہیں، جس کا بیان آیاتِ و احادیث سے کتاب الامن والعلٰی میں ہے۔
(۲) مزارات کی مٹی منہ پر ملنا جائز ہے ، اور طوافِ تعظیمی صرف کعبہ معظمہ کا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳) انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی سب دُعائیں مستجاب ہیں، مومنین سے حضرت عزت کا وعدہ ہے مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا، اور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا، پھر انبیاء تو انبیاء بعض وقت وہ اس اظہار کے لیے کہ یہ امر خلاف مقدر ہے اسے صورت دعا میں ظاہر کرتے ہیں وہ اعلٰی وجہ پر قبول ہوتی ہیں مگر مطلوب ظاہری واقع نہیں ہوتا نظر ظاہر اسے عدم قبول سے تعبیر کرتی ہے، شرح مشکوۃ میں اسی کا ذکر ہے۔
(۴) مزارات اولیاء پر تشریف لے جانا خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و خلفائے راشدین سے ثابت ہے اور اس حدیث میں اس کی کہیں ممانعت نہیں ، اس کا یہ مطلب ہے کہ میرے مزار کریمہ کو مسلمان عید نہ بنائیں جو سال میں ایک ہی بار آتی ہے بلکہ بکثرت حاضری دیں کہ ان کے گناہ معاف ہوں اور انہیں برکات ملیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۵) غیب وہ ہے کہ بے بتائے معلوم نہ ہوسکے، جو کہے کہ انبیاء کو غیب کے علم نہ دیئے گئے وہ کافر ہے کہ نبوت کا منکر ہے،ائمہ دین فرماتے ہیں:
النبی ھو المطلع علی الغیب ۱
نبی وہی ہے جوغیب پر مطلع ہو ۔
عطا سے غیب نہ رہنا آیات کثیرہ کی تکذیب ہے جوکارڈ پر نہیں لکھی جاسکتیں ۔واللہ تعالٰی اعلم ۔
(۱ المواہب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۷)
مسئلہ ۱۳۳و ۱۳۴ : از مقام رامہ تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی مرسلہ تاج الدین امام مسجد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ۔
(۱) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا ہے کہ حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے معراج کی رات میں بچشم خود اﷲ تعالٰی کو نہیں دیکھا۔؟
(۲) حدیث اور آیت اس طور پر نہیں آئی کہ تم لوگ امام صاحب کے مذہب پر چلیں۔
بَینُوا تُو جروا ( بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب :
(۱) امُ المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا رؤیت بمعنی احاطہ کا انکار فرماتی ہیں کہ
لا تدرکہ الابصار ۔۱
سے سند لاتی ہیں اور احادیث صحیحہ میں رؤیت کا اثبات بمعنی احاطہ نہیں کہ اﷲ عزوجل کو کوئی شے محیط نہیں ہو سکتی وہی ہر شے کو محیط ہے اور اثبات نفی پر مقدم ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱ القرآن الکریم ۶/ ۱۰۴)
(۲) حدیث اور آیت اس طور پر آئی ہے کہ تمہیں علم نہ ہو تو علماء سے پوچھو۔ امامِ اعظم سردارانِ علماء میں داخل ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵و ۱۳۶ : از لاہور مسجد بیگم شاہی اندرون دروازہ مستی مرسلہ صوفی احمد الدین طالب علم ۲۶ صفر ۱۳۳۸ھ
حضرت ہادی و رہنمائے سالکاں قبلہ دوجہاں دام فیضہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مسائل ذیل میں حضرت کیا فرماتے ہیں۔
(۱) حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر ایک روز خفا ہوئے، اور روافض کہتے ہیں یہی وجہ ہے باغی ہونے کی، پھر ایک کتاب مولانا حاجی صاحب کی تصنیف اعتقاد نامہ ہے جو بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اس میں یہ شعر بھی درج ہے۔
حق در آنجا بدست حیدر بود جنگ بااوخطا ومنکربود
( حق وہاں حیدر کرار رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاتھ میں تھا ان کے ساتھ جنگ غلط اور ناپسندیدہ تھی)
(۲) امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خلافت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سپرد کی تھی واسطے دفع جنگ کے۔
الجواب
(۱) روافض کا قول کذب محض ہے، عقائد نامہ میں خطاو منکربود نہیں ہے بلکہ خطائے منکر بود۔ اہل سنت کے نزدیک امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خطا خطاء اجتہادی تھی، اجتہاد پر طعن جائز نہیں، خطاء اجتہادی دو قسم ہے، مقرر و منکر، مقرروہ جس کے صاحب کو اُس پر برقرار رکھا جائے گا اور اُس سے تعرض نہ کیا جائے گا، جیسے حنفیہ کے نزدیک شافعی المذہب مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا، اور منکر وہ جس پر انکار کیا جائے گا جب کہ اس کے سبب کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہو جیسے اجلہ اصحاب جمل رضی اللہ تعالٰی عنہم کہ قطعی جتنی ہیں اور ان کی خطاء یقیناً اجتہادی جس میں کسی نام سنیت لینے والے کو محل لب کشائی نہیں، یا اینہہ اس پر انکار لازم تھا جیسا امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم نے کیا باقی مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم میں مداخلت حرام ہے،
حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
ستکون لاصحابی بعد زلۃ یغفرھا اﷲ لھم لسابقتھم ثم یاتی من بعد ھم قوم یکبھم اﷲ علی مناخرھم فی النار ۔۲
قریب ہے کہ میرے اصحاب سے کچھ لغزش ہوگی جسے اﷲ بخش دے گا اُس سابقہ کے سبب جو ان کو میری سرکار میں ہے پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن کو اﷲ تعالٰی ناک کے بل جہنم میں اوندھا کردے گا۔
(۲ ؎ المعجم الاوسط حدیث ۳۲۴۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۱۴۲ و مجمع الزوائد ۷/ ۲۳۴)
یہ وہ ہیں جو اُن لغزشوں کے سبب صحابہ پر طعن کریں گے، اﷲ عزوجل نے تمام صحابہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو قرآن عظیم میں دو قسم کیا:
(۱) مومنین قبل فتح مکہ و مومنین بعد فتح ۔ اول کو دوم پر تفضیل دی اور صاف فرمادیا ۔
وکلا وعداﷲ الحسنی ۔۳ ؎
سب سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرمالیا۔ اور ساتھ ہی ان کے افعال کی تفتیش کرنے والوں کا منہ بند فرمادیا
واﷲ بما تعملون خبیر ۔۴
اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو، با ینہہ وہ تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا پھر دوسرا کون ہے کہ ان میں سے کسی کی بات پر طعن کرے،
واﷲ الہادی، واﷲ تعالی اعلم
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۰)( ۴ ؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۰)
(۲) بے شک امام مجتبی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلافت سپرد فرمائی۔
اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اور یہ صلح و تفویضِ خلافت اﷲ و رسول کی پسند سے ہوئی۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا:
ان ابنی ھذا سیدولعل اﷲ ان یصلح بہ بین فئتین عظمتین من المسلمین ۔۵
میرا یہ بیٹا سید ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں میں صلح کرادے گا۔
( ۵ ؎ صحیح البخاری کتاب المناقب مناقب الحسن والحسین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۳۰)
( مشکوۃ المصابیح باب مناقب اہل بیت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبع مجتبائی دہلی ص۵۶۹)
امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبٰی ہر گز انہیں تفویض نہ فرماتے نہ اللہ ورسول اسے جائز رکھتے واﷲ تعالٰی اعلم،