Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
52 - 157
حدیث ۲۷: امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ جب بقصدِ شام و ادی تبوک میں قریہ سرَغ تک پہنچے سردارانِ لشکر ابوعبیدہ بن الجراح وخالد بن الولید و عمر و بن العاص وغیرہم رضوان اﷲ تعالٰی علیہم انہیں ملے اور خبر دی کہ شام میں وبا ہے، امیر المومنین نے مہاجرین وانصار وغیرہم صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو بُلا کر مشورہ لیا، اکثر کی رائے رجوع پر قرار پائی امیر المومنین نے بازگشت کی منادی فرمائی ۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا :  أفِرَارا من اﷲ  کیا اﷲ تعالٰی کی تقدیر سے بھاگنا ؟ فرمایا:
لو غیرک قالہا یااباعبیدۃ ، نعم ، نفرمن قدر اﷲ الٰی قدر اﷲ ارایت لوکان لک ابل ھبطت وادیالہ عدوتان احدھما خصبۃ والاخرٰی جدبۃ الیس ان رعیت الخصبۃ رعیتہا بقدر اﷲ وان رعیت الجدبۃ رعیتہا بقدر اﷲ اخرجہ الائمۃ مالک۱؂ واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد وا لنسائی عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
کاش اے ابوعبیدہ ! یہ بات تمہارے سوا کسی اور نے کہی ہوتی ( یعنی تمہارے علم و فضل سے بعید تھی) ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اﷲ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگتے ہیں، بھلا بتاؤ تو اگر تمہارے کچھ اونٹ ہوں انہیں لے کر کسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں، ایک سرسبز ، دوسرا خشک ، تو کیا یہ بات نہیں ہے کہ اگر تم شاداب میں چراؤ گے تو خدا کی تقدیر سے اور خشک میں چراؤ گے تو خدا کی تقدیر سے۔اس کی تخریج کی ہےائمہ یعنی مالک، احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی نے ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے (ت)
 ( ۱ ؎ صحیح البخاری      کتاب الطب         باب مایذکر فی الطاعون         قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/ ۸۵۳)

(صحیح مسلم         کتاب السلام         باب الطاعون والطیرۃ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/ ۲۲۹)

(مؤطا الامام مالک     کتاب الجامع         باب ماجاء فی الطاعون          میر محمد کتب خانہ کراچی         ص ۶۹۹ و ۷۰۰)
یعنی باآنکہ سب کچھ تقدیر سے ہے پھر آدمی خشک جنگل چھوڑ کر ہرا بھرا چرائی کے لیے اختیار کرتا ہے، اس سے تقدیر الہی سے بچنا لازم نہیں آتا، یونہی ہمارا اُس زمین میں نہ جانا جس میں وبا پھیلی ہے یہ بھی تقدیر سے فرار نہیں ۔ پس ثابت ہوا کہ تدبیر ہر گز منافی تو کل نہیں، بلکہ اصلاحِ نیت کے ساتھ عین توکل ہے۔ ہاں یہ بے شک ممنوع و مذموم ہے کہ آدم ہمہ تن تدبیر میں منہمک ہوجائے اور اس کی درستی میں جاوبیجا و نیک و بد و حلال و حرام کا خیال نہ رکھے۔ یہ بات بیشک اُسی سے صادر ہوگی جو تقدیر کو بھول کر تدبیر پر اعتماد کر بیٹھا، شیطان اُسے ابھارتا ہے کہ اگر یہ بن پڑی جب تو کار برآری ہے ورنہ مایوسی و ناکامی ، ناچار سب این وآں سے غافل ہو کر اس کی تحصیل میں لہو پانی ایک کردیتا ہے، اور ذلت و خواری ، خوشامد و چاپلوسی، مکرو دغا بازی جس طرح بن پڑے اس کی راہ لیتا ہے، حالانکہ اس حرص سے کچھ نہ ہوگا۔ ہونا وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہے۔ اگر یہ علوہمت و صدقِ نیت و پاسِ عزت و لحاظ شریعت ہاتھ سے نہ دیتا رزق کہ اﷲ عزوجل نے اپنے ذمے لیا جب بھی پہنچتا ، اس کی طمع نے آپ اس کے پاؤں میں تیشہ مارا اور حرص و گناہ کی شامت نے
خسر الدنیا والاخرۃ ۔۲؂
 (دنیا و آخرت دونوں کے اندر گھاٹے میں رہا۔ ت) کا مصداق بنایا، اور اگر بالفرض آبروکھو کر گناہ گار ہو کر دوپیسہ پائے بھی تو ایسے مال پر ہزار تف  ؎
بئس المطاعم حین الذل تکسبہا 	القدر منتصب والقدر مخفوض ۔۳؂
 (بُری خوراک وہ جسے ذلت کی حالت میں حاصل کرو قسمت بلند بھی ہے اور قسمت پست بھی۔(ت)
 ( ۲ ؎  القرآن الکریم ۲۲/ ۱۱)

