Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
51 - 157
(حدیث ۷) : اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
طَلَبُ الْحَلَال وَاجب عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ اخرجہ الدیلمی ۱؂ بسندٍ حسنٍ عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
طلبِ حلال ہر مسلمان پر واجب ہے(دیلمی نے سندِ حسن کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کی تخریج کی۔ ت)
 ( ۱ ؎ کنزالعمال         برمز فرعن انس        حدیث ۹۲۰۴            مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۴/ ۵)
حدیث ۸ : اسی لیے احادیث میں حلال معاش کی طلب و تلاش کی بہت فضیلتیں وارد۔ 

مسند احمد وصحیح بخاری میں ہے حضور پُرنور سید الکونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااکل احد طعاما قط خیراً من ان یاکل من عمل یدہ وان نبی اﷲ داؤد کان یا کل من عمل یدہ ، و اخرجاہ عن مقدام ۲؂ بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
کبھی کسی شخص نے کوئی کھانا اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر نہ کھایا اور بے شک نبی اﷲ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اپنی دستکاری کی اُجرت سے کھاتے ( ان دونوں نے مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کی تخریج کی۔ ت)
 (۲ ؎صحیح البخاری         کتاب البیوع         باب کسب الرجل وعملہ بیدہ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۷۸)

(مسند احمد بن حنبل        حدیث المقدام بن معدیکرب     المکتب الاسلامی بیروت                     ۴/ ۱۳۱ و ۱۳۲)
حدیث ۹: اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
ان اطیب ما اکلتم من کسبکم اخرجہ البخاری فی التاریخ۳؂ والدارمی وابوداؤد والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ بسندٍ صحیح ۔
سب سے زیادہ پاکیزہ کھانا وہ ہے جو اپنی کمائی سے کھاؤ۔(امام بخاری نے تاریخ ، دارمی،ترمذی اور نسائی نے سندِ صحیح کے ساتھ ام المومنین سیدّہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اس کی تخریج کی،ت)
 (۳ ؎  جامع الترمذی         ابواب الاحکام          باب ماجاء ان الوالدیا خذ من مال ولدہ     امین کمپنی دہلی        ۱/ ۱۶۲)

(سُنن ابی داؤد         کتاب البیوع          باب الرجل یاکل من مال ولدہ         آفتاب عالم پریس لاہور        ۲/ ۱۴۱)

(التاریخ الکبیر        ترجمہ ۱۳۰۱                            دارالبازمکۃ المکرمۃ        ۱/ ۴۰۷)

(سُنن الدارمی        کتاب البیوع         حدیث ۲۵۴۰            نشرالسنۃ ملتان        ۲/ ۱۶۲)
حدیث ۱۰ تا ۱۳: کسی نے عرض کیا:
یارسول اللہ !  اَیُّ الکسبِ افضل ؟
  سب سے بہتر کسب کون سا ہے ؟ فرمایا:
عمل الرجل بیدہ وکل بیع مبرور۔ٍ
اپنے ہاتھ کی مزدوری اور ہر مقبول تجارت کہ مفاسد شرعیہ سے خالی ہو۔
اخرجہ الطبرانی۔۱؂ فی الاوسط والکبیر بسند الثقات عن عبد اﷲ بن عمر، وھو فی الکبیر واحمد والبزارعن  ابی بردۃ بن خیار، وایضاً ھٰذان عن رافع بن خدیج ، والبیھقی عن سعید بن عمیر مرسلاً والحاکم  عن امیر المومنین عمر الفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔
اس کی تخریج کی سند ثقات کے ساتھ طبرانی نے اوسط وکبیر میں سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے، اور طبرانی نے ہی کبیر میں اور احمد و بزار نے ابوبردہ بن خیار سے، نیز ان دونوں نے رافع بن خدیج سے اور بیہقی نے سعید بن عمیر سے مرسلاً اور حاکم نے اُسی سے بحوالہ امیرالمومنین عمر فاروق روایت کیا رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین (ت)
 (۱؂ الترغیب والترہیب    کتاب البیوع  الترغیب فی الاکتساب بالبیع             مصطفٰی البابی مصر         ۲/ ۵۲۳)

(الدرالمنثور    تحت آیۃ  ۲/ ۲۶۸  منشورات مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران   ۱ /۳۶۵)

