تم کیا چاہو ، مگر یہ کہ چاہے اللہ رب سارے جہان کا۔
(۱ القرآن الکریم ۸۱/۲۹)
اور فرماتا ہے :
ھل من خالق غیر اللہ ۲
کیا کوئی اور بھی کسی چیز کا خالق ہے سوا اللہ کے
(۲القرآن الکریم ۳۵/۳)
اور فرماتا ہے :
لھم الخیرۃ ۳
اختیا ر خاص اسی کو ہے
(۳القرآن الکریم ۲۸/ ۶۸ و القرآن الکریم ۳۳ / ۳۶)
اور فرماتا ہے :
الا لہ الخلق والا مر تبرک اللہ رب العالمین ۴
سنتےہو پیداکرنا اور حکم دینا اسی کے لیے ہے بڑی برکت والاہے اللہ مالک سارے جہان کا ۔
(۴القرآن الکریم ۷/ ۵۴)
یہ آیات کریمہ صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ پید ا کرنا ، عدم سے وجود میں لانا خاص اسی کا کام ہے ، دوسرے کو اس میں اصلا (بالکل) شرکت نہیں ، نیز اصل اختیار اسی کا ہے ، نیز بے اس کی مشیت کے کسی کی مشیت نہیں ہوسکتی۔
اور وہی مالک ومولی جل وعلا اسی قرآن کریم میں فرماتا ہے:
ذلک جزینھم ببغیھم وانا لصٰد قون۔ ۱
یہ ہم نے ان کی سرکشی کا بدلہ انھیں دیا ، اور بیشک بالیقین ہم سچے ہیں۔
(۱ القرآن الکریم ۶/ ۱۴۶)
اور فرماتا ہے:
وماظلمنٰھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون ۔۲
ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے
(۲القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۸)
اور فرماتا ہے :
اعملوا ما شئتم انہ بما تعملون بصیر ۔۳
جو تمھارا جی چاہے کئے جاؤ اللہ تمھارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
(۳ القرآن الکریم ۴۱/ ۴۰)
اورفرماتا ہے:
وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر انا اعتدنا للظٰالمین نارا احاط بھم سرادقھا۔۴
اے نبی ! تم فرمادو کہ حق تمھارے رب کے پاس سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشک ہم نے ظالموں کے لئے وہ آگ تیار کررکھی ہے جس کے سراپردے انھیں گھیریں گے ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی ۔
(۴القرآن الکریم ۱۸ /۲۹)
اور فرماتا ہے:
قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ ولٰکن کا ن فی ضلال بعید ط قال لا تختصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید ط ما یبدل القول لدی وما انا بظلام للعبید۔ ۱
کافر کا ساتھی شیطان بولا اے رب ہمارے! میں نے انھیں سرکش نہ کردیا تھا یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا ، رب عزوجل نے فرمایا میرے حضور فضول جھگڑا نہ کرو، میں توتمھیں پہلے ہی سزا کا ڈر سنا چکا تھا ، میرے یہاں بات بدلی نہیں جاتی ،اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں۔
(۱القرآن الکریم ۵۰/ ۲۷و۲۹)
یہ آیتیں صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ بندہ خود ہی اپنی جان پرظلم کرتا ہے وہ اپنی ہی کرنی بھرتا ہے وہ ایک حرام کا اختیار وارادہ ضرور رکھتا ہے ، اب دونوں قسم کی سب آیتیں قطعا مسلمان کا ایمان ہیں۔ بے شک بے شبہ بندہ کے افعال کاخالق بھی خدا ہی ہے ۔ بے شک بندہ بے ارادہ الہیہ کچھ نہیں کرسکتا ،اور بے شک بندہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے ،بے شک وہ اپنی ہی بداعمالیوں کے سبب مستحق سزا ہے۔
یہ دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں مگر یونہی کہ عقیدہ اہل سنت وجماعت پرایمان لایاجائے ، وہ کیا بات ہے؟ وہ جو اہل سنت کے سردار ومولی امیر المؤمنین علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے انہیں تعلیم فرمایا ۔
ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں بطریق امام شافعی عن یحیی بن سلیم امام جعفر صادق سے ،وہ حضرت امام باقر ،وہ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار ، وہ امیر المؤمنین مولی علی رضی اللہ تعالی عنھم سے راوی :
انہ خطب الناس یوما (فذکر خطبتہ ثم قال) فقام الیہ رجل ممن کان شھد معہ الجمل ، فقال یاامیر المؤمنین اخبرنا عن القدر ، فقال بحر عمیق فلا تلجہ ، قال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدر ، قال سر اللہ فلا تتکلفہ، قال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدر ، قال اما اذا ابیت فانہ امر بین امرین لا جبر ولا تفویض ، قال یا امیر المؤمنین ان فلانا یقول بالاستطاعۃ ، وھو حاضرک ، فقال علی بہ فاقاموہ، فلما راٰہ سل سیفہ قدر اربع اصابع ، فقال الاستطاعۃ تملکھا مع اللہ او من دون اللہ ؟ وایاک ان تقول احدھما فترتد فاضرب عنقک ، قال فما اقول یا امیر المؤمنین قال قل املکھا باللہ الذی ان شاء ملکنیھا۔ ۱
یعنی ایک دن امیر المؤمنین خطبہ فرمارہے تھے ، ایک شخص نے کہ واقعہ جمل میں امیر المؤمنین کے ساتھ تھے کھڑے ہوکر عرض کی : یا امیر المؤمنین ! ہمیں مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے ، فرمایا : گہرا دریا ہے اس میں قدم نہ رکھ، عرض کی : یا امیر المؤمنین ! ہمیں خبر دیجئے ،فرمایا : اللہ کا راز ہے زبردستی اس کابوجھ نہ اٹھا ۔عرض کی : یا امیرا لمؤمنین ہمیں خبر دیجئے فرمایا : اگر نہیں مانتا تو ایک امر ہے دو امروں کے درمیان ، نہ آدمی مجبور محض ہے نہ اختیار اسے سپرد ہے ۔ عرض کی : یا امیر المؤمنین فلاں شخص کہتا ہے کہ آدمی اپنی قدرت سےکام کرتا ہے ، اور وہ حضور میں حاضر ہے ، مولی علی فرمایا: میرے سامنے لاؤ ، لوگوں نے اسے کھڑا کیا۔جب امیر المؤمنین نے اسے دیکھا تیغ مبارک چار انگل کے قدر نیام سے نکال لی اور فرمایا : کام کی قدرت کا توخدا کے ساتھ مالک ہے یا خدا سےجدا مالک ہے ؟ اور سنتا ہے خبردار ان دونوں میں سے کوئی بات نہ کہنا کہ کافر ہوجائیگا اور میں تیری گردن ماردوں گا ۔ اس نے کہا : یا ا میر المؤمنین ! پھر میں کیا کہوں ؟فرمایا: یوں کہہ کہ اس خدا کے دیے سے اختیار رکھتا ہوں کہ اگر وہ چاہے تو مجھے اختیار دے بے اس کی مشیت کے مجھے کچھ اختیار نہیں۔
(۱ حلیۃ الاولیاء )
بس یہی عقیدہ اہلسنت ہے کہ انسان پتھر کی طرح مجبور محض ہے نہ خود مختار ، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں ایک حالت ہےجس کی کنہ راز خدا اور ایک نہایت عمیق دریا ہے۔ اللہ عزوجل کی بے شمار رضا ئیں امیر المؤمنین علی پر نازل ہوں کہ ان دونوں الجھنوں کو دوفقروں میں صاف فرمادیا ، ایک صاحب نے اسی بارےمیں سوال کیا کہ کیا معاصی بھی بے ارادہ الہیہ واقع نہیں ہوتے ؟ فرمایا تو کیا کو ئی زبردستی اس کی معصیت کرلے گا افیعصی قھرا یعنی وہ نہ چاہتا تھا کہ اس سے گناہ ہو مگر اس نے کرہی لیا تو اس کا ارادہ زبردست پڑا معاذاللہ خدا بھی دنیا کےمجازی بادشاہوں کی طرح ہوا کہ وہ ڈاکوؤں ، چوروں کابہتیرا بندوبست کریں پھر بھی ڈاکو اور چور اپنا کام کر ہی گزرتے ہیں۔حاشا وہ ملک الملوک بادشاہ حقیقی قادر مطلق ہر گز ایسا نہیں کہ اس کےملک میں بے اس کےحکم کےایک ذرہ جنبش کرسکے ، وہ صاحب کہتے ہیں