(۳؂)
حدیث ۲۸: اسی لیے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
  اَجْمِلُوْا فی طَلَب الدُّنْیَا فانَّ کُلاًّ مُیَسَّر لِّمَا کُتِبَ لَہ مِنْھَا رواہ ابن ماجۃ۔۱؂  والحاکم والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی السنن وابوالشیخ فی الثواب عن ابی حمید الساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ باسنادِ صحیح واللفظ للحاکم ۔
دنیا کی طلب میں اچھی روش سے عدول نہ کرو کہ جس کے مقدر میں جتنی لکھی ہے ضرور اس کے سامان مہیا پائے گا۔( اس کو روایت کیا ابن ماجہ، حاکم) طبرانی نے کبیر میں، بیہقی نے سُنن میں اور ابوالشیخ نے ثواب میں صحیح اسناد کے ساتھ ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور لفظ حاکم کے ہیں۔ت)
 ( ۱ ؎  المستدرک للحاکم    کتاب البیوع     لابأس بالغنی لمن اتقی             دارالفکر بیروت        ۲/ ۳)

(سنن ابن ماجہ         ابواب التجارات     باب الاقتصاد فی طلب المعیشۃ الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۱۵۶)

(السنن الکبرٰی         کتاب البیوع     باب الاجمال فی طلب الدنیا        دارصادربیروت        ۵/ ۲۶۴)

(کنزالعمال         عن ابی حمید ساعدی      حدیث ۹۲۹۱            مؤسسۃ الرسالہ بیروت        ۴/ ۲۰)

(الترغیب والترہیب   الترغیب فی الاقتصاد فی طلب الرزق الخ            مصطفٰی البابی مصر         ۲/ ۵۳۴)
حدیث ۲۹ و ۳۰ : اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
  یا ایھاالناس اتقوا واجملوا فی الطلب فانّ نفساً لن تموت حتی تستوفی رزقہا فان ابطأمنہا فاتقوا اﷲ واجملوا فی الطلب خذوا ماحلّ ودَعُوا ماحرم، رواہ ابن ماجۃ ۲؂ واللفظ لہ والحاکم وقال صحیح علٰی شرطھما وبسنداٰخر صحیح علٰی شرط مسلم ۳؂وابن حبّان فی صحیحہ کلھم عن جابربن عبداﷲ وبمعناہ عندابی یعلی بسند حسن ان شاء اﷲ تعالٰی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔
اے لوگو! اللہ سے ڈرواور طلبِ رزق نیک طور پر کرو کہ کوئی جان دنیا سے نہ جائے گی ، جب تک اپنا رزق پورا نہ لے لے، تو اگرروزی میں دیر دیکھو تو خدا سے ڈرو اور رَوش محمود پر تلاش کرو، حلال کرلو ا ور حرام کو چھوڑو۔( اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا اور لفظ اُسی کے ہیں، اور حاکم نے روایت کرکے کہا کہ یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور ایک دوسری سند کے ساتھ کہا کہ مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ سب نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور اس کے ہم معنٰی ابویعلٰی کے نزدیک اِن شاء اﷲ تعالٰی سندِ حسن کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔ت)
 (۲ ؎ سنن ابن ماجہ          ابواب التجارات باب الاقتصاد فی طلب المعیشہ الخ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص ۱۵۶)

(المستدرک للحاکم          کتاب البیوع      لابأس بالغنی لمن اتقی الخ          دارالفکر بیروت        ۲/ ۴)

(۳ ؎المستدرک للحاکم      کتاب البیوع      لابأس بالغنی لمن اتقی الخ          دارالفکر بیروت        ۲/ ۴)
حدیث ۳۱ تا ۳۴: اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
ان روح القدس نفث فی روعی ان نفساً لن تموت حتی تستکمل اجلہا وتستوعب رزقہا فاتقوااﷲ واجملوا فی الطلب ولا یحملن احدکم استبطاء الرزق ان یطلبہ بمعصیۃ اﷲ ، فان اﷲ تعالٰی لایُنال ماعندہ الا بطاعتہ ، اخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ۔۱؂ واللفظ لہ عن ابی امامۃ الباھلی، والبغوی فی شرح السُّنۃ والبیھقی فی الشعب والحاکم فی المستدرک عن ابن مسعود، والبزار عن حذیفۃ الیمان ونحوہ للطبرانی فی الکبیر عن الحسن بن علی امیر المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین غیر ان الطبرانی لم یذکرجبریل علیہ الصلوۃ السلام ۔
بے شک رُوح القدس جبریل نے میرے دل میں ڈالا کہ کوئی جان نہ مرے گی جب تک اپنی عمر اور اپنا رزق پورا نہ کرلے، تو خدا سے ڈرو اور نیک طریقے سے تلاش کرو، ا ور خبردار رزق کی درنگی تم میں کسی کو اس پر نہ لائے کہ نافرمانی خدا سے اُسے طلب کرے کہ اللہ کا فضل تو اس کی طاعت ہی سے ملتا ہے۔(ابونعیم نے حلیہ میں اس کی تخریج کی اور لفظ اسی کے ہیں، بغوی نے شرح السنہ میں، بیہقی نے شعب میں اور حاکم نے مستدرک میں ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نیز بزار نے حذیفہ بن الیمان سے اور اسی کی مثل طبرانی کی کبیر میں حسن بن امیر المومنین علی سے مروی ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین مگر طبرانی نے جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر نہیں کیا۔ت)
 ( ۱ ؎ حلیۃ الاولیاء    ترجمہ ۴۵۷   احمد بن ابی الحواری          دارالکتاب العربی بیروت  ۱۰ /۲۷)

