رسالہ
التحبیر بباب التدبیر
(۱۳۰۵ھ)
(آرائش كلام مسئلہ تدبیر کے بارے میں)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۲۲: مسئولہ مولوی الٰہ یار خان صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ خالد یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ جو کچھ کام بھلایا بُرا ہوتا ہے سب خدا کی تقدیر سے ہوتا ہے۔ اور تدبیرات کو کارِ دنیوی و اُخروی میں امر مستحسن اور بہتر جانتا ہے۔
ولید خالد کو بوجہ مستحسن جاننے تدبیرات کے کافر کہتا ہے، بلکہ اسے کافر سمجھ کر سلام و جواب سلام بھی ترک کردیا اور کہتا ہے کہ تدبیر کوئی چیز نہیں، بالکل واہیات ہے، اور جو اشخاص اپنے اطفال کو پڑھاتے لکھاتے ہیں۔ ( خواہ عربی خواہ انگریزی) وہ جھک مارتے ہیں، گوہ کھاتے ہیں، کیونکہ پڑھنا لکھنا تدبیر میں داخل ہے۔
پس ولید نے خالد کو جو کافر کہا تو وہ کافر ہے یا نہیں؟ اور نہیں ہے تو کہنے والے کے لیے کیا گناہ و تعزیر ہے ۔
بَیِّنُوْا تُوجرُوا ( بیان فرماؤ اجر دیئے جاؤ گے ت)
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی قدّر الکائنات وربط بالاسباب المسببّات والصلوۃ و السلام علٰی سید المتوکلین سرًّا وجھرًا ، وامام العالمین والمدبرات امراً وعلٰی اٰلہ وصحبہ الذین باطنھم توکل، وظاھر ھم فی الکدّوالعمل۔
تمام تعریف اللہ کے لیے جس نے تمام ہونے والی چیزیں مقدر فرمائیں اور مسببّات کا اسباب سے ربط رکھا اور درود و سلام خفیہ اور علانیہ توکل کرنے والوں کے سردار اور تمام عالموں کے امام پر اور ان پر جو کام کی تدبیر کرنے والے ہیں اور ان کی آل و اصحاب پر جن کا باطن متوکل ہے اور ان کا ظاہر محنت و عمل میں لگا ہوا ہے۔(ت)
بے شک خالد سچا، اور اس کا یہ عقیدہ خاص اہلِ حق کا عقیدہ ہے۔ فی الواقع عالم میں جو کچھ ہوتا ہے سب اﷲ جل جلالہ کی تقدیر سے ہے۔
قال تعالٰی
( اﷲ تعالٰی نے فرمایا ):
کل صغیر وکبیر مستطر ۔۱
ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ت)
وقال تعالٰی
(اللہ تعالٰی نے فرمایا):
وکل شیئ احصینٰہ فی امام مبین ۔۲
اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں،(ت)
وقال تعالی
( اور اللہ تعالٰی نے فرمایا):
ولا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین ۔۳
او رنہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔(ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۵۴/ ۵۳)( ۲ ؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۱۲) ( ۳ ؎ القرآن الکریم ۶/ ۵۹)
الٰی غیر ذٰ لک من الاٰیات والاحادیث
( اس کے علاوہ اور بھی آیات و احادیث ہیں۔ت)
مگر تدبیر زنہار معطل نہیں۔ دنیا عالمِ اسباب ہے۔ رب جل مجدہ نے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق اس میں مسببات کو اسباب سے ربط دیا۔ اور سنتِ الہیہ جاری ہوئی کہ سبب کے بعد مسبب پیدا ہو۔
جس طرح تقدیر کو بھول کر تدبیر پرپھولنا کفار کی خصلت ہے یونہی تدبیر کو محض عبث و مطر ود وفضول و مردود بتانا کسی کھلے گمراہ یا سچے مجنون کا کام ہے جس کی رو سے صدہا آیات و احادیث سے اعراض اور انبیاء و صحابہ وائمہ و اولیاء سب پر طعن و اعتراض لازم آتا ہے۔ حضرات مرسلین
صلوات اﷲ تعالٰی و سلامہ علیہم اجمعین