فکانما القمنی حجرا۲
مولی علی نے یہ جواب دے کر گویا میرے منہ میں پتھر رکھ دیا کہ آگے کچھ کہتے بن ہی نہ پڑا۔
(۲ قول مولی علی )
عمرو بن عبید معتزلی کہ بندے کے افعال خداکے ارادہ سےنہ جانتا تھا کہ خود کہتا ہے کہ مجھے کسی نے ایسا الزام نہ دیا جیسا ایک مجوسی نےدیا جو میرے ساتھ جہاز میں تھا ،میں نے کہا تو مسلمان کیوں نہیں ہوتا ؟ کہا خدا نہیں چاہتا،میں نے کہا خدا تو چاہتا ہے مگر شیطان تجھے نہیں چھوڑتے ، کہا تو میں شریک غالب کے ساتھ ہوں ، اسی ناپاک شناعت کے رد کی طرف مولی علی نے اشارہ فرمایا کہ وہ نہ چاہے تو کیا کوئی زبردستی اس کی معصیت کرلے گا؟۔ باقی رہا اس مجوسی کا عذر ، وہ بعینہ ایسا ہے کہ کوئی بھوکا ہے بھوک سے دم نکالا جاتا ہے ،کھاناسامنے رکھا ہے اور نہیں کھاتا کہ خدا کا ارادہ نہیں ، اس کا ارادہ ہوتا تو میں ضرور کھالیتا ، اس احمق سے یہی کہا جائے گا کہ خدا کا ارادہ نہ ہونا تونے کاہے سے جانا ؟ اسی سے کہ تو نہیں کھاتا ، تو کھانے کا قصد توکر، دیکھ تو ارادہ الہیہ سے کھانا ہوجائے گا۔ ایسی اوندھی مت اسی کوآنی ہے جس پر موت سوار ہے۔ غرض مولی علی نے یہ تو اس کا فیصلہ فرمایا کہ جو کچھ ہوتا ہے بے ارادہ الہیہ نہیں ہوسکتا ۔
دوسر ی بات کہ جزاوسزا کیوں ہے ! ۔ اس کا یوں فیصلہ ارشاد ہوا ، ابن ابی حاتم و اصبہانی و لالکائی وخلعی حضرت امام جعفر صادق وہ اپنے والد ماجد حضرت امام باقر رضی اللہ تعالی عنھما سےروایت کرتے ہیں ،
قال قیل لعلی بن ابی طالب ان ھٰھنا رجلا یتکلم فی المشیئۃ فقال لہ علی یا عبداللہ خلقک اللہ لما یشاء او لما شئت ؟ قال بل لمایشاء قال فیمرضک اذا شاء أو اذا شئت ؟ قال بل اذا شاء ، قال فیمیتک اذا شاء او اذا شئت ؟ قال اذا شاء ، قال فیدخلک حیث شاء او حیث شئت ؟ قسال بل حیث یشاء ، قال واللہ لو قلت غیر ذلک لضربت الذی فیہ عیناک بالسیف ۔ ثم تلا علی : وماتشاؤون الا ان یشاء اللہ ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ ۱
مولی علی سے عرض کی گئی کہ یہاں ایک شخص مشیت میں گفتگو کرتا ہے ، مولی علی نے اس سے فرمایا ، اےخدا کےبندے ! خدا نے تجھے اس لئے پیدا کیا جس لئے اس نے چاہا یا اس لئے جس لئے تو نے چاہا ؟کہا : جس لئے اس نے چاہا ، فرمایا :تجھے جب وہ چاہے بیمارکرتا ہے یا جب تو چاہے ؟ کہا :بلکہ جب وہ چاہے ۔فرمایا: تجھے اس وقت وفات دے گا جب وہ چاہے یا جب تو چاہے ؟ کہا جب وہ چاہے۔فرمایا: توتجھے وہاں بھیجے گاجہاں وہ چاہے یا جہاں تو چاہے ؟ کہا : جہاں وہ چاہے ، فرمایا: خدا کی قسم تو اس کے سوا کچھ اور کہتا تو یہ جس میں تیری آنکھیں ہیں (یعنی تیراسر) تلوار سےمار دیتا ۔ پھر مولی علی نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی : " اور تم کیا چاہو مگر یہ کہ اللہ چاہے وہ تقوی کا مستحق اور گناہ عفو فرمانے والا ہے ۔"
(۱ الدر المنثور بحوالہ ابن ابی حاتم واللالکائی فی السنۃ الخلفی فی فوائدہ عن علی تحت الآیۃ ۲۲ /۲۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ /۱۸و۱۹)
خلاصہ یہ کہ جو چاہا کیا اور جو چاہے گا کرے ، بناتے وقت تجھ سے مشورہ نہ لیا تھا بھیجتے وقت بھی نہ لے گا ،تمام عالم اس کی ملک ہے ، اورمالک سے دربارہ ملک سوال نہیں ہوسکتا۔