(شرح السنۃ     باب التوکل علی اللہ  حدیث ۴۱۱۱   المکتب الاسلامی بیروت      ۱۴/ ۳۰۴)
حدیث ۳۵: اور مروی ہوا، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
اُطلبُواالحوائج بعزّۃ الانفس فانّ الامور تجری بالمقادیر رواہ تمام فی فوائدہ وابن عساکر ۱؂فی تاریخہ عن عبداللہ بن بُسررضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
حاجتیں عزت نفس کے ساتھ طلب کرو کہ سب کام تقدیر پر چلتے ہیں۔(ا س کو تمام نے فوائد میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں عبداﷲ بن بسُر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 ( ۱ ؎ کنزالعمال         برمز تمام وابن عساکر عن عبداللہ بن بسر         حدیث ۱۶۸۰۵            مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶ /۵۱۸)
ان سب حدیثوں میں بھی تلاش و تدبیر کی طرف ہدایت فرمائی مگر حکم دیا کہ شریعت و عزت کا پاس رکھو، تدبیر میں بے ہوش و مدہوش نہ ہوجاؤ، دست درکار و دل بایار، تدبیر میں ہاتھ، دل تقدیر کے ساتھ ، ظاہر میں ادھر باطن میں ادھر، اسباب کا نام ، مسبب سے کام، یوں بسر کرناچاہیے، یہی روش ہُدٰی ہے، یہی مرضی  خدا ، یہی سنتِ انبیاء، یہی سیرت اولیاء
علیھم جمیعا الصلوۃ والثناء
( ان سب کے لیے درود اور ثناء ہو۔ت)
بس اس بارے میں یہی قولِ فیصل و صراطِ مستقیم ہے، اس کے سوا تقدیر کو بھولنا یا حق نہ ماننا، یا تدبیر کو اصلاً مہمل جاننا دونوں معاذ اﷲ گمراہی ضلالت یا جنون و سفاہت،
والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
باب تدبیر میں آیات و احادیث اتنی نہیں جنہیں کوئی حصر کرسکے۔ فقر غفراﷲ تعالٰی لہ دعوی کرتا ہے کہ ان شاء اﷲ تعالٰی اگر محنت کی جائے تو دس ہزار سے زائد آیات و احادیث اس پر ہوسکتی ہیں مگر کیا حاجت کہ ۔
آفتاب آمد دلیل آفتاب
 (سورج کی دلیل خود سورج ہے۔ت)
جس مسئلہ کے تسلیم پر تمام جہان کے کاروبار کا دار ومدار، اس میں زیادہ تطویل عبث وبیکار، اسی تحریر میں کہ فقیر نے پندرہ آیتیں اور پینتس حدیثیں جملہ پچاس ۵۰ نصوص ذکر کیے اور صدہا بلکہ ہزار ہا کے پتے دیئے، یہ کیا تھوڑے ہیں، انہیں سے ثابت کہ انکارِ تدبیر کس قدر اعلٰی درجہ کی حماقت، اخبث الامراض ، اور قرآن و حدیث سے صریح اعراض اور خدا و رسول پر کھلا اعتراض
  ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔
ولید پر فرض ہے کہ تائب ہو، اور کتاب و سنت سے اپنا عقیدہ درست کرے، ورنہ بدمذہبی کی شامت سخت جانکاہ ہے
والعیاذ باﷲ رب العلمین ،
باقی رہا اس کا عربی پڑھانے ، علم سکھانے کی نسبت وہ شنیع لفظ کہنا، اگر اِس تاویل کا درمیان نہ ہوتا کہ شاید وہ ان لوگوں پر معترض ہے جو دنیا کے لیے علم پڑھاتے ہیں، اور ایسے لوگ بےشک لائقِ اعتراض ہیں، تو صریح کلمہ کفر تھا کہ اس نے علمِ دین کی تحقیر و توہین کی، اور اس سے سخت تر ہے اُس کا خالد کو اس بنا پر کافر کہنا کہ وہ باوجود ایمان  تقدیر، تدبیر کو بہتر و مستحسن جانتا ہے، حالانکہ جو اُس کا عقیدہ ہے وہی حق وصحیح ہے، اور ولید کا قول خود باطل و قبیح ، مسلمان کو کافر کہنا سہل بات نہیں۔
 (حدیث ۳۶ تا ۳۹): صحیح حدیثوں میں فرمایا کہ  جو دوسرے کو کافر کہے اگر وہ کافر نہ تھا یہ کافر ہوجائے۔
کما اخرجہ الائمۃ مالک واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن عبداﷲ بن عمر، والبخاری ۱؂ عن ابی ہریرۃ واحمد والشیخان عن ابی ذر وابن حبان بسند صحیح عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنہم باسانید عدیدۃ والفاظ متبائنۃ ومعانی متقاربۃ ۔
جیسا کہ اس کی تخریج کی ہےائمہ کرام یعنی امام مالک، احمد ، بخاری، مسلم، ابوداؤد، اور ترمذی نے عبداﷲ بن عمر سے اور بخاری نے ابوہریرہ سے اور احمد اور شیخین نے ابوذر سے اور ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ ابوسعید خدری سے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین متعدد سندوں کے ساتھ جن کے الفاظ مختلف مگر معانی قریب قریب ہیں۔(ت)
 ( ۱ ؎ صحیح البخاری      کتاب الادب     باب من اکفرا خاہ بغیر تاویل              قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۹۰۱)

