حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا اور انکا جو تم میں حکومت والے ہیں۔ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۴/ ۵۹)
(۷) وقال تعالٰی
(اور اللہ تعالٰی نے فرمایا ۔(ت)
وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ ﷲ۔۲
اور اُن سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہی اور سارا دین ا للہ کا ہوجائے۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۸/ ۲۹)
(۸) وقال تعالٰی
اور اللہ تعالٰی نے فرمایا:
ولولادفع اﷲ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض ولکن اللہ ذو فضل علی العالمین ۔۳
اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔(ت)
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۵۹)
(۹) ولولادفع اﷲ الناس بعضھم ببعض لھدّمت صوامع وبیع وصلوات ومٰسجدیذکرفیھا اسم اﷲ کثیرا ۔۱
اور اﷲ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقا ہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اﷲ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۴۰)
دیکھو صاف ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ جہاد اسی لیے مقرر ہوا کہ فتنے فرو ہوں اور دین حق پھیلے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو زمین تباہ ہوجاتی اور مسجدیں اور عبادت خانے ڈھائے جاتے۔
(۱۰) وقال تعالٰی
( اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت)
الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد کبیر۔۲
ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔(ت) فتنہ کفر کی قوت، اور فساد کبیر ضعف اسلام۔
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۸/ ۷۳)
(۱۱) وقال تعالٰی
( اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت)
ولکم فی القصاص حیوۃ یا اولی الالباب لعلکم تتقون ۔۳
اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمند و کہ تم کہیں بچو۔ت)
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۷۹)
یعنی خون کے بدلے خون لو گے تو مفسدوں کے ہاتھ رکیں گے اور بے گناہوں کی جانیں بچیں گی، اور اسی لیے حد جاری کرتے وقت حکم ہوا کہ مسلمان جمع ہو کر دیکھیں تاکہ موجبِ عبرت ہو۔
(۱۲) قال تعالٰی
(اللہ تعالٰی نے فرمایا ت)
ولیشہد عذا بہما طائفۃ من المومنین۔۴
اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو۔(ت)
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۲)
بلکہ اور ترقی کیجئے تو نماز، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہا تمام اعمالِ دینیہ خود ایک تدبیر، اور رضائے الہی و ثواب نامتناہی ملنے اور عذاب و غضب سے نجات پانے کے اسباب ہیں ۔
(۱۳) قال تعالٰی
( اﷲ تعالٰی نے فرمایا۔ت)
ومن ارادالاخرۃ وسعٰی لہا سعیہا و ھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکورا ۔۵
اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا، تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔(ت)
(۵ ؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۱۹)
اگرچہ ازل میں ٹھہر چکا کہ:
فریق فی الجنّۃ وفریق فی السعیر۔۱
ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۲/۷)
پھر بھی اعمال فرض کیے کہ جس کے مقدر میں جو لکھا ہے اسے وہی راہ آسان ، اور اسی کے اسباب مہیا ہوجائیں۔
قال تعالٰی
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت)
فسنیسّرہ للیسرٰی ۔۲
تو بہت جلد ہم اُسے آسانی مہیا کردیں گے۔(ت)
(۲ ؎ القرآن الکریم ۹۲/ ۷)
وقال تعالٰی
(اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ۔ت)
فسنیسّرہ للعسرٰی ۔۳
تو بہت جلد ہم اُسے دشواری مہیا کردیں گے۔(ت)
(۳ ؎ القرآن الکریم ۹۲ /۱۰)