(شعب الایمان            حدیث ۱۲۲۵            دارالکتب العلمیہ بیروت        ۲/ ۸۴)
حدیث ۱۴: اور وارد کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ان اللہ یحب المومن المحترف ۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر۔۲؂ والبیہقی فی الشعب وسیدی محمدالترمذی فی النوادرعن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
بے شک اللہ تعالٰی  مسلمان پیشہ ور کو دوست رکھتا ہے۔ ( طبرانی نے کبیر، بیہقی نے شعب اور سید محمد ترمذی نے نوادر میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس کی تخریج کی۔ت)
 (۲؂ شعب الایمان            حدیث ۱۲۳۷            دارالکتب العلمیہ بیروت        ۲/ ۸۸)
حدیث ۱۵، ۱۷: اور مروی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
من امسٰی کالّا من عمل یدہ امسٰی مغفورالہ  اخرجہ الطبرانی۔۳؂ فی الاوسط عن ام المومنین الصدیقۃ ومثل ابی القاسم الاصبہانی عن ابن عباس و ابن عساکر عنہ وعن انس رضی اللہ تعالی عنہم ۔
جسے مزدوری سے تھک کر شام آئے اس کی وہ شام شامِ مغفرت ہو۔ اس کی تخریج کی طبرانی نے اوسط میں ام المومنین سیدہ صدیقہ سے اور مثل ابوالقاسم اصبہانی نے ابن عباس سے ، اور ابن عساکر نے ابن عباس اور انس سے، اﷲ تعالٰی ان سب پرراضی ہو۔ ت)
 (۳ ؎  المعجم الاوسط         حدیث ۷۵۱۶                مکتبۃ المعارف ریاض      ۸/ ۲۵۷)
حدیث ۱۸: اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
طوبٰی لمن طاب کسبہ ، الحدیث ، اخرجہ البخاری فی التاریخ والطبرانی فی الکبیر۱؂ والبیھقی فی السنن والبغوی و الباوردی وابناء قانع و شاہین ومندۃ کلھم عن رکب المصری رضی اللہ تعالٰی عنہ فی حدیث طویل قال ابن عبدالبر حدیث حسن قلت ای لغیرہ ۔
پاک کمائی والے کے لیے جنت ہے (اس کی تخریج کی بخاری نے تاریخ میں، طبرانی نے کبیر میں، بیہیقی نے سنن میں اور بغوی و باوردی اور قانع، شاہین و مندہ کے بیٹوں نے رُکب مصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک طویل حدیث میں اس کو روایت کیا ، ابن عبدالبر نے کہا یہ حدیث حسن ہے، میں کہتا ہوں یعنی حسن لغیرہ ہے۔ت)
(۱؂ الترغیب والترہیب    کتاب البیوع  الترغیب فی طلب الحلال     مصطفٰی البابی مصر         ۲/ ۵۴۷)
حدیث ۱۹و۲۰ :  ایک حدیث میں آیا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
الدنیا حُلوۃ خضرۃ، من اکتسب منہا مالاً فی حِلّہ وانفقہ فی حقّہ اثابہ اﷲ علیہ واوردہ جنّتہ الحدیث، اخرجہ البیہقی فی الشعب ۲؂عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما قلت والمتن عندالترمذی عن خولۃ بنت قیس امراء ۃ سیّدنا حمزۃ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہم بلفظ  ان ھٰذاالمال خضرۃ حُلوۃ فمن اصابہ بحقّہ بُورک لہ فیہ، الحدیث قال الترمذی حسن صحیح۔۱؂

قلت واصلہ عن خولۃ عند البخاری مختصراً ۔
دنیا دیکھنے میں ہری ، چکھنے میں میٹھی ہے یعنی بظاہر بہت خوشنما و خوش ذائقہ معلوم ہوتی ہے جو اسے حلال وجہ سے کمائے اور حق جگہ پر اٹھائے اﷲ تعالٰی اسے ثواب دے اور اپنی جنت میں لے جائے ( اس کی تخریج کی بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے، میں کہتا ہوں اور متن ترمذی کے نزدیک خولہ بنت قیس زوجہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ان لفظوں کے ساتھ ہے کہ  یہ مال سبزو میٹھا دکھائی دیتا ہے، چنانچہ جو اُسے حق جگہ پر پہنچائے اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے، الحدیث ۔ ترمذی نے کہا یہ حسن صحیح ہے، میں کہتا ہوں اس کی اصل بخاری کے نزدیک خولہ سے ہے۔اختصار ۔ت)
 (۲؂ شعب الایمان            حدیث ۵۵۲۷         دارالکتب العلمیہ بیروت        ۴/ ۳۹۶)