ابن عساکر نے حارث ہمدانی سےروایت کی ایک شخص نے آکر امیر المؤمنین مولی علی سے عرض کی : یاامیرالمؤمنین !مجھے مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے ۔فرمایا : تاریک راستہ ہے اس میں نہ چل ۔عرض کی : یا امیرالمؤمنین !مجھے خبر دیجئے ۔فرمایا: گہرا سمندر ہے اور اس میں قدم نہ رکھ ،عرض کی :یا امیرالمؤمنین ! فرمایا اللہ کا راز ہے تجھ پر پوشیدہ ہے اسے نہ کھول ، عرض کی :یا امیرالمؤمنین !مجھے خبر دیجئے ۔فرمایا :
" ان اللہ خالقک کما شاء او کما شئت "
اللہ نے تجھے جیسا اس نے چاہا بنایا یا جیسا تو نے چاہا؟ عرض کی : جیسا اس نے چاہا : فرمایا :
" فیستعملک کما شاء او کما شئت "
توتجھ سےکام ویسا لے گا جیسا وہ چاہے یا جیسا تو چاہے ؟عرض کی : جیساوہ چاہے ۔فرمایا :
" فیبعثک یوم القیٰمۃ کما شاء او کما شئت "
تجھے قیامت کے دن جس طرح وہ چاہے گا اٹھائے گا یا جس طرح تو چاہے ؟ ۔کہا : جس طرح وہ چاہے ۔ فرمایا :
"ایھا السائل تقول لا حول ولا قوۃ الا بمن "
اے سائل! تو کہتا ہے کہ نہ طاقت ہے نہ قوت ہے مگر کس کی ذات سے ؟۔ کہا: اللہ علی عظیم کی ذات سے ۔ فرمایا تو اس کی تفسیر جانتا ہے ؟۔ عرض کی " امیرالمؤمنین کو جو علم اللہ نے دیا ہے اس سے مجھے تعلیم فرمائیں۔فرمایا :
"ان تفسیرھا لا یقدر علی طاعۃ اللہ ولا یکون قوۃ فی معصیۃ اللہ فی الامرین جمیعا الا باللہ "
اس کی تفسیر یہ ہے کہ نہ طاعت کی طاقت ، نہ معصیت کی قوت دونوں اللہ ہی کے دیے سے ہیں ۔ پھر فرمایا:
" ایھا السائل الک مع اللہ مشیۃ او دون اللہ مشیۃ ، فان قلت ان لک دون اللہ مشیۃ ، فقد اکتفیت بھا عن مشیۃ اللہ وان زعمت ان لک فوق اللہ مشیۃ فقد ادعیت مع اللہ شرکا فی مشیتہ "
اے سائل : تجھے خدا کے ساتھ اپنے کام کا اختیار ہے یا بے خدا کے ؟ اگر تو کہے کہ بے خدا کے تجھے اختیار حاصل ہے تو تونے ارادہ الہیہ کی کچھ حاجت نہ رکھی ، جو چاہے خود اپنے ارادے سےکرلے گا ، خدا چاہے یا نہ چاہے ، اور یہ سمجھے کہ خدا سےاوپر تجھے اختیار حاصل ہے تو تونے اللہ کے ارادے میں اپنے شریک ہونے کا دعوی کیا ۔ پھر فرمایا :
ایھا السائل اللہ یشج ویداوی فمنہ الداء ومنہ الدواء اعقلت عن اللہ امرہ " ۔
اے سائل : بیشک اللہ زخم پہنچاتا ہے اور اللہ ہی دوادیتاہے تو اسی سےمرض ہے اور اسی سے دوا ، کیوں تو نے اب تو اللہ کا حکم سمجھ لیا ؟۔ ا س نے عرض کی : ہاں ۔حاضرین سے فرمایا :
الاٰن اسلم اخوکم فقوموا فصافحوا "
اب تمھارا یہ بھائی مسلمان ہو ا، کھڑے ہو اس سے مصافحہ کرو ۔ پھر فرمایا:
لو ان عندی رجلا من القدریۃ لاخذت برقبتہ ثم لا ازال اجرھا حتی اقطعھافانھم یھود ھذہ الامۃ ونصاراھا ومجوسھا"
اگر میرے پاس کوئی شخص ہو جو انسان کو اپنے افعال کا خالق جانتااور تقدیر الہی سے وقوع طاقت ومعصیت کا انکا رکرتاہو تو میں اس کی گردن پکڑ کردبوچتا رہوں گا یہاں تک کہ الگ کاٹ دوں ، اس لئے کہ وہ اس امت کےیہودی اور نصرانی ومجوسی ہیں۔
یہودی اس لئے فرمایا کہ ان پر خدا کا غضب ہے اور یہود مغضوب علیہم ہیں ، اور نصرانی ومجوسی اس لئے فرمایا کہ نصاری تین خدا مانتے ہیں ، مجوسی یزدان واہرمن دو خالق مانتے ہیں ، یہ بے شمار خالقوں پر ایمان لارہے ہیں کہ ہر جن و انس کو اپنے افعال خالق گارہے ہیں ،
و العیاذباللہ رب العالمین ۔
یہ اس مسئلہ میں اجمالی کلا م ہے، مگر
ان شاء اللہ تعالی کافی و وافی وشافی
جس سے ہدایت والے ہدایت پائیں گے اور ہدایت اللہ ہی کےہاتھ ہے ،