(صحیح مسلم         کتاب الایمان      باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کفر     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۵۷)

(مسند احمد بن حنبل     عن ابن عمر                         المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۱۱۳)
اور اگرچہ اہلِ سنت کا مذہب محقق و منقح یہی ہے کہ ہمیں تاہم احتیاط لازم اور اتنی بات پرحکم تکفیر ممنوع و ناملائم، اور احادیث مذکورہ میں تاویلاتِ عدیدہ کا احتمال قائم ۔ مگر پھر بھی صدہا ائمہ مثل امام ابوبکر اعمش وجمہور فقہاء بلخ وغیرہم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم ظاہر احادیث ہی پر عمل کرتے، اور مسلمان کے مکفرکو مطلقاً کافر کہتے ہیں،
کما فصّلناہ کل ذلک فی رسالتنا ، النھی الاکید عن الصلوۃِ وراء عدی التقلید
 (جیسا کہ ہم نے اس  تمام کی تفصیل اپنے رسالہ النھی الاکیدعن الصلو ۃ وراء عدی التقلید  میں کردی ہے ۔ت)

تو ولید پر لازم کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھے اور اگر صاحبِ نکاح ہو تو اپنی زوجہ سے تجدیدِ نکاح کرے۔
فی الدُّرِّ المختار عن شرح الوھبانیۃ للعلامۃ حَسَنِ الشُّرُنبُلالی مایکون کفراً اتفاقاً یبطل العمل والنکاح واولادہ اولادُ زنا و ما فیہ خِلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح  ۔۱؂
دُر مختار میں علامہ حسن شُر نبلالی کی شرح وہبانیہ سے منقول ہے جو بالاتفاق کفر ہو اس سے عمل اور نکاح باطل ہوجائیں گے بلاتجدیدِ ایمان و نکاح اس کی اولاد اولادِ زنا ہوگی، اور جس میں اختلاف ہے قائل کو استغفار ، توبہ، تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا۔ (ت)
 ( ۱ ؎  الدرالمختار کتاب الجہاد     باب المرتد        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۳۵۹)
حدیث ۴۰: اور جس طرح یہ کلماتِ شنیعہ علانیہ کہے یونہی توبہ و تجدید ایمان کا بھی اعلان چاہیے۔

رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السرّ بالسّروالعلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الامام احمد فی کتاب الزھد ۲؂والطبرانی فی المعجم الکبیرعن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند حسن ۔
جب تو کوئی گناہ کرے تو فوراً ازسر نو توبہ کر، پوشیدہ کی پوشیدہ ، اور آشکارا کی آشکارا ( اس کو امام احمد نے کتاب الزہد میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ت۔) واﷲ تعالٰی اعلم۔
رسالہ التحبیربباب التدبیر ختم ہوا۔
 ( ۲ ؎  الزہد لاحمد بن حنبل      حدیث ۱۴۱        دارالکتاب العربی بیروت    ص ۴۹)

(المعجم الکبیر            حدیث ۳۳۱    المکتبۃ الفیصیلۃ بیروت    ۲۰/ ۱۵۹)
Flag Counter