( ۱ ؎ جامع الترمذی          ابواب الزہد   باب ماجاء فی اخذالمال     امین کمپنی دہلی     ۲/ ۶۰)
حدیث ۲۱: اور مذکور کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
  ان من الذنوب ذنوبا لایکفر ھا الصّلوۃ ولا الصیام ولا الحج ولا العمرۃ ، یکفر ھا الھموم فی طلب المعیشۃ ، رواہ ابن عساکر وابو نعیم ۔۲؂ فی الحلیہ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ نہ نماز ہو نہ روزے نہ حج نہ عمرہ، ان کا کفارہ وہ پریشانیاں ہوتی ہیں جو آدمی کو تلاشِ معاشِ حلال میں پہنچتی ہیں۔(اس کو روایت کیا ابن عساکر نے اور ابونعیم نے حلیہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ۔ت)
( ۲ ؎ حلیۃ الاولیاء  ترجمہ ۳۸۶ مالک بن انس رضی اللہ تعالی عنہ  دارالکتاب العربی بیروت   ۶ /۳۳۵)
حدیث ۲۲: صحابہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم نے ایک شخص کو دیکھا کہ تیز و چُست کسی کام کو جارہا ہے عرض کی: یارسول اللہ ! کیا خوب ہوتا اگر اس کی یہ تیزی و چستی خدا کی راہ میں ہوتی، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان کان خرج یسعٰی علٰی نفسہ یعفہافہو فی سبیل اﷲ ، وان کان خرج یسعٰی علٰی ولدہ صغارا فہو فی سبیل اﷲ ۔ وان کان خرج یسعٰی علی ابوین شیخین کبیرین فھوفی سبیل اﷲ، وان کان خرج یسعٰی ریاءً ومفاخرۃ فہوفی سبیل الشیطان، رواہ الطبرانی ۳؂عن کعب بن عجرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ و رجالہ رجال الصحیح ۔
اگر یہ شخص اپنے لئے کمائی کو نکلا ہے کہ سوال وغیرہ کی ذلت سے بچے تو اس کی یہ کوشش اﷲ ہی کی راہ میں ہے ، اور اگر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے خیال سے نکلا ہے جب بھی خدا کی راہ میں ہے اور اگراپنے بوڑھے ماں باپ کے لیے نکلا ہے جب بھی خدا کی راہ میں ہے ،ہاں اگر ریاء وتفاخر کے لیے نکلا ہے تو شیطان کی راہ میں ہے۔(اس کو طبرانی نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ت)
 (۳ ؎ المعجم  الکبیر   حدیث ۲۸۲  المکتبہ الفیصلیہ  بیروت     ۱۹/ ۱۲۹)
حدیث ۲۳: اسی لیے ترک کسب سے صاف ممانعت آئی ہے حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس بخیرکم من ترک دنیاہ لِاخرتہ ولا اٰخرتہ لِدنیاہ حتی یصیب منھما جمیعاً فان الدنیا بلاغ الی الاٰخرۃ ولاتکونوا کلاّ علی الناس رواہ ابن عساکر ۔۱؂ عن ابن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
تمہارا بہتر وہ نہیں ہے جو اپنی دنیا آخرت کے لیے چھوڑ دے اور نہ وہ جو اپنی آخرت دنیا کے لیے ترک کرے ، بہتر وہ ہے جو دونوں سے حصہ لے کہ دنیا آخرت کا وسیلہ ہے، اپنا بوجھ اوروں پر ڈال کر نہ بیٹھ رہو، ( اس کو ابن عساکر نے انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
( ۱ ؎ کنزالعمال         برمز ابن عساکر عن انس          حدیث ۶۳۳۴        مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۳/ ۲۴۰)
انہیں احادیث سے ثابت ہوا کہ تلاش حلال و فکرِ معاش و تعاطِی اسباب ہر گز منافی توکل نہیں بلکہ عین مرضی الہی ہے کہ آدمی تدبیر کرے اور بھروسہ تقدیر پر رکھے۔
حدیث ۲۴ و ۲۵: اسی لیے جب ایک صحابی نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی اپنی اونٹنی یونہی چھوڑ دوں اور خدا پر بھروسہ رکھوں یا اُسے باندھوں اور خدا پر توکل کروں ؟ ارشاد فرمایا
قَیِّد و تَوَکّل
باندھ دے اور تکیہ خدا پر رکھ۔
برتوکل زانوے اشتر ببند
 (اللہ پربھروسہ کرتے ہوئے اونٹنی کے گھٹنے باندھ (ت)
اخرجہ البیہقی۔۲؂ فی الشعب بسند جیّد عن عمر و بن امیّۃ الضمری والترمذی فی الجامع عن انس رضی اللہ تعالٰی عنھما واللفظ عندہ  اعقلھا وتوکل ۔۳؂
اس کی تخریج کی بیہقی نے شعب میں سند جید کے ساتھ عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ترمذی نے جامع میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، اس کے نزدیک لفظ یہ ہیں،
  اعقلہا وتوکل۔
 ( ۲ ؎ کنزالعمال         برمز ھب عن عمرو بن امیہ         حدیث ۵۶۸۸۷        مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۳/ ۱۰۳)