حدیث ۲ :اسی لیے جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوزخی ، جنتی سب لکھے ہوئے ہیں، اور صحابہ نے عرض کی: یارسول اﷲ ! پھر ہم عمل کا ہے کوکریں، ہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھیں۔ کہ جو سعید ہیں آپ ہی سعید ہوں گے اور جو شقی ہیں ناچار شقاوت پائیں گے۔ فرمایا : نہیں بلکہ عمل کیے جاؤ کہ ہر ایک جس گھر کے لیے بنا ہے اُسی کا راستہ اُسے سہل کردیتے ہیں، سعید کو اعمالِ سعادت کا اور شقی کو افعالِ شقاوت کا۔ پھر حضور نے یہی دو آیتیں تلاوت فرمائیں۔
اخرجہ الائمۃ احمد والبخاری و مسلم وغیرہم عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ قال : کان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی جنازۃ فاخذشیئا فجعل ینکت بہ الارض فقال مامنکم من احد الاّوقد کتب مقعدہ من النار ومقعدہ من الجنۃ قالو ا یارسول اﷲ ! افلانتکل علی کتابنا وندع العمل (زادفی روایۃ فمن کان من اھل السعادۃ فسیصیرالٰی عمل اھل السعادۃ ومن کان من اھل الشقاء فسیصیر الٰی عمل اھل الشقاوۃ ) قال اعملوا فکل میسر لما خلق لہ امّا من کان من اھل السعادۃ فییسر لعمل اھل السعادۃ واما من کان من اھل الشقاء فییسرلعمل الشقاوۃ ثمّ قراء فاما من اعطٰی واتقٰی وصدّق بالحسنّٰی الایۃ ۔۱
امام احمد، بخاری اور مسلم وغیرہ نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ نے کوئی چیز پکڑی اور زمین کو کریدنے لگے اور فرمایا تم میں ایساکوئی نہیں جس کا ایک ٹھکانہ دوزخ میں اور ایک ٹھکانہ جنت میں نہ لکھا جاچکا ہو۔ صحابہ نے عرض کی: یارسول اﷲ! کیا ہم تحریر پر بھروسہ کرکے عمل کو چھوڑ نہ دیں۔ ( ایک روایت میں یہ زائد ہے کہ جو اہلِ سعادت میں سے ہے وہ عنقریب اہل سعادت کے عمل کی طرف اور جو اہل شقاوت میں سے ہے وہ عنقریب اہلِ شقاوت کے عمل کی طرف راغب ہوگا) آپ نے فرمایا: عمل کرتے رہو ہر کسی کو وہی میسر ہوگا جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا، جو اہلِ سعادت میں سے ہوگا اس کو اہلِ سعادت کا عمل اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا اس کو اہلِ شقاوت کا عمل میسر ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی اور سب سے اچھی چیز کو سچ مانا (ت)
( ۱ ؎ صحیح البخاری کتاب القدر باب قولہ تعالٰی وکان امراﷲ قدراً مقدوراً قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۷۷)
(صحیح مسلم کتاب القدر باب کیفیۃ خلق الادمی فی بطن امہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۳)
(مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۱۴۰)
(سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۹)
(مشکوۃ المصابیح باب الایمان بالقدر الفصل الاول اصح المطابع کراچی ص ۲۰)
یہاں سے ظاہر ہوا کہ اگر تدبیر مطلقاً مہمل ( بے کار) ہو تو دین و شرائع (قوانین شرع) وانزالِ کتب (کتابیں اتارنا) وارسال رُسُل (رسولوں کو بھیجنا) و اِتیانِ فرائض (فرائض کا کرنا) و اجتناب محرمات (حرام کاموں سے بچنا) معاذ اﷲ ! سب لغو و فضول و عبث ٹھہریں۔ آدمی کی رسی کاٹ کر بجار (آزاد چھوٹا ہوا سانڈ )کردیں۔ دین و دنیا سب یکبارگی برہم ہوجائیں۔
ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم
( نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سے،ت)
نہیں نہیں بلکہ تدبیر بے شک مستحسن ہے، اور اُس کی بہت صورتیں مندوب و مسنون ہیں، جیسے دُعا و دوا۔
حدیث ۳ : دُعا کی حدیثیں تو خود متواتر ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ حضور نے یہ ارشاد فرمایا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
لَایَرُدُّ القَضَاء اِلَّا الدُّعَاءُ ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔۱ والحاکم بسند حسن عن سلمان الفارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ
(تقدیر کسی چیز سے نہیں ٹلتی مگر دعا سے (یعنی قضا معلق)(اس کو ترمذی ابن ماجہ اور حاکم نے سند حسن کے ساتھ سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
( ۱ ؎ جامع الترمذی ابواب القدر باب ماجاء لایرد القدر الاّ الدعاء امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۶)
(سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۰)
(المستدرک للحاکم کتاب الدعا لایردالقدر الا الدعا دارالفکربیروت ۱/ ۴۹۳)
(حدیث ۴): دوسری حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایغنی حذر من قدر، والدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل ان البلاء ینزل فیتلقاہ الدّعاء فیعتلجان الٰی یوم القیمۃ رواہ الحاکم ۲ والبزار والطبرانی فی الاوسط عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالٰی عنہا قال الحاکم صحیح الاسناد وکذا قال ۔۳
تقدیر کے آگے احتیاط کی کچھ نہیں چلتی، اور دعا اس بلا سے جو اتر آئی اور جو ابھی نہیں اتری دونوں سے نفع دیتی ہے، اور بے شک بلا اترتی ہے دعا ا س سے جا ملتی ہے دونوں قیامت تک کشتی لڑتی رہتی ہیں، یعنی بلا کتنا ہی اترنا چاہے دعا اسے اترنے نہیں دیتی۔ ( اس کو حاکم، بزار اور طبرانی نے اوسط میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ حاکم نے کہا اس کا اسناد صحیح ہے اور یونہی ہے کہا۔(ت)
( ۲ ؎ المستدرک اللحاکم کتاب الدعاء ینفع الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۹۲)
(المعجم الاوسط حدیث ۲۵۱۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۳/ ۲۴۲)
( ۳ ؎ا لمستدرک للحاکم کتاب الدعا الدعاء ینفع الخ دارالفکربیروت ۱/ ۴۹۲)
جسے دعا کے بارے میں احادیث مجملہ و مفصلہ و کلیہ و جزئیہ دیکھنا ہوں وہ کتاب الترغیب و حصن و عدہ و صلاح وغیرہا تصانیف علماء کی طرف رجوع کرے۔
(حدیث ۵) اور ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
تداووا عباد اللہ فان اﷲ لم یضع داء اِلاّ وضع لہ دواء غیر داءٍ واحد الھرم ، اخرجہ احمد وابو داؤد۱ والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن اسامۃ بن شریک رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔
خدا کے بندو ! دوا کرو کہ اللہ تعالٰی نے کوئی بیماری ایسی نہ رکھی جس کی دوا نہ بنائی ہو مگر ایک مرض یعنی بڑھاپا، (ا س کو احمد، ابوداؤد، ترمذی نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے اسامہ بن شریک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
( ۱ ؎ جامع الترمذی ابواب الطب باب ماجاء فی الدداء والحث علیہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۵)
(سنن ابی داؤد کتاب الطب باب الرجل یتداوی آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۸۳)
(سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب ما انزل اﷲ داء الا انزل لہ شفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵۳)
(مسنداحمد بن حنبل حدیث اُسامۃ بن شریک المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۲۷۸)
(موارد الظمآن کتاب الطب حدیث ۱۳۹۵ المطبعۃ السلفیۃ ص ۳۳۹)
اور خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا استعمالِ دوا فرمانا اور امُت مرحومہ کو صدہا امراض کے علاج بتانا بکثرت احادیث میں مذکور، اور طبِّ نبوی و سِیرَ وغیرہما فنون حدیثیہ میں مسطور (لکھاہوا)
اور تدبیر کی بہت صورتیں فرض قطعی ہیں، جیسے فرائض کا بجالانا، محرمات سے بچنا، بقدر سدرمق ( جان بچانے کی مقدار) کھانا کھانا، پانی پینا، یہاں تک کہ اس کے لیے بحالتِ مخمصہ ( جان لیوا بھوک) شراب و مردار کی اجازت دی گئی۔
(حدیث ۶ ) : اسی طرح جان بچانے کی کل تدبیریں اور حلال معاش کی سعی و تلاش جس میں اپنے اور اپنے متعلقین کے تن پیٹ کی پرورش ہو۔ حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃ بَعْدَ الفریضۃِ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۲والبیھقی فی شعب الایمان والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
آدمی پر فرض کے بعد دوسرا فرض یہ ہے کہ کسبِ حلال کی تلاش کرے(طبرانی نے کبیر میں، بیہقی نے شعب الایمان میں اور دیلمی نے مسندِ فردوس میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کی تخریج فرمائی (ت)۔