( اللہ کے درود و سلام ہوں ان سب پر) سے زیادہ کس کا توکل اور ان سے بڑھ کر تقدیر الہٰی پر کس کا ایمان۔ پھر وہ بھی ہمیشہ تدبیر فرماتے اوراس کی راہیں بتاتے اور خود کسب حلال میں سعی کرکے رزقِ طیب کھاتے۔
اور ہم نے اُسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے بچائے، تو کیا تم شکر کرو گے۔ت)
(۱ ؎ القرآن الکریم ۲۱ /۸۰)
(۲) وقال تعالٰی
( اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت)
والنّا لہ الحدید ان اعمل سبغت وقدر فی السرد واعملوا صٰلحا انّی بما تعملون بصیر ۔۲
اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا کہ وسیع زرہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ اور تم سب نیکی کرو بے شک میں تمہارے کام دیکھ رہا ہوں (ت)
(۲ ؎ القرآن الکریم ۳۴/ ۱۰و ۱۱)
(۳) موسٰی علیہ السلام نے دس برس شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی بکریاں اجرت پر چرائیں۔
قال تعالٰی
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت)
قال انی اریدان ان انکحک احدی ابنتی ھاتین علٰی ان تأجرنی ثمانی حجج، فان اتممت عشرا فمن عندک ، و ما ارید ان اشقّ علیک ستجدنی ان شاء اللہ من الصّٰلحین o قال ذٰلک بینی وبینک ایما الاجلین قضیت فلاعدوان علی واﷲ علی مانقول وکیل oلما قضٰی موسی الاجل وسارباھلہ ، الایۃ ۔۱
کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو، پھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے اور تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا قریب ہے اِن شاء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے۔ موسٰی نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے پھر جب موسی نے اپنی میعاد پوری کردی اور اپنی بیوی کو لے کر چلا۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۸/ ۲۷تا۲۹)
خود حضور پُرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حضرت امّ المومنین خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مال بطور مضاربت لے کر شام کو تشریف فرماہوئے۔ حضر ت امیر المومنین عثمان غنی و حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہما بڑے نامی گرامی تاجر تھے۔ حضرت امام اعظم قدس سرہ الاکرم بزاری کرتے، بلکہ ولید منکر تدبیر خود کیا تدبیر سے خالی ہوگا ہم نے فرض کیا کہ وہ زراعتِ تجارت ، نوکری حرفت کچھ نہ کرتا ہو آخر اپنے لیے کھانا پکاتا یا پکواتا ہوگا۔ آٹا پیسنا، گوندھنا، پکانا یہ کیا تدبیر نہیں؟ یہ بھی جانے دیجئے اگر بغیر اس کے سوال یا اشارہ و ایما کے خود بخود پکی پکائی اسے مل جاتی ہو، تاہم نوالہ بنانا ، منہ تک لانا، چبانا نگلنا یہ بھی تدبیر، تدبیر کو معطل کرے تو اس سے بھی باز آئے کہ تقدیرالہٰی میں زندگی لکھی ہے بے کھائے جئے گا یا قدرتِ الہی سے پیٹ بھر جائے گا یا خود بخود کھانا معدے میں چلا جائے گا۔ ورنہ ان باتوں سے بھی کچھ حاصل نہ ہوگا۔ کہ مذہب اہلسنت میں نہ پانی پیاس بجھاتا ہے۔ نہ کھانا بھوک کھوتا ہے۔ بلکہ یہ سب اسباب عادیہ میں ہیں جن سے اﷲ تعالٰی نے مسببات کو مربوط فرمایا اور اپنی عادت جاریہ ک مطابق ان کے بعد سیری و سیرابی فرماتا ہے۔ وہ نہ چاہے تو گھڑے چڑھائے، دھڑیوں کھا جائے ۔(عہ۱) کچھ مفید نہ ہوگا۔ آخر مرضِ استسقاء وجوع البقر(عہ۲) میں کیا ہوتا ہے۔ وہی کھانا، پانی جو پہلے سیر و سیراب کرتا تھا اب کیوں محض بے کار ہوجاتا ہے ۔ اوراگر وہ چاہے تو بے کھائے پئے بھوک پیاس پاس نہ آئے، جیسے زمانہ دجال میں اہل ایمان کی پرورش فرمائے گا۔ اور ملائکہ کا بے آب و غذا زندگی کرنا کسے نہیں معلوم۔ مگر یہ انسان میں خَرقِ عادت ہے جس پر ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھنا جہل و حماقت ، یہاں تک کہ اگر تقدیر پر بھروسہ کا جھوٹا نام کرکے خوردو نوش کا عہد کرے اور بھوک پیاس سے مرجائے، بے شک حرام موت مرے اور اللہ تعالٰی کا گنہگار ٹھہرے ۔
عہ۱: دھڑی : دس سیر یا پانچ سیر کا وزن ۱۲ مصباحی
عہ۲: جوع البقر: اس بیماری میں کتنا بھی کھائے بھوک نہیں جاتی جس طرح استسقاء میں جس قدر بھی پئے پیاس نہیں جاتی۔
مرگ بھی تو تقدیر سے ہے، پھر اللہ تعالٰی نے کیوں فرمایا۔
(۴) ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ ۱۔
اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو۔
گرچہ مردن مقدر است ولے تو مرو در دہان اژدہا۲
(اگرچہ موت مقدر ہے لیکن از خود اژدہوں اور سانپوں کے منہ میں نہ جا۔ت)
(۱ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۹۵)
(۲)
ہم نے مانا کہ ولید اپنے دعوے پر ایسا مضبوط ہو کہ یک لخت ترک اسباب کرکے پیمانِ واثق (پکا عہد) کرلے کہ اصلاً دست و پانہ ہلائے نہ اشارۃً نہ کنایۃً کسی تدبیر کے پاس جائے گا خدا کے حکم سے پیٹ بھرے تو بہتر ورنہ مرنا قبول ، تاہم اللہ تعالٰی سے سوال کرے گا یہ کیا تدبیرنہیں کہ دعا خود موثر حقیقی کب ہے ؟ صرف حصول مراد کا ایک سبب ہے، اور تدبیر کا ہے کانام ہے۔
رب جل جلالہ فرماتا ہے:
(۵) وقال ربکم ادعونی استجب لکم ۔۳
تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۶۰)
وہ قادر تھے کہ بے دعا مراد بخشے، پھر اس تدبیر کی طرف کیوں ہدایت فرمائی؟ اور وہ بھی اس تاکید کے ساتھ کہ حدیث میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ۔
حدیث ۱ : مَنْ لَّمْ یَدْعُ اﷲ غَضِبَ علیہ ۔۴ رواہ الائمۃ احمد فی المسند وابوبکر بن ابی شیبۃ واللفظ لہ فی المصنف و البخاری فی الادب المفرد والترمذی فی الجامع و ابن ماجۃ فی السنن والحاکم فی المستدرک عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی
جو اﷲ سے دعا نہ کرے گا اﷲ تعالٰی اس پر غضب فرمائے گا، ( اس کوائمہ نے روایت کیا احمد نے مسند میں، ابوبکر بن ابی شیبہ نے مصنف میں اور لفظ اسی کے ہیں ، بخاری نے ادب المفرد میں ترمذی نے جامع میں، ابن ماجہ نے سنن میں اور حاکم نے مستدرک میں ابوہریرہ سے۔ اللہ تعالٰی ان پر راضی ہو۔ت)
( ۴ ؎ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الدعاء باب فی فضل الدعا حدیث ۹۲۱۸ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/ ۲۰۰)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۴۳)
(جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۷۳)
(سنن ابن ماجہ ابواب الدعاء باب فضل الدعاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۸۰)
(المستدرک للحاکم کتاب الدعاء باب من لم یدع اﷲ الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۹۱)
بلکہ خلافت و سلطنت و قضاو جہاد وحدود قصاص وغیرہا یہ تمام امور شرعیہ عین تدبیر ہیں کہ انتظامِ عالَم و ترویج دین و دفع مفسدین کے لیے اس عالَمِ اسباب میں مقرر ہوئے۔