(۳ ؎ جامع الترمذی          ابواب صفۃ یوم القیمۃ  باب منہ            امین کمپنی دہلی                     ۲/ ۷۴)
دیکھو کیسا صاف ارشاد ہے کہ تدبیر کرو مگر اس پر اعتماد نہ کرلو۔ دل کی نظر تقدیر پر رہے۔

 مولانا قدس سرہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
توکل کن بجنباں پاودست	رزق تو برتو ز تو عاشق تراست ۱؎
 (توکل کر اور ہاتھ پاؤں حرکت میں لا کہ تیرا رزق تجھ پر تجھ سے زیادہ عاشق ہے۔ت)
 (۱؂)
خود حضرت عزت جل مجدہ نے قرآن عظیم میں تلاش وتدبیر اور اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈنے کی ہدایت فرمائی۔
 (۱۴ )  قال تعالٰی
( اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ ت)
وتزّودوافان خیر الزاد التقوٰی واتقون یاولٰی الالباب o لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم۲؂۔
اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے، اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو۔ تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم         ۲/ ۱۹۷ و ۱۹۸)
یمن کے کچھ لوگ بے زادِ راہ لیے حج کو آتے اور کہتے ہم متوکل ہیں، ناچار بھیک مانگنی پڑتی ، حکم آیا توشہ ساتھ لیا کرو۔ کچھ اصحاب کرام نے موسمِ حج میں تجارت سے اندیشہ کیا کہ کہیں اخلاصِ نیت میں فرق نہ آئے۔ فرمان آیا کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو۔ اسی طرح تلاشِ فضلِ الہٰی کی آیتیں بکثرت ہیں۔
 (۱۵) وقال تعالٰی
(اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت)
یایہاالذین اٰمنوااتقوااﷲ وابتغواالیہ الوسیلۃ وجاھدوافی سبیلہ لعلکم تفلحون  ۔۳؂
اے ایمان والو ! اﷲ سے ڈرو اور اس کی طر ف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔ت)
 ( ۳ ؎ القرآن الکریم         ۵/ ۳۵)
صاف حکم دیتے ہیں کہ رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈو تاکہ مراد کو پہنچو۔ اگر تدبیر واسباب معطل و مُہمل ہوتے تو اس کی کیا حاجت تھی۔

بلکہ انصاف کیجئے توتدبیرکب تقدیر سے باہر ہے ، وہ خود ایک تقدیر ہے، اور اس کا بجالانے والا ہرگز تقدیر سے رُوگرداں نہیں۔
حدیث ۲۶: حدیث میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی، دوا تقدیر سے کیا نافع ہوگی؟ فرمایا:
الدّوامن القدر، ینفع من یشاء بماشاء رواہ ابن السنی ۔۱؂فی الطب والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما وصدرہ عنہ عندابی نعیم والطبرانی فی المعجم الکبیر ۔
دوا خود بھی تقدیر سے ہے، اﷲ تعالٰی جسے چاہے جس دوا سے چاہے نفع پہنچادیتا ہے۔(اس کو روایت کیا ہے ابن سنی نے طب میں اور دیلمی نے مسند فردوس میں اور اس کی ابتداء ابن عباس سے ابو نعیم کے نزدیک ہے اور طبرانی نے معجم کبیر میں اس کو روایت کیا۔ت)
 ( ۱ ؎ کنزالعمال         برمز ابن سنی  عن  ابن عباس     حدیث ۲۸۰۸۲        مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۵)
Flag Counter